23. کھانے کا بیان

【1】

نبی کریم ﷺ کھانا کس چیز پر رکھ کر کھاتے تھے

انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی خوان (میز وغیرہ) پر نہیں کھایا، نہ چھوٹی طشتریوں اور پیالیوں میں کھایا، اور نہ آپ کے لیے کبھی پتلی روٹی پکائی گئی۔ یونس کہتے ہیں : میں نے قتادہ سے پوچھا : پھر کس چیز پر کھاتے تھے ؟ کہا : انہی دسترخوانوں پر۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - محمد بن بشار کہتے ہیں : یہ یونس، یونس اسکاف ہیں، ٣ - عبدالوارث بن سعید نے بسند «سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأطعمة ٨ (٥٣٨٦) ، ٢٣ (٥٤١٥) ، والرقاق ١٦ (٦٤٥٠) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٢٠ (٣٢٩٢) ، والمؤلف في الزہد ٣٨ (٢٣٦٣) ، والشمائل ٢٥ (تحفة الأشراف : ١٤٤٤) ، و مسند احمد (٣/١٣٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3292) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1788

【2】

خرگوش کھانا

انس (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے مقام مرالظہران میں ایک خرگوش کا پیچھا کیا، صحابہ کرام اس کے پیچھے دوڑے، میں نے اسے پا لیا اور پکڑ لیا، پھر اسے ابوطلحہ کے پاس لایا، انہوں نے اس کو پتھر سے ذبح کیا اور مجھے اس کی ران دے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس بھیجا، چناچہ آپ نے اسے کھایا۔ راوی ہشام بن زید کہتے ہیں : میں نے (راوی حدیث اپنے دادا انس بن مالک (رض) سے) پوچھا : کیا آپ نے اسے کھایا ؟ کہا : آپ ﷺ نے اسے قبول کیا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں جابر، عمار، محمد بن صفوان (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ خرگوش کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے ہیں، ٤ - جب کہ بعض اہل علم خرگوش کھانے کو مکروہ سمجھتے ہیں، یہ لوگ کہتے ہیں : اسے (یعنی مادہ خرگوش کو) حیض کا خون آتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الہبة ٥ (٢٥٧٢) ، والصید ١٠ (٥٤٨٩) ، و ٣٢ (٥٥٣٥) ، صحیح مسلم/الصید ٩ (١٩٥٣) ، سنن ابی داود/ الأطعمة ٢٧ (٣٧٩١) ، سنن النسائی/الصید ٢٥ (٤٣١٧) ، سنن ابن ماجہ/الصید ١٧ (٣٢٤٣) ، (تحفة الأشراف : ١٦٢٩) ، و مسند احمد (٣/١١٨، ١٧١) ، سنن الدارمی/الصید ٧ (٢٠٥٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خرگوش حلال ہے ، اگر حلال نہ ہوتا تو آپ اسے قبول نہ فرماتے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3243) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1789

【3】

گوہ کھانا

عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے ضب (گوہ) کھانے کے بارے میں پوچھا گیا ؟ تو آپ نے فرمایا : میں نہ تو اسے کھاتا ہوں اور نہ حرام کہتا ہوں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمر، ابو سعید خدری، ابن عباس، ثابت بن ودیعہ، جابر اور عبدالرحمٰن بن حسنہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - ضب کھانے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض اہل علم صحابہ نے رخصت دی ہے، ٤ - اور بعض نے اسے مکروہ سمجھا ہے، ابن عباس (رض) سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ کے دستر خوان پر ضب کھایا گیا، رسول اللہ ﷺ نے طبعی کراہیت کی بنا پر اسے چھوڑ دیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف : ٧٢٤٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : معلوم ہوا کہ ضب کھانا حلال ہے ، بعض روایات میں ہے کہ آپ نے اسے کھانے سے منع فرمایا ہے ، لیکن یہ ممانعت حرمت کی نہیں بلکہ کراہت کی ہے ، کیونکہ صحیح مسلم میں ہے کہ آپ نے فرمایا : اسے کھاؤ یہ حلال ہے ، لیکن یہ میرا کھانا نہیں ہے ، ضب کا ترجمہ گوہ سانڈا اور سوسمار سے کیا جاتا ہے ، واضح رہے کہ اگر ان میں سے کوئی قسم گرگٹ کی نسل سے ہے تو وہ حرام ہے ، زہریلا جانور کیچلی دانت والا پنجہ سے شکار کرنے اور اسے پکڑ کر کھانے والے سبھی جانور حرام ہیں۔ ایسے ہی وہ جانور جن کی نجاست و خباثت معروف ہے ، لفظ ضب پر تفصیلی بحث کے لیے سنن ابن ماجہ میں انہی ابواب کا مطالعہ کریں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1790

【4】

بجو کھانا

ابن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے جابر (رض) سے پوچھا : کیا لکڑبگھا بھی شکار ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں، میں نے پوچھا : اسے کھا سکتا ہوں ؟ کہا : ہاں، میں نے پوچھا : کیا یہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ؟ کہا : ہاں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یحییٰ قطان کہتے ہیں : جریر بن حازم نے یہ حدیث اس سند سے روایت کی ہے : عبداللہ بن عبید بن عمیر نے ابن ابی عمار سے، ابن ابی عمار نے جابر سے، جابر نے عمر (رض) کے قول سے روایت کی ہے، ابن جریج کی حدیث زیادہ صحیح ہے، ٣ - بعض اہل علم کا یہی مذہب ہے، وہ لوگ لکڑبگھا کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ٤ - نبی اکرم ﷺ سے لکڑبگھا کھانے کی کراہت کے سلسلے میں ایک حدیث آئی ہے، لیکن اس کی سند قوی نہیں ہے، ٥ - بعض اہل علم نے بجو کھانے کو مکروہ سمجھا ہے، ابن مبارک کا بھی یہی قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأطعمة ٣٢ (٣٨٠١) ، سنن النسائی/الحج ٨٩ (٢٨٣٩) ، والصید ٢٧ (٤٣٢٨) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٩٠ (٣٠٨٥) ، والصید ١٥ (٣٢٣٦) ، (تحفة الأشراف : ٢٣٨١) ، و مسند احمد (٣/٢٩٧، ٣١٨، ٣٢٢) ، سنن الدارمی/المناسک ٩٠ (١٩٨٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3236) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1791

【5】

بجو کھانا

خزیمہ بن جزء (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے لکڑبگھا کھانے کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا : بھلا کوئی لکڑبگھا کھاتا ہے ؟ میں نے آپ سے بھیڑیئے کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا : بھلا کوئی نیک آدمی بھیڑیا کھاتا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے ہم اسے عبدالکریم ابی امیہ کے واسطہ سے صرف اسماعیل بن مسلم کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - بعض محدثین نے اسماعیل اور عبدالکریم ابی امیہ کے بارے میں کلام کیا ہے، (حدیث کی سند میں مذکور) یہ عبدالکریم، عبدالکریم بن قیس بن ابی المخارق ہیں، ٣ - اور عبدالکریم بن مالک جزری ثقہ ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الصید ١٤ (٣٢٣٥) ، و ١٥ (٣٢٣٧) (ضعیف) (سند میں اسماعیل بن مسلم مکی اور عبد الکریم بن ابی المخارق دونوں ضعیف راوی ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (3237) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (696) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1792

【6】

گھوڑوں کا گوشت کھانا

جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں گھوڑے کا گوشت کھلایا، اور گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسی طرح کئی لوگوں نے عمرو بن دینار کے واسطہ سے جابر سے روایت کی ہے، ٣ - حماد بن زید نے اسے بسند «عمرو بن دينار عن محمد بن علي عن جابر» روایت کیا ہے، ابن عیینہ کی روایت زیادہ صحیح ہے، ٤ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا : سفیان بن عیینہ حماد بن زید سے حفظ میں زیادہ قوی ہیں، ٥ - اس باب میں اسماء بنت ابی بکر سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ٣٨ (٣٢١٩) ، والصید ٢٧ (٥٥٢٠) ، و ٢٨ (٥٥٢٤) ، صحیح مسلم/الصید ٦ (١٩٤١) ، سنن ابی داود/ الأطعمة ٢٦ (٣٧٨٨) ، سنن النسائی/الصید ٢٩ (٤٣٣٢) ، وانظر : سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٤ (١٩٦١) ، والذبائح ١٢ (٣١٩١) ، (تحفة الأشراف : ٢٥٣٩) ، و مسند احمد (٣/٣٢٢، ٣٢٥٦، ٣٦١، ٣٦٢، ٣٨٥) ، سنن الدارمی/الأضاحي ٢٢ (٢٠٣٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : معلوم ہوا کہ گھوڑے کا گوشت حلال ہے ، سلف و خلف میں سے کچھ لوگوں کو چھوڑ کر علما کی اکثریت اس کی حلت کی قائل ہے ، جو اسے حرام سمجھتے ہیں ، یہ حدیث اور اسی موضوع کی دوسری احادیث ان کے خلاف ہیں ، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گدھے کا گوشت حرام ہے ، اس کی حرمت کی وجہ جیسا کہ بخاری میں ہے یہ ہے کہ یہ ناپاک اور پلید حیوان ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (8 / 138) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1793

【7】

پالتو گدھوں کے گوشت کے متعلق

علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خیبر کے موقع پر عورتوں سے نکاح متعہ کرنے سے ١ ؎ اور پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ہم سے سعید بن عبدالرحمٰن مخزومی نے بسند «سفيان عن الزهري عن عبد اللہ والحسن» نے اسی جیسی حدیث بیان کی،

【8】

پالتو گدھوں کے گوشت کے متعلق

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خیبر کے دن ہر کچلی دانت والے درندہ جانور، «مجثمة» ١ ؎ اور پالتو گدھے کو حرام قرار دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - عبدالعزیز بن محمد اور دوسرے لوگوں نے بھی اسے محمد بن عمرو سے روایت کیا ہے اور ان لوگوں نے صرف ایک جملہ بیان کیا ہے «نهى رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم عن کل ذي ناب من السباع» یعنی صرف کچلی والے درندوں کا ذکر کیا، مجثمہ اور پالتو گدھے کا ذکر نہیں کیا ، ٣ - اس باب میں علی، جابر، براء، ابن ابی اوفی، انس، عرباض بن ساریہ، ابوثعلبہ، ابن عمر اور ابو سعید خدری (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٥٠٢٦) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : وہ پرندہ یا خرگوش جس کو باندھ کر نشانہ لگایا جائے ، یہاں تک کہ مرجائے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، الصحيحة (358 و 2391) ، الإرواء (2488 ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1795

【9】

کفار کے برتنوں میں کھانا

ابوثعلبہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے مجوس کی ہانڈیوں (برتنوں) کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا : انہیں دھو کر صاف کرو اور ان میں کھانا پکاؤ، اور آپ نے ہر کچلی دانت والے درندے جانور سے منع فرمایا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث ابوثعلبہ کی روایت سے مشہور ہے، ان سے یہ حدیث دوسری سند سے بھی آئی ہے، ٢ - ابوثعلبہ کا نام جرثوم ہے، انہیں جرہم اور ناشب بھی کہا گیا ہے، ٣ - یہ حدیث «عن أبي قلابة عن أبي أسماء الرحبي عن أبي ثعلبة» کی سند سے بھی بیان کی گئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ١٤٦٤ و ١٥٦٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح ومضی برقم (1620) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1796

【10】

کفار کے برتنوں میں کھانا

ابوثعلبہ خشنی (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے سوال کیا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ اہل کتاب کی سر زمین میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کی ہانڈیوں میں کھانا پکائیں اور ان کے برتنوں میں پانی پئیں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر تمہیں اس کے علاوہ کوئی برتن نہ مل سکے تو اسے پانی سے دھو لو ، پھر انہوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! ہم شکار والی سر زمین میں رہتے ہیں کیسے کریں ؟ آپ نے فرمایا : جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا روانہ کرو اور اس پر «بسم اللہ» پڑھ لو پھر وہ شکار مار ڈالے تو اسے کھاؤ، اور اگر کتا سدھایا ہوا نہ ہو اور شکار ذبح کردیا جائے تو اسے کھاؤ اور جب تم تیر مارو اور اس پر «بسم اللہ» پڑھ لو پھر اس سے شکار ہوجائے تو اسے کھاؤ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ١٤٦٤ و ١٥٦٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3207) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1797

【11】

اگ چوہا گھی میں گر کر مرجائے

ام المؤمنین میمونہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک چوہیا گھی میں گر کر مرگئی، رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : اسے اور جو کچھ چکنائی اس کے اردگرد ہے اسے پھینک دو ١ ؎ اور (بچا ہوا) گھی کھالو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث اس سند سے بھی آئی ہے «الزهري عن عبيد اللہ عن ابن عباس أن النبي صلی اللہ عليه وسلم» ، راویوں نے اس میں «عن میمونة» کا واسطہ نہیں بیان کیا ہے، ٣ - میمونہ کے واسطہ سے ابن عباس کی حدیث زیادہ صحیح ہے، ٤ - معمر نے بطریق : «الزهري، عن ابن أبي هريرة، عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» جیسی حدیث روایت کی ہے، یہ حدیث (سند) غیر محفوظ ہے، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ معمر کی حدیث جسے وہ «عن الزهري عن سعيد ابن المسيب عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : جب گھی جما ہوا ہو تو چوہیا اور اس کے اردگرد کا گھی پھینک دو اور اگر پگھلا ہوا ہو تو اس کے قریب نہ جاؤ یہ خطا ہے، اس میں معمر سے خطا ہوئی ہے، صحیح زہری ہی کی حدیث ہے جو «عن عبيد اللہ عن ابن عباس عن ميمونة» کی سند سے آئی ہے ٢ ؎، ٥ - اس باب میں ابوہریرہ (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٦٧ (٢٣٥) ، والذبائح ٣٤ (٥٥٣٨) ، سنن ابی داود/ الأطعمة ٤٨ (٣٨٤١) ، سنن النسائی/الفرع والعتیرة ١٠ (٤٢٦٣) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٦٥) ، وط/الاستئذان ٧ (٢٠) ، و مسند احمد (٦/٣٢٩، ٣٣٠، ٣٣٥) وسنن الدارمی/الطہارة ٥٩ (٧٦٥) ، والأطعمة ٤١ (٢١٢٨، ٢١٢٩، ٢١٣٠، ٢١٣١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : لیکن شرط یہ ہے کہ وہ جمی ہوئی چیز ہو ، اور اگر سیال ہے تو پھر پورے کو پھینک دیا جائے گا۔ ٢ ؎ : معمر کی مذکورہ روایت مصنف عبدالرزاق کی ہے ، معمر ہی کی ایک روایت نسائی میں (رقم : ٤٢٦٥ ) میمونہ سے بھی ہے جس میں سیال اور غیر سیال کا فرق ابوہریرہ (رض) ہی کی روایت کی طرح ہے ، سند اور علم حدیث کے قواعد کے لحاظ سے اگرچہ یہ دونوں روایات متکلم فیہ ہیں ، لیکن ایک مجمل روایت ہی میں نسائی کا لفظ ہے «سمن جامد» جما ہوا گھی اور یہ سند صحیح ہے ، بہرحال اگر صحیحین کی مجمل روایت ہی کو لیا جائے تو بھی ارد گرد اسی گھی کا ہوسکتا ہے جو جامد ہو ، سیال میں ارد گرد ہو ہی نہیں سکتا ، کیونکہ چوہیا اس میں گھومتی رہے گی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1798

【12】

بائیں ہاتھ سے کھانے پینے کی ممانعت

عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی آدمی نہ بائیں ہاتھ سے کھائے اور نہ بائیں ہاتھ سے پیئے، اس لیے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسی طرح مالک اور ابن عیینہ نے بسند «الزهري عن أبي بکر بن عبيد اللہ عن ابن عمر» روایت کی ہے، معمر اور عقیل نے اسے زہری سے، بسند «سالم بن عبداللہ عن ابن عمر» روایت کی ہے، مالک اور ابن عیینہ کی روایت زیادہ صحیح ہے، ٣ - اس باب میں جابر، عمر بن ابی سلمہ، سلمہ بن الاکوع، انس بن مالک اور حفصہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأشربة ١٣ (٢٠٢٠) سنن ابی داود/ الأطعمة ٢٠ (٣٧٧٦) ، (تحفة الأشراف : ٨٥٧٩) ، وط/صفة النبی ﷺ ٤ (٦) ، و مسند احمد (٢/١٠٦) ، سنن الدارمی/الأطعمة ٩ (٢٠٧٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دائیں ہاتھ سے کھانا پینا ضروری ہے ، اور بائیں ہاتھ سے مکروہ ہے ، البتہ کسی عذر کی صورت میں بائیں کا استعمال کھانے پینے کے لیے جائز ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1236) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1799

【13】

بائیں ہاتھ سے کھانے پینے کی ممانعت

عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی کھائے تو دائیں ہاتھ سے کھائے اور دائیں ہاتھ سے پیئے، اس لیے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (لم یذکرہ المزي) (صحیح ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1800

【14】

انگلیاں چاٹنا

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اپنی انگلیاں چاٹ لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ ان میں سے کس انگلی میں برکت ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : عبدالعزیز کی یہ حدیث، مختلف کے قبیل سے ہے، اور صرف ان کی روایت سے ہی جانی جاتی ہے، ٣ - اس باب میں جابر، کعب بن مالک اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ہم اسے اس سند سے صرف سہیل کی روایت سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأشربة ١٨ (٢٠٣٤) ، (تحفة الأشراف : ١٢٧٢٧) ، و مسند احمد (٢/٣٤٠، ٤١٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی یہ کوئی نہیں جانتا ہے کہ برکت اس میں تھی جسے وہ کھاچکا یا اس میں ہے جو اس کی انگلیوں میں لگا ہوا ہے ، یا اس میں ہے جو کھانے کے برتن میں باقی رہ گیا ہے ، اس لیے کھاتے وقت کھانے والے کو ان سب کا خیال رکھنا ہے ، تاکہ اس برکت سے جو کھانے میں اللہ نے رکھی ہے محروم نہ رہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الروض النضير (19) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1801

【15】

گرجانے والا لقمہ

جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے اور نوالہ گرجائے تو اس میں سے جو ناپسند سمجھے اسے ہٹا دے ١ ؎، اسے پھر کھالے، اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأشربة ١٨ (٢٠٣٣) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ١٣ (٣٢٧٩) ، (تحفة الأشراف : ٢٧٨) ، و مسند احمد (٣/٣٠١، ٢٣١، ٣٣١) ، ٣٣٧، ٣٦٦، ٣٩٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی گرے ہوئے نوالہ پر جو گردوغبار جم گیا ہے ، اسے ہٹا کر اللہ کی اس نعمت کی قدر کرے ، اسے کھالے ، شیطان کے لیے نہ چھوڑے کیونکہ چھوڑنے سے اس نعمت کی ناقدری ہوگی ، لیکن اس کا بھی لحاظ رہے کہ وہ نوالہ ایسی جگہ نہ گرا ہو جو ناپاک اور گندی ہو ، اگر ایسی بات ہے تو بہتر ہوگا کہ اسے صاف کر کے کسی جانور کو کھلا دے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3279) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1802

【16】

گرجانے والا لقمہ

انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب کھانا کھاتے تو اپنی تینوں انگلیوں کو چاٹتے تھے ١ ؎، آپ نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کا نوالہ گرجائے تو اس سے گرد و غبار دور کرے اور اسے کھالے، اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے ، آپ نے ہمیں پلیٹ چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا : تم لوگ نہیں جانتے کہ تمہارے کھانے کے کس حصے میں برکت رکھی ہوئی ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأشربة ١٨ (٢٠٣٤) ، سنن ابی داود/ الأطعمة ٥٠ (٣٨٤٥) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٣) ، و مسند احمد (٣/١١٧، ٢٩٠) ، سنن الدارمی/١ الأطعمة ٨ (٢٠٧١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : نبی اکرم ﷺ نے کھانے کے لیے جن تین انگلیوں کا استعمال کیا وہ یہ ہیں : انگوٹھا ، شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح مختصر الشمائل (120) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1803

【17】

گرجانے والا لقمہ

ام عاصم کہتی ہیں کہ ہمارے پاس نبیشہ الخیر آئے، ہم لوگ ایک پیالے میں کھانا کھا رہے تھے، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص پیالے میں کھائے پھر اسے چاٹے تو پیالہ اس کے لیے استغفار کرتا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف معلی بن راشد کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - یزید بن ہارون اور کئی ائمہ حدیث نے بھی یہ حدیث معلی بن راشد سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الأطعمة ١٠ (٣٢٧١) ، (تحفة الأشراف : ١١٥٨٨) ، (تحفة الأشراف : ١١٥٨٨) (ضعیف) (سند میں معلی بن راشد اور ام عاصم دونوں لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (3271) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (703) ، المشکاة (4218) ، ضعيف الجامع الصغير (5478) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1804

【18】

کھانے کے درمیان سے کھانا کھانے کی کراہت

عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : برکت کھانے کے بیچ میں نازل ہوتی ہے، اس لیے تم لوگ اس کے کناروں سے کھاؤ، بیچ سے مت کھاؤ ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اور صرف عطاء بن سائب کی روایت سے معروف ہے، اسے شعبہ اور ثوری نے بھی عطاء بن سائب سے روایت کیا ہے، ٣ - اس باب میں ابن عمر سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأطعمة ١٨ (٣٧٧٢) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ١٢ (٣٢٧٧) ، (تحفة الأشراف : ٥٥٦٦) ، سنن الدارمی/الأطعمة ١٦ (٢٠٩٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس میں کھانے کا ادب و طریقہ بتایا گیا ہے کہ درمیان سے مت کھاؤ بلکہ اپنے سامنے اور کنارے سے کھاؤ ، کیونکہ برکت کھانے کے بیچ میں نازل ہوتی ہے ، اور اس برکت سے تاکہ سبھی فائدہ اٹھائیں ، دوسری بات یہ ہے کہ ایسا کرنے سے جو حصہ کھانے کا بچ جائے گا وہ صاف ستھرا رہے گا ، اور دوسروں کے کام آ جائے گا ، اس لیے اس کا خیال رکھا جائے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3277) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1805

【19】

لہسن اور پیاز کھانے کی کراہت

جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص ان میں سے لہسن کھائے، یا لہسن، پیاز اور گندنا ١ ؎ - کھائے وہ ہماری مسجدوں میں ہمارے قریب نہ آئے ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمر، ابوایوب، ابوہریرہ، ابو سعید خدری، جابر بن سمرہ، قرہ بن ایاس مزنی اور ابن عمر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٦ (٨٥٤) ، والأطعمة ٤٩ (٥٤٥٢) ، والاعتصام ٢٤ (٧٣٥٩) ، صحیح مسلم/المساجد ١٧ (٥٦٤) ، سنن ابی داود/ الأطعمة ٤١ (٣٨٢٢) ، سنن النسائی/المساجد ١٦ (٧٠٨) ، (تحفة الأشراف : ٢٤٤٧) ، و مسند احمد (٣/٣٧٤، ٣٨٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : بدبودار سبزیاں یا ایسی چیزیں جن میں بدبو ہوتی ہے۔ ٢ ؎ : بعض احادیث میں «فلا یقربن المساجد» ہے ، اس حدیث کا مفہوم یہی ہے کہ لہسن ، پیاز اور اسی طرح کی بدبودار چیزیں کھا کر مسجدوں میں نہ آیا جائے ، کیونکہ فرشتے اس سے اذیت محسوس کرتے ہیں۔ دیگر بدبودار کھانے اور بیڑی سگریٹ وغیرہ بھی اس میں شامل ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (547) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1806

【20】

پکا ہوا لہسن کھانے کی اجازت

جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (ہجرت کے بعد) ابوایوب انصاری (رض) کے گھر ٹھہرے، آپ جب بھی کھانا کھاتے تو اس کا کچھ حصہ ابوایوب انصاری (رض) کے پاس بھیجتے، آپ نے ایک دن (پورا) کھانا (واپس) بھیجا، اس میں سے نبی اکرم ﷺ نے کچھ نہیں کھایا، جب ابوایوب نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا : اس میں لہسن ہے ؟ ، انہوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا وہ حرام ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، لیکن اس کی بو کی وجہ سے میں اسے ناپسند کرتا ہوں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٨٠٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (2511) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1807

【21】

پکا ہوا لہسن کھانے کی اجازت

علی (رض) کہتے ہیں کہ لہسن کھانے سے منع کیا گیا ہے سوائے اس کے کہ وہ پکا ہوا ہو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأطعمة ٤١ (٣٨٢٨) ، (تحفة الأشراف : ١٠١٢٧) (صحیح) (سند میں ابواسحاق سبیعی مختلط اور مدلس راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، الإرواء : ٢٥١٢ ) وضاحت : ١ ؎ : پکنے سے اس میں پائی جانے والی بو ختم ہوجاتی ہے ، اس لیے اسے کھا کر مسجد جانے میں کوئی حرج نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (2512) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1808

【22】

پکا ہوا لہسن کھانے کی اجازت

شریک بن حنبل سے روایت ہے کہ علی (رض) لہسن کھانا مکروہ سمجھتے تھے، سوائے اس کے کہ وہ پکا ہوا ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - اس حدیث کی سند زیادہ قوی نہیں ہے، یہ علی (رض) کا قول ہے، ٢ - شریک بن حنبل کے واسطہ سے یہ حدیث نبی اکرم ﷺ سے مرسل طریقہ سے بھی آئی ہے، ٣ - محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : راوی جراح بن ملیح صدوق ہیں اور جراح بن ضحاک مقارب الحدیث ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : (تحفة الأشراف : ١٠١٢٧) (ضعیف) (سند میں ابو اسحاق سبیعی مدلس اور مختلط راوی ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الإرواء (2512) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1809

【23】

پکا ہوا لہسن کھانے کی اجازت

ام ایوب انصاری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ (ہجرت کے بعد) ان کے گھر ٹھہرے، ان لوگوں نے آپ کے لیے پرتکلف کھانا تیار کیا جس میں کچھ ان سبزیوں (گندنا وغیرہ) میں سے تھی، چناچہ آپ نے اسے کھانا ناپسند کیا اور صحابہ سے فرمایا : تم لوگ اسے کھاؤ، اس لیے کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میں ڈرتا ہوں کہ میں اپنے رفیق (جبرائیل) کو تکلیف پہچاؤں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - ام ایوب ابوایوب انصاری کی بیوی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٥٩ (٣٣٦٤) ، (تحفة الأشراف : ١٨٣٠٤) (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن، ابن ماجة (3364) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1810

【24】

پکا ہوا لہسن کھانے کی اجازت

ابوالعالیہ کہتے ہیں کہ لہسن حلال رزق ہے۔ ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے، وہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں، انہوں نے انس بن مالک سے ملاقات کی ہے اور ان سے حدیث سنی ہے، ابوالعالیہ کا نام رفیع ہے اور یہ رفیع ریاحی ہیں، عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں : ابوخلدہ ایک نیک مسلمان تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف : ١٨٦٤٦) (ضعیف الإسناد) (سند میں محمد بن حمید رازی ضعیف راوی ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد مقطوع صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1811

【25】

سوتے وقت برتنوں کو ڈھکنے اور چراغ وآگ بجھا کر سونا

جابر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : (سوتے وقت) دروازہ بند کرلو، مشکیزہ کا منہ باندھ دو ، برتنوں کو اوندھا کر دو یا انہیں ڈھانپ دو اور چراغ بجھا دو ، اس لیے کہ شیطان کسی بند دروازے کو نہیں کھولتا ہے اور نہ کسی بندھن اور برتن کو کھولتا ہے، (اور چراغ اس لیے بجھا دو کہ) چوہا لوگوں کا گھر جلا دیتا ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - جابر سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ٣ - اس باب میں ابن عمر، ابوہریرہ اور ابن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/بدء الخلق ٦ (٢٢٣١٦) ، والأشربة ٢٢ (٥٦٢٣، ٥٦٢٤) ، والاستئذان ٤٩ (٦٢٩٥) ، صحیح مسلم/الأشربة ١٢ (٢٠١٢) ، سنن ابی داود/ الأشربة ٢٢ (٣٧٣١-٣٧٣٤) ، سنن ابن ماجہ/الأشربة ١٦ (٣٤١٠) ، والأدب ٤٦ (٣٧٧١) ، (تحفة الأشراف : ٢٩٣٤) ، و مسند احمد (٣/٣٥٥) ، ویأتي برقم ٢٨٥٧ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے بہت سے فائدے حاصل ہوئے : ( ١ ) بسم اللہ پڑھ کر دروازہ بند کرنے سے بندہ جن اور شیاطین سے محفوظ ہوتا ہے ، ( ٢ ) اور چوروں سے بھی گھر محفوظ ہوجاتا ہے ، ( ٣ ) برتن کا منہ باندھنے اور ڈھانپ دینے سے اس میں موجود چیز کی زہریلے جانوروں کے اثرات نیز وبائی بیماریوں اور گندگی وغیرہ سے حفاظت ہوجاتی ہے ، ( ٤ ) چراغ اور آگ کے بجھانے سے گھر آگ کے خطرات سے محفوظ ہوتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (341) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1812

【26】

سوتے وقت برتنوں کو ڈھکنے اور چراغ وآگ بجھا کر سونا

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سوتے وقت اپنے گھروں میں (جلتی ہوئی) آگ نہ چھوڑو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الاستئذان ٤٩ (٦٢٤٣) ، صحیح مسلم/الأشربة ١٢ (٢٠١٥) ، سنن ابی داود/ الأدب ١٧٣ (٥٢٤٦) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٤٦ (٣٧٦٩) ، (تحفة الأشراف : ٦٨١٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1813

【27】

دوکھجوریں ایک ساتھ کھانے کی کراہت

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو کھجور ایک ساتھ کھانے سے منع فرمایا یہاں تک کہ اپنے ساتھ کھانے والے کی اجازت حاصل کرلے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں سعد مولی ابوبکر سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الشرکة ٤ (٢٤٩٠) ، صحیح مسلم/الأشربة ٢٥ (٢٠٤٥) ، سنن ابی داود/ الأطعمة ٤٤ (٣٨٣٤) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٤١ (٣٣٣١) ، (تحفة الأشراف : ٦٦٦٧) ، و مسند احمد (٢/٦٠) ، سنن الدارمی/الأطعمة ٢٥ (٢١٠٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ایسا وہ کرے گا جو کھانے کے سلسلہ میں بےانتہا حریص اور لالچی ہو ، اور جسے ساتھ میں دوسرے کھانے والوں کا بالکل لحاظ نہ ہو ، اس لیے اس طرح کے حرص اور لالچ سے دور رہنا چاہیئے ، خاص طور پر جب کھانے کی مقدار کم ہو ، یہ ممانعت اجتماعی طور پر کھانے کے سلسلہ میں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3331) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1814

【28】

کھجور کی فضیلت

ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس گھر میں کھجور نہیں اس گھر کے لوگ بھوکے ہیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے ہشام بن عروہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : یحییٰ بن حسان کے علاوہ میں نہیں جانتا ہوں کسی نے اسے روایت کیا ہے، ٣ - اس باب میں ابورافع کی بیوی سلمی (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأشربة ٢٦ (٢٠٤٦) ، سنن ابی داود/ الأطعمة ٤٢ (٣٨٣٠) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٢٨ (٣٣٢٧) ، (تحفة الأشراف : ١٦٩٤٢) ، سنن الدارمی/الأطعمة ٢٦ (٢١٠٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ اس وقت کی بات ہے جب لوگوں کی اصل غذا صرف کھجور تھی ، یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے کھجور کی اہمیت بتانا مقصود ہو ، آج بھی جس علاقہ اور جگہ کی کوئی خاص چیز ہوتی ہے جو وہاں کے لوگوں کی اصل غذا ہو تو اس کی طرف نسبت کر کے اس کی اہمیت واضح کی جاتی ہے۔ حدیث کے ظاہری معانی کے پیش نظر کھجور کے فوائد کی بنا پر گھر میں ہر وقت کھجور کی ایک مقدار ضرور رہنی چاہیئے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3327) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1815

【29】

کھانا کھانے کے بعد اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا

انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ اس بندے سے راضی ہوتا ہے جو ایک لقمہ کھاتا ہے یا ایک گھونٹ پیتا ہے، تو اس پر اللہ کی تعریف کرتا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - زکریا بن ابی زائدہ سے اسے کئی لوگوں نے اسی طرح روایت کیا ہے، ہم اسے صرف زکریا بن ابی زائدہ کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - اس باب میں عقبہ بن عامر، ابوسعید، عائشہ، ابوایوب اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٢٤ (٢٧٣٤) ، (تحفة الأشراف : ٨٥٧) ، و مسند احمد (٣/١٠٠، ١١٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1651) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1816

【30】

کوڑھی کے ساتھ کھانا کھانا

جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ پیالے میں داخل کیا، پھر فرمایا : اللہ کا نام لے کر اس پر بھروسہ رکھتے ہوئے اور توکل کرتے ہوئے کھاؤ ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف یونس بن محمد کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ مفضل بن فضالہ کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں، ٢ - یہ مفضل بن فضالہ ایک بصریٰ شیخ ہیں، مفضل بن فضالہ ایک دوسرے شیخ بصریٰ ہیں وہ ان سے زیادہ ثقہ اور شہرت کے مالک راوی ہیں، ٣ - شعبہ نے اس حدیث کو بطریق : «حبيب بن الشهيد عن ابن بريدة أن ابن عمر» روایت کیا ہے کہ انہوں (ابن عمر) نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑا، میرے نزدیک شعبہ کی حدیث زیادہ صحیح اور ثابت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطب ٣٤ (٣٩٢٥) ، سنن ابن ماجہ/الطب ٤٤ (٣٥٤٢) ، (تحفة الأشراف : ٣٠١٠) (ضعیف) (سند میں مفضل بصری ضعیف راوی ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : علماء کا کہنا ہے کہ ایسا آپ نے ان لوگوں کو دکھانے کے لیے کیا جو اپنے ایمان و توکل میں قوی ہیں ، اور ناپسندیدہ امر پر صبر سے کام لیتے ہیں اور اسے قضاء و قدر کے حوالہ کرتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ جو ناپسنددیدہ امر پر صبر نہیں کر پاتے اور اپنے بارے میں خوف محسوس کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے آپ نے یہ فرمایا : «فر من المجذوم کما تفر من الأسد» چناچہ ایسے لوگوں سے بچنا اور اجتناب کرنا مستحب ہے ، لیکن واجب نہیں ہے ، اور ان کے ساتھ کھانا پینا بیان جواز کے لیے ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (3542) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (776) ، المشکاة (4585) ، ضعيف الجامع الصغير (4195) ، ضعيف أبي داود (847 / 3925) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1817

【31】

مومن ایک آنت میں کھاتا ہے

عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کافر سات آنت میں کھاتا ہے اور مومن ایک آنت میں کھاتا ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، ابوسعید، ابو بصرہ غفاری، ابوموسیٰ ، جہجاہ غفاری، میمونہ اور عبداللہ بن عمرو (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأطعمة ١٢ (٥٣٩٣-٥٣٩٥) ، صحیح مسلم/الأشربة ٣٤ (٢٠٦٠) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٣ (٣٢٥٧) ، (تحفة الأشراف : ٨١٥٦) ، و مسند احمد (٢/٢١، ٤٣، ٧٤، ١٤٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : علماء نے اس کی مختلف توجیہیں کی ہیں : ( ١ ) مومن اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرتا ہے ، اسی لیے کھانے کی مقدار اگر کم ہے تب بھی اسے آسودگی ہوجاتی ہے ، اور کافر چونکہ اللہ کا نام لیے بغیر کھاتا ہے اس لیے اسے آسودگی نہیں ہوتی ، خواہ کھانے کی مقدار زیادہ ہو یا کم۔ ( ٢ ) مومن دنیاوی حرص طمع سے اپنے آپ کو دور رکھتا ہے ، اسی لیے کم کھاتا ہے ، جب کہ کافر حصول دنیا کا حریص ہوتا ہے اسی لیے زیادہ کھاتا ہے ، ( ٣ ) مومن آخرت کے خوف سے سرشار رہتا ہے اسی لیے وہ کم کھا کر بھی آسودہ ہوجاتا ہے ، جب کہ کافر آخرت سے بےنیاز ہو کر زندگی گزارتا ہے ، اسی لیے وہ بےنیاز ہو کر کھاتا ہے ، پھر بھی آسودہ نہیں ہوتا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3257) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1818

【32】

مومن ایک آنت میں کھاتا ہے

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک کافر مہمان آیا، آپ ﷺ نے اس کے لیے بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا، بکری دو ہی گئی، وہ دودھ پی گیا، پھر دوسری دو ہی گئی، اس کو بھی پی گیا، اس طرح وہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا، پھر کل صبح ہو کر وہ اسلام لے آیا، رسول اللہ ﷺ نے اس کے لیے ایک بکری (دوہنے کا) حکم دیا، وہ دو ہی گئی، وہ اس کا دودھ پی گیا، پھر آپ نے دوسری کا حکم دیا تو وہ اس کا پورا دودھ نہ پی سکا، (اس پر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مومن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث سہیل کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأطعمة ١٢ (٥٣٩٦-٥٣٩٧) ، صحیح مسلم/الأشربة ٣٤ (٢٠٦٣) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٣ (٣٢٥٦) ، (تحفة الأشراف : ١٢٧٣٩) ، وط/صفة النبي ﷺ ٦ (٩، ١٠) ، مسند احمد (٢/٣٧٥، ٢٥٧، ٤١٥، ٤٣٥، ٤٣٧، ٤٥٥) ، سنن الدارمی/الأطعمة ١٣ (٢٠٨٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3256) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1819

【33】

ایک شخص کا کھانا دو کے لئے کافی ہے

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دو آدمیوں کا کھانا تین آدمیوں کے لیے اور تین آدمیوں کا کھانا چار آدمیوں کے لیے کافی ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢-

【34】

ٹڈی کھانا

عبداللہ بن ابی اوفی (رض) سے روایت ہے کہ ان سے ٹڈی کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا : میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ چھ غزوے کیے اور ٹڈی کھاتے رہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - اس حدیث کو سفیان بن عیینہ نے ابویعفور سے اسی طرح روایت کیا ہے اور کہا ہے : چھ غزوے کیے ، ٢ - اور سفیان ثوری اور کئی لوگوں نے ابویعفور سے یہ حدیث روایت کی ہے اور کہا ہے : سات غزوے کیے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصید ١٣ (٥٤٩٥) ، صحیح مسلم/الصید ٨ (١٩٢٢) ، سنن ابی داود/ الأطعمة ٣٥ (٣٨١٢) ، سنن النسائی/الصید ٣٧ (٤٣٦١) ، (تحفة الأشراف : ٥١٨٢) ، و مسند احمد (٤/٣٥٣، ٣٥٧، ٣٨٠) ، وسنن الدارمی/الصید ٥ (٢٠٥٣) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1821 اس سند سے بھی ابن ابی اوفی (رض) سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔

【35】

ٹڈی کھانا

ابن ابی اوفی (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات غزوات کئے اور ٹڈی کھاتے رہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - شعبہ نے بھی اسے ابویعفور کے واسطہ سے ابن ابی اوفی سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کئی غزوات کئے اور ٹڈی کھاتے رہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : وہ جانور جو حلال ہیں انہیں میں سے ٹڈی بھی ہے ، اس کی حلت پر تقریباً سب کا اتفاق ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1822 امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابویعفور کا نام واقد ہے، انہیں وقدان بھی کہا جاتا ہے، ابویعفور دوسرے بھی ہیں، ان کا نام عبدالرحمٰن بن عبید بن نسطاس ہے، ٣ - اس باب میں ابن عمر اور جابر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1822

【36】

ٹڈی کھانا

جابر بن عبداللہ اور انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ ٹڈیوں پر بد دعا کرتے تو کہتے «اللهم أهلک الجراد اقتل کباره وأهلک صغاره وأفسد بيضه واقطع دابره وخذ بأفواههم عن معاشنا وأرزاقنا إنک سميع الدعاء» اللہ ! ٹڈیوں کو ہلاک کر دے، بڑوں کو مار دے، چھوٹوں کو تباہ کر دے، ان کے انڈوں کو خراب کر دے، ان کا جڑ سے خاتمہ کر دے، اور ہمارے معاش اور رزق تباہ کرنے سے ان کے منہ روک لے، بیشک تو دعا کو سننے والا ہے ، ایک آدمی نے پوچھا : اللہ کے رسول ! اللہ کے لشکروں میں سے ایک لشکر کو جڑ سے ختم کرنے کی بد دعا کیسے کر رہے ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ سمندر میں مچھلی کی چھینک ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - موسیٰ بن محمد بن ابراہیم تیمی کے بارے میں محدثین نے کلام کیا ہے، ان سے غریب اور منکر روایتیں کثرت سے ہیں، ان کے باپ محمد بن ابراہیم ثقہ ہیں اور مدینہ کے رہنے والے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الصید ٩ (٣٢٢١) ، (تحفة الأشراف : ١٤٥١، ٢٥٨٥) (موضوع) (سند میں موسیٰ بن محمد بن ابراہیم تیمی ضعیف اور منکرالحدیث راوی ہے، ابن الجوزی نے موضوعات میں اسی کو متہم کیا ہے، ملاحظہ ہو : الضعیفة : ١١٢، لیکن ضعیف سنن الترمذی اور مشہور حسن کے سنن کے نسخے میں اس حدیث پر کوئی حکم نہیں لگا ہے ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1823

【37】

جلالہ کے دودھ اور گوشت کا حکم

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گندگی کھانے والے جانور کے گوشت کھانے اور ان کے دودھ پینے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ثوری نے اسے «عن ابن أبي نجيح عن مجاهد عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں عبداللہ بن عباس سے بھی حدیث مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأطعمة ٢٥ (٣٧٨٥) ، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١١ (٣١٨٥) ، (تحفة الأشراف : ٧٣٨٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3189) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1824

【38】

جلالہ کے دودھ اور گوشت کا حکم

عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے «مجثمة» اور گندگی کھانے والے جانور کے دودھ اور مشک کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - محمد بن بشار کہتے ہیں : ہم سے ابن عدی نے «عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن عکرمة عن ابن عباس عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی ہے، ٣ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی حدیث مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأشربة ٢٤ (٥٦٢٩) ، سنن ابی داود/ الأشربة ١٤ (٣٧١٩) ، سنن النسائی/الضحایا ٤٤ (٤٤٥٣) ، سنن ابن ماجہ/الأشربة ٢٠ (٣٤٢١) ، (تحفة الأشراف : ٦١٩٠) ، و مسند احمد (١/٢٢٦، ٢٤١، ٣٣٩) سنن الدارمی/الأضاحي ١٣ (٢٠١٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : «مجثمہ» : وہ جانور ہے جس پر نشانہ بازی کی جائے یہاں تک کہ وہ مرجائے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (2503) ، الصحيحة (2391) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1825

【39】

مرغی کھانا

زہدم جرمی کہتے ہیں کہ میں ابوموسیٰ کے پاس گیا، وہ مرغی کھا رہے تھے، کہا : قریب ہوجاؤ اور کھاؤ اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسے کھاتے دیکھا ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے، زہدم سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ہم اسے صرف زہدم ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ٧٤ (٤٣٨٥) ، والصید ٢٦ (٥٥١٧، ٥٥١٨) ، و کفارات الأیمان ١٠ (٦٧٢١) ، صحیح مسلم/الأیمان ٣ (١٦٤٩/٩) ، سنن النسائی/الصید ٣٣ (٤٣٥١) ، (تحفة الأشراف : ٨٩٩٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دوست کے گھر اس کے کھانے کے وقت میں جانا صحیح ہے ، نیز کھانے والے کو چاہیئے کہ آنے والے مہمان کو اپنے ساتھ کھانے میں شریک کرے ، اگرچہ کھانے کی مقدار کم ہو ، اس لیے کہ اجتماعی شکل میں کھانا نزول برکت کا سبب ہے ، یہ بھی معلوم ہوا کہ مرغ کا گوشت حلال ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (2499) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1826

【40】

مرغی کھانا

ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مرغ کا گوشت کھاتے دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس حدیث میں کچھ اور باتیں بھی ہیں، ٣ - ایوب سختیانی نے بھی اس حدیث کو «عن القاسم التميمي عن أبي قلابة عن زهدم» کی سند سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأطعمة ٢٩ (٣٧٩٧) ، (تحفة الأشراف : ٤٤٨٢) (ضعیف) (سند میں ابراہیم بن عمر بن سفینہ ” بُریہ “ مجہول الحال راوی ہیں ) قال الشيخ الألباني : صحيح انظر ما قبله (1826) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1827

【41】

سرخاب کا گوشت کھانا

سفینہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حباری کا گوشت کھایا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٣ - ابراہیم بن عمر بن سفینہ سے ابن ابی فدیک نے بھی روایت کی ہے، انہیں برید بن عمر بن سفینہ بھی کہا گیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : (ضعیف) (سند میں ابراہیم بن عمر بن سفینہ جن کا لقب بریہ ہے، مستور ہیں، اور ابراہیم بن عبدالرحمن بن مہدی بصری صدوق راوی ہیں، لیکن ان سے منکر روایات آئی ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : «حباری» (یعنی سرخاب) بطخ کی شکل کا ایک پرندہ ہے جس کی گردن لمبی اور رنگ خاکستری ہوتا ہے ، اس کی چونچ بھی قدرے لمبی ہوتی ہے۔ اور یہ جنگلوں میں پایا جاتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، الإرواء (2500) //، ضعيف أبي داود (812 / 3797) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1828

【42】

بھنا ہوا گوشت کھانا

ام المؤمنین ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھنی دست پیش کی، آپ نے اس میں سے تناول فرمایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے : ١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن حارث، مغیرہ اور ابورافع (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبریٰ ) (تحفة الأشراف : ١٨٢٠٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح مختصر الشمائل (138) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1829

【43】

تکیہ لگا کر کھانے کی کراہت

ابوجحیفہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ہم اسے صرف علی بن اقمر کی روایت سے جانتے ہیں، علی بن اقمر سے اس حدیث کو زکریا بن ابی زائدہ، سفیان بن سعید ثوری اور کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، شعبہ نے یہ حدیث سفیان ثوری سے علی بن اقمر کے واسطہ سے روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں علی، عبداللہ بن عمرو اور عبداللہ بن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأطعمة ١٣ (٥٣٩٨) ، سنن ابی داود/ الأطعمة ١٧ (٣٧٦٩) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٦ (٣٢٦٢) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٠١) ، و مسند احمد (٤/٣٠٨) ، سنن الدارمی/الأطعمة ٣١ (٢١١٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ٹیک لگانے کا کیا مطلب ہے ؟ اس سلسلہ میں کئی باتیں کہی جاتی ہیں : ( ١ ) کسی ایک جانب جھک کر کھانا جیسے دائیں یا بائیں ہاتھ یا کمنی پر ٹیک لگانا ، ( ٢ ) زمین پر بچھے ہوئے گدے پر اطمینان و سہولت کی خاطر آلتی پالتی مار کر بیٹھنا تاکہ کھانا زیادہ کھایا جائے ، بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس طرح کے بیٹھنے کو ٹیک لگا کر بیٹھنا قرار دینا صحیح نہیں ہے ، حافظ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں کہ مستحب انداز بیٹھنے کا یہ ہے کہ پیروں کے تلوؤں پر گھٹنوں کے بل بیٹھے ، یا دایاں پاؤں کھڑا رکھے اور بائیں پر بیٹھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3262) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1830

【44】

نبی کریم ﷺ کا میٹھی چیز اور شہد پسند کرنا

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ میٹھی چیز اور شہد کو پسند کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اسے علی بن مسہر نے بھی ہشام بن عروہ کے واسطہ سے روایت کی ہے، ٣ - حدیث میں اس سے زیادہ باتیں ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأطعمة ٣٢ (٥٤٣١) ، والأشربة ١٠ (٥٥٩٩) ، و ١٥ (٥٦١٤) ، والطب ٤ (٥٦٨٢) ، والحیل ١٢ (٦٩٧٢) ، صحیح مسلم/الطلاق ٣ (١٤٧٤) ، سنن ابی داود/ الأشربة ١١ (٣٧١٥) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٣٦ (٣٣٢٣) ، (تحفة الأشراف : ١٦٧٩٦) ، و مسند احمد (٦/٥٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3323) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1831

【45】

شوربا زیادہ کرنا

عبداللہ مزنی (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی گوشت خریدے تو اس میں (پکاتے وقت) شوربا (سالن) زیادہ کرلے، اس لیے کہ اگر وہ گوشت نہ پا سکے تو اسے شوربا مل جائے، وہ بھی دو گوشت میں سے ایک گوشت ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - اس باب میں ابوذر سے بھی روایت ہے، ٢ - ہم اسے صرف اسی سند سے محمد بن فضاء کی روایت سے جانتے ہیں، محمد بن فضاء «معبر» (یعنی خواب کی تعبیر بیان کرنے والے) ہیں، ان کے بارے میں سلیمان بن حرب نے کلام کیا ہے، ٣ - یہ حدیث غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٨٩٧٤) (ضعیف) (سند میں محمد بن فضاء ضعیف، اور ان کے والد فضاء بن خالد بصری مجہول راوی ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (2341) // ضعيف الجامع الصغير (371) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1832

【46】

شوربا زیادہ کرنا

ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم لوگوں میں سے کوئی شخص کسی بھی نیک کام کو حقیر نہ سمجھے، اگر کوئی نیک کام نہ مل سکے تو اپنے بھائی سے مسکرا کر ملے ١ ؎، اور اگر تم گوشت خریدو یا ہانڈی پکاؤ تو شوربا (سالن) بڑھا لو اور اس میں سے چلو بھر اپنے پڑوسی کو دے دو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - شعبہ نے بھی اسے ابوعمران جونی کے واسطہ سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/البر و الصلة ٤٢ (٢٦٢٥/١٤٢) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٥٨ (٣٣٦٢) ، (تحفة الأشراف : ١١٩٥١) ، و مسند احمد (٥/١٤٩، ١٥٦، ١٦١، ١٧١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اپنے مسلمان بھائی سے مسکرا کر ملنا اسے دلی سکون پہنچانا ہے ، یہ بھی ایک نیک عمل ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1368) ، التعليق الرغيب (3 / 264) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1833

【47】

ثرید کی فضیلت

ابوموسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مردوں میں سے بہت سارے مرد درجہ کمال کو پہنچے ١ ؎ اور عورتوں میں سے صرف مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ درجہ کمال کو پہنچیں اور تمام عورتوں پر عائشہ کو اسی طرح فضیلت حاصل ہے جس طرح تمام کھانوں پر ثرید کو ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عائشہ اور انس سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٣٢ (٣٤١١) ، و ٤٦ (٣٤٣٣) ، وفضائل الصحابة ٣٠ (٣٧٦٩) ، والأطعمة ٢٥ (٥٤١٨) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٢ (٢٤٣١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : چناچہ مردوں میں سے انبیاء ، رسل ، علما ، خلفاء ، اور اولیاء ہوئے۔ ٢ ؎ : ثرید : اس کھانے کو کہتے ہیں جس میں گوشت کے ساتھ شوربے میں روٹی ملی ہوئی ہو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3280) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1834

【48】

گوشت نوچ کر کھانا

عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ میرے باپ نے میری شادی کی اور لوگوں کو مدعو کیا، ان میں صفوان بن امیہ (رض) بھی تھے، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : گوشت کو دانت سے نوچ کر کھاؤ اس لیے کہ وہ زیادہ جلد ہضم ہوتا ہے، اور لذیذ ہوتا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - اس حدیث کو ہم صرف عبدالکریم کی روایت سے جانتے ہیں اور عبدالکریم المعلم کے حافظہ کے بارے میں اہل علم نے کلام کیا ہے، کلام کرنے والوں میں ایوب سختیانی بھی ہیں، ٢ - اس باب میں عائشہ اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف : ٤٩٤٧) (ضعیف) (سند میں ابو امیہ عبد الکریم بن ابی المخارق المعلم ضعیف راوی ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (2193) // ضعيف الجامع الصغير (2101) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1835

【49】

چھری سے گوشت کاٹ کر کھانے کی اجازت

عمرو بن امیہ ضمری (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے بکری کی دست کا گوشت چھری سے کاٹا، اور اس میں سے کھایا، پھر نماز کے لیے تشریف لے گئے اور وضو نہیں کیا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں مغیرہ بن شعبہ سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٥ (٢٠٨) ، والأذان ٤٣ (٦٧٥) ، والجہاد ٩٢ (٢٩٢٣) ، والأطعمة ٢٠ (٥٤٠٨) ، و ٢٦ (٥٤٢٢) ، و ٥٨ (٥٤٦٢) ، صحیح مسلم/الحیض ٢٤ (٣٥٥) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٦ (٤٩٠) ، (تحفة الأشراف : ١٠٧٠) ، و مسند احمد (٤/١٣٩، ١٧٩) و (٥/٢٨٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس سے معلوم ہوا کہ چھری سے کاٹ کر گوشت کھایا جاسکتا ہے ، طبرانی اور ابوداؤد میں ہے کہ چھری سے گوشت کاٹ کر مت کھاؤ کیونکہ یہ عجمیوں کا طریقہ ہے ، لیکن یہ روایتیں ضعیف ہیں ، ان سے استدلال درست نہیں ، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ آگ سے پکی چیز کھانے سے وضوء نہیں ٹوٹتا ، کیونکہ آپ ﷺ نے گوشت کھا کر وضو نہیں کیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (490) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1836

【50】

نبی کریم ﷺ کو کون ساگوشت پسند تھا

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں گوشت لایا گیا اور آپ کو دست پیش کی گئی، آپ کو دست بہت پسند تھی، چناچہ آپ نے اسے دانت سے نوچ کر کھایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن مسعود، عائشہ، عبداللہ بن جعفر اور ابوعبیدہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - ابوحیان کا نام یحییٰ بن سعید بن حیان ہے اور ابوزرعہ بن عمرو بن جریر کا نام ہرم ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٣ (٣٣٤٠) ، وتفسیر الإسراء ٥ (٤٧١٢) ، صحیح مسلم/الإیمان ٨٤ (١٩٤) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٢٨ (٣٣٠٧) ، ویأتي عند المؤلف في صفة القیامة ١٠ (٢٤٣٤) ، (تحفة الأشراف : ١٤٩٢٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3307) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1837

【51】

نبی کریم ﷺ کو کون ساگوشت پسند تھا

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو دست کا گوشت زیادہ پسند نہیں تھا، لیکن آپ کو یہ کبھی کبھی ملتا تھا، اس لیے آپ اسے کھانے میں جلدی کرتے تھے کیونکہ وہ دوسرے گوشت کے مقابلہ میں جلدی گلتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٦١٩٤) (منکر) (سند میں عبدالوہاب بن یحییٰ لین الحدیث راوی ہیں، اور متن صحیح روایات کے خلاف ہے ) قال الشيخ الألباني : منکر مختصر الشمائل (144) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1838

【52】

سرکہ کے بارے میں

جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : اس باب میں عائشہ اور ام ہانی سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأشربة ٣٠ (٢٠٥٢) ، سنن ابی داود/ الأطعمة ٤٠ (٣٨٢٠) ، سنن النسائی/الأیمان ٢١ (٣٨٢٧) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٣٣ (٣٣١٧) ، (تحفة الأشراف : ٢٧٥٨) ، و مسند احمد ٣/٣٠٤، ٣٧١، ٣٨٩، ٣٩٠) ، سنن الدارمی/الأطعمة ١٨ (٢٠٩٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے سرکہ کے سالن کی فضیلت ثابت ہوتی ہے ، کیونکہ یہ سب کے لیے کم خرچ میں آسانی سے دستیاب ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3316 و 3317) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1839

【53】

سرکہ کے بارے میں

ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأشربة ٣٠ (٢٠٥١) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٣٣ (٣٣١٦) ، (تحفة الأشراف : ١٦٩٤٣) (صحیح ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1841

【54】

سرکہ کے بارے میں

ام ہانی بنت ابوطالب (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے گھر تشریف لائے اور فرمایا : کیا تمہارے پاس (کھانے کے لیے) کچھ ہے ؟ میں نے عرض کیا : نہیں، صرف روٹی کے چند خشک ٹکڑے اور سرکہ ہے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے لاؤ، وہ گھر سالن کا محتاج نہیں ہے جس میں سرکہ ہو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف ام ہانی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - ام ہانی کی وفات علی بن ابی طالب کے کچھ دنوں بعد ہوئی، ٣ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : شعبی کا سماع ام ہانی سے میں نہیں جانتا ہوں، ٤ - میں نے پھر پوچھا : آپ کی نظر میں ابوحمزہ ثابت بن ابی صفیہ کیسے ہیں ؟ انہوں نے کہا : احمد بن حنبل کا ان کے بارے میں کلام ہے اور میرے نزدیک وہ مقارب الحدیث ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٨٠٠٢) (حسن) (سند میں ابو حمزہ، ثابت بن ابی صفیہ ضعیف راوی ہیں، لیکن مسند احمد (٣/٣٥٣) میں جابر (رض) کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، الصحیحة : ٢٢٢٠ ) قال الشيخ الألباني : حسن، الصحيحة (2220) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1842

【55】

سرکہ کے بارے میں

جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث مبارک بن سعید کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ١٨٣٩ (تحفة الأشراف : ٢٥٧٩) (صحیح ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1840

【56】

تربوز کو تر کھجور کے ساتھ کھانا

ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ تازہ کھجور کے ساتھ تربوز کھاتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - بعض لوگوں نے اسے «عن هشام بن عروة عن أبيه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے، اس میں عائشہ کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے، یزید بن رومان نے اس حدیث کو عروہ کے واسطہ سے عائشہ سے روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأطعمة ٤٥ (٣٨٣٦) ، (وأخرجہ النسائي في الکبریٰ ) ، (تحفة الأشراف : ١٦٩٠٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (57) ، مختصر الشمائل (170) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1843

【57】

ککڑی کو کھجور کے ساتھ ملا کر کھانا

عبداللہ بن جعفر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ تازہ کھجور کے ساتھ ککڑی کھاتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف ابراہیم بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأطعمة ٣٩ (٥٤٤٠) ، صحیح مسلم/الأشربة والأطعمة ٢٣ (٢٠٤٣) ، سنن ابی داود/ الأطعمة ٤٥ (٣٨٣٥) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٣٧ (٣٣٢٥) ، (تحفة الأشراف : ٥٢١٩) ، سنن الدارمی/الأطعمة ٢٤ (٢١٠٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3325) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1844

【58】

اونٹوں کا پیشاب پینا

انس (رض) سے روایت ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ آئے، انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہیں آئی، اس لیے نبی اکرم ﷺ نے انہیں صدقہ کے اونٹوں میں بھیجا اور فرمایا : اونٹوں کا پیشاب اور دودھ پیو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی انس سے آئی ہے، ابوقلابہ نے اسے انس سے روایت کی ہے اور سعید بن ابی عروبہ نے بھی اسے قتادہ کے واسطہ سے انس سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٧٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2578) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1845

【59】

کھانے سے پہلے اور بعد وضو کرنا

سلمان فارسی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے تورات میں پڑھا ہے کہ کھانے کی برکت کھانے کے بعد وضو کرنے میں ہے ، میں نے نبی اکرم ﷺ سے اسے بیان کیا اور جو کچھ تورات میں پڑھا تھا اسے بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا : کھانے کی برکت کھانے سے پہلے اور اس کے بعد وضو کرنے میں ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - اس حدیث کو ہم صرف قیس بن ربیع کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - اور قیس بن ربیع حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، ٣ - اس باب میں انس اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأطعمة ١٢ (٣٧٦١) ، (تحفة الأشراف : ٤٤٨٩) (ضعیف) (سند میں قیس بن ربیع ضعیف راوی ہںأ ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (168) ، مختصر الشمائل (159) //، ضعيف أبي داود (804 / 3761) ، ضعيف الجامع الصغير (2331) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1846

【60】

کھانے سے پہلے وضو نہ کرنا

عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پاخانہ سے تشریف لائے، تو آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، صحابہ نے عرض کیا : کیا آپ کے لیے وضو کا پانی لائیں ؟ آپ نے فرمایا : مجھے نماز کے لیے جاتے وقت وضو کا حکم دیا گیا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسے عمرو بن دینار نے سعید بن حویرث کے واسطہ سے ابن عباس سے روایت کی ہے، ٣ - علی بن مدینی کہتے ہیں : یحییٰ بن سعید نے کہا : سفیان ثوری کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا مکروہ سمجھتے تھے، وہ پیالہ کے نیچے چپاتی رکھنا بھی مکروہ سمجھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأطعمة ١١ (٣٧٦٠) ، سنن النسائی/الطہارة ١٠٠ (١٣٠) ، وراجع صحیح مسلم/الحیض ٣١ (٣٧٤) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٩٣) ، و مسند احمد (١/٣٥٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح مختصر الشمائل (158) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1847

【61】

کدو کھانا

ابو طالوت کہتے ہیں کہ میں انس بن مالک کے پاس گیا، وہ کدو کھا رہے تھے، اور کہہ رہے تھے : اے بیل ! کس قدر تو مجھے پسند ہے ! کیونکہ رسول اللہ ﷺ تجھے پسند کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢ - اس باب میں حکیم بن جابر سے بھی روایت ہے جسے حکیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف : ١٧١٩) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابو طالوت شامی مجہول راوی ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1849 عکراش بن ذؤیب (رض) کہتے ہیں کہ بنو مرہ بن عبید نے اپنی زکاۃ کا مال دے کر مجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا، میں آپ کے پاس مدینہ آیا تو آپ کو مہاجرین اور انصار کے بیچ بیٹھا پایا، پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ام سلمہ (رض) کے گھر لے گئے اور پوچھا : کھانے کے لیے کچھ ہے ؟ چناچہ ایک پیالہ لایا گیا جس میں زیادہ ثرید (شوربا میں ترکی ہوئی روٹی) اور بوٹیاں تھیں، ہم اسے کھانے کے لیے متوجہ ہوئے، میں پیالہ کے کناروں پر اپنا ہاتھ مارنے لگا اور رسول اللہ ﷺ اپنے سامنے سے کھانے لگے، پھر آپ نے اپنے بائیں ہاتھ سے میرا دایاں ہاتھ پکڑ کر فرمایا : عکراش ! ایک جگہ سے کھاؤ اس لیے کہ یہ ایک ہی قسم کا کھانا ہے ، پھر ہمارے پاس ایک طبق لایا گیا جس میں مختلف قسم کی کھجوریں تھیں، میں اپنے سامنے سے کھانے لگا، اور رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ طبق میں گھومنے لگا، آپ نے فرمایا : عکراش ! جہاں سے چاہو کھاؤ، اس لیے کہ یہ ایک قسم کا نہیں ہے ، پھر ہمارے پاس پانی لایا گیا، رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور ہتھیلیوں کی تری سے چہرے، بازو اور سر پر مسح کیا اور فرمایا : عکراش ! یہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد کا وضو ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف علاء بن فضل کی روایت سے جانتے ہیں، علاء اس حدیث کی روایت کرنے میں منفرد ہیں، ٣ - ہم نبی اکرم ﷺ سے عکراش کی صرف اسی حدیث کو جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الأطعمة ١١ (٣٢٤٠) ، (تحفة الأشراف : ١٠٠٦) (ضعیف) (سند میں العلاء بن فضل ضعیف راوی ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (3274) // ضعيف سنن ابن ماجة (706) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1848

【62】

کدو کھانا

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ رکابی میں ڈھونڈ رہے تھے یعنی کدو، اس وقت سے میں اسے ہمیشہ پسند کرتا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ٣ - روایت کی گئی ہے کہ انس نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے کدو دیکھا تو آپ سے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ کدو ہے ہم اس سے اپنے کھانے کی مقدار بڑھاتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٣٠ (٢٠٩٢) ، والأطعمة ٤ (٥٣٧٩) ، و ٢٥ (٥٤٢٠) ، صحیح مسلم/الأشربة والأطعمة ٢١ (٢٠٤١) ، سنن ابی داود/ الأطعمة ٢٢ (٣٧٨٢) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٢٦ (٣٣٠٤) ، (تحفة الأشراف : ١٩٨) ، وط/النکاح ٢١ (٥١) ، سنن الدارمی/الأطعمة ١٩ (٢٠٩٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1850

【63】

زیتون کا تیل کھانا

عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : زیتون کا تیل کھاؤ اور اسے (جسم پر) لگاؤ، اس لیے کہ وہ مبارک درخت ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : اس حدیث کو ہم صرف عبدالرزاق کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ معمر سے روایت کرتے ہیں، ٢ - عبدالرزاق اس حدیث کی روایت کرنے میں مضطرب ہیں، کبھی وہ اسے مرفوع روایت کرتے ہیں اور کبھی شک کے ساتھ روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں اسے عمر (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اور کبھی کہتے ہیں : زید بن اسلم سے روایت ہے، وہ اپنے باپ سے اور وہ نبی اکرم ﷺ سے مرسل طریقہ سے روایت کرتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٣٤ (٣٣١٩) ، (تحفة الأشراف : ١٠٣٩٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : کیونکہ یہ درخت شام کی سر زمین میں کثرت سے پایا جاتا ہے ، اور شام وہ علاقہ ہے جس کے متعلق رب العالمین کا ارشاد ہے کہ ہم نے اس سر زمین کو ساری دنیا کے لیے بابرکت بنایا ہے ، کہا جاتا ہے کہ اس سر زمین میں ستر سے زیادہ نبی اور رسول پیدا ہوئے انہیں میں ابراہیم (علیہ السلام) بھی ہیں ، چوں کہ یہ درخت ایک بابرکت سر زمین میں اگتا ہے ، اس لیے بابرکت ہے ، اس لحاظ سے اس کا پھل اور تیل بھی برکت سے خالی نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1319) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1851

【64】

None

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زیتون کا تیل کھاؤ اور اسے ( جسم پر ) لگاؤ، اس لیے کہ وہ مبارک درخت ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کو ہم صرف عبدالرزاق کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ معمر سے روایت کرتے ہیں، ۲- عبدالرزاق اس حدیث کی روایت کرنے میں مضطرب ہیں، کبھی وہ اسے مرفوع روایت کرتے ہیں اور کبھی شک کے ساتھ روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں اسے عمر رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور کبھی کہتے ہیں: زید بن اسلم سے روایت ہے، وہ اپنے باپ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل طریقہ سے روایت کرتے ہیں۔

【65】

زیتون کا تیل کھانا

ابواسید (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : زیتون کا تیل کھاؤ اور اسے (جسم پر) لگاؤ اس لیے کہ وہ مبارک درخت ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ہم اسے صرف سفیان ثوری کی روایت سے عبداللہ بن عیسیٰ کے واسطہ سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبریٰ ) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٦٠) ، و مسند احمد (٣/٤٩٧) ، (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی عطا من اہل الشام لین الحدیث ہیں ) قال الشيخ الألباني : صحيح بما قبله (1851) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1852

【66】

باندی یا غلام کے ساتھ کھانا

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کا خادم تمہارے کھانے کی گرمی اور دھواں برداشت کرے، تو (مالک کو چاہیئے کہ کھاتے وقت) اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بٹھا لے، اگر وہ انکار کرے تو ایک لقمہ لے کر ہی اسے کھلا دے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الأطعمة (٢٨٩ و ٣٢٩٠) ، (تحفة الأشراف : ١٢٩٣٥) ، و مسند احمد (٢/٤٧٣) ، (وراجع : صحیح البخاری/العتق ١٨ (٢٥٥٧) ، والأطعمة ٥٥ (٥٤٦٠) ، و مسند احمد (٢/٢٨٣، ٤٠٩، ٤٣٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3289 و 3290) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1853

【67】

کھاناکھلانے کی فضیلت

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سلام کو عام کرو اور اسے پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ اور کافروں کا سر مارو (یعنی ان سے جہاد کرو) جنت کے وارث بن جاؤ گے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث ابوہریرہ کے واسطہ سے ابن زیاد کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو، ابن عمر، انس، عبداللہ بن سلام، عبدالرحمٰن بن عائش اور شریح بن ہانی (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، شریح بن ہانی نے اپنے والد سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٤٤٠٢) (ضعیف) (سند میں عثمان بن عبد الرحمن جمعی ضعیف راوی ہیں، لیکن ” افشوا السلام وأطعموا الطعام “ کا ٹکڑا دیگر صحابہ سے صحیح ہے ) وضاحت : ١ ؎ : حدیث میں مذکور یہ سارے کے سارے کام ایسے ہیں جنہیں عملی جامہ پہنانے والا اس جنت کا وارث ہوجائے گا جس کا وعدہ رب العالمین نے اپنے متقی بندوں سے کیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، الإرواء (3 / 238) // 777 //، الضعيفة (1324) // ضعيف الجامع الصغير (995) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1854

【68】

کھاناکھلانے کی فضیلت

عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : رحمن کی عبادت کرو، کھانا کھلاؤ اور سلام کو عام کرو اور اسے پھیلاؤ، جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو گے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الأدب ١١ (٣٦٩٤) ، (تحفة الأشراف : ٨٦٤١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی جب تم یہ سب کام اخلاص کے ساتھ انجام دیتے رہو گے یہاں تک کہ اسی حالت میں تمہاری موت ہو تو تم جنت میں امن و امان کے ساتھ جاؤ گے ، تمہیں کوئی خوف اور غم نہیں لاحق ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3694) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1855

【69】

رات کے کھانے کی فضیلت

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : رات کا کھانا کھاؤ گر چہ ایک مٹھی ردی کھجور ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ رات کا کھانا چھوڑنا بڑھاپے کا سبب ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث منکر ہے، ٢ - ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، عنبسہ حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں اور عبدالملک بن علاق مجہول ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف : ٨٦٤١) (ضعیف) (سند میں عنبسہ متروک الحدیث راوی ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (116) // ضعيف الجامع الصغير (2447) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1856

【70】

کھانے پر بسم اللہ پڑھنا

عمر بن ابی سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے، آپ کے پاس کھانا رکھا تھا، آپ نے فرمایا : بیٹے ! قریب ہوجاؤ، بسم اللہ پڑھو اور اپنے داہنے ہاتھ سے جو تمہارے قریب ہے اسے کھاؤ ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث ہشام بن عروہ سے «عن أبي وجزة السعدي عن رجل من مزينة عن عمر ابن أبي سلمة» کی سند سے مروی ہے، اس حدیث کی روایت کرنے میں ہشام بن عروہ کے شاگردوں کا اختلاف ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٧ (٣٢٦٧) ، (تحفة الأشراف : ١٠٦٨٥) ، (وراجع : صحیح البخاری/الأطعمة ٢ (٥٣٧٦) ، وصحیح مسلم/الأشربة والأطعمة ١٣ (٢٠٢٢) ، و سنن ابی داود/ الأطعمة ٢٠ (٣٧٧٧) ، و موطا امام مالک/صفة النبي ﷺ ١٠ (٣٢) ، وسنن الدارمی/الأطعمة ١ (٢٠٦٢) (صحیح) (” ادْنُ “ کا لفظ صحیح نہیں ہے، تراجع الالبانی ٣٥٠ ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں : ( ١ ) کھاتے وقت بسم اللہ پڑھنا چاہیئے ، اس کا اہم فائدہ جیسا کہ بعض احادیث سے ثابت ہے ، یہ ہے کہ ایسے کھانے میں شیطان شریک نہیں ہوسکتا ، ساتھ ہی اس ذات کے لیے شکر یہ کا اظہار ہے جس نے کھانا جیسی نعمت ہمیں عطا کی ، ( ٢ ) اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آداب طعام میں سے ہے کہ اپنے سامنے اور قریب سے کھایا جائے ، ( ٣ ) چھوٹے بچوں کو اپنے ساتھ کھانے میں شریک رکھا جائے ، ( ٤ ) اس مجلس سے متعلق جو بھی ادب کی باتیں ہوں بچوں کو ان سے واقف کرایا جائے ، ( ٥ ) کھانا دائیں ہاتھ سے کھایا جائے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3267) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1857

【71】

کھانے پر بسم اللہ پڑھنا

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم لوگوں میں سے کوئی کھانا کھائے تو «بسم اللہ» پڑھ لے، اگر شروع میں بھول جائے تو یہ کہے «بسم اللہ في أوله وآخره»۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأطعمة ١٦ (٣٧٦٧) ، سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ١٠٣ (٢٨١) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٧ (٣٢٦٤) ، والمؤلف في الشمائل ٢٥ (تحفة الأشراف : ١٧٩٨٨) ، و مسند احمد (٦/١٤٣) ، سنن الدارمی/الأطعمة ١ (٢٠٦٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : ** صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1858 اسی سند سے عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ چھ صحابہ کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے، اچانک ایک اعرابی آیا اور دو لقمہ میں پورا کھانا کھالیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر اس نے «بسم اللہ» پڑھ لی ہوتی تو یہ کھانا تم سب کے لیے کافی ہوتا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف وانظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : ** صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1858

【72】

چکنے ہاتھ دھوئے بغیر سونا مکروہ ہے

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شیطان بہت تاڑنے اور چاٹنے والا ہے، اس سے خود کو بچاؤ، جو شخص رات گزارے اور اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو، پھر اسے کوئی بلا پہنچے تو وہ صرف اپنے آپ کو برا بھلا کہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢ - یہ حدیث «سهيل ابن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے بھی مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف : ١٣٠٣٤) (موضوع) (سند میں یعقوب بن ولید مدنی کذاب راوی ہے، لیکن اس آخری ٹکڑا اگلی حدیث سے صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : موضوع، الضعيفة (5533) ، الروض النضير (2 / 225) // ضعيف الجامع الصغير (1476) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1859

【73】

چکنے ہاتھ دھوئے بغیر سونا مکروہ ہے

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص رات گزارے اور اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو پھر اسے کوئی بلا پہنچے تو وہ صرف اپنے آپ کو برا بھلا کہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے اعمش کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأطعمة ٥٤ (٣٨٥٢) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٢٢ (٣٢٩٦) ، (تحفة الأشراف : ١٢٤٦٤) ، و مسند احمد (٢/٣٤٤) ، سنن الدارمی/الأطعمة ٢٧ (٢١٠٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی کھانے کے بعد اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح دھو لو ، کیونکہ نہ دھونے سے کھانے کی بو ہاتھوں میں باقی رہے گی ، جو جن و شیاطین کو اپنی طرف مائل کرے گی ، اور ایسی صورت میں ایسا شخص کسی مصیبت سے دوچار ہوسکتا ہے ، اس لیے سوتے وقت اس کا خاص خیال رکھنا چاہیئے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3297) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1860