17. کتاب المناقب والفضائل

【1】

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل اور مقامات عالیہ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں قیامت کے دن تمام اولاد آدم کا سید (سردار) ہوں گا اور میں پہلا وہ شخص ہوگا جس کی قبر شق ہوگی (یعنی قیامت کے دن اللہ تعالی کے حکم سے سب سے پہلے میری قبر شق ہوگئی اور میں سب سے پہلے اپنی قبر سے اٹھوں گا) اور میں شفاعت کرنے والا پہلا شخص ہوگا (یعنی اللہ تعالی کی طرف سے سب سے پہلے شفاعت کی اجازت مجھے ملے گی اور سب سے پہلے میں ہی اس کی بارگاہ میں شفاعت کروں گا) اور میں ہی وہ شخص ہوں جس کی شفاعت سب سے پہلے قبول فرمائی جائے گی۔ (صحیح مسلم) تشریح اللہ تعالی کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو علم و معارف عطا ہوئے اور آپ کے ذریعے امت کو ملے جو انسانی زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق ابواب میں منقسم ہیں ان میں سے ایک مناقب و فضائل کا باب بھی ہے حدیث کی قریبا سبھی کتابوں میں “کتاب المناقب” یا “ابواب المناقب” جیسے عنوانات کے تحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ ارشادات روایت کئے گئے ہیں جن میں آپ نے بعض خاص اشخاص و افراد یا خاص طبقات کے وہ مناقب و فضائل بیان فرمائے ہیں جو اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر منکشف فرمائے یہ باب بعض پہلوؤں سے حدیث کے اہم ابواب میں سے ہیں اس میں امت کے لیے ہدایت کا بہت بڑا سامان ہے اج بنام خدا اس باب کی احادیث کی تشریح کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے اور اس کا آغاز چند ان حدیثوں کی تشریح سے کیا جارہا ہے جن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم و ارشاد “ وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ” کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے رب کریم کے خصوصی انعامات کا اور ان کے مقامات عالیہ کا ذکر فرمایا ہے جن پر آپ کو فائز کیا گیا تھا ساتھ ہی انشاءاللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شمائل و خصائل اور خاص احوال سے متعلق احادیث بھی تشریح کے ساتھ نظر ناظرین کی جائیں گی۔ تشریح ..... رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے مجھ پر ایک خاص انعام یہ بھی فرمایا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پوری نسل میں (جس میں تمام انبیاء علیہم السلام بھی شامل ہیں) مجھے سب سے اعلی مقام و مرتبہ عطا فرمایا ہے مجھے سب کا سید و آقا بنایا ہے اس کا پورا ظہور جس کو سب آنکھوں سے دیکھیں گے قیامت کے دن ہو گا اور اسی دن اللہ تعالی کے ان خصوصی انعام کا بھی ظہور ہوگا کہ جب مردوں کے قبر سے اٹھنے کا وقت آئے گا تو بحکم خداوند سب سے پہلے میری قبر اوپر سے شق ہو گی اور میں سب سے پہلے قبر سے باہر آؤں گا اور پھر جب شفاعت کا دروازہ کھلنے کا وقت آئے گا تو باذن خداوندی سب سے پہلے میں ہی شفاعت کرنے والا ہوں گا اور میں ہی پہلا وہ شخص ہوں گا جس کی شفاعت کو اللہ تعالی کی طرف سے شرف قبول حاصل ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کے عظیم خداوندی انعامات کا اظہار اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے اس لیے بھی فرماتے تھے کہ امت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام عالی سے واقف ہو اور اس کے قلب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ عظمت اور محبت پیدا ہو جو ہونی چاہیے اور پھر دل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا جذبہ اور داعیہ ابھرے نیز اللہ تعالی کی اس نعمت عظمیٰ کے شکر کی توفیق ہو کہ اس نے ایسے عظیم المرتبت پیغمبر کا امتی بنایا الغرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرح ارشادات تحدیث نعمت اور شکر نعمت کے علاوہ امت کی ہدایت و تربیت کے اسباب بھی ہیں۔ یہاں ایک یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد حدیثیں اس مضمون کی مروی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں پیغمبر پر مجھے فضیلت نہ دی جائے آپ کے اس طرح کے ارشادات کا مطلب (جو شارحین نے لکھا ہے اور خود ان حدیثوں کے سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے) یہ ہے کہ اللہ تعالی کہ کسی بھی پیغمبر کے ساتھ مقابلہ اور موازنہ کرکے ان کو کمتر ثابت کرنے کی بات نہ کی جائے اس میں ان کی کسر شان اور سوء ادب کا اندیشہ ہے ورنہ االلہ تعالی نے اپنی کتاب پاک قرآن مجید میں فرمایا ہے “ تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ” (یہ ہمارے رسول ہیں جن میں سے بعض کو ہم نے بعض پر فضیلت اور برتری دی ہے) اور قرآن مجید میں متعدد آیتیں ہیں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تمام انبیاء و مرسلین سے افضل ہونا واضح طور پر ثابت ہوتا ہے مثلا “وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ” اور “وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ ..... الاية” وغيرها

【2】

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل اور مقامات عالیہ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن میں تمام بنی آدم کا سید (سردار) ہوں گا اور یہ میں فخر کے طور پر نہیں کہتا اور حمد کا جھنڈا اس دن میرے ہاتھ میں ہوگا اور یہ بھی میں فخر کے طور پر نہیں کہتا اور تمام انبیاء علیہم سلام آدمؑ اور انکے سوا بھی سب انبیاء و مرسلین اس دن میرے جھنڈے کے نیچے ہونگے اور میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس کی قبرکی زمین اوپر سے شق ہو گئی اور یہ بھی میں فخر کے طور پر نہیں کہتا۔ (بلکہ اللہ تعالی کے حکم سے اس کے انعام و احسان کا بیان کر رہا ہوں) (جامع ترمذی) تشریح اس حدیث کے اول و آخر میں اللہ تعالیٰ کے جن دو انعامات کا ذکر فرمایا گیا ہے ایک “أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ” اور دوسرا “وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تُنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ” ان دونوں کا ذکر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مندرجہ بالا حدیث میں بھی کیا گیا ہے اور ان کی تشریح بھی کی جاچکی ہے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہٗ کی اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید اس خاص الخاص انعام و کرام کا ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے بن لواء الحمد (حمد کا جھنڈا) میرے ہاتھ میں دیا جائے گا اور تمام انبیاء ومرسلین میرے اس جھنڈے تلے ہوگے۔ یہ بات معلوم ومعروف ہیں کہ جھنڈا لشکر کے سپہ سالار اعظم کے ہاتھ میں دیا جاتا ہے اور باقی لشکری اس کے ماتحت ہوتے ہیں پس قیامت کے دن اللہ تعالی کی طرف سے جھنڈا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں دیا جانا اور آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جھنڈے تلے ہونا اللہ تعالی کی طرف سے تمام مخلوقات اور تمام انبیاء پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیادت و فضیلت کا ایسا ضرور ہوگا جس کو ہر دیکھنے والا اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا۔ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے اس ارشاد میں بھی اللہ تعالی کا ہر انعام ذکر فرمانے کے ساتھ یہ بھی فرمایاکہ “ولا فخر” کہ اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کا ذکر میں فخر کے طور پر نہیں کررہا ہوں بلکہ اس کے حکم کی تعمیل میں تحدیث نعمت اور اداء شکر کے طور نہ اور تمہاری واقفیت کے لئے کر رہا ہوں۔ یہ لواءالحمد (حمد کا جھنڈا) جو قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں دیا جائے گا اس واقعی حقیقت کی علامت اور اس کا اعلان ہوگا جس برگزیدہ بندے کے ہاتھ میں حمد خداوندی کا یہ جھنڈا ہے اس کا حصہ اللہ تعالی کی حمد و ثنا کے عمل میں (جو کسی بندے کو اللہ کا محبوب و مقبول بنانے والا خاص الخاص عمل ہے) سب سے زیادہ ہے اللہ کی حمد خود اس کی زندگی کا ہمہ وقتی وظیفہ تھا دن رات کی نمازوں میں بار بار اللہ کی حمد، اٹھتے بیٹھتے اللہ کی حمد، کھاناکھانے کے بعد اللہ کی حمد، پانی پینے کے بعد اللہ کی حمد، سونے سے پہلے اور سو کر اٹھنے کے بعد اللہ کی حمد، لذت اور مسرت کے ہر موقع پر اللہ کی حمد، اللہ تعالی کی کسی بھی نعمت کے احساس کے وقت اس کی حمد، یہاں تک کہ چھینک آنے پر اللہ کی حمد، استنجے سے فراغت پر اللہ کی حمد (ان تمام ملکوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو دعائیں ثابت ہیں ان سب میں اللہ تعالی کی حمد ہی ہے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو بڑے اہتمام سے اسی طرز عمل کی ہدایت اور تلقین فرمائی جس کے نتیجہ میں بلاشبہ اللہ تعالی کی اتنی حمد ہوئی اور قیامت تک ہوگی جس کا حساب بس اللہ تعالی ہی کے علم میں ہے اس لیے بلاشبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اس کے مستحق ہیں کہ لواءالحمد (حمد کا جھنڈا) قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں دیا جائے اور اس کے ذریعہ آپ کی اس خصوصیت کا اعلان و اظہار کیا جائے۔ صلی اللہ علیہ و بارک وسلم۔

【3】

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل اور مقامات عالیہ

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا تو میں تمام نبیوں کا امام اور پیشوا ہو گا اور ان کی طرف سے خطاب اور کلام کرنے والا ہوں گا اور ان کی سفارش کرنے والا ہی ہوں گا اور یہ میں بطور فخر کے نہیں کہتا (بلکہ اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل میں تحدیث نعمت کے طور پر کہہ رہا ہوں) ۔ (جامع ترمذی) تشریح اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کو قیامت کے دن انبیاء علیہم السلام کا خطیب اور صاحب شفاعت بھی فرمایا ہے مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن جب جلال خداوندی کا غیرمعمولی ظہور ہو گا تو انبیاء علیہم السلام کو بارگاہ خداوندی میں کچھ عرض کرنے کی بھی ہمت نہیں ہوگی تو میں ان کی طرف سے بارگاہ الہی میں کلام اور عرض ومعروض کروں گا اور ان کے لیے سفارش کروں گا یہاں بھی آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں یہ سب کچھ از راہ فخر وتعلی نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ تحدیث نعمت کے طور پر اور تم لوگوں کو واقف کرنے کے لئے اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل میں بیان کر رہا ہوں۔

【4】

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل اور مقامات عالیہ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ بیٹھے باتیں کر رہے تھے اسی حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر سے تشریف لے آئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ وہ آپس میں یہ باتیں کر رہے ہیں ان میں سے ایک نے (حضرت ابراہیمؑ کی عظمت شان بیان کرتے ہوئے) کہا کہ اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا ایک دوسرے صاحب نے کہا کہ اور حضرت موسیؑ کو ہم کلامی کا شرف بخشا پھر ایک اور صاحب نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ مقام ہے کہ وہ کلمۃ اللہ اور روح اللہ ہیں پھر ایک اور صاحب نے کہا کہ حضرت آدمؑ کو اللہ تعالی نے برگزیدہ کیا (کہ ان کو براہ راست اپنے دست قدرت سے بنایا اور ان کو سجدہ کرنے کا فرشتوں کو حکم دیا وہ صحابہ یہ باتیں کررہے تھے) کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا کہ میں نے تمہاری گفتگو اور تمہارا اظہار تعجب سنا، بےشک ابراہیمؑ اللہ کے خلیل ہیں اور وہ ایسے ہی ہیں (ان کو اللہ تعالی نے اپنا خلیل بنایا ہے) اور بےشک موسیؑ نجی اللہ (اللہ کے ہمراز و ہم سخن) ہیں اور وہ ایسے ہی ہیں اور بے شک عیسی روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں اور وہ ایسے ہی ہیں اور بےشک آدم صفی اللہ (اللہ کے برگزیدہ) ہیں اور فی الحقیقت وہ ایسے ہی ہیں اور تم کو معلوم رہنا چاہیے کہ میں حبیب اللہ (اللہ کا محبوب) ہوں اور یہ میں بطور فخر نہیں کہتا اور قیامت کے دن میں ہی لواءالحمد (حمد کا جھنڈا) اٹھانے والا ہوگا، آدم اور ان کے سوا بھی سب (انبیاء و مرسلین) میرے اس جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور یہ بات میں فخر کے طور پر نہیں کہتا اور میں سب سے پہلا وہ شخص ہوگا جو قیامت کے دن بارگاہ خداوندی میں شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے جس کی شفاعت قبول فرمائی جائے گی اور میں پہلا وہ شخص ہوگا جو (جنت کا دروازہ کھلوانے کے لیے) اس کے حلقہ کو ہلائے گا تو اللہ تعالی میرے لیے اس کو کھلوا دے گا اور مجھے جنت میں داخل فرمائے گا اور میرے ساتھ فقراء مومنین ہونگے اور یہ بات بھی میں فخر سے نہیں کہتا اور بارگاہ خداوندی میں اولین و آخرین میں سب سے زیادہ میرا اکرام و اعزاز ہوگا اور یہ بھی فخر سے نہیں کہتا۔ (جامع ترمذی و مسند دارمی) تشریح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج مبارک اور عام رویہ تواضع اور انکساری کا تھا لیکن ضرورت محسوس ہوتی تو اللہ تعالی کے ارشاد “وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ” کی تعمیل میں اللہ تعالیٰ کے ان خصوصی انعامات اور اعلی کمالات و مقامات کا بھی ذکر فرماتے جن سے آپ سرفراز فرمائے گئے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی یہ حدیث اور جو حدیثیں اوپر درج کی گئیں یہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی سلسلہ کے بیانات ہے وہ صحابہ کرامؓ جن کی گفتگو کا اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے حضرت ابراہیمؑ حضرت موسیٰؑ و عیسیٰؑ اور حضرت آدم (علیہم السلام) پر ہونے والے اللہ تعالیٰ کے ان خصوصی انعامات سے تو واقف تھے جن کا وہ تذکرہ کررہے تھے ان کو یہ سب کچھ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تعلیم سے قرآن مجید سے معلوم ہو چکا تھا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام عظمت کے بارے میں غالبا ان کی معلومات ناقص تھی اس لیے یہ خود ان کی ضرورت اور حاجت تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں ان کو بتلائیں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بتلایا اور اس طرح بتلایا کہ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت موسیؑ و عیسیؑ اور حضرت آدمؑ پر ہونے والے جن انعامات الہیہ اور ان کے جن فضائل ومناقب کا وہ ذکر کر رہے تھے، پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کی تصدیق فرمائی اس کے بعد اپنے بارے میں بتلایا کہ مجھ پر اللہ تعالی کا یہ خاص الخاص انعام ہے کہ مجھ کو مقام محبوبیت عطا فرمایا گیا ہے اور میں اللہ کا حبیب ہوں (ملحوظ رہے کہ جن اصحاب کرام سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا وہ جانتے تھے کہ محبوبیت کا مقام سب سے اعلی و بالا ہے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں مزید وضاحت کی ضرورت نہیں سمجھی) اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض ان انعامات الہیہ کا ذکر فرمایا ہے جس کا ظہور اس دنیا کے خاتمہ کے بعد قیامت میں ہوگا ان میں سے لواءالحمد ہاتھ میں ہونے اور اولین شافع اور اولین مقبول الشفاعۃ ہونے کا ذکر مندرجہ بالا حدیثوں میں بھی آچکا ہے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو خصوصی انعامات خداوندی کا اور ذکر فرمایا ایک یہ کہ جنت کا دروازہ کھلوانے کے لیے سب سے پہلے میں ہی اس کے حلقوں کو حرکت دوں گا (جس طرح کسی مکان کا دروازہ کھلوانے کے لیے دستک دی جاتی ہے) تو اللہ تعالی فورا دروازہ کھلوا دیں گے اور مجھ کو جنت میں داخل فرمائیں گے اور میرے ساتھ فقراء مومنین ہوں گے اور وہ بھی میرے ساتھ ہی جنت میں داخل کر لیے جائیں گے (یہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مقام محبوبیت پر فائز ہونے کا ظہور ہوگا) آخری بات آپ صلی اللہ وسلم نے اس سلسلہ میں یہ ارشاد فرمائی کہ “وانا اکرم الاولین و الآخرین علی اللہ” یعنی یہ بھی مجھ پر اللہ تعالی کا خاص الخاص انعام ہے کہ اس کی بارگاہ میں تمام اولین و آخرین میں سب سے زیادہ اکرم و اعزاز میرا ہی ہے اور جو مقام عزت مجھے عطا فرمایاگیا ہے وہ اولین و آخرین میں سے کسی اور کو عطا نہیں فرمایا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد میں جن خصوصی انعامات الہیہ کا ذکر فرمایا ان میں سے ہر ایک کے ساتھ یہ بھی فرمایا “ولا فخر” جیسا کہ عرض کیا جاچکا اس کا مطلب یہی ہے کہ اللہ تعالی کے ان خصوصی انعامات کا ذکر محض از راہ فخر اور اپنی برتری ظاہر کرنے کے لئے نہیں کر رہا ہوں بلکہ محض اللہ کے حکم کی تعمیل میں تحدیث نعمت اور اداء شکر کے لیے اور تم لوگوں کو واقف کرنے کے لئے کر رہا ہوں تاکہ تم بھی اس رب کریم کا شکر ادا کرو کیونکہ یہ انعامات تمہارے حق میں بھی وسیلہ خیر و سعادت ہیں۔

【5】

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل اور مقامات عالیہ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں (بروز قیامت) پیغمبروں کا قائد اور پیش رو ہوں گا اور یہ بات میں بطور فخر نہیں کہتا اور میں خاتم النبیین ہوں اور یہ بھی میں ازراہ فخر نہیں کہتا اور میں پہلا شفاعت کرنے والا ہوں گا اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول فرمائی جائے گی اور یہ بھی میں بطور فخر نہیں کہنا۔ (مسند دارمی) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو خاتم النبیین ہیں اور اس دنیا میں اللہ کے سارے نبیوں رسولوں کے بعد آئے قیامت کے دن آپ سب انبیاء و مرسلین کے قائد و پیش رو ہونگے۔ پھر آپ نے اسی قیامت کے دن شفاعت اور شفاعت کی قبولیت میں اپنی اولیت اور سابقیت کا ذکر بھی فرمایا جس کا ذکر مندرجہ بالا متعدد حدیثوں میں بھی آ چکا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں بھی اللہ تعالی کے انعامات کا ذکر کے ساتھ فرمایا “ولافخر” ۔

【6】

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل اور مقامات عالیہ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اور اگلے سب پیغمبروں کی مثال ایسی ہے کہ ایک شاندار محل ہے جس کی تعمیر بڑی حسین اور خوبصورت کی گئی ہے لیکن اس کی تعمیر میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی گئی دیکھنے والے اس محل کو ہر طرف سے گھوم پھر کے دیکھتے ہیں انہیں اس کی تعمیر کی خوبی اور خوبصورتی بہت اچھی لگتی ہے ان کو اس سے تعجب ہوتا ہے، سوائے اینٹ کی خالی جگہ کے (وہ اس حسین عمارت کا ایک نقص ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ) پس میں نے آ کر اس خالی جگہ کو بھر دیا میرے ذریعہ اس محل کی تکمیل اور اس کی تعمیر کا اختتام ہو گیا اور پیغمبروں کا سلسلہ بھی ختم اور مکمل ہو گیا۔ (صاحب مشکاۃ المصابیح محمد بن عبداللہ خطیب تبریزی کہتے ہیں کہ) اس حدیث کی صحیحین ہی کی ایک روایت میں آخری خط کشیدہ الفاظ کی جگہ یہ الفاظ ہیں “فَاَنَا اللَّبِنَةُ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ” میں ہی وہ اینٹ ہوں جس سے اس قصر نبوت کی تکمیل ہوئی اور میں خاتم النبیین ہوں) ۔ (صحیح بخاری ومسلم) تشریح قرآن مجید نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین فرمایا گیا ہے اور بہت سی حدیثوں میں بھی اور بلاشبہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالی کا عظیم ترین انعام ہے کہ قیامت تک آپ ہی پوری انسانی دنیا کے لئے اللہ کے نبی و رسول ہیں۔ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خاتمیت کی حقیقت اور نوعیت کو ایک عام فہم مثال کے ذریعہ سمجھایا ہے جو ایسی سہل الفہم ہے کہ اس کے سمجھانے کے لیے کسی توضیح و تشریح کی ضرورت نہیں اس حدیث نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو ہزاروں پیغمبر آئے ان کی آمد سے گویا قصر نبوت کی تعمیر ہوتی رہی اور تکمیل کو پہنچ گئی بس ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت و آمد سے وہ بھی بھر گئی اور قصر نبوت بالکل مکمل ہو گیا کسی نئے نبی ورسول کے آنے کی نہ ضرورت رہی نہ گنجائش، اس لئےاللہ تعالی کی طرف سے نبوت و رسالت کا سلسلہ ختم اور دروازہ بند کردیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا اعلان فرما دیا گیا۔ صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ وصحبہٖ وبارک وسلم

【7】

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ،بعثت، وحی کی ابتداء اور عمر شریف

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم لوگوں کو اپنے اول امر (اپنی ابتداء) کے بارے میں بتلاتا ہوں میں ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا ہوں (یعنی انکی دعا کی قبولیت کا ظہور ہو) اور عیسی (علیہ السلام) کی بشارت ہوں (یعنی وہ نبی ہوں جسکی آمد کی بشارت انہوں نے دی تھی) اور اپنی والدہ کا خواب ہو (یعنی ان کے اس خواب کی تعبیر ہو) جو انہوں نے میری ولادت کے وقت دیکھا تھا کہ ایک ایسا نور ظاہر ہوا جس سے میری والدہ کے لیے ملک شام کے محل بھی روشن ہو گئے۔ (مسند احمد) تشریح قرآن مجید سورہ بقرہ کی آیت نمبر 127 اور نمبر 128 میں بیان فرمایا گیا ہے کہ جب اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے صاحبزادہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ساتھ لے کر کعبۃ اللہ کی تعمیر کر رہے تھے تو انہوں نے یہ دعا بھی کی تھی کہ اے ہمارے پروردگار ہماری نسل میں سے ایک ایسی امت پیدا فرمانا جو تیری فرمانبردار ہوں اور ان میں انہیں میں سے ایک ایسا رسول مبعوث فرمانا جو ان کو تیری آیات پڑھ کر سنائے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کو پاک صاف کرے۔ اور سورج صف کی آیت نمبر 6 میں بیان کیا گیا ہے کہ جب اللہ تعالی نے عیسیٰ علیہ السلام کو پیغمبر بنا کر ان کی قوم بنی اسرائیل کے پاس بھیجا تو آپؑ نے ان لوگوں سے کہا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے جن کاموں کے لیے بھیجا ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ میں اس عظیم الشان پیغمبر کی آمد کی بشارت سناوں جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد میں قرآن مجید کی انہی آیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ میں ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا نتیجہ اور ظہور ہو اور میں عیسی بن مریم کی بشارت کا مصداق ہوں آگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس خواب کی تعبیر ہوں جو میری والدہ ماجدہ نے میری ولادت کے وقت دیکھا تھا کہ ایک ایسا غیر معمولی نور ظاہر ہوا جس کی روشنی نے میری والدہ صاحبہ کے لئے ملک شام کی عالی شان عمارتیں اور محل روشن کر دیئے اور میری والدہ نے اس نور کے اجالے میں انکو دیکھ لیا۔ یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے قریبی وقت میں غالبا اسی رات میں دیکھا تھا جس کی صبح آپ کی ولادت ہوئی ملک شام کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ سرزمین انبیاء ہیں اور اسی میں وہ بیت المقدس ہے جو تمام انبیاء بنی اسرائیل کا قبلہ رہا ہے۔ راقم سطور نے حدیث کے لفظ رویا کا ترجمہ خواب کیا ہے اور اسی کی بنیاد پر تشریح کی ہے لیکن یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کی والدہ ماجدہ نے اس نور کا ظہور اور اس کی روشنی میں ملک شام کے محلات عین ولادت کے وقت بیداری میں دیکھے بعض دوسری روایات سے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ولادت سے پہلے سونے کی حالت میں خواب دیکھا ہو اور پھر ولادت کے وقت بیداری میں بھی آنکھوں نے یہ دیکھا ہو بہرحال یہ نور کا ظہور اور اس کے اجالے میں ملک شام کے محلات کا نظر آنا اس کی علامت تھی کہ اللہ تعالی اس مولود مسعود کے ذریعہ ہدایت کا نور ملک شام تک بھی پہنچ جائے گا جو ہزاروں برس تک خود ہدایت کا مرکز رہا ہے اور بیت المقدس کو قبلہ ماننے والی قوم بھی اس نور ہدایت سے فیضیاب ہوں گی جیسا کہ ظہور میں آیا اور قیامت تک آتا رہے گا۔

【8】

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ،بعثت، وحی کی ابتداء اور عمر شریف

قیس بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام الفیل میں پیدا ہوئے تھے۔ (جامع ترمذی) تشریح فیل عربی میں ہاتھی کو کہتے ہیں عام الفیل سے مراد وہ سال ہے جس میں یمن کے عیسائی حاکم ابرہہ نے کعبۃ اللہ کو ڈھا دینے اور برباد کر دینے کے ارادے سے ایسے لشکر کے ساتھ جس میں بڑے بڑے کوہ پیکر ہاتھی بھی تھے مکہ معظمہ پر لشکر کشی کی تھی تو مکہ کے حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی اللہ تعالی نے چھوٹی چھوٹی چڑیوں کی شکل میں اپنا غیبی لشکر بھیج دیا ان چڑیوں نے لشکر پر کنکر کی پتھریاں برسا کر (جو گولی کا کام کرتی تھیں) سارے لشکر کو تہس نہس کر دیا۔ قرآن مجید سورۃ الفیل میں یہی واقعہ بیان فرمایا گیا ہے جس سال یہ غیر معمولی واقعہ ہوا تھا اس کو عام الفیل کہا جاتا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش اسی سال ہوئی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کے پچاس دن بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت ہوئی۔ علامہ ابن الجوزی کے بیان کے مطابق اس پر اتفاق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت اسی سال میں ہوئی، اس پر بھی قریبا اتفاق ہے کہ مہینہ ربیع الاول اور دن دوشنبہ کا تھا۔ تاریخ کے بارے میں روایات مختلف ہیں، 2 ربیع الاول کی بھی روایت ہے، 8 کی بھی، 10 کی بھی، اور 12 کی بھی (اور یہی زیادہ مشہور ہے) اس کے علاوہ 17 ، 18 کی بھی روایتیں ہیں علامہ قسطلانی نے لکھا ہے کے اکثر محدثین کے نزدیک 8 ربیع الاول والی روایت زیادہ قوی ہے ماضی قریب کے مصر کے ایک ماہر فلکیات محمود پاشا نے ریاضی کے حساب سے ثابت کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت عام الفیل 9 ربیع الاول کو ہوئی۔ ٹھیک اس وقت جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دنیا میں (مکہ مکرمہ ہی میں) آمد کا وقت قریب تھا ابرہہ کے لشکر کا جس کو قرآن مجید میں اصحاب الفیل کہا گیا ہے اور جوکعبۃ کو ڈھانے اور نیست و نابود کردینے کے ارادہ سے کوہ پیکر ہاتھیوں کے ساتھ حملہ آور ہوا تھا چھوٹی چھوٹی چڑیوں کی سنگ باری سے تہس نہس ہو جانا یقینا قدرت خداوندی کا ایک معجزہ تھا ہمارے علماء و مصنفین نے اس کو ان معجزانہ واقعات میں شمار کیا ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں آمد سے پہلے اس کے مقدمات اور پیشگی برکات کے طور پر ظہور میں آئے اور بلاشبہ ایسا ہی ہے۔

【9】

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ،بعثت، وحی کی ابتداء اور عمر شریف

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے (یعنی اللہ تعالی کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت و رسالت کے منصب پر فائز کیا گیا) چالیس سال کی عمر میں۔ اسکے بعد آپ مکہ مکرمہ میں رہے تو تیرہ سال، آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آتی رہی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا (مکہ سے) ہجرت کا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی، اور مہاجر بن کر دس سال رہے اور پھر (مدینہ منورہ میں) وفات پائی اس وقت جبکہ عمر شریف تریسٹھ 63 سال تھی۔ (صحیح بخاری و مسلم)

【10】

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ،بعثت، وحی کی ابتداء اور عمر شریف

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی جبکہ عمر شریف تریسٹھ (63) سال تھی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی وفات پائی جبکہ آپ کی عمر تریسٹھ (63) سال تھی اور حضرت عمرؓ نے بھی وفات پائی تریسٹھ (63) سال ہی کی عمر میں۔ (صحیح مسلم) تشریح شیخین (حضرت ابوبکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما) کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو خاص بلکہ خاص الخاص نسبت تھی اس کاایک ظہور یہ بھی تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح ان دونوں حضرات نے بھی تریسٹھ (63) سال کی عمر میں ہی وفات پائی اور اسی کا ایک ظہور یہ بھی ہے کہ وفات کے بعد یہ دونوں حضرات بھی روضہ اقدس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر مدفون ہیں۔ اور علامت قیامت کے زیرعنوان ہو حدیث گزر چکی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قبر شریف سے اٹھ کر میدان حشر یا دربار خداوندی کی طرف چلیں گے تو آپ کے یہ دونوں رفیق آپ کے دائیں بائیں ہوں گے اور آگے شیخین کے مناقب میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت انشاءاللہ ذکر کی جائے گی جس میں انہوں نے بیان فرمایا کہ جب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہٗ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شیخین کے اس خصوصی تعلق اور امتیازی نسبت کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے حوالہ دے کر بڑے جامع اور واضح الفاظ میں بیان فرمایا۔

【11】

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ،بعثت، وحی کی ابتداء اور عمر شریف

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا کہ وہ پہلی چیز جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء ہوئی رویا صادقہ تھے جو آپ سونے کی حالت میں دیکھتے تھے چنانچہ آپ جو خواب بھی دیکھتے وہ سپیدہ صبح کی طرح سامنے آجاتا ۔۔۔۔ پھر آپ کے دل میں خلوت گزینی کی محبت ڈال دی گئی تو آپ غار حرا میں جا کر خلوت گزینی کرنے لگے ۔ وہاں آپ (اپنے اہل خانہ کی طرف اشتیاق سے پہلے) کئی کئی رات تک عبادت فرماتے اور اس کے لئے خورد و نوش کا ضروری سامان ساتھ لے جاتے پھر (اپنی زوجہ محترمہ) حضرت خدیجہؓ کے پاس تشریف لاتے ، اور اتنی ہی راتوں کے لئے پھر سامان خورد و نوش ساتھ لے جاتے ..... یہاں تک کہ اس حال میں کہ آپ غار حرا میں تھے ، آپ کے پاس حق آ گیا (یعنی وحی حق آ گئی) چنانچہ (خدا کا فرستادہ) فرشتہ (جبرائیل) آپ کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ اقرا (پڑھئے !) آپ نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں ، آپ نے بیان فرمایا کہ پھر اس فرشتے نے مجھے زور سے دبایا (بھینچا) یہاں تک کہ اس کا دباؤ میری طاقت کی انتہا کو پہنچ گیا ، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ اقرا (پڑھئے !) پھر میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں ، پھر اس نے مجھے پکڑا اور پھر دوسری دفعہ زور سے دبایا ، یہاں تک کہ اس کا دباؤ میری طاقت کی انتہا کو پہنچ گیا ، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور پھر کہا اقرا (پڑھئے !) پھر میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں ، اس کے بعد پھر اس فرشتہ نے مجھے پکڑا اور تیسری مرتبہ زور سے دبایا ، یہاں تک کہ اس کا دباؤ میری طاقت کی انتہا کو پہنچ گیا ، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ﴿١﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ﴿٢﴾اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ﴿٣﴾ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ﴿٤﴾ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ﴿٥﴾ (اپنے اس پروردگار کے نام سے پڑھئے جس نے پیدا کیا ، انسان کو جس نے جمے ہوئے خون سے پیدا کیا، پڑھیئے اور آپ کا پروردگار بڑا کریم ہے، وہ جس نے قلم کے ذریعہ سکھایا، انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیتوں کو لے کر اس حال میں لوٹے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل لرز رہا تھا .... تو آپ (اپنی زوجہ محترمہ) حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے کپڑا اڑھا دو ، مجھے کپڑا اڑھا دو ، تو گھر والوں نے آپ کو کپڑا اڑھا دیا یہاں تک کہ گھبراہٹ اور دہشت کی وہ کیفیت ختم ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہؓ سے بات کی اور پورا واقعہ بتلایا اور فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا خطرہ ہو گیا تھا حضرت خدیجہؓ نے کہا کہ ہرگز ایسے خطرہ کی بات نہیں ، قسم بخدا اللہ تعالیٰ کبھی آپ کو رسوا نہیں کرے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صلہ رحمی کرتے ہیں اور ہمیشہ حق اور سچی بات کہتے ہیں اور بوجھ اٹھاتے ہیں ناداروں کے لئے کماتے ہیں ، اور مہمان نوازی کرتے ہیں اور لوگوں کی مدد کرتے ہیں ان حادثوں پر جو حق ہوتے ہیں ..... پھر حضرت خدیجہؓ آپ کو لے گئیں اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس اور ان سے کہا کہ اے میرے چچا زاد بھائی اپنے بھتیجے کی بات (اور واردات) سنیئے ! تو ورقہ بن نوفل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے بھتیجے بتلاؤ تم کیا دیکھتے ہو ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو وہ سب بتلایا جو مشاہدہ رمایا تھا تو ورقہ نے کہا کہ یہ وہ خاص راز داں فرشتہ (جبرائیل) ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر بھیجا تھا۔(پھر ورقہ نے کہا کہ) کاش میں اس وقت جوان پٹھا ہوتا ، کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جب تمہاری قوم تم کو نکالے گی۔‘‘ تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے (تعجب سے) کہا : ’’ کیا میری قوم کے لوگ مجھے نکال دیں گے؟‘‘ ورقہ نے کہا کہ ہاں ! (تمہاری قوم تم کو دیس سے نکال دے گی) کوئی آدمی بھی اس طرح کی دعوت لے کر نہیں آیا جیسی تم لائے ہو مگر یہ کہ لوگوں نے اس کے ساتھ دشمنی کا برتاؤ کیا اور اگرمیں ان دنوں تک زندہ رہا تو تمہاری بھر پور مددکروں گا۔پھر تھوڑی ہی مدت کے بعد ورقہ کا انتقال ہو گیا۔ اور وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ابتداء اور نزول وحی کے آغاز کا واقعہ بیان کیا گیا ہے اور اس کی راوی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہین ، جو اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں ، لیکن حدیث کے مستند ہونے پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا ، کیوں کہ یا تو انہوں نے یہ واقعہ اس تفصیل کے ساتھ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو گا (اور غالب گمان یہی ہے) یا اپنے والد ماجد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے یا کسی دوسرے بزرگوار صحابی سے جنہوں نے خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو گا اور اہل سنت کا مسلمہ ہے (جو گویا ان کے عقائد میں شامل ہے) کہ “اَلصَّحَابَةُ كُلُّهُمْ عُدُوْلٌ” (یعنی تمام صحابہ کرام عادل اور ثقہ ہیں) جس صدیقہ نے اس کی ضرورت نہیں سمجھے کہ وہ یہ بتلائیں کہ انہوں نے یہ کس سے سنا تھا ، ہمارے یقین کے لئے ان کا بیان فرمانا کافی ہے ، اگر اس بارے میں ان کو پورا اطمینان و یقین نہ ہوتا تو وہ ہرگز اس طرح بیان نہ فرماتیں ۔ یقیناً حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کے نتیجہ میں وہ یہ جانتی تھیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق اس طرح کے اہم اور غیر معمولی واقعہ کا بیان کتنی بڑی ذمہ داری کی بات ہے ۔ حدیث میں سب سے پہلے بات یہ بیان کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا سلسلہ اس طرح شروع ہوا کہ آپ کو “رویائے صادقہ” (سچے خواب) آنے شروع ہوئے ، آگے خود حدیث میں اس کی یہ وضاحت ہے کہ آپ سونے کی حالت میں جو خواب دیکھتے وہ صبح کے اجالے کی طرح بیداری میں آنکھوں کے سامنے آ جاتا ، سمجھنا چاہئے کہ وحی نبوت کے لئے آپ کی روحانی تربیت کا سلسلہ اس طرح کے خوابوؓ سے شروع ہوا ، یہ پہلا مرحلہ تھا ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب میں سب سے یکسوئی اور خلوت گزینی کی محبت اور اس کا شوق و جذبہ پیدا فرما دیا گیا ، آگے حدیث میں جو بیان فرمایا گیاہے ، اس سے معلوم ہو جاتا ہے ، کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب میں مجرد خلوت گزینی اور سب سے الگ تھلگ رہنے کا جذبہ اور داعیہ ہی پیدا نہیں فرمایا گیا تھا ، بلکہ سب سے یکسو رہ کر خلوت میں عبادت کا (گویا ایک طرح کے اعتکاف کا) جذبہ اور شوق پیدا فرمایا گیا تھا ، پھر اس کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غار حرا کا انتخاب فرمایا ۔ حراء ایک پہاڑ کا نام ہے ، مکہ مکرمہ کے ہر طرف پہاڑیاں ہی پہاڑیاں ہیں ، کچھ کم بلند ہیں ، کچھ زیادہ بلند ہیں (جہاں تک خیال ہے) ان میں سب سے بلند یہی حراء ہے ، جس کو لوگ اب جبل النور کہتے ہیں ، یہ مکہ مکرمہ کی آبادی سے قریباً دو ڈھائی میل کے فاصلے پر ہے ، اس کی چوٹی پر پتھر کی بڑی بڑی چٹانیں باہم اس طرح مل گئی ہیں کہ ان کے درمیان ایک چھوٹا سا مثلث نما (تکونہ) حجرہ سا بن گیا ہے ، اسی کو غار حراء کہا جاتا ہے ، اور اس میں بس اتنی جگہ ہے کہ ایک آدمی کسی طرح داؒ ہو کر گزارہ کر سکتا ہے ، چونکہ یہ پہاڑ بہت بلند ہے اور غار اس کی بالکل چوٹی پر ہے اور اس تک چڑھائی میں بڑی مشقت اٹھانی پڑتی ہے ، اس لئے اچھے تندرست و توانا آدمی بھی بہ مشکل ہی وہاں پہنچ پاتے ہیں ، اب تو اس مبارک واقعہ کی وجہ سے جس کا اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے ہر مسلمان کا دل چاہتا ہے کہ اگر وہ پہنچ سکے تو اس کی زیارت کی سعادت ضرور حاصل کرے لیکن ظاہر ہے ، کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلوت میں یکسوئی سے عبادت کے لئے اس کا انتخاب فرمایا تھا تو کسی آدمی کے لئے اس گار میں ایسی کوئی کشش نہیں تھی کہ اس تک پہنچنے کے لئے وہ پہاڑ کی اتنی لمبی چڑھائی کی مشقت برداشت کرے (چنانچہ کہیں اس کا ذکر نہیں ملتا جن ایام میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس غار میں خلوت گزیں (گویا معتکف) رہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی عزیز قریب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا ہو) اس لئے خلوت میں یکسوئی سے عبادت کے لئے اس سے بہتر جگہ کا انتخاب نہیں کیا جا سکتا تھا اور آگے جو ظہور میں آنے والا تھا (جس کا اس حدیث میں بھی ذکر ہے) اس کے لئے ازل سے یہی مبارک غار مقدر ہو چکا تھا ۔ آگے حدیث شریف میں جو فرمایا گیا ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ غار حرا کی اس خلوت گزینی اور عبادت کے سلسلہ میں آپ کا معمول یہ تھا کہ چند دن رات کے لئے خورد و نوش کا ضروری سامان لے کر آپ غار حرا تشریف لے جاتے اور وہاں پوری یکسوئی سے عبادت میں مشغوک رہتے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں گھر والوں کی دیکھ بھال اور ملاقات کا داعیہ پیدا ہوتا تو گھر زوجہ محترمہ حضرت خدیجہؓ کے پاس تشریف لاتے اور پھر اتنے ہی دنوں کے لئے خود و نوش کا ضروری سامان لے کر غار حرا تشریف لے جاتے اور وہاں عبادت میں مشغول رہتے ۔ حضرت صدیقہؓ نے غار حرا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مشغولیت کے لئے فَيَتَحَنَّثُ کا لفظ استعمال فرمایا ہے حدیث کے ایک راوی امام زہری نے تعبد کے لفظ سے اس کا حاصل مطلب بیان کیا ہے ..... لیکن کسی روایت سے یہ بات معلوم نہیں ہوتی کہ غار حرا کے اس قیام میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کا طریقہ کیا تھا شارحین حدیث نے اس بارے میں حضرات علمائے کرام کے مختلف اقوال نقل کئے ہیں ، لیکن وہ سب قیاسات ہیں ..... اس عاجز کا خیال ہے کہ نبوت و رسالت کے منصب کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلسل تربیت ہو رہی تھی جس کا پہلا مرحلہ روؤیائے صادقہ کا سلسلہ تھا ، وہ بھی ایک طرح کا الہام تھا ، اس کے بعد خلوت گزینی اور خلوت میں عبادت کا داعیہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب میں پیدا کیا گیا یہ بھی جاذبہ الٰہیہ اور ایک طرح کے الہام ربانی کا نتیجہ تھا ۔ پھر غار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو عبادت فرماتے تھے جس کو حضرت صدیقہؓ نے فيتحنث کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے ، سمجھنا چاہئے کہ وہ بھی الہام ربانی کی رہنمائی میں تھی ، ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لئے نور ہدایت کی دعا کرتے ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم شرک و بت پرستی اور شدید مظالم و معاصی کی جس نجاست و غلاظت میں غرق تھی ، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت سلیمہ صالحہ کو سخت اذیت تھی ، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حضور میں اپنی بیزاری کا اظہار اور قوم کے لئے بھی اصلاح و ہدایت کی دعا فرماتے ہوں (دعا کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادت کا مغز اور جوہر فرمایا ہے) ..... بہرحال راقم الحروف کا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبادت کی اس مشغولیت میں الہام خداوندی کی رہنمائی حاصل تھی اور اس کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت کو آگے کی منزلوں کے لئے تیار کیا جا رہا تھا ، واللہ اعلم ۔ آگے حدیث میں بیان فرمایا گیا ہے کہ غار حرا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلوت گزینی اور عبادت کا سلسلہ جاری تھا کہ اچانک (ایک رات (1) میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فرشتہ وحی لے کر آ گیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اقرا (پڑھئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان ہے کہ میں نے کہا کہ مَا أَنَا بِقَارِئٍ (میں پڑھا ہوا نہیں ہوں ، اس لئے پڑھ نہیں سکتا) .... آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان ہے کہ اس جواب کے بعد اس نے مجھے پکڑ کے اتنے زور سے دبایا کہ اس کا دباؤ میری حد برداشت کی آخری حد تک پہنچ گیا یعنی اس حد تک کہ اس سے آگے میں برداشت نہیں کر سکتا تھا (بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس فرشتہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گلوئے مبارک پکڑ کے (2) اس قدر زور سے دبایا تھا) حدیث شریف میں بیان فرمایا گیا ہے کہ تین (۳) دفعہ ایسا ہی ہوا کہ اس نے مجھ سے کہا اقرأ (پڑھئے) میں نے کہا کہ مَا أَنَا بِقَارِئٍ (میں پڑھا ہوا نہیں ہوں ، اس لئے پڑھ نہیں سکتا) اور میرے اس جواب کے بعد ہر دفعہ اس نے مجھے پکڑ کے اس قدر زور سے دبایا کہ میری حد برداشت کی آخری حد تک پہنچ گیا ، تیسری دفعہ کے بعد اس نے سورہ علق کی ابتدائی پانچ آیتیں پڑھیں (اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ سےعَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ تک) حدیث میں صراحت کے ساتھ ذکر نہیں کیا گیا ہے کہ فرشتہ سے یہ آیتیں سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی ان کی تلاوت فرمائی ، لیکن آگے جو بیان فرمایا گیا ہے ، اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیتیں محفوظ ہو گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیات کی تلاوت کرتے ہوئے غار سے گھر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وقت جو حالت تھی وہ حدیث میں آگے ذکر کی گئی ہے ۔ یہاں یہ بات خاص طور سے قابل ذکر ہے کہ یوں تو پورا قرآن مجید معجزہ ہے ، لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس کی بعض چھوٹی چھوٹی سورتوں اور اس طرح بعض چھوٹی چھوٹی آیتوں میں اعجاز کی شان ایسی واضح اور نمایاں ہے کہ عربی زبان سے واقفیت اور اس کا ذوق رکھنے والا ہر شخص ان کو صرف سن کر یہ یقین کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہ بشر کا کلام نہیں بلکہ خالق بشر کا کلا ہے ..... راقم سطور بغیر ادنیٰ انکسار کے عرض کرتا ہے کہ میں عربی زبان کا ادیب نہیں ہوں بس اتنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس کا مقدس کلام قرآن مجید اور اس کے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پڑھ لیتا اور کچھ سمجھ لیتا ہوں اپنے اس حال میں بھی سورہ علق کی ان ابتدائی پانچ آیتوں کے بارے میں الحمدللہ دن میں سورج کی روشنی کی طرح یقین رکھتا ہوں کہ یہ بشر کا یا فرشتہ کا کلام نہیں ہو سکتا ہے یہ بلا شبہ رب ذو الجلال ہی کا کلام ہے ..... چھوٹی چھوٹی ان پانچ آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی معرفت کا جو دفتر اور علوم کا جو سمندر اس کی شان ربوبیت ، قدرت و حکمت ، کرم و احسان اور صفات و افعال کا جو بیان ہے ، اس پر ایک پورا مقالہ بلکہ ایک کتاب لکھی جا سکتی ہے ..... رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مادری زبان عربی تھی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم افصح العرب) تھے ، اس لئے اس میں شک شبہ کی ذرا بھی گنجائش نہیں ہے کہ جیسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرشتہ (جبرائیل) سے یہ آٰتیں سنی ہوں گی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یقین فرما لیا ہو گا کہ یہ میرے خالق و مالک رب کریم کا کلام ہے اس نے مجھے اپنے فضل خاص سے نوازا ہے ۔ حدیث میں غار حرا کے مذکورہ بالا واقعہ کے ذکر کے بعد بیان فرمایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ العلق کی ان ابتدائی پانچ آیتوں کو لے کر غارِ حرا سے اس حال میں گھر تشریف لائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ سے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل لرز رہا تھا ، جسم مبارک پر بھی اس کا اثر تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آتے ہی اپنے اہل خانہ سر فرمایا کہ مجھ پر کپڑا ڈال دو مجھے کپڑا اڑھا دو ، (ایسی حاولت میں کپڑا اوڑھنے کا طبعی تقاضا ہوتا ہے اور اس سے سکون ملتا ہے) چنانچہ گھر والوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کپڑا اڑھا دیا ، پھر وہ دہشت زدگی اور دل کے لرزنے کی کیفیت ختم ہو گئی اور حالت معمول پر آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زوجہ محترمہ حضرت خدیجہؓ کو وہ سب بتلایا جو پیش آیا تھو ، اس سلسلہ میں یہ بھی فرمایا (لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي) اے خدیجہؓ مجھے تو اپنی جان کا خطرہ ہو گیا تھا) مطلب یہ ہے کہ فرشتہ نے گلا پکڑ کے تین دفعہ ایسے زور زور سے دبایا تھا کہ مجھے خطرہ تھا کہ میری جان ہی نکل جائے گی ۔ آگے حدیث میں جو بیان فرمایا گیا ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت خدیجہؓ نے غار حرا کی ساری واردات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی اور بشارت دینے کے لئے بڑے اعتماد کے ساتھ اور قسم کھا کے اپنے اس یقین کا اظہار فرمایا کہ ہرگز کوئی خطرہ اور اندیشہ کی بات نہیں تھی اور نہیں ہے ، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اعلیٰ درجہ کے مکارم اخلاق اور محاسن اعمال سے نوازا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صلہ رحمی کرتے ہیں یعنی قرابت داروں کے حقوق ادا کرتے ہیں اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہیں ، ہمیشہ حق اور سچی بات کرتے ہیں ، صداقت اور راست بازی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شعار ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے صعیفوں ، اپاہجوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں جو بےچارے خود اپنا بوجھ نہیں اٹھا سکتے یعنی ان کی کفالت کرتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حال یہ ہے کہ خود محنت کر کے کمائی کرتے ہیں (تا کہ غریبوں حاجت مندوں کی مدد کریں) اور مہمان نوازی کرتے ہیں اور جو لوگ بغیر کسی جرم و قصور کے کسی حادثہ کا شکار ہو جاتے ہیں آپ ان کی امداد و اعانت کرتے ہیں ۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا مقصد اس گفتگو سے یہی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ مکارم اخلاق اور مبارک احوال اس بات کی علامت اور دلیل ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا خاص فضل و کرم ہے ، اس لئے مجھے یقین ہے کہ یہ جو کچھ ہوا یہ بھی اس کے کرم ہی کا ایک خاص ظہور ہے ۔ آگے حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ پھر حضرت خدیجہؓ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل (1) کے پاس پہنچیں ...... حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اسی حدیث کی صحیح بخاری ہی کی ایک دوسری روایت میں ورقہ بن نوفل کے تعارف میں یہ بھی ہے کہ : وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ، فَكَتَبَ بِالْعَرَبِيَّةِ مِنَ الْإِنْجِيلِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكْتُبَ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ. ترجمہ : یہ ورقہ بن نوفل ایسے آدمی تھے جو زمانہ جاہلیت میں (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے) نصرانیت اختیار کر چکے تھے اور یہ عبرانی زبان لکھتے تھے ، چنانچہ انجیل کو عبرانی زبان میں لکھا کرتے تھے اور یہ بہت بوڑھے تھے اور نابینا ہو گئے تھے ۔ تشریح ..... اور صحیح مسلم کی روایت میں عبرانی کے بجائے عربی ہے ، جس کا مطلب یہ ہو گا کہ ورقہ بن نوفل انجیل کے مضامین عربی زبان میں لکھا کرتے تھے اور بظاہر یہی زیادہ قرین قیاس ہے ۔ ورقہ بن نوفل کے حالات میں لکھا ہے کہ یہ شرک و بت پرستی سے بیزار تھے ، دین حق کی تلاش میں ملکوں ملکوں پھرے بالآخر ملک شام میں بتوفیق الٰہی نصرانی مذہب کے ایک ایسے راہب یعنی عیسوی مذہب کے درویش عالم سے ملاقات ہو گئی جو صحیح عیسوی مذہب پر تھے (یعنی عیسائیت میں الوہیت مسیح ، تثلیت اور کفارہ وغیرہ جیسے جو مشرکانہ اور گمراہانہ عقیدے بعد میں شامل کر لئے گئے وہ ان سے بیزار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی لائی ہوئی صحیح تعلیم و ہدایت پر قائم تھے) ورقہ نے ان کے ہاتھ پر نصرانی مذہب قبول کر لیا اور اس کی تعلیم بھی حاصل کر لی ، عبرانی زبان بھی سیکھ لی جس میں توراۃ نازل ہوئی تھی (اور بعض محققین کی تحقیق کے مطابق انجیل بھی عبرانی زبان ہی میں تھی) ۔ بہرحال ورقہ بن نوفل صحیح عیسوی مذہب پر تھے اور کتب قدیمہ کے عالم تھے ۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے اپنی کتاب “الاصابہ” میں ان ورقہ بن نوفل کے بارے میں ایک رویت نقل کی ہے ۔ وَكَانَ وَرَقَةُ قَدْ كَرهَ عِبَادَةَ الْأَوْثَانِ وَطَلَبَ الدِّينَ فِى الْآفَاقِ وَقَرَأَ الْكُتُبَ وَكَانَتْ خَدِيْجَةُ تَسْئَلُهُ عَنْ أَمْرِ النَّبِىِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ مَا أَرَاهُ إِلاَّ نَبِىّ هَذِه الَّذِى بَشَّرَ بِهِ مُوسَى وَعِيسَى . ترجمہ : ورقہ بتوں کی پوجا کو برا اور غلط سمجھتے تھے اور دین حق کی تلاش میں یہ مختلف علاقوں اور ملکوں میں پھرے اور انہوں نے کتابوں کا (یعنی ان کتابوں کا جو آسمانی کہی اور سمجھی جاتی تھی) مطالعہ کیا تھا ، اور خدیجہؓ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا کرتی تھیں تو وہ کہتے تھے کہ میرا خیال ہے کہ یہ اس امت کے نبی ہوں گے جن کی بشارت حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؓ نے دی ہے ۔ (الاصابہ ج ۶ ، ص ۳۱۸) اس سے معلوم ہوا کہ ورقہ بن نوفل کی اس خصوصیت کی وجہ سے کہ انہوں نے اپنی قوم کے شرک و بت پرستی والے مذہب سے بیزار ہو کر وعیسوی مذہب اختیار کر لیا تھا (اور اس طرح نبوت و رسالت کے پورے سلسلہ پر وہ ایمان لے آئے تھے) اور تورات انجیل وغیرہ کتب سماویہ کے عالم تھے اور ظاہر ہے کہ ان کی زندگی بھی عام اہل مکہ کی زندگی سے الگ قسم کی عائدانہ ، زاہدانہ درویشانہ زندگی رہی ہو گی ۔ (الغرض ان کی ان صفات و خصوصیات کی وجہ سے) ان کی چچا زاد بہن حضرت خدیجہؓ جو ایک نہایت سلیم الفطرت اور عاقلہ خاتون تھیں ، ان کو ایک روحانی بزرگ سمجھتی تھیں اور ان سے ایک طرح کی عقیدت رکھتی تھیں اور غارحراء کے اس واقعہ سے پہلے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے غیرم معمولی احوال (1) کا تذکرہ کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ان کا خیال اور ان کی رائے دریافت کیا کرتی تھیں اور وہ جواب میں کہا کرتے تھے ما اراه الا نبى هذه الامة الذى بشر به موسى وعيسى (یعنی میرا گمان ہے کہ یہ اس امت کے وہ نبی ہوں گے جن کی بشارت حضرت موسیٰؑ اور عیسیٰؑ نے دی ہے)۔ پھر جب غار حرا کا یہ واقعہ ظہور میں آیا جس کا اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہؓ کو بتلایا تو ان کے دل میں داعیہ پیدا ہوا کہ وہ یہ پورا واقعہ حضور کی زبان مبارک سے ورقہ بن نوفل کو سنوائیں ۔ ٍجوپہلے ہی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی و رسول ہونے کا خیال ظاہر کرتے تھے .... یہاں یہ بات خاص طور سے قابل لحاظ ہے کہ کسی روایت میں اس کا ذکر بلکہ اشارہ بھی نہیں ہے کہ حضور نے ورقہ کے پاس جانے کی خواہش کی ہو بلکہ جیسا کہ حدیث میں صراحۃً بیان کیا گیا ہے حضرت خدیجہؓ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے پاس لے کر گئیں ۔ آگے حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ ان کے پاس پہنچ کر حضرت خدیجہؓ ہی نے ان سے کہا کہ آپ اپنے ان بھتیجے (2) سے ان کی بات اور واردات سنئے ! تو ورقہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اے بھتیجے مجھے بتلاؤ کہ تم کیا دیکھتے ہو ؟ تو آپ نے وہ سب بیان فرمایا جو غار حرا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشاہدہ فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر گزرا تھا ، تو ورقہ ابن نوفل نے بغیر کسی تاویل اور تردد کے کہا کہ یہ فرشتہ جو غار حرا میں تمہارے پاس آیا اور جس کا پورا واقعہ تم نے ذکر کیا یہ وہی “ناموس” (یعنی وحی لانے والا خاص فرشتہ) ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام و پیام لے کر اپنے پیغمبر موسیٰؑ پر بھی بھیجا تھا ۔ یہاں کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ ورقہ بن نوفل تو نصرانی یعنی عیسوی مذہب کے پیرو تھے پھر اس موقع پر انہوں نے حضرت عیسیٰؑ کا نام چھوڑ کے حضرت موسیٰؑ کا نام کیوں لیا حالانکہ جبرائیل جس طرح موسیٰ علیہ السلام کی طرف بھیجے گئے تھے اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کی طرف بھی بھیجے گئے تھے ؟ ..... شارحین حدیث نے اس کے جواب میں لکھا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر تھے اور جبرائیل امین اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی طرف بھی بھیجے جاتے تھے ، لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مستقل شریعت نہیں لائے تھے ، ان کی شریعت وہی تھی جو موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ آئی تھی عیسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بعض احکام میں جزوی تبدیلیاں فرمائی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مستقل اور کامل شریعت لانے والے نبی و رسول تھے ، اس لئے آپ کو موسیٰ علیہ السلام سے زیادہ مشابہت تھی ..... قرآن مجید سورہ مزمل میں بھی فرمایا گیا ہے ۔ إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَىٰ فِرْعَوْنَ رَسُولًا..... بہرحال اس خاص وجہ سے ورقہ بن نوفل نے اس موقع پر جبرائیل امینؑ کے تعارف میں موسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا ۔ آگے حدیث میں ہے کہ ورقہ بن نوفل نے پورے یقین کے ساتھ یہ بتلا کر کہ غار حرا میں آنے والے یہ فرشتے جبرائیل امینؑ تھے ، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی لے کر موسیٰ علیہ السلام (اور دوسرے نبیوں رسولوں) کے پاس بھی آیا کرتے تھے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی واضح الفاظ میں تصدیق فرمائی اور ساتھ میں بڑی حسرت سے کہا کہ کاش میں اس وقت طاقتور پٹھا ہوتا ، کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس شہر مکہ سے نکالے گی (تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیتا اور جان کی بازی لگا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرتا) ..... حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ورقہ سے یہ سن کر ازراہ تعجب پوچھا کہ کیا میری قوم مجھے اس شہر سے نکال دے گی ؟ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تعجب اس لئے ہوا کہ اب تک اپنے کریمانہ اخلاق اور معصومانہ زندگی کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم قوم میں انتہائی درجہ ہر دلعزیز تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو الصادق الامین کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا اس لئے یہ بات فی الحقیقت قابل تعجب تھی کہ یہی قوم آپ کو کبھی شہر مکہ چھوڑنے پر مجبور کر دے گی) ورقہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس سوال کے جواب میں کہا کہ اللہ کی طرف سے جو پیغمبر بھی وہ دعوت و تعلیم لے کر آیا ہے ، جو تم لائے ہو (اور لاؤ گے) تو اس کی قوم اس کی دشمن ہو گئی ہے ، تمہارے ساتھ بھی یہی ہو گا ، تمہاری قوم کے لوگ تمہارے جانی دشمن ہو جائیں گے اور تم کو شہر چھوڑ کے نکل جانا ہو گا ..... غالب گمان یہ ہے کہ ورقہ بن نوفل نے یہ جو کچھ کہا قدیم آسمانی کتابوں کی پیشن گوئیوں اور اللہ کی طرف سے آنے والے نبیوں رسولوں کی تاریخ کی روشنی میں کہا ۔ قرآن مجید میں انبیاء علیہم السلام کے جو واقعات بیان فرمائے گئے ہیں ، ان کی شہادت بھی یہی ہے ۔ حدیث کے آخر میں ہے کہ ورقہ بن نوفل نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے مکرر کہا کہ اگر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ زمانہ پایا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قو م کو دین حق کی دعوت دیں گے اور قوم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالف اور دشمن ہو جائے گی تو میں اپنے اس بڑھاپے اور معذوری کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے امکان بھر مدد کروں گا ..... اس کے آگے روایت میں ہے کہ پھر تھوڑی ہی مدت کے بعد یہ ورقہ بن نوفل وفات پا گئے ..... اور غار حرا کے اس واقعہ کے بعد کچھ مدت تک وحی کی آمد کا سلسلہ بند رہا ۔ (حدیث کے اصل مضمون کی توضیح و تشریح ختم ہوئی) حدیث سے متعلق چند امور کی وضاحت ۱۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی سب سے پہلے تصدیق کرنے والے اور ایمان لانے والے ورقہ بن نوفل اور حضرت خدیجہؓ ہیں ، لیکن یہ اس وقت ہوا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دین حق کی طرف دعوت دینے کا حکم نہیں ہوا تھا اور ورقہ بن نوفل اسی زمانے میں اس حال میں انتقال فرما گئے کہ وہ صحیح عیسوی دین پر قائم تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لا چکے تھے ، اس لحاظ سے ان کو اس امت کا اول مومن بھی کہا جا سکتا ہے ......پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دینے کا حکم ہوا تو جیسا کہ روایات سے معلوم سے معلوم ہوتا ہے ، سب سے پہلے حضرت ابو بکر صدیقؓ ، حضرت علی مرتضیٰؓ ، حضرت زید بن حارثہؓ اور حضرت خدیجہؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر پہلے بھی ایمان لا چکی تھیں ۔ ۲۔ حدیث میں ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت جبرئیلؑ نے تین دفعہ انتہائی زور زور سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا گلوئے مبارک دبایا (جیسے کوئی کسی کا گلا گھونٹنا چاہتا ہے) شارحین اور علمائے کرام نے اس کی مختلف توجیہیں بیان فرمائی ہیں ۔ اس عاجز راقم سطور کے نزدیک زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ اس طرح انتہائی زور سے گلا دبانے سے مقصد یہ ہوتا تھا کہ کچھ دیر کے لئے آپ کی توجہ ہر طرف سے اپنی ذات کی طرف سے بھی ہٹ کر صرف اپنے رب کریم کی طرف ہو جائے جب کسی عارف باللہ اور خدا آشنا بندے کا اس طرح گلا گھونٹا جائے گا تو یقیناً اس کی تمام تر توجہ صرف اپنے پروردگار کی طرف ہو جائے گی اور اس کا احساس و شعور بڑی حد تک اس عالم سے کٹ کر ملا اعلیٰ سے جڑ جائے گا ، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جو وحی پہلی دفعہ القا کی جانے والی تھی ، اس کے لئے اس کی ضرورت تھی ، بالفاظ دیگر اس عمل کے ذریعہ حضور کی روح و قلب میں وہ قوت پیدا کرنی تھی ، جو اس وحی الہی کا تحمل کر سکے جس کو قرآن پاک میں قولاً ثقیلاً فرمایا گیا ہے ..... بعد میں بھی نزول وحی کے وقت حضور کا جو حال ہوتا تھا ، وہ حدیثوں میں ذکر کیا گیا ہے ، سخت سردی کے موسم میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول ہوتا تو آپ کو پسینہ پھوٹ پڑتا ۔ روایات میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اونٹنی پر سوار ہونے کی حالت میں اگر وحی نازل ہوئی تو اونٹنی بیٹھ گئی ..... الغرض اس عاجز کے نزدیک زیادہ قرین قیاس یہی ہے کہ اس سخت دباؤ کا مقصد یہی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وحی کا تحمل فرما سکیں جو پہلی دفعہ القا کی جا رہی تھی ۔ واللہ اعلم ۔ ۳۔ حدیث میں ذکر فرمایا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا سے جب گھر واپس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل لرز رہا تھا اور جسم مبارک پر بھی اس کا اثر تھا اور حضرت خدیجہؓ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي” (مجھے تو اپنی جان کا خطرہ ہو گیا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال بھی حضرت جبرائیل کے اس گلا دبانے کا اور کلام الہی کے بار گراں کا بھی نتیجہ تھا ، یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و حکمت ہے کہ ہم پر قرآن پاک کی تلاوت کا کوئی بوجھ نہیں پڑتا ورنہ اس کی شان تو خود اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے : لَوْ أَنزَلْنَا هَـٰذَا الْقُرْآنَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللَّـهِ (سورۃ الحشر آیت نمبر : ۲۱) ترجمہ : اگر یہ قرآ ہم پہاڑ پر نازل کرتے تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے دب جاتا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ۔

【12】

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے دس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھے اف کا کلمہ بھی نہیں فرمایا اور نہ کبھی یہ فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا اور نہ کبھی یہ فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں نہیں کیا ۔ تشریح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ کے بارے میں خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور ساری کائنات کے حالق و پروردگار نے اپنی کتاب مبین قرآن مجید میں فرمایا ہے “إِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ” (1) یعنی اے ہمارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ اخلاق کے بلند و برتر مقام پر ہیں ، احادیث و سیرت کی روایات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ کا جو بیان ہے ، وہ اسی مختصر قرآنی بیان کی گویا تشریح و تفسیر ہے “معارف الحدیث جلد دوم” میں کتاب الاخلاق قریباً دو سو صفحات پر ہے اس میں اخلاق سے متعلق آنحضرتص کی تعلیمات و ارشادات اور باب اخلاق کے سلسلہ کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اہم واقعات بھی ذکر کئے گئے ہیں ۔ شروع میں وہ حدیثیں بھی درج کی گئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں اور اللہ کے نزدیک اخلاق کا کیا درجہ اور مقام ہے ۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چند مختصر ارشادات یہاں بھی ناظرین کی یاد دہانی کے لئے ذکر کر دئیے جائیں ..... ارشاد فرمایا : إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحْسَنَكُمْ أَخْلاَقًا (2) ترجمہ : تم لوگوں میں اچھے اور بہتر وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہیں ۔ ایک دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا : إِنَّمَا بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مكارمَ الْأَخْلَاقِ (3) ترجمہ : میں خاص اس کام کے لئے بھیجا گیا ہوں کہ اپنی تعلیم اور عمل سے کریمانہ اخلاق کی تکمیل کر دوں ۔ ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا : إِنَّ أَثْقَلَ شَيْءٍ يُوضَعُ فِي مِيزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُلُقٌ حَسَنٌ. ترجمہ : قیامت کے دن مومن کی میزان اعمال میں جو سب سے زیادہ وزنی چیز رکھی جائے گی وہ اس کے اچھے اخلاق ہوں گے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر شریف کے آخری دور میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو داعی و معلم اور حاکم بنا کر یمن بھیجا تو آخری نصیحت فرمائی : أَحْسِنْ خُلُقَكَ لِلنَّاسِ. (1) ترجمہ : دیکھو سب لوگوں سے اچھے اخلاق کا برتاؤ کرنا ۔ اس تمہید کے بعد ذیل میں چند وہ حدیثیں پڑھئے جن میں صحابہ کرام نے اپنے تجربہ اور مشاہدہ کی بنیاد پر آپ کے کریمانہ اخلاق کا بیان فرمایا ہے ..... اللہ تعالیٰ ہم سب کو زندگی کے اس شعبہ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کا کامل اتباع نصیب فرمائے ۔ تشریح ..... عربی زبان میں اف کا کلمہ کسی بات پر ناگواری و ناراضی اور غصہ کے اظہار کے لئے بولا جاتا ہے ..... رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو حضرت انسؓ کی عمر آٹھ (۸) سال (اور ایک دوسری روایت کے مطابق دس (۱۰) سال) تھی ، ان کی والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے جو بڑی مخلص مومنہ صالحہ تھیں اپنے ان بیٹے کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا اور گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لئے وقف کر دیا اور پھر یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک پورے دس (۱۰) سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہے ، اس حدیث میں انہوں نے حضور کے حسن اخلاق اور نرم مزاجی کے بارے میں اپنا یہ ذاتی تجربہ بیان فرمایا ہے کہ دس (۱۰) سال کی خادمانہ مدت میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضی اور غصہ کے اظہار کے لئے اف کا کلمہ بھی فرمایا ہو ، اسی طرح کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی کام کے کرنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈانٹا ہو کہ یہ کام تم نے کیوں کیا ، یا کسی کام کے نہ کرنے پر ڈانٹا ہو کہ تم نے یہ کام کیاں نہیں کیا ..... مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریف اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عام رویہ عفو و درگزر کا تھا ..... حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی کی ایک دوسری روایت میں ہے جس کو بیہقی نے “شعب الایمان” میں روایت کیا ہے کہ : خَدَمْتُهُ عَشْرَ سِنِينَ فَمَا لَامَنِي عَلَى شَيْءٍ أَتَى فِيهِ عَلَى يَدَيَّ فَإِنْ لَامَنِي لَائِمٌ مِنْ أَهْلِهِ قَالَ: «دَعُوهُ فَإِنَّهُ لَوْ قُضِيَ شَيْءٌ كَانَ» (مشكوة المصابيح) ترجمہ : میں نے دس (۱۰) سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ، اگر کبھی میرے ہاتھ سے کوئی چیز ضائع یا خراب ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بھی مجھے ملامت نہیں فرمائی ، اور اگر میری اس غلطی پر آپ کے گھر والوں میں سے کوئی ملامت کرتا تو آپ فرما دیتے تھے کہ جب بات مقدر ہو چکی تھی وہ ہونی ہی تھیں ۔ یہاں یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ آپ کا یہ رویہ ذاتی معاملات میں تھا ، لیکن جیسا کہ دوسری حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ کے احکام و حدود کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی رو رعایت نہیں فرماتے تھے ۔

【13】

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ

حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جا رہے تھے ، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا ، آپ ایک نجرانی چادر اوڑھے ہوئے تھے جس کے کنارے موٹے تھے (چلتے چلتے) حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک گنوار بدو نے پکڑ لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر پکڑ کے اس زور سے کھینچا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بدو کے سینے سے آ لگے اور میں نے دیکھا کہ اس بدو کے زور سے چادر کھینچنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک کے ایک طرف نشان پڑ گیا ۔ پھر اس گنوار بدو نے کہا کہ اے محمد تمہارے پاس جو اللہ کا مال ہے تم (اپنے آدمیوں کو) حکم دو کہ وہ اس میں سے مجھ کو دیں (حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گنوار بدو کی طرف دیکھا (اور بجائے غصہ فرمانے کے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اس حرکت پر ہنسے اور اس کو کچھ دینے کا حکم دیا ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح نجران یمن کے علاقہ میں ایک شہر تھا جہاں خاص قسم کی چادریں بنتی تھیں ، ان کو نجرانی چادر کہا جاتا تھا .... اس بدو نے جس “اللہ کے مال” (مال اللہ) کا سوال کیا تھا اس سے مراد بظاہر زکوٰۃ و صدقات وغیرہ کا وہ سرمایہ تھا جو بیت المال میں رہتا تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مستحقین کو عطا فرماتے تھے ..... حدیث کا مضمون و مفہوم واضح ہے کسی توضیح و تشریح کا محتاج نہیں ..... ظاہر ہے کہ یہ بدو انتہائی درجہ کا اجڈ گنوار تھا ، اس وقت اس میں کسی اصلاحی بات کے قبول کرنے کی صلاحیت اور استعداد بھی نہیں تھی ، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سزا یا تنبیہ درکنار کوئی نصیحت کی بات بھی نہیں فرمائی ، بلکہ اس کی اس انتہائی گستاخانہ حرکت کا جواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ہنس کر دیا اور جس روپے پیسے کا وہ طالت تھا اس کو عنایت فرما دیا اور امت کو سبت دیا کہ اس درجہ کی بدتمیزی اور ایذا رسانی کے مواقع پر بھی نفس پر قابو رکھیں اور عفو و درگزر کا رویہ اختیار کر کے لوگوں کے دل جیتیں اور اپنے سے قریب کریں ، پھر اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت عطا فرما دے گا اور ان کی اصلاح بھی ہو جائے گی ..... بلا شبہ ارباب بصیرت کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے اس طرح کے واقعات بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات ہیں ۔

【14】

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ سے کسی چیز کا سوال کیا گیا ہو اور آپ نے اس کے جواب میں “لا”(یعنی نہیں) فرمایا ہو ۔(صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کسی چیز کا سوال کیا جاتا تا کہ یہ عنایت فرما دی جائے ، تو آپ کبھی “لا” کہہ کر انکار نہیں فرماتے تھے ، جس سے سوال کرنے والے کی دل شکنی ہوتی اگر وہ چیز موجود ہوتی تو عطا فرمادیتے ، ورنہ عذر فرما دیتے اور دعا فرما دیتے الغرض سوال کرنے والے کو آپ کبھی “لا” کہہ کر انکار اور نفی میں جواب نہیں دیتے تھے ۔ بہ ظاہر یہ ایک معمولی سی بات معلوم ہوتی ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ انتہائی غیر معمولی بات ہے ، کسی شخص کے کسی مطالبہ یا سوال کے جواب میں کبھی بھی “نہ” نہ کہنا آخری درجہ کی کریم النفسی ، شرافت طبع اور عالی ظرفی کی دلیل ہے ، خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ وہبی طور پر یہ صفات نصیب فرما دے ، اسی طرح وہ اللہ کے بندے جو ان صفات سے آراستہ اللہ والوں کے ساتھ رہ کر اپنے اندر یہ اخلاق پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، وہ بھی بہت قابل رشک ہیں ۔

【15】

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح فجر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تو مدینہ کے گھروں کے خدمت گار (غلام یا باندیاں) اپنے اپنے برتن لے کر آ جاتے جن میں پانی ہوتا (تا کہ آپ برکت کے لئے یا بیماری سے شفا جیسے مقاصد کے لئے اس پانی میں اپنا دست مبارک ڈال دیں) تو آپ ہر برتن میں اپنا دست مبارک ڈال دیتے تو بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ (سخت سردی کے موسم میں) ٹھنڈی صبح کے وقت (برتن میں بہت ٹھنڈا پانی لے کر آپ کے) پاس آ جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں بھی اپنا دست مبارک ڈال دیتے ۔ (صحیح مسلم) تشریح مدینہ منورہ میں سردی کے خاص موسم میں سخت سردی ہوتی ہے اور برتنوں میں رکھا پانی برف جیسا ٹھنڈا ہو جاتا ہے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پانی لانے والے کی دلداری کے لئے اور اس عمل کو بندگان خدا کی خدمت تصور فرماتے ہوئے اس برف جیسے ٹھنڈے پانی میں بھی دست مبارک ڈال دینے کی تکلیف برداشت فرماتے تھے ..... حضرت انس رضی اللہ عنہ کے اس بیان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایسا نہیں تھا کہ کبھی اتفاقاً ہی کوئی شخص برتن میں پانی لے آتا ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں دست مبارک ڈال دیتے ہوں بلکہ یہ گویا روز مرہ کا سا معمول تھا ..... اگر اللہ کے کسی صالح بندے کے ساتھ ایسا معاملہ کیا جائے تو یہ حدیث اس کی اصل اور بنیاد ہے ۔ بشرطیکہ عقیدہ میں فساد اور غلو نہ ہو ۔

【16】

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ مشرکین اور کفار کے حق میں بد دعا فرمائیں ، تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں لعنت اور بددعا کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا ہوں بلکہ رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ (صحیح مسلم) تشریح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کفار و مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ کے لائے ہوئے دین حق کے انتہائی درجہ کے دشمن تھے ، خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں کو ہر طرح کی ایذائیں دیتے تھے ، یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا عزیز اور مقدس وطن مکہ مکرمہ چھوڑنا پڑا ، اس کے بعد بھی ان کی شر انگیزیوں کا سلسلہ جاری رہا ، تو کسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کرام نے درخواست کی کہ حضور ان ظالموں بدبختوں کے حق میں بد دعا فرمائیں کہ اللہ ان پر اپنا قہر و عذاب نازل فرمائے اور یہ ہلاک و برباد کر دئیے جائیں جس طرح اگلی بہت سی امتوں کے ایسے ظالم کفار پر عذاب نازل ہو ، اور زمین ان کے وجود سے پاک کر دی گئی ۔ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس درخواست کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس لئے نہیں بھیجا ہے کہ میں لعنت اور بددعا کروں ، مجھے تو سارے عالم کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب مقدس قرآن مجید میں فرمایا ہے : “وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ”

【17】

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا نہ کسی عورت کو نہ کسی خادم کو ، البتہ جہاد فی سبیل اللہ کے سلسلہ میں ضرور ایسا ہوا ہے ..... اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی شخص کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچانے والی کوئی حرکت کی گئی ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے انتقام لیا ہو ، (بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذاتی معاملات میں معافی اور درگزر ہی کا معاملہ فرماتے تھے (البتہ اگر کسی شخص کی طرف سے کسی فعل حرام کا ارتکاب کیا جاتا تو آپ اللہ کے لئے (یعنی فرمان خداوندی کی تعمیل میں) اس مجرم کو سزا دیتے (یا سزا دینے کا حکم فرماتے) تھے ۔ (صحیح مسلم) تشریح ام المومنین حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق دو باتیں بیان فرمائی ہیں ۔ ایک یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کی غلطی یا بےتمیزی پر غصہ ہو کر اس کو نہیں مارا حتیٰ کہ نہ کبھی کسی خادم پر آپ کا ہاتھ اٹھا نہ کسی عورت پر ..... یعنی کسی خادم غلام یا باندی سے یا کسی بیوی سے کیسی ہی غلطی ہوئی ہو ، کبھی غصہ سے آپ کا ہاتھ اس پر نہیں اٹھا .... ہاں جہاد فی سبیل اللہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا ہی کے لئے اس کے کسی دشمن پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ اٹھا ہے ، چنانچہ غزوہ بدر میں مشرکین مکہ کا سردار ابی بن خلف آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ہاتھ سے ہلاک ہوا ۔ دوسری بات حضرت صدیقہؓ نے یہ بیان فرمائی کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی بدبخت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچائی ہو ئی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدتمیزی کی ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے انتقام لیا ہو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات کے معاملہ میں ہمیشہ عفو و درگزر ہی سے کام لیتے تھے ۔ البتہ اگر کوئی شخص کسی حرام فعل اور جرم کا ارتکاب کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو سزا دیتے تھے ، لیکن یہ سزا بھی نفس کے تقاضے اور طبیعت کے غصہ سے نہیں بلکہ صرف اللہ کی رضا کے لئے اور اس کے حکم کی تعمیل میں دی جاتی تھی ۔

【18】

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ

جناب اسود سے روایت ہے (جو ایک بزرگ تابعی ہیں) انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جن اوقات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے اندر رہتے تھے) تو ان اوقات میں آپ کیا کرتے تھے ؟ تو حضرت صدیقہؓ نے فرمایا کہ اپنے گھر والوں کے کاموں میں شریک ہو کر ان کی مدد اور خدمت کرتے تھے ، پھر جب نماز کا وقت آ جاتا تو سب چھوڑ کر نماز کو تشریف لے جاتے .... (صحیح بخاری) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گھر کے کام کاج میں گھر والیوں کی مدد کرنا اور ان کا ہاتھ بٹانا حضور کا مستقل معمول تھا اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس طرح کی سنتوں پر عمل کرنے کی بھی ہم لوگوں کو توفیق عطا فرمائے ۔ اس میں خدمت اور مدد کرنے کا اجر و ثواب بھی ہے اور کبر جیسے روحانی امراض کا علاج بھی ۔

【19】

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عام رویہ اور معمول یہ تھا کہ (ضرورت پڑنے پر) خود ہی اپنی (ٹوٹی پاپوش) گانٹھ لیتے تھے اور خود ہی اپنا (پھٹا ہوا) کپڑا سی لیتے تھے اور اپنے گھر میں اسی طرح کام کرتے تھے ، جس طرح تم میں سے کوئی بھی آدمی گھر کا کام کرتا ہے ..... اور حضرت صدیقہؓ نے یہ بھی فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کوئی مافوق البشر غیر انسانی مخلوق نہیں تھے ، بلکہ) بنی آدم ہی میں سے ایک آدمی تھے (معمولی سے معمولی کام بھی خود کر لیتے تھے)اپنے کپڑوں میں خود جوئیں دیکھتے تھے ، بکری کا دودھ خود دوہ لیتے تھے ، اپنے ذاتی کام خود ہی کر لیتے تھے ۔ (جامع ترمذی) تشریح اس حدیث اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ میں بڑا سبق ہے ، ان حضرات کے لئے جو دین اور علم دین میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خواص نائبین و وارثین ہیں ، اللہ تعالیٰ سب کو اس کے اتباع کی توفیق عطا فرمائے ۔

【20】

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ اور معمول تھا کہ جب کسی شخص سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مصافحہ کرتے تو اپنا دست مبارک اس کے ہاتھ میں سے اس وقت نکالتے جب تک کہ وہ شخص اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے نہ نکالتا ، اسی طرح اپنا رخ اور چہرہ مبارک اس کی طرف سے نہ پھیرتے جب تک کہ خود وہ شخص اپنا چہرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نہ پھیرتا ، اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں نہیں دیکھا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے زانوئے مبارک برابر بیٹھے ہوئے دوسرے آدمی سے آگے گئے ہوئے ہوں ۔ (جامع ترمذی) تشریح ظاہر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے والے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مصافحہ کرنے والے حضرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے آپ کے خادم و جاں نثار صحابہ کرام ہی ہوتے تھے ، ان کے ساتھ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اکرام اور لحاظ کا یہ رویہ تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمہ وقتی خادم حضرت انس نے اس حدیث میں بیان کیا .... افسوس ہم جیسے امتیوں نے ان اخلاق عالیہ اور اس اسوہ حسنہ کے اتباع سے اپنے کو کس قدر محروم کر لیا ہے ۔

【21】

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کی طرح روانی اور تیزی سے گفتگو نہیں فرماتے تھے بلکہ اس طرح ٹھہر ٹھہر کر بات فرماتے تھے کہ اگر (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ اور کلمات کو) کوئی شمار کرنا چاہتا تو شمار کر سکتا تھا ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح ظاہر ہے کہ تعلیم اور تفہیم کے لئے یہی بہتر ہے کہ بات ٹھہر ٹھہر کے اس طرح کی جائے کہ سامعین پوری طرح سمجھ سکتیں اور ذہن نشین کر لیں جامع ترمذی میں حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی سے اسی مضمون کی جو حدیث روایت کی گئی ہے ، اس کے آخری الفاظ یہ ہیں ۔ كَانَ يَتَكَلَّمُ بِكَلاَمٍ يُبَيِّنُهُ، فَصْلٌ، يَحْفَظُهُ مَنْ جَلَسَ إِلَيْهِ. ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کلام فرماتے تھے کہ اس کے کلمات جدا جدا ہوتے تھے جو لوگ آپ کے پاس بیٹھے ہوتے وہ اس کو حافظہ میں محفوظ کر لیتے تھے ۔

【22】

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموشی طویل ہوتی تھی ۔ (شرح السنہ) تشریح مطلب یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تعلیم و تربیت جیسی کسی ضرورت ہی سے گفتگو فرماتے تھے ، اگر کچھ فرمانے کی ضرورت نہ ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہی رہتے ، اسی سلسلہ معارف الحدیث (کتاب الایمان جلد اول) میں صحیح بخاری و صحیح مسلم کے حوالہ سے یہ حدیث درج کی جا چکی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ. ترجمہ : جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہئے کہ اچھی بات کرے (جس پر اجر و ثواب کی امید ہو) یا خاموش رہے ۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و ہدایت تھی اور اسی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل تھا ، اللہ تعالیٰ ہم امتیوں کو بھی اس کا اتباع نصیب فرمائے ۔ یہاں کتاب المناقب والفضائل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ سے متعلق صرف یہ دس حدیثیں درج کی گئی ہیں بلاشبہ یہ صرف “مشنے نمونہ از خروارے” ہے ۔

【23】

وفات اور مرض وفات

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد پر آٹھ سال کے بعد نماز پڑھی ، اس شخص کی طرح جو الوداع کہنے والا ہو زندوں کو اور مردوں کو ، پھر آپ (مسجد شریف آ کر) منبر پر رونق افروز ہوئے اور آپ نے صحابہ کرامؓ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں تمہارے آگے فرط (میر منزل) کی طرح جانے والا ہوں اور میں تمہارے بارے میں شہادت دینے والا ہوں اور تم سے ملاقات کی جگہ حوض کوثر ہے ، اور میں اپنی اسی جگہ سے اس حوض کوثر کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا فرما دی گئی ہیں ، زمین کے خزانوں کی کنجیاں ، اور مجھے تمہارے بارے میں اس کا خطرہ نہیں ہے کہ تم میرے بعد مشرک ہو جاؤ گے ، لیکن مجھے اس کا ڈر ہے کہ میرے بعد تمہاری رغبت اور چاہت کا رخ دنیا کی طرح ہو جائے ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح صاحب مشکوٰۃ المصابیح نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل اور ولادت باسعادت اور بعثت و آغاز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ کے ابواب کے سلسلہ کو باب وفات پر ختم کیا ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور مرض وفات سے متعلق احادیث ذکر کی ہیں ، اسی کی پیروی کرتے ہوئے یہاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور مرض وفات سے متعلق چند حدیثوں کے ذکر پر اس سلسلہ کو ختم کیا جاتا ہے ۔ پہلے یہ ذکر کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وفات کے بارے میں اس پر تو محدثین اور اہل سیر و تاریخ کا اتفاق ہے کہ ۱۱ ہجری ربیع الاول کا مہینہ اور دو شنبہ کا دن تھا ، لیکن تاریخ کے بارے میں ، تاریخ ولادت ہی کی طرح روایات اور اقوال مختلف ہیں ، جہاں تک اپنا مطالعہ ہے حدیث کی کسی کتاب میں کوئی روایت نہیں ہے جس میں حضور کی تاریخ وفات کا ذکر کیا گیا ہو ، تاریخ اور سیر کی کتابوں میں تین تاریخوں کی روایات ذخر کی گئی ہیں ، ربیع الاول کی پہلی ، دوسری اور بارہویں اور تاریخ ولادت کی طرح وفات کی تاریخ بھی بارہویں ہی زیادہ مشہور ہے لیکن بعض محققین نے لکھاہے کہ تاریخ وفات ۱۲ ۔ ربیع الاول کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتی کیوں کہ یہ بات مسلم اور صحیح ترین روایات سے ثابت ہے کہ وفات سے قریبا پونے تین مہینے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حج کیا (حجۃ الوداع) تو ۹۔ ذی الحجہ کو جمعہ ہونے کی صورت میں ۱۲ ۔ ربیع الاول کو دو شنبہ کا دن کسی طرح نہیں ہو سکتا ذی الحجہ ، محرم ، صفر تینوں مہینوں کو خواہ ۳۰ ۔ ۳۰ دن کا فرض کیا جائے یا ۲۹ ۔ ۲۹ دن کا یا بعض کو ۲۹ اور بعض کو ۳۰ دن کا کسی صورت میں بھی ۱۲ ۔ ربیع الاول کو دو شنبہ کا دن نہیں ہو سکتا ..... ہاں اگر تینوں مہینوں کو ۲۹ دن کا مانا جائے (جو بہت مستبعد ہے اور جس کا امکان بہت کم ہے) تو ربیع الاول کو پہلے دو شنبہ کو ۲ تاریخ ہو گی اور اگر ایک مہینہ کو ۲۰ کا مانا جائے (جو بہت مستبعد ہے اور جس کا امکان ۳۰ ۔ ۳۰ دن کا مانا جائے (جو بکثرت ہوتا ہے) تو ربیع الاول کے پہلے دو شنبہ کو یکم تاریخ ہو گی ۔ ان سب حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے زیادہ قرین قیاس یکم ربیع الاول والی روایت ہے ۔ واللہ اعلم ۔ اب پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض وہ ارشادات ذکر کئے جائیں گے جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارۃ یا صراحۃً صحابہ کرام کو اپنی وفات کے قریب ہونے کی اطلاع دی تھی نیز بعض وہ حدیثیں جن میں مرض وفات کے بعض اہم واقعات بیان فرمائے گئے ہیں ، آخر میں وہ حدیثیں جن میں سانحہ وفات کا بیان ہے ، اللہ تعالیٰ ان احادیث مبارکہ کو اس عاجز راقم سطور کے لئے اور ناظرین کرام کے لئے ہدایت و سعادت کا وسیلہ بنائے اور ان کی برکت سے حسن خاتمہ نصیب فرمائے ۔ اَللَّهُمَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِيْنَ وَاَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِيْنَ. تشریح ..... واقعہ یہ ہے کہ غزوہ احد میں جو صحابہ کرامؓ شہید ہوئے تھے (جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب و محترم چچا حمزہ رضی اللہ عنہ بھی تھے) ان پر نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی تھی (بغیر نماز جنازہ ہی دفن کئے گئے تھے) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر منکشف کیا گیا کہ آپ کا سفر آخرت قریب ہے تو آپ ایک دن مشہد احد تشریف لے گئے (جہاں شہدائے احد مدفون ہیں) اور آپ نے ان پر جنازہ کی نماز پڑھی ..... صحیح البخاری کتاب الجنائز کی اسی حدیث کی اس روایت میں ہے “صَلَّى عَلَى اَهْلِ اُحُد صَلاتهُ عَلَى الْمَيِّتِ” اس میں صراحت ہے کہ آپ نے آٹھ سال پہلے شہید ہو کر دفن ہونے والوں پر اسی طرح نماز پڑھی جس طرح میت کی نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے ..... آگے حدیث کے راوی عقبہ بن عامر کے الفاظ ہیں “كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالأَمْوَاتِ” مطلب یہ ہے کہ اس نماز میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حال وہ تھا جو زندوں اور مردوں سب کو الوداع کہنے والے اور رخصت کرنے والے کسی شخص کا ہوتا ہے ۔آگے حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ پھر وہاں سے آپ مسجد تشریف لائے (غالباً نماز کا وقت ہو گا اور مسجد میں لوگ جماعت سے نماز ادا کرنے کے لئے جمع ہوں گے) آپ منبر پر رونق افروز ہوئے اور خاص اہتمام کے ساتھ یہ چند باتیں ارشاد فرمائیں ..... اول یہ کہ میں تم سے پہلے اور تم سے آگے عالم آخرت کی طرف “فرط” کی طرح جانے والا ہوں ..... عرب میں دستور تھا کہ جب قافہ کسی طرف جانے والا ہوتا تو ایک سمجھدار اور تجربہ کار آدمی ، آگے کی منزل کی طرف پہلے روانہ ہو جاتا ، جو قافہ سے پہلے منزل پہ پہنچ کر قافلہ کے لئے ضروری انتظامات کر لیتا اس کو فرط کہا جاتا تھا (صاحب مظاہر حق نے فرط کا ترجمہ میر منزل کیا ہے) ..... اس ارشاد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سفر آخرت کے قریب ہونے کا اشارہ دینے کے ساتھ صحابہ کرام کو تسلی دی کہ میرا تم سے پہلے چلا جانا تمہارے لئے باعث خیر ہو گا ، میں آگے جا کر تمہارے لئے وہ کروں گا جو فرط کرتا ہے اور جس طرح قافلہ روانہ ہونے کے بعد منزل پر پہنچ کر پھر فرط سے مل جاتا ہے اسی طرح تم بھی مجھ سے آ ملو گے ..... آگے آپ نے فرمایا اور میں تمہارے بارے میں شہادت دوں گا کہ تم ایمان لائے تھے اور تم نے میرا اتباع کیا اور راہ حق میں ساتھ دیا تھا ..... آگے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہاں ملاقات حوض کوثر پر ہو گی ۔ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اس حوض کوثر کو میں اس وقت اپنی اسی جگہ سے دیکھ رہا ہوں (یعنی اللہ تعالیٰ نے سارے پردے اٹھا کر آخرت کے حوض کوثر کو میرے سامنے کر دیا ہے) اس کے ساتھ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس زمین اور اس دنیا کے خزانوں کی کنجیاں مجھے عطا فرما دی گئی ہیں یہ بشارت تھی کہ دنیا کے خزانوں کی کنجیاں میری امت کو عطا فرمائے جانے کا خداوندی فیصلہ ہو چکا (واقعہ یہ ہے کہ اس کا ظہار عہد صحابہ ہی میں ہو گیا) ۔ اس خطاب کے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اس کا اندیشہ نہیں ہے کہ تم پھر مشرک ہو جاؤ گے اس طرف سے مجھے اطمینان ہے ، ہاں یہ خطرہ ضرور ہے کہ تمہاری رغبت اور طلب کا رخ دنیا کی زینتوں ، لذتوں کی طرف ہو جائے ، حالانکہ مومن کے لئے رغبت اور چاہت کی چیز صرف جنت و نعمہائے آخرت ہیں ، اللہ تعالیٰ نے انہیں کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے “وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ”

【24】

وفات اور مرض وفات

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک دن) منبر پر تشریف فرما ہوئے اور آپ نے (صحابہ کرامؓ کو خطاب کرتے ہوئے) ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو اختیار دیا کہ وہ یا تو دنیا کی بہاروں اور نعمتوں میں سے جس قدر چاہے لے لے ، یا (آخرت کی) جو نعمتیں اللہ کے پاس ہیں ، ان کو لے لے ..... تو اس بندے نے (آخرت کی وہ نعمتیں) پسند کر لیں جو اللہ کےپاس ہیں ..... یہ سن کر ابو بکرؓ رونے لگے اور انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہم اور ہمارے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سے قربان ہوں ..... (حدیث کے راوی ابو سعید خدری کہتے ہیں) کہ ہم کو ابو بکرؓ کے اس حال اور اس بات پر تعجب ہوا اور لوگوں نے آپس میں کہا کہ ان بزرگوار کو دیکھو ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو اس بات کی خبر دے رہے ہیں ، کہ اللہ نے اپنے ایک بندے کو اختیار دیا تا کہ یا تو وہ دنیا کی بہاروں نعمتوں میں سے جس قدر چاہے پسند کرے یا آخرت کی وہ نعمتیں جو اللہ کے پاس ہیں پسند کرے ..... اور یہ بزرگوار ابو بکر کہہ رہے ہیں کہ “ہم اور ہمارے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں” (آگے ابو سعید خدری فرماتے ہین کہ جب جلدی ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو معلوم ہو گیا کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ بندے تھے ، جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ اختیار دیا تھا (اور معلوم ہو گیا کہ) ابو بکرؓ علم و دانش اور فرواست میں ہم سب سے فائق تھے (انہوں نے وہ حقیقت سمجھ لی جو ہم میں سے کوئی دوسرا نہیں سمجھ سکا) ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اس روایت میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر رونق افروز ہو کر یہ خطاب کب فرمایا تھا ، صاحب مشکوٰۃ نے الفاظ کی کچھ کمی بیشی کے ساتھ سنن دارمی کے حوالہ سے ۔ اس خطبہ کے متعلق حضرت ابو سعید خدریؓ کی روایت نقل کی ہے اس میں صراحت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خطاب مرض وفات ہی میں فرمایا تھا اور یہ حضرت کا آخری خطاب تھا ، اس کے بعد حض صلی اللہ علیہ وسلم ر صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد شریف میں کوئی خطاب نہیں فرمایا یہاں تک کہ وصال فرما گئے ۔ اور صحیح مسلم کی ایک روایت سے (جس کے راوی حضرت جندب ہیں) معلوم ہوتا ہے کہ وفات سے دن پہلے (یعنی جمعرات کے دن) آپ نے یہ خطاب فرمایا تھا ۔ صاحب مشکوٰۃنے “باب وفات النبی صلی اللہ علیہ وسلم ” میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ حدیث صرف اتنی ہی نقل کی ہے جو یہاں درج کی گئی ، لیکن صحیح بخاری و صحیح مسلم دونوں میں یہ حدیث حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ، کے فضائل کے باب میں بھی نقل کی گئی ہے اور دونوں میں یہ اضافہ ہے کہ حضور نے اسی خطاب میں یہ بھی فرمایا کہ : «إِنَّ أَمَنَّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبُو بَكْرٍ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا غَيْرَ رَبِّي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ، وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ - أَوْ مَوَدَّتُهُ - لَا يَبْقَى بَابٌ فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا سُدَّ إِلَّا بَابَ أَبِي بَكْرٍ» ترجمہ : یہ حقیقت ہے کہ لوگوں میں سے جس شخص نے میرے ساتھ سب سے زیادہ حسن سلوک کیا اپنے مال سے اور اپنی صحت (یعنی خادمانہ رفاقت) سے وہ ابو بکر ہے اور اگر میں اپنے پروردگار کے سوا کسی کو خلیل (یعنی جانی دوست) بناتا تو ابو بکر کو بناتا ۔ لیکن اسلامی اخوت و مودت کا خاص تعلق ابو بکرے سے ہے ، (اسی کے ساتھ آپ نے ہدایت فرمائی کہ) مسجد میں کھلنے والے سب دروازے بند کر دئیے جائیں سوائے ابو بکر کے دروازے کے (بس اسی کو باقی رکھا جائے)۔ اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خطاب میں (جو وفات سے صرف پانچ دن پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اور جو مسجد شریف میں آپ کی زندگی کا آخری خطاب تھا) اپنے سفر آخرت کے قریب ہونے کی طرف اشارہ فرمانے کے ساتھ یہ بھی واضح فرما دیا تھا کہ امت میں جو مقام و مرتبہ ابو بکر کاس ہے ، وہ کسی دوسرے کا نہیں ہے اور ساتھ ہی یہ فرما کر کہ مسجد میں سب دروازے دبند کر دئیے جائیں صرف ایک دروازہ ابو بکر کا باقی رہے یہ اشارہ بھی فرما دیا تھا کہ میرے بعد ابو بکر ہی کا وہ تعلق مسجد سے رہے گا جو میرا تھا (ملحوظ رہے کہ عہد نبوت کی مسجد نبوی ہماری مسجدوں کی طرح صرف نماز کی مسجد نہیں تھی بلکہ وہ تمام کارہائے نبوت کا مرکز تھا) ۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خطاب میں اور بھی چند اہم ہدایات فرمائی تھیں ۔

【25】

وفات اور مرض وفات

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس مرض میں جس سے آپ صحت یاب نہیں ہوئے (یعنی مرض وفات میں) ارشاد فرمایا کہ یہود و نصاریٰ پر خدا کی لعنت ہو انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بیان کرنے کے بعد) حضرت صدیقہؓ نے فرمایا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا نہ ہوتا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کو کھول دیتی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطرہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کو بھی اسی طرح سجدہ گاہ نہ بنا لیا جائے جس طرح یہود و نصاریٰ نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بھی اسی خطاب میں فرمائی تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات سے پانچ دن پہلے مسجد میں منبر پر روشن افروز ہو کر فرمایا تھا (جس کا ذکر ابو سعید خدریؓ کی مندرجہ بالا حدیث میں آ چکا ہے) اور بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض کی شدت کی حالت میں جب کہ آپ اپنے بستر ہی پر تھے ، یہ فرمایا تھا ، قرین قیاس یہ ہے کہ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض کی شدت کی حالت میں بستر پر بھی فرمائی اور مسجد کے خطاب عام میں بھی کیوں کہ آپ کو اس کی غیر معمولی فکر تھی کہ میرے بعد میرے امتی میری قبر کے ساتھ وہ معاملہ نہ کریں جو یہود و نصاریٰ نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کے ساتھ کیا ہے اور اس کی وجہ سے وہ خداوندی لعنت کے مستحق ہو گئے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تو اطمینان تھا کہ میرے امتی بت پرستی جیسے شرک میں مبتلا نہ ہوں گے (اس اطمینان کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہار بھی فرمایا) لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خطرہ تھا کہ شیطان ان کو میری محبت اور تعظیم کے حیلہ سے اس شرک میں مبتلا کر دے کہ وہ میری قبر کو سجدہ کرنے لگیں ، اس لئے اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار اور مختلف موقعوں پر اور مختلف عنوانوں سے تنبیہ فرمائی اور خاص کر مرض وفات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا زیادہ اہتمام فرمایا ، خطاب عام میں بھی فرمایا اور گھر میں بستر علالت پر بھی ۔

【26】

وفات اور مرض وفات

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض میں (مجھ سے) فرمایا کہ اپنے والد ابو بکر کو اور اپنے بھائی (عبدالرحمٰن) کو میرے پاس بلا لو تا کہ میں ایک نوشہ (وصیت نامہ کے طور پر) لکھا دوں ، مجھے خطرہ ہے کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے اور کوئی کہنے والا کہے کہ میں زیادہ مستحق ہوں ..... اور اللہ اور مومنین ابو بکر کے سوا کسی کو قبول نہ کریں گے ۔ (صحیح مسلم) تشریح اس حدیث کا حاصل اور مفاد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری مرض میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک میں یہ داعیہ پیدا ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جس کام کے لئے مجھے مبعوث فرمایا ہے اور جو کام مجھ سے لیتا رہا ہے ، اپنے بعد اس کی ذمہ داری سنبھالنے کے لئے (جس کا عنوان خلافت نبوت سے) ابو بکر کو نامزد کر دیا جائے اور اس بارے میں وصیت لکھا دی جائے ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ اپنے والد ابو بکر اور اپنے بھائی عبدالرحمٰن کو میرے پاس بلا دو مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی دوسرا تمنا کرنے لگے اور کوئی تیسرا کہنے والا کہنے لگے کہ میں اس کا زیادہ مستحق ہوں اور اس خدمت اور ذمہ داری کو میں بہتر طریقہ سے انجام دے سکتا ہوں اور اس سے اختلاف پیدا ہونے کا خطرہ ہے ، اس خطرہ سے امت کی حفاظت کے لئے میں چاہتا ہوں کہ ابو بکر کے بارے میں وصیت نامہ لکھا دوں ، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ضرورت نہیں سمجھی ، آپ کو اطمینان ہو گیا کہ ایسا ہی ہو گا اللہ تعالیٰ کی توفیق سے خود مومنین یہی فیصلہ کریں گے ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی حضرت صدیقہؓ سے فرمایا دیا کہ “يابى الله والمؤمنون الا ابا بكر” (اللہ تعالیٰ اور مومنین ابو بکرؓ کے سوا کسی کو قبول نہیں کریں گے) .... صحیح بخاری کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ حضور کے مرض وفات کے پہلے دن کا ہے ، (خلافت نبوت کی حقیقت کیا ہے ؟ اس بارے میں ان شاء اللہ آگے درج ہونے والی ایک حدیث کی تشریح میں عرض کیا جائے گا ۔

【27】

وفات اور مرض وفات

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض وفات میں (ایک دن) اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو (اپنے پاس) بلایا اور رازداری کے طور پر ان سے کوئی بات کی تو وہ رونے لگیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا اور اسی طرح رازداری کے طور پر کوئی بات کی تو وہ ہنسنے لگیں ۔ (حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ) میں نے اس کے بارے میں ان سے پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ پہلی مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےجب مجھ سے رازداری کے طور پر بات کی تھی تو مجھے یہ اطلاع دی تھی کہ آپ اسی مرض میں وفات پائیں گے (جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی) تو میں رنج اور صدمہ سے رونے لگی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دوبارہ اسی طرح رازداری سے بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں میں سے سب سے پہلے میں ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے روانہ ہوں گی (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں گی) تو مجھے خوشی ہوئی اور میں ہنسنے لگی ۔ (صحیح بخاری) تشریح حدیث کا مضمون واضح ہے البتہ یہ ذکر کر دینا مناسب ہو گا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کی صحیح بخاری ہی کی ایک دوسری روایت میں یہ تفصیل ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات میں جس دن یہ واقعہ ہوا اور حضرت صدیقہؓ نے حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کرنا چاہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا بات فرمائی تھی ، جس کی وجہ سے تم پہلے رونے لگی تھیں اور اور پھر جلدی ہی ہنسنے لگی تھیں ؟ تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اس دن نہیں بتلایا بلکہ یہ کہا کہ جو بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زارداری کے ساتھ فرمائی ہے اس کو میں ظاہر نہیں کر سکتی ..... پھر جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو حضرت صدیقہؓ نے پھر ان سے دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتلایا کہ پہلی دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بتلایا تھا کہ میں اسی مرض میں دنیا سے اٹھا لیا جاؤں گاتو میں رنج و صدمہ سے رونے لگی تھی ، پھر جب دوسری دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں میں سب سے پہلے میں ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں گی ، تو رنج و غم کی کیفیت ختم ہو گئی اور میں خوشی سے ہنسنے لگی تھی ۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دونوں باتیں اسی طرح واقع ہوئیں ، ایک یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسا کہ فرمایا تھا اسی مرض میں وفات پائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل و عیال میں سب سے پہلے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ہی وفات ہوئی ، صرف چھ مہینے کے بعد .... یقیناً یہ ان پیشنگوئیوں میں سے ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی روشن دلیل ہے ۔

【28】

وفات اور مرض وفات

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرض وفات کے ایام میں (ایک دن) حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے باہر نکل کر آئے تو لوگوں نے ان سے پوچھا کہ آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حال کیسا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ الحمدللہ آج حالت اچھی ہے (مرض میں افاقہ ہے) تو (ان کے چچا) حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑ کے ان سے کہا کہ خدا کی قسم تین دن کے بعد تم دوسروں کے تابع اور محکوم ہو جاؤ گے ، میں محسوس کر رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلد ہی وفات پا جائیں گے ..... موت کے قریبی وقت میں عبدالمطلب کی اولاد کے چہروں کی جو کیفیت ہوتی ہے میں اس کو پہنچانتا ہوں (اس پہچان اور تجربہ کی بنا پر میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وقت قریب ہی ہے) تم ہمارے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو ، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کریں کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد) یہ کام (یعنی کار خلافت و نیابت) کس کے پاس رہے گا ؟ .... اگر ہمارے (یعنی اہل خاندان) کے سپرد ہونے والا ہو گا تو ہم کو معلوم ہو جائے گا اور اگر ہمارے علاوہ کسی کے سپرد ہونے والا ہو گا تو ہم کو اس کا علم ہو جائے گا اور آپ ہمارے بارے میں وصیت فرما دیں گے ..... تو حضرت علیؓ نے فرمایا کہ اگر ہم نے خلافت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو منع فرمایا دیا (یعنی خلافت ہم کو سپرد نہ کرنے کا فیصلہ فرما دیا) تو خدا کی قسم (آپ کے منع فرما دینے کے بعد) لوگ ہم کو خلافت نہ دیں گے تو میں تو خدا کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خلافت کا سوال نہیں کروں گا ۔ (صحیح بخاری) تشریح یہ بات تو حدیث کے مضمون ہی سے معلوم ہو جاتی ہے کہ جو واقعہ اس میں بیان ہوا ، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات کے آخری ایام کا ہے ..... اور حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے “فتح الباری” میں اس حدٰث کی شرح میں ابن اسحاقؒ کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ امام زہری جو اس حدیث کے راوی ہیں ، ان کا بیان ہے کہ یہ خاص اسی دن صبح کا واقعہ ہے جس دن سہ پہر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات فرمائی ۔ یہ بات بھی حدیث ہی سے معلوم ہو جاتی ہے کہ جس دن کا واقعہ اس میں بیان ہوا ہے اس کی صبح کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت بہ ظاہر ایسی اچھی تھی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے (جو آپ کے خاص تیمار داروں میں تھے) اپنے احساس اور اندازہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کی حمد اور شکر کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اپنے اطمینان کا اطہار کیا تھا اور دوسرے لوگوں کو مطمئن کرنا چاہا تھا .... لیکن ان کے (اور خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی چچا) حضرت عباس رضی اللہ عنہ (جو خاندان کے بوڑھے بزرگ اور زیادہ تجربہ کار تھے) اس کے برعکس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور میں وہ آثار محسوس کر لئے تھے ، جن سے ان کو اندازہ اور گویا یقین ہو گیا تھا کہ آپ جلدی ہی اس دنیا دار فانی سے دار البقاء آخرت کی طرف رحلت فرمانے والے ہیں ، اسی بنا پر انہوں نے حضرت علیؓ سے (جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی چچا زاد بھائی ہونے کے علاوہ داماد بھی تھے) وہ بات کہی جو حدیث میں صراحت اور صفائی کے ساتھ ذکر کی گئی ہے اور حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے وہ جواب دیا جو حدیث میں مذکور ہے .... ہمارے زمانے کے ان لوگوں کو جو خلافت نبوت کو بھی بادشاہت اور حکومت ہی سمجھتے ہیں حضرت علیؓ کے اس جواب اور طرز عمل سے شبہ ہو سکتا ہے کہ ان کے دل میں بادشاہت اور حکومت کی طمع تھی (اور بعض ناآشنا یا ان حقیقت نے اس کا اظہار بھی کیا ہے) لیکن حقیقت یہ ہے کہ خلافت نبوت دنیوی بادشاہت اور حکومت سے بالکل مختلف چیز ہے (ان دونوں میں ویسا ہی فرق ہے جیسا کہ دین اور دنیا میں فرق ہے) خلافت نبوت کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دین حق کی دعوت و اشاعت ، امت کی تعلیم و تربیت ، اعلاء کلمۃ الحق ، جہاد و قربانی ، اور نظام عدل کے قیام کا جو کام وحی الہٰی کی رہنمائی میں نبی و رسول ہونے کی حیثیت سے جس طریق و منہاج پر اور جن اخلاقی اصولوں کی پابندی کے ساتھ انجام دے رہے تھے ، وہی کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین اور قائم مقام کی حیثیت سے ، اسی طریقہ و منہاج پر اور انہی اصولوں کی پابندی کے ساتھ کتاب و سنت اور اسوہ نبوی کی رہنمائی میں انجام دیا جائے ..... اسی کو خلافت نبوت اور خلافت راشدہ کہا جاتا ہے .... ظاہر ہے کہ یہ “دنیوی بادشاہت” کی طرح پھولوں کی سیج نہیں ، کانٹوں بھرا بستر ہے ..... اس کی طمع اور طلب اور بندہ خدا کے لئے جو امید رکھتا ہو کہ اللہ کی مدد و توفیق سے وہ اس کا حق ادا کر سکے گا ، ہرگز مذموم نہیں بلکہ اعلیٰ درجہ کی سعادت ہے ..... حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ ، کو توقع تھی کہ اگر قردہ فال میرے نام پر آیا اور یہ خدمت عظمیٰ میرے سپرد ہوئی تو ان شاء اللہ بتوفیق خداوندی میں اس کو کما حقہ ، انجام دے سکوں گا ، اس لئے اس کی طمع اور طلب ایک اعلیٰ درجہ کی سعادت کی طلب تھی ..... چنانچہ ازل سے طے شدہ ترتیب کے مطابق جب پہلے تین خلفائے راشدین کے بعد آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چوتھے خلیفہ منتخب ہوئے تو آپ نے کتاب و سنت کی رہنمائی میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم کئے ہوئے اصولوں کی پابندی کے ساتھ کار خلافت انجام دیا ، لیکن چونکہ آپ کا پورا دور خلافت فتنوں کا زمانہ تھا ، (جن میں امت حضرت عثمانؓ کی انتہائی مظلومانہ شہادت کی پاداش میں مبتلا کر دی گئی تھی) اس لئے آپ کا پورا وقت اور تمام تر قوت و صلاحیت فتنوں کی آگ بجھانے میں صرف بنوئی اور مثبت تعمیر کا آپ کو وقت ہی نہ ملا ۔ وكان ذالك قدرا مقدورا

【29】

وفات اور مرض وفات

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ (ایک دن) جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آ گیا تھا اور (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) گھر میں چند اشخاص تھے ، جن میں ایک حضرت عمر بن الخطابؓ بھی تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آؤ میں لکھ دوں (یعنی لکھا دوں) تمہارے لئے ایک نوشتہ کہ ہرگز گمراہ نہ ہوں گے تم اس کے بعد ..... تو کہا حضرت عمرؓ نے (لوگوں سے) کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت سخت تکلیف ہے اور تمہارے پاس قرآن موجود ہے اور وہ اللہ کی کتاب تمہارے لئے (یعنی تمہاری ہدایت کے لئے اور گمراہی سے حفاظت کے لئے) کافی ہے پس جو لوگ اس وقت (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) گھر میں تھے ، ان کی رائیں مختلف ہو گئیں اور وہ آپس میں بحث کرنے لگے ، ان میں سے کچھ کہتے تھے کہ (لکھنے کا سامان) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آؤ تا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ لکھا دیں (جو لکھنا چاہتے ہیں) اور بعض وہ کہتے تھے جو حضرت عمرؓ نے کہا تھا تو جب (اس بحث و مباحثہ کی وجہ سے) اختلاف اور شور و شغب زیادہ ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ میرے پاس سے چلے جاؤ ۔ حضرت ابن عباسؓ سے اس واقعہ کے روایت کرنے والے راوی عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس اس واقعہ کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ مصیبت ساری مصیبت وہ ہے جو حائل ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان اور اس نوشتہ کی کتابت کے درمیان (جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لکھنا چاہتے تھے) ان لوگوں کے باہمی اختلاف رائے اور شور و شغب کی وجہ سے ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح جیسا کہ ذکر کیا گیا حضرت عبداللہ بن عباس سے اس واقعہ کی یہ روایت عبیداللہ بن عبداللہ کی ہے حضرت ابن عباسؓ کے ایک دوسرے شاگرد سعید بن جبیر نے بھی ان سے اس واقعہ کی روایت کی ہے ، اس میں چند باتوں کا اضافہ ہے ، وہ روایت بھی صحیحین ہی میں ہے ، اس کو بھی ذیل میں درج کیا جاتا ہے تا کہ پورا واقعہ سامنے آ جائے ..... سعید بن جبیر راوی ہیں :

【30】

وفات اور مرض وفات

(سعید بن جبیرؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ (مائے) جمعرات کا دن اور کیسا تھا جمعرات کا وہ دن (یہ کہہ کر) وہ ایساے روئے کہ ان کے آنسوؤں سے فرش زمین کے سنگریزے تر ہو گئے ۔ میں نے عرض کیا کہ اے ابن عباسؓ کیا تھا وہ جمعرات کا دن ؟ (جس کو آپ اس طرح یاد کر رہے ہیں) تو انہوں نے بیان کیا کہ (جمعرات کا دن تھا) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری بڑھ گئی تو (اس حالت میں) آپ نے فرمایا کہ کتف (شانہ کی ہڈی) لے آؤم میں تمہارے لئے ایک تحریر لکھا دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو گے ، تو اس معاملہ میں (ان لوگوں میں جو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھے) اختلاف رائے ہو گیا ..... اور نبی کے پاس تنازعہ اور اختلاف نہ ہونا چاہئے ۔ بعض لوگوں نے کہا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو چھوڑ رہے ہیں (داغ مفارقت دے رہے ہیں) آپ سے دریافت کرو (کیا فرماتے ہیں اور کیا عرض ہے ؟) پھر لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بار بار اس بارے میں عرض کرنے لگے تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے چھوڑ دو ، میں جس شغل اور جس حال میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے ، جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو ..... پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کا حکم فرمایا ایک یہ کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے باہر کر دیا جائے اور (حکومتوں یا قبیلوں کی طرف سے آنے والے) وفود یا قاصدوں کے ساتھ اسی طرح حسن سلوک کیا جائے جس طرح میں کیا کرتا تھا ..... سعید بن جبیرؓ سے اس حدیث کے روایت کرنے والے راوی سلیمان کہتے ہیں کہ سعید بن جبیر نے تو تیسری بات بیان ہی نہیں کی یا میں بھول گیا .... (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح ایک ہی واقعہ سے متعلق حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے یہ دو بیان ہیں ان میں کوئی اختلاف اور تضاد نہیں ہے صرف بعض اجزا کی کمی زیادتی کا فرق ہے ، بظاہر اس کا سبب یہ ہے کہ جب حضرت ابن عباسؓ نے یہ واقعہ عبیداللہ بن عبداللہ کے سامنے بیان کیا تو صرف وہ اجزاء بیان کئے جو پہلی روایت میں ذکر کئے گئے ہیں اور اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت عمرؓ کا ہونا اور انہوں نے جو فرمایا تھا اس کا بھی ذکر کیا اور جب سعید بن جبیرؓ کے سامنے بیان کیا تو اس میں حضرت عمرؓ کا تو کوئی ذخر نہیں کیا لیکن کئی باتیں وہ بیان کیں جو پہلے بیان میں ذکر نہیں کی تھیں .... اور ایسا بکثرت ہوتا ہے ۔ دونوں روایتوں کو پیش نظر رکھا جائے تو پورا واقعہ اس طرح سامنے آتا ہے .... کہ جمعرات کا دن تھا ، (یعنی وفات سے پانچ دن پہلے ، کیوں کہ یہ بات قطعی اور یقینی طور پر معلوم ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات دو شنبہ کو ہوئی) تو اس جمعرات کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں شدت ہو گئی ، بخار بہت تیز ہو گیا اور تکلیف بہت بڑھ گئی ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چند حضرات تھے ان میں حضرت عمرؓ بھی تھے ، اسی حالت میں حض صلی اللہ علیہ وسلم ر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لکھنے کا سامان لے آؤ میں چاہتا ہوں کہ تمہارے لئے ایک تحریر لکھوا دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو گے ۔ (صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے ۔ “اِيْتُوْنِىْ بِالْكَتَفِ وَالدَّاوَاةِ” یعنی شانہ کی ہڈی اور دوات لے آؤ) (1) اس موقع پر حضرت عمرؓ نے وہاں موجود دوسرے لوگوں سے کہا کہ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت تکلیف ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ذریعہ آیا ہوا قرآن مجید تمہارے پاس موجود ہے ، ہماری تمہارے ہدایت کے لئے اور ہر طرح کی ضلالت اور گمراہی سے بچانے کے لئے اللہ کی وہ کتاب کافی ہے (جیسا کہ خود قرآن میں بارہا فرمایا گیا ہے) حاضرین میں اس بارے میں اختلاف رائے ہو گیا ، کچھ حضرات نے کہا کہ لکھنے کا سامان لانا چاہئے تا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو لکھوانا چاہتے ہیں وہ لکھا جائے اور کچھ حضرات نے وہ کہا جو حضرت عمرؓ نے کہا تھا کہ اص سخت تکلیف کی حالت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لکھوانے کی زحمت نہ دی جائے ، اللہ تعالیٰ کی کتاب ہدایت قرآن مجید کافی ہے..... اسی موقع پر بعض حضرات نے کہا “مَا شَأْنُهُ أَهَجَرَ؟ اسْتَفْهِمُوهُ” (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے ، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم جدائی اختیار فرما رہے ہیں ہم کو چھوڑ کر جا رہے ہیں ؟ آپ سے دریافت کرو) پھر لوگ اس بارے میں بار بار آپ سے عرض کرتے رہے ، اس سے آپ کی توجہ الی اللہ اور اس وقت کی خاص قلبی کیفیت میں خلل پڑا ، آپ نے فرمایا اس وقت تم لوگ مجھے چھوڑ دو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش نہ کرو میں جس شغل اور جس حال میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو ۔ (یعنی میں اس وقت اپنے رب کریم کی طرف متوجہ ہوں اس کے حضور میں حاضر ہونے کی تیاری کر رہا ہوں اور تم مجھے اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہے ہو مجھے چھوڑ دو .... حضرت ابن عباس فرماتے ہیں (کہ اس کے بعد آہپ نے اسی مجلس میں تین باتوں کا حکم فرمایا ۔ ایک یہ کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے باہر کر دیا جائے ۔ دوسرے یہ کہ حکومتوں یا قبیلوں کی طرف سے آنے والے وفود اور قاصدوں کے ساتھ اسی طرح حسن سلوک کیا جائے (ان کو مناسب تحائف دئیے جائیں) جیسا کہ میرا طرز عمل رہا ہے .... حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کے روایت کرنے والے سعید بن جبیر کے شاگرد سلیمان نے تین باتوں میں سے یہی دو باتیں بیان کیں ، اور تیسری بات کے بارے میں کہا کہ یا تو سعید بن جبیر نے وہ بیان ہی نہیں کی تھی یا میں بھول گیا ہوں ۔ یہ ہے پورا واقعہ جو “حدیث قرطاس” کے نام سے معروف ہے ، اس میں چند باتیں خاص طور سے قابل لحاظ اور وضاحت طلب ہیں ۔ ایک یہ کہ یہ واقعہ جمعرات کے دن کا ہے ، اس کے پانچویں دن دوشنبہ تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں رہے ، ان دنوں میں آپ نے وہ تحریر نہیں لکھوائی بلکہ اس کے لکھوانے کا کسی دن ذکر بھی نہیں فرمایا ، یہ اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ اس تحریر کے لکھانے کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم نہیں ہوا تھا ، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور خود ہی اس کا خیال ہوا تھا اور بعد میں خود آپ کی رائے اس کے لکھانے کی نہیں رہی .... اگر اس کے لکھوانے کا حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا ہوتا یا آپ کی رائے میں تبدیلی نہ ہوئی ہوتی اور آپ کے نزدیک گمراہی سے امت کی حفاظت کے لئے اس کا لکھانا ضروری ہوتا تو ان پانچ دنوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ضرور لکھواتے اور اس کا نہ لکھوانا (معاذ اللہ) فریضہ رسالت کی ادائیگی میں کوتاہی ہوتی (حاشا ، ثم حاشا) اور یہ بالکل اسی طرح ہوا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مرض وفات کے بالکل ابتدا میں (1) حضرت ابو بکرؓ کی خلافت کے بارے میں تحریر لکھوانے کا اور اس کے لئے حضرت ابو بکرؓ اور ان کے صاحب زادے عبدالرحمن کو بلوانے کا بھی ارادہ فرمایا تھا ۔ لیکن بعد میں خود آپ نے اس کو غیر ضروری سمجھ کر اس کے لکھانے کا خیال چھوڑ دیا ..... اور فرمایا کہ “يَابَى اللهُ وَالْمُؤْمِنُوْنَ اِلَّا اَبَا بَكْرٍ” تو سمجھنا چاہئے کہ جمعرات کے دن کے اس واقعہ میں بھی ایسا ہوا اور خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تحریر کا لکھانا غیر ضروری سمجھ کر اس کے لکھانے کا ارادہ ترک فرما دیا ۔ اس حدیث قرطاس کے بارے میں ایک دوسری قابل لحاظ بات یہ ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تیز بخار اور شدید تکلیف کی حالت میں تحریر لکھوانے کے لئے لکھنے کا سامان لانے کے لئے فرمایا ، تو حضرت عمرؓ نے جو اس وقت حاضر خدمت تھے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے تو کچھ عرض نہیں کیا البتہ حاضرین مجلس کو مخاطب کر کے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وقت کی غیر معمولی حالت اور تکلیف کی شدت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ان سے کہا کہ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت تکلیف ہے اس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ اس حالت میں ہم لوگوں کو کچھ لکھوانے کی زحمت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دینا چاہئے ، خود قرآن مجید کے نصوص اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت سے یہ یقین ان کے اندر پیدا ہو گیا تھا کہ انسانی دنیا کی ہدایت اور ہر قسم گمراہی اور ضلالت سے حفاظت کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ذریعہ آئی ہوئی اللہ تعالیٰ کی کتاب ہدایت قرآن مجید کافی ہے ، اس کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے “مَّا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِن شَيْءٍ” اور “تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ” اور “تَفْصِيلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ” اور ابھی“حجة الوداع” میں یہ آیت نازل ہو چکی ہے“الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي” ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے واضح اعلان فرما دیا ہے کہ انسانی دنیا کی ہدایت کے لیے جو کچھ بتلانا ضروری تھا وہ قرآن میں بیان فرما دیا گیا ، اس سلسلہ کی کوئی ضروری بات بیان کرنے سے نہیں چھوڑی گئی ہے ۔ دین یعنی ضابطہ حیات و ہدایت بالکل مکمل ہو گیا ہے ۔ اس لئے ہم لوگوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لکھانے کی زحمت اس تکلیف کی حالت نہ دینی چاہئے قرآن آپ لوگوں کے پاس موجود ہے ، اللہ تعالیٰ کی وہ کتاب ہماری آپ کی ہدایت کے لئے اور ہر قسم کی ضلالت اور گمراہی سے حفاظت کے لئے کافی ہے (عِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ حَسْبُكُمْ كِتَابُ اللهِ) جیسا کہ عرض کیا گیا اس مجلسی گفتگو کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم پانچ دن تک اس دنیا میں رہے اور وہ تحریر نہیں لکھوائی ، بلکہ اس کے بعد کبھی اس کا ذکر بھی نہیں فرمایا ..... آپ کے اس طرز عمل نے حضرت عمرؓ کی اس رائے کی تصویب و تائید فرما دی ۔ بلاشبہ یہ واقعہ حضرت عمرؓ کے عظیم فضائل و مناقب میں سے ہے ۔ شارحین حدیث نے عام طور سے یہی سمجھا اور یہی لکھا ہے ۔ اس حدیث قرطاس کے سلسلہ میں ایک تیسری قابل لحاظ بات یہ ہے کہ حضرت ابن عباسؓ کی اس روایت میں (جو صحیحین کے حوالہ سے یہاں درج کی گئی ہے) اس کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنے کا سامان لانے کا حکم کس کو دیا تھا ۔ لیکن اسی حدیث کی شرح کرتے ہوئے حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں مسند احمد کے حوالہ سے خود حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے جس میں صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنے کا سامان لانے کا حکم انہی کو دیا تھا خود حضرت علی مرتضی کا بیان ہے کہ : أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ آتِيَهُ بِطَبَقٍ (اَىْ كَتْفٍ) يَكْتُبُ فِيهِ مَا لَا تَضِلُّ أُمَّتُهُ مِنْ بَعْدِهِ. (فتح البارى جز اول ص 106 طبع انصارى دهلى 1304ه) ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو حکم فرمایا تھا کہ میں طبق (یعنی کتف) لے آؤں تا کہ آپ ایسی تحریر لکھوا دیں جس کے بعد آپ کی امت گمراہ نہ ہو ۔ یہ معلوم ہے کہ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ ، لکھنا جانتے تھے ، ان کو لکھنے کا سامان لانے کے لئے حکم فرمانے کا مطلب بظاہر یہی تھا کہ وہ لکھنے کا سامان لے آئیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو لکھوانا چاہتے ہیں وہ اس کو لکھیں ..... اور یہ بات بطور واقعہ معلوم اور مسلم ہے کہ حضرت علی مرتضیٰ نے بھی وہ تحریر نہیں لکھی ..... یہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ حضرت عمرؓ کی طرح انہوں نے بھی یہی مناسب سمجھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس شدید تکلیف کی حالت میں کچھ لکھوانے کی زحمت نہ فرمائیں اور غالباً ان کی رائے بھی یہی ہوئی کہ امت کی ہدایت اور ہر قسم کی ضلالت سے حفاظت کے لئے کتاب اللہ کافی ہے ۔ اس حدیث میں ایک اور وضاحت طلب بات یہ ہے کہ سعید بن جبیر کی مندرجہ بالا روایت کے مطابق جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنے کا سامان لانے کا حکم فرمایا تو بعض لوگوں نے کہا “مَا شَأْنُهُ أَهَجَرَ؟ اسْتَفْهِمُوهُ” اس کا صحیح مطلب سمجھنے کے لئے یہ صورت حال پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماری کی شدت اور سخت تکلیف کی حالت میں بطور وصیت ایسی تحریر لکھوانے کا ارادہ ظاہر فرمایا جس کے بعد آپ کی امت کبھی گمراہ نہ ہو تو بعض حضرات کو محسوس ہوا کہ شاید حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر آخرت کا وقت قریب آ گیا ہے ، اس وجہ سے بطور وصیت ایسی تحریر لکھوانے کا ارادہ فرما رہے ہیں ، یہ لوگ اس احساس سے سخت مضطرب اور بےچین ہو گئے اور انہوں نے اس اضطراب اور بےچینی کی ھالت میں کہا “مَا شَأْنُهُ أَهَجَرَ؟ اسْتَفْهِمُوهُ” (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے ، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم جدائی اختیار فرما رہے ہیں ، ہم کو چھوڑ کر جا رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا جائے) اس میں لفظ هجر ہجر سے مشتق ہے جس کے معنی جدائی اختیار کرنے اور چھوڑ کے جانے کے ہیں ..... یہ لفظ اسی معنی میں اردو میں بھی مستعمل ہے ، “وصل” کے مقابلہ میں “هجر” بولا جاتا ہے اور ہجرت کے معنی ترک وطن کے ہیں .... بعض حضرات نے اس کو هجر سے مشتق سمجھا ۔ جس کے معنی ہیں بیمار آدمی کا بےہوشی کی حالت میں بہکی بہکی باتیں کرنا ۔ جس کو ہذیان کہا جاتا ہے ، اس صورت میں حدیث کے اس جملہ کا مطلب یہ ہو گا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لکھوانے کے لئے جو فرما رہے ہیں کیا یہ ہذیان ہے ؟ آپ سے دریافت کرو ..... ظاہر ہے کہ یہ مطلب کسی طرح درست نہیں ہو سکتا ، کیوں کہ جو مریض بےہوشی کی حالت میں بہکی بہکی باتیں کرتا ہو وہ ایسے حال میں نہیں ہوتا کہ اس سے کچھ دریافت کیا جائے .... الغرض “اسْتَفْهِمُوهُ” کا لفظ اس کا قرینہ ہے کہ ہجر کا لفظ هُجر سے مشتق نہیں ہے جس کے معنی ہذیان کے ہیں ۔ اس کے علاوہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ “لکھنے کا سامان لے آؤ میں ایک تحریر لکھوا دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو گے ، یہ ہرگز ایسی بات نہیں تھی جس کے بارے میں کسی کو ہذیان کا شبہ بھی ہو ۔ اگرچہ أَهَجر کو استفہام انکاری قرار دے کر یہ معنی بھی بن سکتے ہیں ، لیکن واقعہ یہی ہے کہ یہاں اس لفظ کا ہذیان کے معنی میں ہونا بہت مستبعد ہے ۔ حدیث کے اس جملہ “أَهَجَرَ؟ اسْتَفْهِمُوهُ” کے بارے میں یہ بات بھی خاص طور سے قابل لحاظ ہے کہ اس کے کہنے والے حضرت عمرؓ نہیں ہیں ، یہ بات کچھ دوسرے حضرات نے کہی تھی جن کے نام بھی حدیث میں مذکور نہیں ہیں بلکہ فقالوا کا لفظ ہے (یعنی کچھ لوگوں نے کہا) شیعہ مصنفین حضرت عمرؓ کو لعن طعن کا نشانہ بنانے کے لئے یہ جملہ زبردستی ان کی طرف منسوب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو ہذیان کہا (معاذ اللہ) حالانکہ اہل سنت کی حدیث کے کسی معتبر کتاب میں کوئی روایت نہیں ہے جس سے ثابت ہوتا ہو کہ یہ بات حضرت عمرؓ نے فرمائی تھی .... انہوں نے اس موقع پر وہی فرمایا تھا جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی مندرجہ پہلی روایت میں ذکر کیا گیا ہے (عِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ حَسْبُكُمْ كِتَابُ اللهِ) ہاں “أَهَجَرَ؟ اسْتَفْهِمُوهُ” بھی بعض صحابہ کرامؓ ہی نے کہا تھا ، لیکن اس کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا اور وہ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے عشق و محبت کی دلیل ہے ۔ شارحین حدیث نے اس حدیث کی شرح میں اس پر بھی گفتگو کی ہے کہ آپ نے جو فرمایا تھا کہ “لکھنے کا سامان لے آؤ میں تمہارے لئے ایسی تحریر لکھوا دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو گے” ..... تو آپ کیا لکھوانا چاہتے تھے ؟ اس سلسلہ میں مختلف باتیں کہی گئی ہیں ، لیکن ظاہر ہے کہ سب قیاسات میں ..... شیعہ حضرات کا دعویٰ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علیؓ کے لئے خلافت نامہ لکھوانا چاہتے تھے ؟ جو حضرت عمرؓ کی مداخلت کی وجہ سے نہیں لکھا جا سکا لیکن واقعہ یہ ہے کہ شیعوں کے لئے اس کے کہنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، کیوں کہ ان کا دعویٰ ہے اور اسی پر ان کے بنیادی عقیدہ امامت کی بلکہ ان کے پورے مذہب کی بنیاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع سے واپسی میں وفات سے صرف ستر (۷۰) بہتر (۷۲) دن پہلے غدیر خم کے مقام پر سفر حج کے تمام رفقاء ہزاروں مہاجرین و انصار کو خاص اہتمام سے جمع کرا کے منبر پر کھڑے ہو کر (جو خاص اسی کام کے لئے تیار کرایا گیا تھا) اپنے بعد کے لئے حضرت علیؓ کی خلافت و امامت کا اعلان فرمایا تھا ، اور صرف اعلان ہی نہیں فرمایا تھا بلکہ حضرت علیؓ کے لئے سب سے بیعت بھی لی تھی (اگرچہ ہمارے نزدیک یہ صرف گھڑا ہوا افسانہ ہے ، لیکن شیعہ حضرات کا تو اس پر ایمان ہے اور ان کی مستند ترین کتابوں “الجامع الکافی” اور “احتجاج طبرسی” وغیرہ میں اس کی پوری تفصیلات ہیں) تو جب ایک کام ہو چکا اور ہزاروں کے مجمع میں اس شان اور اس دھوم دھام سے ہو چکا تو اس کے لئے بطور وصیت کچھ لکھوانے کی کیا ضرورت رہی ..... ہاں اس حدیث کی شرح میں جن حضرات نے یہ خیال ظاہر فرمایا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد کے لئے حضرت ابو بکرؓ کی خلافت کے باتے میں تحریر لکھوانے کا ارادہ فرمایا تھا ، لیکن بعد میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کویہ اطمینان ہو گیا کہ تقدیر الٰہی میں یہ طے ہو چکا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تحریر لکھوانے کا ارادہ ترک فرما دیا تو یہ بات قابل فہم ہے علامہ بدرالدین عینی نے عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں اسی حدیث قرطاس کی شرح میں لکھا ہے : قَالَ الْبَيْهَقِيّ: وَقد حكى سُفْيَان بن عُيَيْنَة عَن أهل الْعلم، قيل: إِن النَّبِي، عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَام، أَرَادَ أَن يكْتب اسْتِخْلَاف أبي بكر، رَضِي الله عَنهُ، ثمَّ ترك ذَلِك اعْتِمَادًا على مَا علم من تَقْدِير الله تَعَالَى. وَذَلِكَ كَمَا همَّ فِي أول مَرضه حِين قَالَ: وارأساه، ثمَّ ترك الْكتاب، وَقَالَ: يأبي الله والمؤمنون إِلَّا أَبَا بكر، ثمَّ قدمه فِي الصَّلَاة. (عمدة القارى ج 2 ص 171 طبع مصر) ترجمہ : امام بیہقی نے بیان کیا ہے کہ سفیان بن عیینہ نے (جو اس حدیث قرطاس کے ایک راوی ہیں) اہل علم سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ فرمایا تھا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر فرما دیں (اور اس کے لئے تحریر لکھوا دیں) پھر آپ نے یہ معلوم ہونے پر کہ تقدیر الٰہی میں یہ طے ہو چکا ہے اس کے لکھانے کا خیال ترک فرما دیا جیسا کہ اسی مرض کے ابتدا میں (جب آپ نے فرمایا تھا وا رأساہ) حضرت ابو بکرؓ کی خلافت کے بارے میں تحریر لکھوانے کا خیال فرمایا تھا پھر لکھوانے کا خیال ترک فرما دیا تھا اور فرمایا تھا “يابى الله والمؤمنون الال ابا بكر” (اور بجائے کچھ لکھوانے کے) آپ نے ان کو نماز کی امامت کرنے کا حکم فرما دیا ۔ (یہ گویا عملی استخلاف تھا) ملحوظ رہے کہ سفیان بن عیینہ تابعین میں سے ہیں ، انہوں نے جن “اہل علم” سے نقل کیا ہے ان میں غالباً حضرات تابعین بھی ہوں گے ، اس سے معلوم ہوا کہ اس حدیث قرطاس کے بارے میں یہ رائے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ، کی خلافت کے بارے میں تحریر لکھوانے کا ارادہ فرمایا تھا حضرات تابعین کی بھی رہی ہے ۔ اس حدیث قرطاس کی تشریح کے سلسلہ میں یہاں تک جو کچھ لکھا گیا وہ اس کو تسلیم کر کے لکھا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنے کا سامان لانے کے لئے جو فرمایا تھا وہ کچھ لکھوانے کی نیت ہی سے فرمایا تھا اور آپ کا ارادہ اس وقت کوئی تحریر لکھوانے کا تھا ۔ (جو بعد میں نہیں رہا اور آپ نے کچھ نہیں لکھوایا) لیکن حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں اسی حدیث قرطاس کی تشریح کے سلسلہ میں ایک احتمال یہ بھی ذکر فرمایا ہے کہ دراصل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ کچھ تحریر کرانے کا تھا ہی نہیں بلکہ آپ اپنے صحابہ کا امتحان لینا چاہتے تھے اور دیکھنا چاہتے تھے کہ ان کے قلوب میں یہ بات پوری طرح راسخ ہو گئی یا نہیں کہ اللہ کی آخری کتاب قرآن مجید امت کی ہدایت کے لئے کافی ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے حضرت عمرؓ ، نے جو کہا “عِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ حَسْبُكُمْ كِتَابُ اللهِ” اور حاضرین مجلس میں سے اور لوگوں نے بھی اس کی تائید کی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اطمینان ہو گیا ۔ (فتح الباری جز ۱۸ ص ۱۰۱ طبع انصاری دہلی ۱۳۰۷؁ھ) ملحوظ رہے کہ قرآن مجید میں جا بجا “اطيعوا الله” کے ساتھ اطیعوا الرسول فرما کر اور دوسرے عنوانات سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام و ارشادات کی تعمیل اور آپ کے طریقہ کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے اس لئے وہ بھی قرآن کی ہدایت میں شامل ہے اور قرآن مجید کو بھی حاوی ہے ، اس لئے یہ شبہ نہیں کیا جا سکتا کہ “حسبكم كتاب الله” میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور ہدایت سے استغنا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کا آخری جز یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مجلس میں تین باتوں کا حکم خاص طور سے دیا (صلی اللہ علیہ وسلم صحیح بخاری ہی کی ایک روایت کے الفاظ ہیں “واوصاهم بثلاث” یعنی آپ نے اس موقع پر زبانی ہی تین باتوں کی وصیت فرمائی) ایک یہ کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دیا جائے (واضح رہے کہ یہاں مشرکین سے مراد عام کفار ہیں خواہ مشرکین ہوں یا اہل کتاب ، دوسری روایات میں “اخرجوا اليهود والنصارى” بھی ہے ، مطلب یہ ہے کہ “جزیرہ عرب” اسلام کا مرکز اور خاص قلعہ ہے اس میں صرف اہل اسلام کی آبادی ہونی چاہئے اہل کفر کو آبادی کی اجازت نہ دی جائے اور جو ابھی تک آباد ہیں ان کو اس علاقہ سے باہر بسا دیا جائے(حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم اور وصیت کی تعمیل کی سعادت حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئی ، انہوں نے اپنے زمانہ خلافت میں اس کی تکمیل فرما دی) جزیرہ عرب کے حدود اور رقبہ کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں ، راجح یہ ہے کہ اس حدیث میں جزیرہ عرب سے مراد مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ یمامہ اور ان سے متصل علاقے ہیں ۔ دوسری وصیت آپ نے یہ فرمائی تھی کہ حکومتوں یا قبیلوں یا علاقوں کے جو وفود اور قاصد آئیں (اگرچہ وہ غیر مسلم ہوں) ان کے ساتھ حسن سلوک کا ویسا ہی معاملہ کیا جائے جو میرا معمول ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو مناسب تحائف بھی عطا فرماتے تھے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حسن سلوک قدرتی طور پر ان کو متاثر کرتا تھا ..... یہ دو باتیں ہوئیں ۔ تیسری وصیت کے بارے میں حدیث کے ایک راوی سفیان بن عیینہ نے فرمایا کہ اس حدیث کے روایت کرنے والے ہمارے شیخ سلیمان نے یہی دو باتیں بیان کیں اور تیسری بات کے بارے میں کہا کہ یا تو حضرت ابن عباسؓ کے شاگرد سعید بن جبیرؓ نے وہ بیان ہی نہیں کی تھی یا میں بھول گیا ہوں .... شارحین نے مختلف قرینوں کی بنیاد پر اس تیسری وصیت کو بھی متعین کرنے کی کوششیں کی ہیں ۔ بعض حضرات نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ تیسری وصیت یہ تھی کہ اللہ کی کتاب قرآن کو مضبوطی سے تھامے رہنا ۔ بعض دوسرے حضرات نے کہا ہے کہ وہ تیسری وصیت یہ تھی کہ “ ا تتخذوا قبرى ” (یعنی ایسا نہ ہو کہ میری قبر کو بت بنا کر اس کی پرستش کی جائے) ۔ مؤطا امام مالک میں “اخرجوا اليهود” کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ وصیت بھی روایت کی گئی ہے ، بہرحال یہ سب قیاسات ہیں ، تاہم یہ سب ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور آپ کی ہدایت ہیں ۔

【31】

وفات اور مرض وفات

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض بڑھ گیا اور تکلیف میں شدت زیادہ ہو گئی تو آپ نے ازواج مطہرات سے اجازت چاہی کہ اب آپ کا علاج اور تیمارداری میرے ہی گھر میں ہو (یعنی مستقل قیام میرے ہی گھر میں رہے) تو سب ازواج مطہرات نے اس کی اجازت دے دی (اور سب اس پر راضی ہو گئیں) تو آپ کو دو آدمی اس طرح لے کر میرے گھر آئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پائے مبارک (کے گھسٹنے سے) زمین پر لکیر بن رہی تھی (آپ کو لانے والے یہ دو آدمی) ایک ان میں سے عباس بن عبدالمطلب تھے اور دوسرے ایک اور صاحب تھے ..... آگے حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تشریف لے آئے تو (ایک دن) آپ کو تکلیف بہت بڑھ گئی تو آپ نے ہم سے (یعنی ازواج مطہرات سے) فرمایا کہ مجھ پر سات ایسی مشکوں سے پانی چھوڑو جن کے بند کھولے نہ گئے ہوں ، تا کہ (میری حالت بہتر اور پر سکون ہو جائے تو) میں (مسجد جا کر) لوگوں سے بہ طور وصیت کچھ ضروری باتیں کر سکوں (حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں) کہ ہم نے آپ کو ایک ٹب میں بٹھایا جو آپ کی زوجہ مطہرہ حفصہؓ کا تھا ، پھر ہم نے (آپ کی ہدایت کے مطابق) آپ پر مشکوں سے پانی چھوڑنا شروع کیا ۔ یہاں تک کہ آپ نے اپنے ہاتھ سے ہمیں اشارہ فرمایا کہ تم نے کام پورا کر دیا ۔ (حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ آپ کو سکون ہو گیا) چنانچہ آپ مسجد تشریف لے گئے پھر آپ نے نماز پڑھائی اور اس کے بعد خطاب بھی فرمایا (جس کا آپ کے دل میں خاص تقاضا تھا) ۔ (صحیح بخاری) تشریح اس حدیث کا مضمون صحیح طور پر سمجھنے کے لئے یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نو ازواج مطہرات تھیں جن کے حجرات (چھوٹے چھوٹے گھر) الگ الگ تھے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دستور و معمول تھا کہ عدل و انصاف کے تقاضے کے مطابق باری باری ان سب کے ہاں ایک ایک رات قیام فرماتے ، آپ اس کی ایسی پابندی فرماتے تھے کہ بعض علمائے کرام نے اس سے یہ سمجھا ہے کہ ایسا کرنا آپ کے حق میں فرض و واجب تھا ۔ بہرحال ماہ صفر ۱۱؁ھ کی کسی تاریخ کو (جس کے بارے میں روایات مختلف ہیں) آپ کے اس مرض کا سلسلہ شروع ہوا جس کا اختتام وفات ہی پر ہوا ۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دن حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں قیام تھا پھر اگلے دن جن زوجہ مطہرہ کے ہاں قیام کی باری تھی ، آپ ان کے ہاں منتقل ہو جائے ۔ بیماری کی حالت میں روزانہ ایک گھر سے دوسرے گھر منتقلی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سخت تکلیف کا باعث تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش تھی کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی گھر میں قیام فرمائیں اور مختلف وجوہ سے اس کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں حضرت عائشہؓ کے گھر کو ترجیح تھی ۔ صحیح بخاری کو جو حدیث اوپر درج کی گئی ہے ، اس کے الفاظ کا ظاہری مطلب یہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ازواج مطہرات سے اپنی اس خواہش کا اظہار فرمایا اور ان سے اس کی اجازت چاہی لیکن حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اسی حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ ابن سعد نے صحیح سند سے امام زہری سے نقل کیا ہے کہ امہات المومنین سے یہ اجازت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حضرت کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے لی تھی (1) بہرحال سب ازواج مطہرات اس پر راضی ہو گئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں پہنچا دئیے گئے ۔ خود حضرت صدیقہؓ کی روایت ہے کہ یہ دو شنبہ کا دن تھا ، یعنی وفات سے ٹھیک ایک ہفتہ پہلے ..... آپ مرض کے اثر سے اس وقت تک اتنے ضعیف و نحیف ہو گئے تھے کہ آپ خود نہیں چل سکتے تھے ، بلکہ دو آدمی اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پائے مبارک زمین پر گھسٹ رہے تھے .... حضرت عائشہ صدیقہؓ نے ان دو (۲) آدمیوں میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباسؓ کا تو نام لیا اور دوسرے صاحب کا نام نہیں لیا ، شارحین نے اس کی وجہ یہ لکھی ہے کہ حضرت عباسؓ تو ایک طرف سے مستقل آپ کو اٹھائے ہوئے تھے اور دوسری جانب سے اٹھانے والے تبدیل ہوتے رہتے تھے ، کبھی حضرت علیؓ اور کبھی حضرت عباسؓ کے صاحبزادے فضل بن عباسؓ اور کبھی حضرت اسامہؓ .... بہرحال اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں پہنچا دیا گیا جس کو ہمیشہ کے لئے آپ کی آرام گاہ بننا مقدر ہو چکا تھا .... اور جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا یہ دو شنبہ کا دن تھا ۔ آگے حدیث میں حضرت عائشہؓ کا جو بیان ہے کہ میرے گھر میں تشریف لانے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف میں شدت ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل کرایا گیا اور سات مشکوں سے آپ پر پانی چھوڑا گیا جس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت بہتر اور طبیعت ہلکی ہو گئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد تشریف لے گئے اور نماز پڑھائی اور نماز کے بعد صحابہ کرامؓ سے خطاب فرمایا ..... تو یہ واقعہ اس دن کا نہیں ہے جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صدیقہؓ کے گھر میں تشریف لائے بلکہ یہ تین دن کے بعد جمعرات کے دن کا واقعہ ہے جیسا کہ دوسری روایت میں اس کی صراحت ہے ۔ اور یہ ظہر کی نماز تھی ، اور یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی آخری نماز تھی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد شریف میں پڑھائی اور اس کے بعد جو خطاب فرمایا وہ مسجد شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا آخری خطاب تھا اور یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وہی نماز اور وہی آخری خطاب تھا جس کا ذکر حضرت ابو سعید خدریؓ کی روایت میں گزر چکا ہے ۔ صحیح بخاری جزو سوم “إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ” میں اس واقعہ سے متعلق حضرت عائشہ صدیقہؓ کی جوا روایت ہے ۔ اس میں صراحت ہے کہ یہ ظہر کا وقت تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق حضرت ابو بکر صدیقؓ کی اقتدا میں نماز شروع ہو چکی تھی ، تو اس حالت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سکون اور طبیعت میں ہلکا پن محسوس کیا اور آپ دو صاحبوں کے سہارے مسجد میں تشریف لے گئے ، حضرت ابو بکرؓ جو نماز پڑھا رہے تھے ، ان کی نظر حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑی تو وہ اپنی جگہ سے پیچھے ہٹنے لگے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا کہ پیچھے نہ ہٹو اپنی جگہ پر رہو اور جو دو حضرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گئے تھے ، ان سے فرمایا کہ مجھے ابو بکر کے برابر میں بٹھا دو ، انہوں نے ایسا ہی کیا ، اب اصل امام خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہو گئے اور حضرت ابو بکر مقتدی .... اس نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ خطاب فرمایا جو حضرت ابو سعید خدریؓ کی روایت سے گزر چکا ہے اور وہیں صحیح مسلم کی روایت کے حوالے سے ذکر کیا جا چکا ہے کہ یہ جمعرات کا دن تھا ۔ یہ وہی جمعرات تھی جس میں وہ واقعہ ہوا تھا جس کا ذکر حدیث قرطاس میں گزر چکا ہے ۔ اس سلسلہ کی مختلف روایات سامنے رکھنے کے بعد واقعات کی ترتیب یہ معلوم ہوتی ہے کہ وفات سے پانچ (۵) دن پہلے جمعرات کے دن ظہر سے پہلے کسی وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض اور تکلیف میں شدت ہو گئی ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور وصیت کچھ لکھوانے کا ارادہ فرمایا اور لکھنے کا سامان لانے کے لئے ارشاد فرمایا ۔ پھر آپ کی رائے لکھوانے کی نہیں رہی (جیسا کہ حدیث قرطاس کی تشریح میں تفصیل سے بیان کیاجا چکا ہے) ..... لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں تقاضا رہا کہ وصیت کے طور پر کچھ ضروری باتیں صحابہ کرامؓ سے فرما دی جائیں ۔ چنانچہ جب ظہر کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات سے فرمایا کہ مجھے غسل کراؤ اور سات ایسی مشکوں سے جن کے بند کھولے نہ گئے ہوں مجھ پر پانی چھوڑ دو ، (1) ازواج مطہرات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بڑے ٹب میں بٹھلا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق غسل کرایا ۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت بہتر اور طبیعت ہلکی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو (۲) آدمیوں کے سہارے مسجد تشریف لے گئے اور جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے نماز بھی پڑھائی اور اس کے بعد منبر پر رونق افروز ہو کر خطاب بھی فرمایا ۔ اس خطاب میں جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حضرت ابو سعید خدری کی روایت اور اس کی تشریح میں تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے ۔ اس خطاب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے زیادہ اہمیت کے ساتھ امت میں حضرت ابو بکر صدیقؓ کے امتیازی مقام کا ذخر فرمایا ہے اور یہ کہ امت میں جو مرتبہ ابو بکرؓ کا ہے وہ کسی دوسرے کا نہیں ہے اور اپنی جگہ نماز کا امام تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پہلے ہی بنا دیا تھا ..... ان سب چیزوں کو پیش نظر رکھ کر غور کیا جائے تو ایک حد تک یقین ہو جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دن ظہر سے پہلے تکلیف کی شدت کی حالت میں بہ طور وصیت لکھوانے کا جو ارادہ فرمایا تھا وہ حضرت ابو بکرؓ کی خلافت و امامت ہی کا مسئلہ تھا ۔ اگرچہ بعد میں خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے مبارک لکھوانے کی نہیں رہی ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی جگہ امام نماز بنا کر اور مسجد شریف کے آخری خطاب میں ان کا امتیاز اور امت میں ان کا بلند ترین مقام بیان فرما کر ان کی خلافت و امامت کے مسئلہ کی طرف پوری رہنمائی فرما دی اور صحابہ کرامؓ کے لئے وہ رہنمائی کافی ہوئی ۔

【32】

وفات اور مرض وفات

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو شنبہ کے دن (یعنی جس روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اسی دو شنبہ کے دن) مسلمان فجر کی نماز ادا کر رہے تھے اور حضرت ابو بکرؓ امام کی حیثیت سے نماز پڑھا رہے تھے کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی قیام گاہ) حضرت عائشہؓ کے حجرہ (کے دروازے) کا پردہ اٹھا کر ان پر نظر ڈالی جب کہ وہ صفوں میں کھڑے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے (یہ منظر دیکھ کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا اور چہرہ مبارک پر ہنسی کے آثار ظاہر ہوئے ، آپ پر جب حضرت ابو بکرؓ کی نظر پڑی تو انہوں نے خیال کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے تشریف لانا چاہتے ہیں ، وہ پیچھے ہٹنے لگے تاکہ مقتدیوں کی صف میں شامل ہو جائیں (حدیث کے راوی حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو دیکھ کر فرط مسرت سے مسلمانوں کا حال یہ ہوا کہ وہ نماز کی نیت توڑ دینے کا ارادہ کرنے لگے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ تم لوگ اپنی نماز پوری کرو ، پھر آپ حجرہ کے اندر تشریف لے گئے اور آپ نے دروازہ کا پردہ گرا دیا ۔(صحیح بخاری) تشریح حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی روایت ہے اور حضرت علی مرتضیٰ کے ایک بیان کی تشریح کے سلسلہ میں یہ بات پہلے ذکر کی جا چکی ہے کہ جس روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس دن صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت بہ ظاہر بہت اچھی اور قابل اطمینان ہو گئی تھی ، حضرت انسؓ کی اس حدیث سے اس کی پوری تائید ہوتی ہے کہ آپ از خود اٹھ کر حجرہ کے دروازہ پر تشریف لائے پردہ اٹھا کر دیکھا اور صحابہ کرامؓ کو صف بستہ نماز ادا کرتے ہوئے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غیر معمولی خوشی ہوئی ، چہرہ مبارک کھل گیا اور جب ابو بکر صدیقؓ اپنی جگہ سے پیچھے ہٹنے لگے اور خطرہ پیدا ہوا کہ لوگ فرط مسرت سے نماز کی نیت نہ توڑ دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارہ سے فرمایا کہ آپ لو گ جس طرح نماز پڑھ رہے ہیں اسی طرح ابو بکر کی اقتدا میں نماز پوری کریں .... اس صبح کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بظاہر اتنی اچھی ہو گئی تھی کہ حضرت ابو بکرؓ مطمئن ہو کر اپنے مکان سخ تشریف لے گئے جو مسجد شریف سے خاصے فاصلے پر تھا ۔

【33】

وفات اور مرض وفات

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب آپ مریض ہوتے تو “معوذات” پڑھ کر اپنے اوپر دم کرتے اور جسم مبارک پر اپنا ہاتھ پھیرتے ۔ پھر جب آپ اس مرض میں مبتلا ہوئے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی (اور غلبہ مرض اور ضعف کی وجہ سے خود معوذات پڑھ کر دم کرنا اور جسم مبارک پر خود ہاتھ پھیرنا آپ کے لئے مشکل ہو گیا) تو میں وہی معوذات پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دم کرتی تھی اور خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر پھیرتی تھی ۔ (صحیح بخاری) تشریح حدیث میں معوذات سے مراد بظاہر قرآن پاک کی دو سورتیں (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہی دو سورتیں پڑھ کر دم کیا کرتے تھے ، ان کے ساتھ وہ دعوائیں بھی مراد ہو سکتی ہیں جن میں ہر طرح کے امراض اور ہر قسم کے شرور و بلیات سے حفاظت اور پناہ مانگی جاتی ہے ۔ اسی حدیث کی ایک دوسری روایت میں حضرت عائشہ صدیقہؓ کا یہ بیان بھی ہے کہ میں معوذات پڑھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک اپنے ہاتھ میں لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر اس لئے پھیرتی تھی کہ جو برکت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں تھی وہ میرے یا کسی دوسرے کے ہاتھ میں نہیں ہو سکتی تھی ۔

【34】

وفات اور مرض وفات

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریض ہوئے اور پھر آپ کا مرض بہت بڑھ گیا (اور آپ مسجد تشریف لا کر نما زپڑھانے سے بالکل معذور ہو گئے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (میری طرف سے) ابو بکر کر حکم دو کہ وہ لوگوں کو (جو جماعت سے نماز ادا کرنے کے لئے مسجد میں جمع ہیں) نماز پڑھا دیں تو حضرت عائشہؓ نے عرض کیا کہ وہ رقیق القلب آدمی ہیں ، جب وہ نماز پڑھانے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو (ان پر رقت غالب آ جائے گی اور) وہ نماز نہیں پڑھ سکیں گے (حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہؓ کی یہ بات سن کر بھی یہی) فرمایا کہ ابو بکر کو حکم دپہنچا دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں (حضرت عائشہؓ نے پھر اپنی بات دہرائی اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی فرمایا کہ ابو بکر کو حکم پہنچا دو کہ وہ نماز پڑھا دیں (اسی کے ساتھ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہؓ کو ڈانٹتے ہوئے فرمایا “فانكن صواحب يوسف” پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم لےکر)حضرت ابو بکرؓ کے پاس آیا (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیام اور حکم) ان کو پہنچایا تو پھر انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں (یعنی وفات تک برابر) لوگوں کو نماز پڑھائی ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح مرض وفات میں مسجد تشریف لے جا کر نماز پڑھانے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بالکل معذور ہو جانے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت ابو بکرؓ کے نماز پڑھانے کا یہ واقعہ صحیح بخاری کے متعدد ابواب میں مختلف صحابہ کرامؓ سے کہیں بہت اختصار کے ساتھ اور کہیں پوری تفصیل کے ساتھ روایت کیا گیا ہے ۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ، کی جو حدیث یہاں درج کی گئی ہے وہ امام بخاری نے “باب العلم والفضل احق بالامامۃ” میں روایت کی ہے ، اسی باب میں اسی واقعہ سے متعلق حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی اور اس اگلے باب میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حدیثیں بھی امام بخاری نے درج فرمائی ہیں ۔ ان سب میں یہ واقعہ بہت اختصار کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے ۔ اس کے تین باب آگے “باب إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ” میں حضرت عائشہ صدیقہؓ سے اس واقعہ سے متعلق جو حدیث امام بخاری نے روایت کی ہے اس سے واقعہ کی پوری تفصیل معلوم ہو جاتی ہے اس کا ھاصل یہ ہے کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات سے آٹھ دن پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں منتقل ہو جانے کے بعد بھی مرض کی شدت اور ضعف و نقاہت بہت زیادہ بڑھ جانے کے باوجود کئی دن تک ہر نماز کے وقت مسجد تشریف لے جا کر حسب معمول خود ہی نماز پڑھاتے رہے پھر اسی حال میں ایک دن ایسا ہوا کہ عشاء کی اذان ہو گئی اور لوگ جماعت سے نماز ادا کرنے کے لئے مسجد میں جمع ہو گئے ، لیکن اس وقت مرض کی شدت کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر غشی اور غفلت کی سی کیفیت طاری ہو گئی جب اس کیفیت سے افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے مسجد میں نماز ادا کر لی ؟ ..... عرض کیا گیا کہ ابھی لوگوں نے نماز ادا نہیں کی ہے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے لئے ٹب میں پانی رکھو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال تھا کہ غسل کرنے سے ان شاء اللہ مرض کی شدت میں تخفیف ہو جائے گی اور میں مسجد جا کر نماز پڑھا سکوں گا حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ ہم نے ٹب میں پانی رکھ دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمایا اور اٹھا کر کھڑے ہونے لگے ، لیکن پھر وہ غشی اور غفلت کی کیفیت طاری ہو گئی پھر جب اس کیفیت سے افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی ؟ عرض کیا گیا کہ ابھی نماز ادا نہیں کی گئی لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ٹب میں پانی بھرنے کا حکم فرمایا اور پھر غسل فرمایا اور پھر مسجد تشریف لے جانے کے لئے اٹھنے کا ارادہ فرمایا تو پھر وہی غشی اور غفلت کی کیفیت طاری ہو گئی ، پھر جب اس کیفیت سے افاقہ ہوا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی ؟ عرض کیا گیا کہ ابھی نماز ادا نہیں کی گئی لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ٹب میں پانی بھرنے کے لئے فرمایا اور غسل فرمایا کہ مسجد جانے کے لئے اٹھنے کا ارادہ فرمایا تو پھر وہی غشی اور غفلت کی کیفیت طاری ہو گئی ۔ (غرض تین دفعہ ایسا ہی ہوا) اس کے بعد جب افاقہ ہوا اور دریافت کرنے پر پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا گیا کہ ابھی مسجد میں جماعت نہیں ہوئی ، لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں مسجد میں جمے بیٹھے ہیں ، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب ابو بکرؓ کو میری طرف سے کہہ دیا جائے کہ وہ نماز پڑھا دیں ۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری کی جو روایت اوپر درج کی گئی ہے اس میں بھی ہے اور اس واقعہ کی اکثر روایات میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے اس موقعہ پر عرض کیا کہ میرے والد ابو بکر رقیق القلب ہیں وہ جب مماز پڑھانے کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان پر رقت غالب آ جائے گی اور وہ نماز نہیں پڑھا سکیں گے ، اس لئے بجائے ان کے حضرت عمرؓ کو حکم دے دیا جائے وہ مضبوط دل کے آدمی ہیں ۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس بات کو قبول نہیں فرمایا اور جب انہوں نے دوبارہ وہی بات کہی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ڈانٹ دیا اور فرمایا کہ ابو بکر ہی کو میرا یہ پیغام پہنچایا جائے کہ وہ نماز پڑھا دیں) چنانچہ حضرت بلالؓ نے حضرت ابو بکرؓ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم پہنچایا ...... (ان کو معلوم نہیں تھا کہ حضرت عائشہؓ اس بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا عرض کر چکی ہیں اور ان کو کیا جواب مل چکا ہے) انہوں نے بھی اپنی قلبی کیفیت کا خیال کرتے ہوئے حضرت عمرؓ سے کہا کہ تم نماز پڑھا دو ، انہوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے لئے حکم فرمایا ہے تم ہی نماز پڑھاؤ .... چنانچہ حضرت ابو بکر نے نماز پڑھائی ..... اوپر یہ ذخر کیا جا چکا ہے کہ یہ عشاء کی نماز تھی اور یہ پہلی نماز تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تاکیدی حکم سے حضرت ابو بکرؓ نے پڑھائی اور اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق وہی مسجد شریف میں نماز پڑھاتے رہے ۔ آگے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت میں یہ بھی ہے کہ پھر ایک دن نماز ظہر کے وقت جب کہ مسجد شریف میں نماز باجماعت شروع ہو چکی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق حضرت ابو بکرؓ نماز پڑھا رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض اور تکلیف میں تخفیف اور افاقہ کی کیفیت محسوس کی تو دو آدمیوں کے سہارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد تشریف لائے ۔ حضرت ابو بکرؓ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کا احساس ہو گیا وہ پیچھے ہٹنے لگے تا کہ مقتدیوں کی صف میں شامل ہو جائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا کہ مجھے ابو بکرؓ کے پہلو میں بٹھا دو چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اب یہاں سے اصل امام حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہو گئے اور حضرت ابو بکرؓ مقتدی ہو گئے ، لیکن ضعف و نقاہت کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تکبیرات وغیرہ کی آواز چونکہ سب نمازی نہیں سن سکتے تھے اس لئے تکبیرات وغیرہ حضرت ابو بکرؓ ہی کہتے رہے بعض راویوں نے اس کو اس طرح تعبیر کیا ہے کہ ابو بکرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کر رہے تھے اور باقی تمام نمازی ابو بکرؓ کی اقتدا کر رہے تھے ، مطلب یہی ہے کہ عام نمازیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکبیرات وغیرہ کی آواز نہیں پہنچتی تھی ابو بکرؓ ہی کی آواز پہنچتی تھی اور وہ اسی کے مطابق رکوع و سجدہ وغیرہ کرتے تھے ، یہ ظہر کی وہی نماز تھی جس کا ذکر پہلے بھی متعدد روایات میں آ چکا ہے اور یہ کہ اس نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر رونق افروز ہو کر خطاب بھی فرمایا جو مسجد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری خطاب تھا ۔ اس پر اتفاق ہے کہ حضرت ابو بکرؓ کو اپنی جگہ امام مقرر فرما دینے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی یہ نماز مسجد تشریف لا کر ادا فرمائی اس کے علاوہ بھی کوئی نماز ان دنوں میں مسجد تشریف لا کر ادا فرمائی یا نہیں اس میں اختلاف ہے ۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس واقعہ سے متعلق متعدد روایات میں خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان ذ کر کیا گیا ہے کہ میں نے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بار بار عرض کیا کہ ابو بکرؓ رقیق القلب ہیں وہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان پر رقت طاری ہو جائے گی اور وہ نماز نہ پڑھا سکیں گے تو اس کا اصل محرک میرا یہ خیال تھا کہ جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کھڑے ہو کر نماز پڑھائے گا لوگ اس کو اچھی محبت کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے اس لئے میں چاہتی تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کو نماز پڑھانے کا حکم نہ دیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غالباً ان کے دل اور زبان کے اس فرق کو محسوس فرما لیا اس لئے ڈانٹا اور فرمایا “ان كن صواحب يوسف” حضرت عائشہؓ یہ نہ سمجھ سکیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اپنی حیات میں امام نماز بنا کر اپنے بعد کے لئے امت کی امامت کبریٰ (خلافت نبوت) کا فیصلہ اپنے عمل سے فرما دینا چاہتے ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے امام بنانے پر اصرار اسی مقصد سے تھا ۔

【35】

وفات اور مرض وفات

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض وفات میں مجھ سے فرماتے تھے کہ اے عائشہ ! میں اس (زہر آلود) کھانے کی کچھ تکلیف برابر محسوس کرتا رہا جو میں نے خیبر میں کھایا تھا اور اب اس وقت میں محسوس کرتا ہوں کہ اس زہر کے اثر سے میری رگ جان کٹی جا رہی ہے .... (صحیح بخاری) تشریح ۷؍ ہجری میں جب خیبر فتح ہوا اور جنگ کے خاتمہ پر معاہدہ بھی ہو گیا تو یہاد کی طرف سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک بھنی ہوئی بکری ہدیہ کے طور پر بھیجی گئی ، مشکوٰۃ المصابیح ہی میں ابو داؤد اور دارمی کی ایک روایت ہے جس میں یہ وضاحت اور صراحت ہے کہ اس بھنی بکری میں ایک یہودی عورت نے ایسا زہر ملا دیا تھا جس کو آدمی اگر کھا لے تو فوراً ہی اس کی زندگی ختم ہو جائے ..... اور اس یہودی عورت نے کسی طرح یہ بھی معلوم کر لیا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم دست کا گوشت زیادہ پسند فرماتے ہیں تو اس قتالہ نے اس بکری کی دست میں وہ زہر بہت زیادہ ملا دیا تھا ، بہرحال وہ بھنی بکری کھانے کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھی گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چند اصحاب اور بھی اس کھانے میں شریک تھے ، جیسے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کے دست میں سے ایک لقنہ لیا اور کھایا ۔ “فوراً ہاتھ روک لیا اور ساتھیوں سے بھی فرمایا کہ ہاتھ روک لو ، بالکل نہ کھاؤ اس میں زہر ملایا گیا ہے ۔ اسی وقت آپ ... نے اس یہودیہ کو بلوایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تو نے اس میں زہر ملایا ہے ؟ اس نے کہا کہ کس نے یہ بات بتلائی ؟ .... آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بکری کی دست جو میری ہاتھ میں ہے اسی نے بحکم خدا مجھے بتلایا ہے کہ میرے اندر زہر ملایا گیا ہے ..... یہودی عورت نے اقرار کر لیا کہ ہاں میں نے زہر ملایا تھا اور یہ میں نے اس لئے کیا تھا کہ اگر تم سچے نبی ہو گے تو تم پر زہر کا اثر نہیں ہو گا اور اگر تم جھوٹے مدعی نبوت ہو گے تو ختم ہو جاؤ گے اور تمہارے ختم ہو جانے سے ہمیں راحت اور چین حاصل ہو جائے گا اور اب مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سچے نبی ہیں .... اسی روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو معاف فرما دیا ۔ اس واقعہ سے متعلق مختلف روایات سے مزید تفصیلات بھی معلوم ہوتی ہیں ، جن کا ذکر یہاں غیر ضروری ہے ۔ یہاں خیبر کے اس واقعہ کا ذکر صرف یہ بتلانے کے لئے کیا گیا ہے کہ خبیر میں زہر آلود لقمہ کے کھانے کا وہ واقعہ معلوم ہو جائے ، جس کا ذکر زیر تشریح حدیث میں کیا گیا ہے .... جو زہر بکری کی دست میں ملایا تھا وہ ایسا ہی تھا کہ اس کا لقمہ کھا کر آدمی ختم ہی ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے معجزانہ طور پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بچا لیا ۔ لیکن اس کا کچھ اثر باقی رہا جس کی کچھ تکلیف کبھی کبھی آپ محسوس فرماتے تھے ، اس میں حکمت الٰہی یہ تھی کہ جب دعوت حق امت کی تعلیم و تربیت اور اعلاء کلمۃ اللہ کا وہ کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ پورا ہو جائے جس کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تھی تو پھر اس زہر کا اثر پوری طرح ظاہر ہو کر آپ ...... کی وفات کا وسیلہ بنے اور اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہادت فی سبیل اللہ کی سعادت و فضیلت بھی حاصل ہو ۔ اس تفصیل کی روشنی میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مندرجہ بالا حدیث کا مطلب و مفہوم پوری طرح سمجھا جا سکتا ہے ۔ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جو ارشاد اور حال بیان کیا ہے وہ بظاہر اسی دن کا ہے جس روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور تکلیف میں وہ شدت شروع ہوئی جس کا ذکر آئندہ درج ہونے والی بعض حدیثوں میں آئے گا ۔

【36】

وفات اور مرض وفات

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے بیان کرتی ہیں کہ میں نے سنا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ فرماتے تھے (تندرستی کی حالت میں) کہ ہر نبی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ معاملہ ہے کہ جب وہ مریض ہوتے ہیں (یعنی جب وہ مرض وفات میں مبتلا کئے جاتے ہیں) تو ان کو اختیار دیا جاتا ہے کہ اگر دنیا میں ابھی کچھ مدت اور رہنا چاہیں تو رہیں اور اگر اب عالم آخرت کا قیام پسند کریں تو اس کو اختیار کر لیں ۔ آگے حضرت صدیقہؓ بیان فرماتیں ہیں کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے مرض وفات میں سانس کی سخت تکلیف ہوئی تو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا “مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ” تو میں نے سمجھ لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ اختیار دے دیا گیا (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عالم آخرت کو اختیار فرما لیا) ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حدیث کے مضمون کی ضروری وضاحت اور تشریح ترجمہ کے ضمن میں کر دی گئی ہے ۔ اس حدیث میں حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات کی آخری مرحلہ کا یہ واقعہ بیان فرمایا کہ جب سانس کی شدید تکلیف شروع ہوئی ۔ (جو گویا قرب وفات کی علامت ہوتی ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر عرض کیا کہ “مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ..... الخ” (اے اللہ اب اپنے ان مقبول بندوں کے پاص پہنچا دے جن پر تیرا خصوصی انعام ہوا ہے ، انبیاء علیہم السلام ، صدیقین ، شہداء اور صالحین) سورہ نساء کی آیت نمبر ۶۹ میں ان چاروں طبقات پر اللہ تعالیٰ کے خصوصی انعام کا ذکر فرمایا گیا ہے ۔ آگے درج ہونے والی حدیث سے اس آخری وقت اور آخری گھڑی کی کچھ مزید تفصیلات معلوم ہوں گی ۔

【37】

وفات اور مرض وفات

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جن خاص نعمتوں سے نوازا ہے ان میں سے یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی میرے گھر میں اور میری ہی نوبت کے دن میں ، اور یہ بھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی میرے سینہ اور میری ہنسلی کے درمیان (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حالت میں وفات پائی کہ آپ میرے سینہ اور ہنسلی سے لگے ہوئے تھے اور اللہ کی جو خاص الخاص نعمتیں مجھ پر ہوئیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری وقت میں میرا آب دہن اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آب دہن ملا دیا (یعنی آخری وقت میں آپ ..... کا آب دہن (تھوک) میرے حلق میں آیا اور میرا ٓب دہن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک میں گیا ، آگے حضرت صدیقہؓ اس کی تفصیل بیان فرماتی ہیں کہ) میرے بھائی عبدالرحمٰن گھر میں آئے ، ان کے ہاتھ میں مسواک تھی اور میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سینہ سے لگائے بیٹھی تھی (یعنی آپ تکیہ کے طور پر میرے سینے سے لگے ہوئے تھے) تو میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم عبدالرحمٰن کی مسواک کی طرف نظر فرما رہے ہیں اور میں نے جانا کہ آپ مسواک کرنا چاہتے ہیں ، تو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ کیا میں عبدالرحمٰن سے یہ مسواک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لے لوں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک سے اشارہ فرمایا کہ ہاں لے لو ، تو میں نے وہ مسواک عبدالرحمٰن سے لے کر دے دی آپ نے مسواک کرنی چاہی تو وہ سخت محسوس ہوئی ، میں نے عرض کیا کہ میں اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نرم کر دوں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک سے اشارہ فرمایا کہ ہاں (اس کو میرے لئے نرم کر دو) تو میں نے اس کو (چبا کر) نرم کر دیا ، تو آپ نے اس کو اپنے دانتوں پر پھیرا (اس طرح اس آخری وقت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آب دہن میرے حلق میں اور میرا ٓب دہن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دہن مبارک میں چلا گیا) ..... آگے حضرت صدیقہؓ بیان فرماتی ہیں کہ) اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک برتن میں پانی رکھا ہوا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار اس پانی میں اپنے دونوں ہاتھ ڈالتے اور وہ ہاتھ چہرہ مبارک پر پھیر لیتے ، اور اسی حال میں زبان مبارک سے فرماتے “لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ” (صرف اللہ ہی معبود برحق ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، ہاں موت کے لئے بڑی سختیاں ہیں) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دست مبارک اوپر کی طرف اٹھایا اور فرمانے لگے “فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى” (مجھ کو شامل کر لے رفیق اعلیٰ میں) اسی حال میں روح مبارک قبض کر لی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اوپر اٹھا ہوا ہاتھ نیچے کی طرف آ گیا ۔ (صحیح بخاری) تشریح اس حدیث میں حضرت صدیقہؓ نے صرف ان خاص الخاص انعامات کا ذکر فرمایا ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری لمحات حیات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر ہوئے ..... ایک یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں وفات پائی اور حسن اتفاق سے وہ دن میری نوبت کا تھا ..... یعنی اگرچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وفات سے آٹھ دن پہلے اپنی خواہش اور دیگر ازواج مطہرات کی اجازت میں میرے گھر میں مستقل طور پر تشریف لے آئے تھے لیکن جس دو شنبہ کو وفات پائی وہ دن باری کے حساب سے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے میرے ہاں قیام کا دن تھا ..... اور دوسرا خصوصی انعام اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ فرمایا کہ جس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اس وقت آپ میرے سینہ اور ہنسلی کے درمیان تھے ، یعنی حضور کی کمر مبارک میرے سینہ سے لگی ہوئی تھی اور سر مبارک میری ہنسلی سے لگا ہوا تھا ..... اور اللہ تعالیٰ کا تیسرا خاص انعام مجھ پر یہ ہوا کہ اس آخری وقت میں میرے بھائی عبدالرحمٰن گھر میں آ گئے ان کے ہاتھ میں مسواک تھی ، ان کی مسواک کی طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح دیکھا کہ میں نے سمجھا کہ آپ مسواک کرنا چاہتے ہیں ، تو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ پا کر وہ مسواک اپنے بھائی سے لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو استعمال کیا تو وہ سخت محسوس ہوئی میں نے عرض کیا کہ میں اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نرم کر دوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر سے اشارہ فرمایا کہ ہاں اس کو نرم کر دو ، تو میں نے اس کو چبا کر اور نرم کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حسب معمول دانتوں پر پھیرا ، اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس آخری وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آب دہن (تھوک) میرے حلق میں اور میرا آب دہن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک میں جمع فرما دیا .... واقعہ یہ ہے کہ ان خاص خاص انعام الٰہیہ پر حضرت صدیقہؓ کو جتنی بھی خوشی اور جتنا بھی فخر ہو ، برحق ہے ..... آگے حضرت صدیقہؓ نے آخری وقت کا جو حال بیان فرمایا ہے ، اس میں اس آخری وقت کی شدت تکلیف کا ذکر ہے ..... فرماتی ہیں کہ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک برتن میں پانی رکھا ہوا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار اس میں اپنے دونوں ہاتھ ڈالتے اور چہرہ مبارک پر پھیر لیتے اور اسی حال میں زبان مبارک سے فرماتے “لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ” مقربین کو اس طرح کی تکلیف ان کے رفع درجات کے لئے ہوتی ہے ..... آگے حضرت صدیقہؓ بیان فرماتی ہیں کہ اسی حال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اوپر اٹھایا اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا “فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى” یوں سمجھنا چاہئے کہ اس وقت وہ “اعلى عليين” آپ کے سامنے کر دیا گیا تھا جو حضرات انبیاء علیہم السلام ، حضرات صدیقین شہداء اور صالحین کا مقام و مستقر ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اس کی طرف اشارہ کر کے اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کیا کہ مجھے اسی رفیق اعلیٰ میں پہنچا دے ..... چنانچہ روح مبارک قبض کر لی گئی اوپر اٹھا ہوا دست مبارک نیچے آ گیا .... قرآن پاک میں .... حضران انبیاء علیہم السلام ، صدیقین ، شہداء اور صالحین پر اللہ تعالیٰ کے خاص انعامات کا ذکر کر کے فرمایا گیا ہے “وَحَسُنَ اُولئِكَ رَفِيْقا” (سورہ نساء ، آیت نمبر ۶۹) بظاہر حدیث کے لفظ “فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى” سے یہی مراد ہے ، اس سے پہلے صحیحین کے حوالہ سے حضرت صدیقہؓ ہی کی جو روایت ذکر کی گئی ہے اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے ۔ واللہ اعلم ۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے ، مستدرک حاکم وغیرہ کی ان روایات کا ذکر کیا ہے جن میں بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت وفات پائی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی گود میں تھے ، اس کے بعد حافظ ابن حجر نے ان روایات کے بارے میں لکھا ہے “وكل طريق منها لا يخلو من شيعى فلا يلتف اليها” (یعنی ان تمام روایتوں کی سند میں کوئی نہ کوئی شیعہ راوی ہے اس لئے قابل التفات بھی نہیں ہیں) آگے حافظ ابن حجر نے ان تمام روایات کی سندوں پر تفصیلی کلام کیا ہے ۔ (فتح الباری ص ۱۰۳ ، ص ۱۰۴) جز ۱۸ طبع انصاری دہلی)

【38】

وفات اور مرض وفات

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر گھوڑے پر سوار ہو کر اپنی قیام گاہ سخ سے آئے ، گھوڑے سے اتر کر مسجد میں آئے ، جو لوگ وہاں جمع تھے ، ان سے کوئی بات نہیں کی پہلے حضرت عائشہ کے گھر میں آئے اور سیدھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے ، آپ کو ایک دھاری دار یمنی چادر اڑھا دی گئی تھی ، حضرت ابو بکرؓ نے چادر ہٹا کر چہرہ مبارک کھولا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر جھک پڑے اور بوسہ دیا ، پھر کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر میرے ماں باپ قربان ! خدا کی قسم اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دو موتیں جمع نہیں فرمائے گا جو موت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مقدر ہو چکی تھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وارد ہو گئی (یہاں تک حضرت عائشہ صدیقہؓ کی روایت ہے جس کو امام بخاری نے ابو سلمہ کے حوالہ سے حضرت صدیقہؓ سے روایت کیا ہے) آگے امام زہری ابو سلمہ ہی کے حوالہ سے (اس موقع سے متعلق) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ بیان روایت کرتے ہیں کہ ..... ابو بکرؓ حضرت عائشہؓ کے گھر سے باہر آئے ، اس وقت حضرت عمر (اپنے خاص حال میں) لوگوں سے بات کر رہے تھے ، حضرت ابو بکرؓ نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ عمر بیٹھ جاؤ (اور جو بات کر رہے ہو وہ نہ کرو) لیکن حضرت عمرؓ نے (اپنے خاص حال میں) یہ بات نہیں مانی تو (حضرت ابو بکرؓ منبر کی طرف آئے) تو سب لوگ حضرت عمرؓ کو چھوڑ کر حضرت ابو بکرؓ کی بات سننے کے لئے ان کی طرف آ گئے ، انہوں نے (منبر سے) خطاب کرتے ہوئے ۔ (حمد و صلوٰۃ اور توحید و رسالت کی شہادت کے بعد) فرمایا : " أَمَّا بَعْدُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لاَ يَمُوتُ، قَالَ اللَّهُ عز وجل: وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّـهَ شَيْئًا ۗوَسَيَجْزِي اللَّـهُ الشَّاكِرِينَ ترجمہ : اما بعد تم میں سے جو کوئی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت اور بندگی کرتا تھا تو وہ تو وفات پا گئے ، اور تم میں سے جو کوئی اللہ کی عبادت اور بندگی کرتا تھا تو وہ “حَيٌّ لاَ يَمُوتُ” ہے ، اس کو کبھی فنا نہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا ہے ۔ “اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو صرف ایک رسول ہیں ، ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں ، تو اگر وہ وفات پا جائیں یا شہید کر دئیے جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں پلٹ جاؤ گے اور جو کوئی الٹے پاؤں پلٹ جائے تو وہ خدا کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے گا اور اللہ اپنے شکر گزار بندوں کو ضرور صلہ عطا فرمائے گا” ۔ (حدیث کے راوی) حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ خدا قسم ایسا معلوم ہوا کہ حضرت ابو بکرؓ کے اس موقع پر یہ آیت تلاوت فرمانے سے پہلے گویا لوگوں نے جانا ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے (یعنی اس وقت لوگ اس آیت کے مضمون سے غافل ہو گئے تھے) پھر تو سب ہی لوگوں نے اس کو لے لیا ، پھر تو ہر شخص کی زبان پر یہی آیت تھی اور میں ہر شخص کو یہی آیت تلاوت کرتے ہوئے سنتا تھا ۔ (صحیح بخاری) تشریح مندرجہ بالا بعض حدیثوں سے معلوم ہو چکا ہے کہ جس روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اس کی صبح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت بہت بہتر اور قابل اطمینان ہو گئی تھی ، اسی لئے حضرت ابو بکرؓ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بالکل مطمئن ہو کر اپنی قیام گاہ سخ چلے گئے تھے ، وہ ابھی وہیں تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ، جن لوگوں کو اس کی اطلاع ہوئی وہ جمع ہونا شروع ہو گئے ، ان میں حضرت عمرؓ بھی تھے جو کسی طرح اس کے ماننے بلکہ سننے کے لئے بھی تیار نہیں تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ۔ حافظ ابن حجر نے اسی حدیث کی شرح میں مسند احمد کے حوالہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت نقل کی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے اور میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو چادر اڑھا دی حضرت عمرؓ اور حضرت مغیرہ بن شعبہ آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے لئے اندر آنے کی اجازت چاہی ، میں نے پردہ کر لیا اور ان دونوں کو اجازت دے دی تو وہ دونوں اندر آئے حضرت عمرؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور کہا “وا غشيتاه” (ہائے کیسی غشی ہے) اس کے بعد یہ دونوں باہر جانے لگے تو حضرت مغیرہؓ نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ (غشی یا سکتہ نہیں ہے) حضور صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ، تو حضرت عمرؓ نے ان کو زور سے ڈانٹا اور کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک دنیا سے نہیں اٹھائے جائیں گے جب تک فلاں فلاں کام انجام نہ پا جائیں جو ابھی انجام نہیں پائے ہیں ، بہرحال حضرت عمرؓ کا یہی حال تھا اور وہ پورے زور شور سے لوگوں سے یہی کہہ رہے تھے اسی حال میں حضرت ابو بکر گھوڑے پر سوار ہو کر آ پہنچے ، پہلے مسجد آئے جہاں لوگ جمع تھے لیکن کسی سے کوئی بات نہیں کی بلکہ حضرت عائشہؓ کے حجرے میں پہنچے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹایا اور روتے ہوئے بوسہ دیا اور کہا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ، جو موت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مقدر تھی وہ آ چکی (صحیح بخاری ہی کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو بکرؓ نے اس موقع پر “إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ” بھی کہا ۔) .... اس کے بعد حضرت ابو بکرؓ باہر تشریف لائے یہاں حضرت عمرؓ اپنے خیال کے مطابق لوگوں کے سامنے تقریر کر رہے تھے ، حضرت ابو بکرؓ نے ان سے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ یعنی لوگوں سے جو بار کر رہے ہو نہ کرو ، لیکن حضرت عمرؓ اس وقت ایسے مغلوب الحال تھے کہ انہوں نے حضرت ابو بکرؓ کی بات نہیں مانی بلکہ اس وقت ماننے سے صاف انکار کر دیا ، حضرت ابو بکرؓ حضرت عمرؓ کو اسی حال میں چھوڑ کر مسجد میں منبر پر تشریف لائے ، پھر سب لوگ حضرت عمرؓ کو چھوڑ کر انہی کے پاس آ گئے حضرت ابو بکرؓ سے وہ خطاب فرمایا جو اوپر حدیث کے ترجمہ میں لفظ بہ لفظ نقل کر دیا گیا ہے اور قرآن مجید کی سورہ آل عمران کی آیت نمبر ۱۴۴ تلاوت فرمائی ۔ حضرت ابو بکرؓ کے اس خطبہ اور اس آیت نے ہر صاحب ایمان کے دل میں یہ یقین پیدا کر دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن یقیناً وفات فرمانے والے تھے ، وفات فرما گئے اور ہم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتلائے ہوئے راستہ پر چلتے ہوئے جینا اور مرنا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا بیان ہے کہ اس خاص موقع پر حضرت ابو بکرؓ سے یہ آیت سن کر سب کی زبان پر یہی آیت جاری تھی ہر ایک اسی آیت کی تلاوت کر کے اپنے نفس کو اور دوسروں کو اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر ثابت قدمی کا سبق دے رہا تھا ۔ اسی واقعہ کے سلسلہ میں آگے امام زہری ہی نے سعید بن المسیب سے نقل کیا ہے کہ خود حضرت عمرؓ فرماتے تھے کہ جب ابو بکر نے آیت “وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ ..... الاية” تلاوت کی تو اپنی غلطی کے احساس سے میرا یہ حال ہو گیا کہ گویا میں بےجان ہو گیا میری ٹانگوں میں دم نہیں رہا کہ میں کھڑا ہو سکوں میرے دل نے جان لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بےشک وفات پا گئے ۔

【39】

وفات اور مرض وفات

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو آپ کی تدفین کے بارے میں لوگوں میں رائے کا اختلاف ہوا تو حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں ایک بات سنی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر نبی کو اسی جگہ وفات دیتا ہے جہاں وہ اس کا دفن کیا جانا پسند فرماتا ہے ۔ لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر کی جگہ ہی دفن کیا جائے ۔ (جامع ترمذی) تشریح حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس بارے میں صحابہؓ کی رائیں مختلف ہوئیں کہ آپ کو کہاں دفن کیا جائے ۔ شارحین نے نقل کیا ہے کہ بعض حضرات کی رائے تھی کہ آپ کو بلداللہ الحرام مکہ مکرمہ لے جا کر دفن کیا جائے بعض کی رائے تھی کہ مدینہ ہی میں بقیع میں دفن کیا جائے ۔ اس موقع پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس بارے میں میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات سنی ہے ، آپ فرماتے تھے کہ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ یہ رہا ہے کہ ان کی وفات خاص اسی جگہ ہوتی ہے ، جہاں ان کا دفن ہونا ان پیغمبر کو یا خود اللہ تعالیٰ کو پسند ہوتا ہے ۔ لہذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی بستر کی جگہ دفن کیا جائے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی ، چنانچہ اسی پر عمل کیا گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں اسی جگہ دفن کئے گئے جہاں بستر پر آپ آرام فرماتے تھے اور جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی ..... کیسا خوش نصیب ہے زمین کا وہ قطعہ جس نے سید المرسلین خاتم النبیین محبوب رب العالمین کو قیامت تک کے لئے اپنی آغوش میں لے لیا ہے ۔ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ دَائِمًا اَبَدًا

【40】

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک موقع پر) ارشاد فرمایا کہ کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس نے ہمارے ساتھ حسن سلوک کیا ہو کچھ ہم کو دیا ہو اور ہم نے اس کی مکافات نہ کر دی ہو ، سوائے ابو بکرؓ کے ، انہو ں نے ہمارے ساتھ جو حسن سلوک کیا اس کی مکافات اللہ تعالیٰ ہی کرے گا قیامت کے دن۔ اور کسی شخص کا بھی مال کبھی اتنا میرے کام نہیں آیا جتنا ابو بکر کا مال کام آیا اور اگر میں (اپنے دوستوں میں سے) کسی کو خلیل (جانی دوست) بناتا تو ابو بکرؓ کو بناتا اور معلوم ہونا چاہئے کہ میں بس اللہ کا خلیل ہوں (اور میرا حقیقی دوست و محبوب بس اللہ ہے) ۔ (جامع ترمذی) تشریح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر مختلف عنوانات سے حضرت ابو بکرؓ کی فضیلت بلکہ افضلیت اور امت میں ان کے امتیازی مقام کا ذکر خاص اہتمام سے فرمایا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات کے سلسلہ میں متعدد ایسی حدیثیں گزر چکی ہیں جن سے بغیر کسی شک و شبہ کے یقین کے ساتھ معلوم ہو جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے افضل ترین فرد حضرت ابو بکرؓ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم مقامی یعنی خلافت نبوت کے لئے وہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں متعین تھے ۔ ان زبانی ارشادات کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض وفات میں (جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو منجانب اللہ معلوم ہو چکا تھا کہ اسی مرض میں میری وفات مقدر ہو چکی ہے) اصرار و تاکید کے ساتھ حضرت ابو بکر کو اپنی جگہ امام نماز بنا کر اس طرف امت کو واضح رہنمائی بھی فرما دی تھی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات کے سلسلہ کی ان حدیثوں کے علاوہ چند اور حدیثیں حضرت ابو بکر صدیقؓ کی فضیلت اور افضلیت کے بارے میں ذیل میں درج کی جا رہی ہین ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات بھی ہیں اور بعض اکابر صحابہ کی شہادتیں بھی ۔ تشریح ..... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب کوئی آپ کو ہدیہ پیش کرتا تو آپ اس کو قبول فرما لیتے اور اسی وقت یا بعد میں کسی وقت اسے اتنا ہی یا زیادہ کسی شکل میں عطا فرما کر مکافات فرما دیتے ، زیر تشریح حدیث میں آپ نے فرمایا ہے کہ ابو بکرؓ کے سوا جس کسی نے بھی ہمارے ساتھ حسن سلوک کیا ہم نے دنیا ہی میں اس کی مکافات کر دی ، لیکن ابو بکرؓ نے جو حسن سلوک کیا اس کی مکافات آخرت میں اللہ تعالیٰ ہی فرمائے گا ، حضرت ابو بکرؓ کے نواسے حضرت عروہؓ کا بیان ہے کہ حضرت ابو بکرؓ نے جب اسلام قبول کیا تو ان کے پاس چالیس ہزار درہم تھے ، وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی کے مطابق دین کی خدمت میں خرچ ہو گئے ، سات ایسے غلاموں کو خرید کر آزاد کیا جنہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا اور ان کے کافر و مشرک مالک و آقا اسلام قبول کرنے ہی کے “جرم” میں ان کو ستاتے اور مظالم کے پہاڑ توڑتے تھے حضرت بلالؓ بھی انہی میں سے تھے ..... حضرت ابو بکرؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کر دیا تھا کہ میں اور میرا سارا مال گویا آپ کی ملک ہے جس طرح چاہیں استعمال فرما لیں ، چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض وفات میں اپنے آخری خطاب میں بھی حضرت ابو بکرؓ کی اس خصوصیت اور امتیاز کا ذکر فرمایا تھا ۔ حضرت ابو سعید خدریؓ کی روایت سے وہ خطاب صحیح بخاری و صحیح مسلم کے حوالہ سے ذکر کیا جا چکا ہے اور اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان کے خلیفہ ہونے کی بھی واضح رہنمائی ہے ۔

【41】

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کسی چیز اور کسی معاملہ کے بارے میں اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا کہ پھر (بعد میں کبھی) آیا ، اس عورت نے عرض کیا کہ یہ بتلائیے کہ اگر میں آئندہ آؤں اور آپ کو نہ پاؤں ؟ ..... حدیث کے راوی جبیر بن مطعم کہتے ہیں کہ غالباً اس عورت کا مطلب یہ تھا کہ اگر میں آئندہ آؤں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رحلت فرما چکے ہوں ، تو میں کیا کروں ؟ ..... تو آپ نے فرمایا کہ اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابو بکرؓ کے پاس آ جانا ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورت مدینہ منورہ سے دور کے کسی مقام کی رہنے والی تھی ، اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے چاید کچھ طلب کیا تھا جو آپ اس وقت عنایت نہ فرما سکے یہ فرما دیا کہ آئندہ کبھی پھر آنا .... اس نے عرض کیا کہ اگر آئندہ میں آؤں اور آپ کو نہ پاؤں آپ دنیا سے رحلت فرما چکے ہوں تو میں کیا کروں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس صورت میں تم ابو بکرؓ کے پاس آنا ..... اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد متصلاً بلا فصل حضرت ابو بکرؓ کے خلیفہ ہونے کی طرف کھلا اشارہ ہے ۔

【42】

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : کسی قوم (کسی ایسی جماعت اور گروہ) کے لئے جس میں ابو بکر موجود ہوں درست اور مناسب نہیں ہے کہ ابو بکرؓ کے سوا کوئی دوسرا شخص ان کا امام ہو ۔ (جامع ترمذی) تشریح یہ حدیث کسی تشریح کی محتاج نہیں ، اس کا صریح مقتضی اور مفاد یہ ہے کہ امت میں جب تک ابو بکرؓ رہیں اہل ایمان انہیں کو اپنا امام بنائیں ، ان کے سوا کسی کو امام بنانا صحیح نہ ہو گا ، بلاشبہ یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات میں سے ہے جن کے ذریعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد کے لئے حضرت ابو بکرؓ کی خلافت کی طرف اشارہ فرمایا ہے ۔

【43】

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ، راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکرؓ سے سے ارشاد فرمایا کہ : تم غار میں میرے ساتھی تھے اور آخرت میں حوض کوثر پر بھی میرے ساتھی ہو گے ۔ (جامع ترمذی) تشریح معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ معظمیہ سے ہجرت فرمائی تو تین (۳) دن تک مکہ مکرمہ کے قریب ثور پہاڑ کے ایک غار میں روپوش رہے تھے ، اس غار میں حضرت ابو بکرؓ ہی آپ کے ساتھ تھے ہجرت کے اس سفر میں اور خاص کر اس غار میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنا (جس میں آخری حد تک کے خطرات تھے) وفاداری اور فدائیت کا بےمثال عمل تھا ، اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور سے اس کو یاد رکھا (قرآن مجید میں بھی اس کا ذکر فرمایا گیا ہے “ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا” سورہ توبہ آیت نمبر ۴۰) اردو زبان میں یار غار کا لفظ قرآن پاک کی اسی آیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس سلسلہ کے ارشادات ہی سے آیا ہے ۔ غار کی اس تین روزہ رفاقت میں حضرت ابو بکرؓ نے جس فدائیت کا ثبوت دیا اس کا کچھ حال آگے درج ہونے والے حضرت عمرؓ کے ایک بیان سے معلوم ہو گا ۔

【44】

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : جبرئیل امین میرے پاس آئے ، میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے جنت کا وہ دروازہ کھلایا جس سے میری امت کا جنت میں داخلہ ہو گا ۔ ابو بکرؓ نے (حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سن کر عرض کیا کہ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے دل میں یہ آرزو پیدا ہوئی کہ میں بھی اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتا اور میں بھی اس دروازہ کو دیکھتا ..... رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ابو بکر تم کو معلوم ہونا چاہئے کہ میری امت میں سب سے پہلے تم جنت میں داخل ہو گے ۔ (سنن ابی داؤد) تشریح اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واقعہ بیان فرمایا ہے کہ جبرائیل امین آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے اور جنت کا وہ دروازہ کھلایا جس سے میری امت جنت میں داخل ہو گی ..... ہو سکتا ہے کہ یہ واقعہ شب معراج کا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی دوسرے موقع پر جبرائیل بحکم خداوندی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت کا وہ دروازہ کھانے کے لئے لے گئے ہوں ، یہ معراج کی طرح کا ملا اعلیٰ کا سفر بھی ہو سکتا ہے اور مکاشفہ بھی ہو سکتا ہے ۔ بہرحال جب حضرت ابو بکرؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سن کر عرض کیا کہ حضرت میرے دل میں آرزو پیدا ہوئی کہ کسش میں بھی اس وقت آپ کے ساتھ ہوتا اور میں بھی جنت کا وہ دروازہ دیکھتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بشارت سنائی کہ تم جنت کا دروازہ دیکھنے کی آرزو کرتے ہو میں تم کو اس سے بڑی خداوندی نعمت کی خوشخبری سناتا ہوں ، یقین کرو کہ میری امت میں سب سے پہلے جنت میں تم داخل ہو گے ، بلاشبہ یہ اس کی روشن دلیل ہے کہ امت میں سب سے افضل اور عالی مرتبت حضرت ابو بکر صدیق ہی ہیں ۔ رضی اللہ عنہ وارضاہ ۔

【45】

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ابو بکرؓ ہمارے سید (سردار) ہیں ، ہم میں سب سے بہتر و افضل ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم میں سب سے زیادہ محبوب ہیں (یعنی ان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبیت کا جو مقام حاصل ہے وہ ہم میں سے کسی کو حاصل نہیں) ۔ تشریح حضرت ابو بکرؓ کی فضیلت اور بلند مقامی کے بارے میں یہ حضرت عمرؓ کا بیان ہے ، جس کی بنیاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور ان کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل کے مشاہدہ پر ہے ۔

【46】

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت محمد بن حنفیہ سے روایت ہے بیان فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد ماجد (حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ) سے دریافت کیا کہ امت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم .... کے بعد سب سے بہتر و افضل کون ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ابو بکر ۔ میں نے کہا ان کے بعد کون ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ عمرؓ..... (محمد بن الحنفیہ کہتے ہیں) پھر مجھے خطرہ پیدا ہوا کہ (اگر میں اسی طرح دریافت کروں کہ عمر کے بعد کون؟) تو یہ نہ کہہ دیں کہ عمرؓ کی بعد عثمان (اس لئے میں نے سوال اس طرح کیا) پھر عمر کے بعد آپ ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ابو بکر ۔ کہ میں اس کے سوا کچھ نہیں کہ مسلمانوں میں کا ایک آدمی ہوں ۔ (صحیح بخاری) تشریح محمد بن الحنفیہ حضرت علیؓ کے صاحبزادے ہیں حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کے بطن سے نہیں بلکہ حضرت علیؓ کے حرم میں داخل ایک دوسری خاتون حنفیہ سے جن کا اصل نام خولہ تھا اپنے قبیلہ کی نسبت سے حنفیہ کے نام سے معروف ہیں حضرت صدیق اکبرؓ کے زمانہ خلافت میں نبوت کے جھوٹے مدعی مسیلمہ کذاب اور اس کے ساتھیوں سے جو کہاد ہوا تو فتح کے بعد جنگی قانون کے مطابق جو مرد اور عورتیں گرفتار ہو کر آئے ان میں یہ خولہ بھی تھیں ، یہ حضرت علیؓ کے حوالہ کر دی گئیں اور ان کے حرم میں داخؒ ہو گئیں ۔ محمد بن الحنفیہ انہی کے بطن سے حضرت علیؓ کے صاحبزادے ہیں ۔ علم اور صلاح و تقویٰ اور دوسری صفات کمال کے لحاظ سے بلند مقام تابعین میں سے ہیں ۔ انہی کا یہ بیان ہے کہ میں نے والد ماجد حضرت علی مرتضیٰؓ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت میں کون افضل ہے ؟ تو انہوں نے پہلے نمبر پر حضرت ابو بکر صدیقؓ کا اور دوسرے نمبر پر حضرت عمرؓ کا نام لیا اور اپنے بارے میں فرمایا کہ میں اس کے سوا کچھ نہیں کہ مسلمانوں میں کا ایک آدمی ہوں ۔ ظاہر ہے کہ حضرت علیؓ نے یہ بطور تواضع و انکسار ، فرمایا ، ورنہ امت میں اس وقت سب سے افضل خود حضرت علی مرتضیٰؓ ہی تھے ، حضرت عثمانؓ اس سے پہلے شہید کئے جا چکے تھے ..... یہ روایت تو محمد بن الحنفیہ کی ہے ۔ محدثین کے نزدیک حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت میں سب سے افضل اور بلند مرتبہ حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ ہیں اور یہ کہ جو کوئی مجھے ان دونوں سے افضل قرار دے گا میں اس پر حد (شرعی سزا) جاری کروں گا ۔

【47】

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے تھے کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ابو بکر کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے تھے ، ان کے بعد عمرؓ ، ان کے بعد عثمان ۔ پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اصحاب کو چھوڑ دیتے تھے ، ان کے درمیان ایک کو دوسرے پر فضیلت نہیں دیتے تھے ۔ (صحیح بخاری) تشریح حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا مطلب بہ ظاہر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل دیکھ کر ہم یہ سمجھتے تھے کہ سب سے افضل حضرت ابو بکرؓ ہیں ، ان کے بعد حضرت عمرؓ ، ان کے بعد حضرت عثمانؓ ، یہ تینوں حضرات سن رسیدہ تھے ، اہم امور میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اکثر ان ہی سے مشورہ فرماتے تھے ، اگرچہ ان تین حضرات کے بعد وہ بلاشبہ امت میں سب سے افضل ہیں اور بعض خصوصیات میں بہت اعلیٰ و بالا ہیں ۔ یہ بات بھی قابل لحاظ رہے کہ حضرت ابن عمرؓ کا یہ بیان شخصیات کے بارے میں ہے ، طبقات اور صفات کے لحاظ سے صحابہ کرامؓ میں جو درجات و مراتب کا فرق ہے اس سے حضرت ابن عمرؓ نے تعرض نہیں کیا ہے ..... مثلاً عشرہ مبشرہ ، اصحاب بدر اور اصحاب بیعت رضوان ، سابقین اولین من المہاجرین والانصار (رضی اللہ عنہم اجمعین) حضرت ابن عمرؓ کے اس بیان میں ان کے فضائل کی نفی نہیں ہے ، انہوں نے جو فرمایا اس کا تعلق ، اس خاص فضیلت سے ہے جو ان تین بزرگوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حاصل تھی ۔ واللہ اعلم ۔

【48】

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو صدقہ کرنے (یعنی راہ خدا میں مال پیش کرنے) کا حکم فرمایا اور یہ حکم ایسے وقت فرمایا جب کہ (حسن اتفاق سے) میرے پاس مال بڑی مقدار میں تھا تو میں نے (اپنے دل میں) کہا کہ اگر میں کبھی ابو بکر سے آگے نکل سکتا ہوں تو آج آگے نکل جاؤں گا (حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ) میں گھر آیا اور گھر میں جو کچھ مال تھا میں نے اس میں سے پورا آدھا لا کر حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم نے اپنے اہل و عیال کے لئے کیا باقی چھوڑا ہے ۔ میں نے عرض کیا (جتنا یہ لے کر آیا ہوں اتنا ہی گھر والوں کے لئے باقی چھوڑا ہے ۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں اور ابو بکرؓ وہ سب کچھ لے آئے جو ان کے پاس تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابو بکر اپنے اہل و عیال کے لئے کیا باقی چھوڑا ۔ انہوں نے عرض کیا کہ گھر والوں کے لئے میں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو باقی چھوڑا ہے(حضرت عمرؓ کہتے ہیں) میں نے (اپنے دل سے) کہا کہ میں کبھی بھی کسی چیز میں ابو بکرؓ سے آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ (جامع ترمذی و سنن ابی داؤد) تشریح ہو سکتا ہے کہ حضرت عمرؓ جو اپنی کل دولت کا نصف لائے تھے ، وہ مقدار میں حضرت ابو بکر کے لائے ہوئے سے زیادہ ہو مگر حضرت ابو بکرؓ کا یہ عمل اور حال کہ انہوں نے گھر والوں کے لئے کچھ بھی نہ چھوڑا بس اللہ و رسول پر ایمان اور ان کی رضا جوئی کو سب کچھ سمجھ کر اس پر قناعت کر لی بلاشبہ یہ مقام بہت بلند ہے ۔

【49】

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے سامنے حضرت ابو بکرؓ کا ذکر کیا گیا تو رونے لگے اور کہا کہ میں دل سے چاہتا ہوں کہ میرے تما عمر کے عمل ان کے ایام زندگی کے ایک دن کے عمل کے برابر اور ان کی زندگی کی راتوں میں سے ایک رات کے عمل کے برابر ہو جائیں (یعنی مجھ کو میری زندگی بھر کے اعمال کا اللہ تعالی وہ اجر عطا فرما دیں جو ابوبکرؓ کے ایک دن اور ایک رات کے عمل کا عطا ہوگا اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ ابوبکرؓ کی رات سے میری مراد وہ خاص رات ہے جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کے سفر میں (اپنے سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق روپوشی کے ارادہ سے) غار (یعنی غارثور) کی طرف چلے تو جب غار کے پاس پہنچے (اور حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غار کے اندر جانا چاہا) تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ خدا کی قسم آپ ابھی غار میں داخل نہ ہوں پہلے میں غار کے اندر جاؤں گا تو اگر وہاں کوئی موذی چیز ہوگی (مثلا درندہ یا سانپ بچھو جیسا زہریلا جانور) تو جو گزرے گی مجھ پر گزرے گی آپ محفوظ رہیں گے پھر ابوبکر غار کے اندر چلے گئے اس کی صفائی کی اس غار میں ایک طرف چند سوراخ نظر آئے تو اپنے تہہ بند میں سے پھاڑ کر اس کے ٹکڑوں اور چیتھڑوں سے ان سوراخوں کو بند کیا۔ لیکن دو سوراخ باقی رہ گئے (تہبند میں سے جو کچھ پھاڑا تھا اس میں سے اتنا باقی نہیں رہا کہ ان دو سوراخوں کو بھی بند کیا جا سکتا) تو ابوبکرؓ نے ان دو سوراخوں میں اپنے دونوں پاؤں اڑا دیئے اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اب آپ اندر تشریف لے آئیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم غار کے اندر تشریف لے گئے (رات کا بڑا حصہ گزر چکا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نیند کا غلبہ تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکرؓ کی گود میں سر مبارک رکھ کر سو گئے (اسی حالت میں) ابوبکرؓ کے پاؤں میں سانپ نے کاٹ لیا (اگرچہ اس کے زہر سے حضرت ابوبکرؓ کو سخت تکلیف ہونے لگی) لیکن اس اندیشہ سے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ نہ کھل جائے آپ بیدار نہ ہو جائیں اسی طرح بیٹھے رہے حرکت بھی نہیں کی یہاں تک کہ تکلیف کی شدت سے ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر گرے (تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کھل گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکرؓ کی آنکھوں سے آنسو بہتے دیکھے تو) دریافت فرمایا کہ ابوبکرؓ تم کو کیا ہوا انہوں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ قربان مجھے سانپ نے کاٹ لیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اسی جگہ پر جہاں سانپ نے کاٹا تھا) اپنا آب دہن ڈال دیا تو ابوبکرؓ کو جو تکلیف ہو رہی تھی وہ اسی وقت چلی گئی (آگے حضرت عمرؓ بیان فرماتے ہیں) پھر (ابوبکرؓ کی وفات سے کچھ پہلے) اس زہر کا اثر لوٹ آیا اور وہی ان کی وفات کا سبب بنا (اس طرح انکو شہادت فی سبیل اللہ کی سعادت و فضیلت بھی نصیب ہو گئی) اور یہ ایسا ہی ہوا جیسا کہ خیبر میں کھائے ہوئے زہر کا اثر قریبا چار سال کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریب لوٹ آیا تھا اور وہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا سبب بنا تو حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکرؓ کے سفر ہجرت کی اس رات کے اس عمل کا ذکر فرمایا اس کے بعد اس دن کا اوراس دن کے حضرت ابوبکرؓ کے اس عمل کا ذکر فرمایا جس کے بارے میں انہوں نے کہا تھا کہ میں دل سے چاہتا ہوں کہ میرے ساری عمر کے اعمال ان کے ایک دن کے عمل کے برابر ہو جائیں اس سلسلہ میں حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ دن سے مراد ابوبکرؓ کی زندگی کا وہ دن ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات فرما گئے اور عرب (کے بعض علاقوں کے لوگ) مرتد ہوگئے اور انہوں نے فریضہ زکات ادا کرنے سے انکار کردیا تو ابوبکر نے کہا کہ اگر وہ لوگون کا پاؤں باندھنے کی رسی (1) دینے سے بھی انکار کریں گے تو میں ان کے خلاف جہاد کروں گا (حضرت عمر کہتے ہیں کہ) میں نے کہا اے خلیفہ رسول اللہ (اس وقت ان لوگوں کے ساتھ تالیف اور نرمی کا معاملہ کیجئے تو انہوں نے (غصہ کے ساتھ) مجھے فرمایا کہ تم زمانہ جاہلیت میں تو بڑے زور آور اور غصہ ور تھےکیا اسلام کے دور میں بزدل اور ڈرپوک ہو گئے ہو (یہ کیسا انقلاب ہے) وحی کا سلسلہ (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد) ختم ہو گیا ، دین مکمل ہو چکا ۔ کیا دین کو ناقص کیا جائے اس میں کمی کی جائے گی اس حال میں کہ میں زندہ ہوں ۔ (یہ نہیں ہو سکتا) ۔ (رزین) تشریح حدیث کا مطلب سمجھنے کے لئے جس قدر تشریح و توضیح کی ضرورت تھی وہ ترجمہ کے ضمن میں کر دی گئی ہے ، البتہ حضرت عمرؓ نے اپنے اس بیان میں مرتدین کے خلاف جہاد سے متعلق حضرت ابو بکرؓ کے جس پُر عزیمت فیصلہ اور اقدام کا ذکر کیا ہے اور اس سلسلہ میں انکار جو خاتمہ کلام نقل فرمایا ہے (اينقص الدين وانا حى) اس کی تشریح اور وضاحت کے سلسلہ میں کچھ عرض کرنا ضروری ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے اسلام اور مسلمانوں کے لئے عام اسباب کے لحاظ سے بڑی خطرناک صورت حال پیدا ہو گئی تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ سر سے اٹھ جانے کی وجہ سے جو شکستہ دلی عام صحابہ میں پیدا ہو گئی تھی اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے .... علاوہ ازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض وفات ہی میں حضرت اسامہ کی .... قیادت میں ایک بڑی مہم پر ایک لشکر کی روانگی کا حکم دیا تھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صدیق اکبرؓ نے فیصلہ فرمایا کہ آنحضرت کے حکم کے مطابق یہ لشکر بلاتاخیر روانہ ہو جائے ، چنانچہ وہ روانہ ہو گیا اس طرح اس وقت کی فوجی طاقت کا ایک بڑا حصہ اس محاذ پر چلا گیا اس کے علاوہ حجاز مقدس کے قریب علاقے یمامہ میں مسیلمہ کذاب نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری دور حیات ہی میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور کچھ قبیلے اس کے ساتھ ہو گئے تھے ، اس طرح ایک حکومت سی قائم ہو گئی تھی ۔ صدیق اکبرؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد فوراً فیصلہ فرمایا کہ اس فتنہ کو بھی جلد سے جلد ختم کیا جائے ، چنانچہ خالد بن الولید کی قیادت میں اس کے لئے بھی ایک لشکر کی روانگی کا حکم دیا ۔ انہی حالات میں حجاز ہی کے بعض علاقوں کے لوگوں نے (جو نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے) زکوٰۃ کی ادائیگی سے اجتماعی طور پر انکار کر دیا ، صدیق اکبرؓ نے اس کو ارتداد قرار دیا اور اس کے خلاف بھی جہاد اور لشکر کشی کا فیصلہ فرمایا اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ اس وقت کی ساری فوجی طاقت ان محاذوں پر چلی جاتی اور مرکز اسلام مدینہ منورہ کا حال یہ ہو جاتا کہ اگر کوئی دشمن حملہ کر دے یا آس پاس کے منافقین کوئی فتنہ برپا کر دیں تو اس کی مدافعت اور اس پر قابو پانے کے لئے فوجی طاقت موجود نہ ہو ۔ اس لئے حضرت عمرؓ اور روایات میں ہے کہ ان کے ساتھ حضرت علیؓ کی بھی رائے تھی کہ صورت حال کی نزاکت کے پیش نظر اس وقت زکوٰۃ کی ادائیگی سے انکار کرنے والوں کے خلاف جہاد اور لشکر کشی نہ کی جائے ، مصلحت اندیشی اور حکمت عملی کے طور پر ان کے معاملہ میں تالیف اور نرمی کا رویہ اختیار کیا جائے ، لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکرؓ کے دل میں یقین پیدا فرما دیا تھا کہ اس فتنہ ارتداد کا استیصال فوراً ضروری ہے ، کسی مصؒحت اندیشی کے تحت اس کو نظر انداز کرے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، زکوٰۃ دین کا اہم رکن ہے نماز ہی کی طرح گویا جزو ایمان ہے ، اس کی ادائیگی سے انکار کو برداشت کرنے کا مطلب دین کی قطع و برید برداشت کرنا ہو گا آپ نے فرمایا دین مکمل ہو چکا ہے ، وحی کا سلسلہ خمت اور منقطع ہو چکا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دینی کو جس شکل و صورت میں چھوڑا ہے ، اپنی جان دے کر بھی اس کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے ۔ اس سلسلہ کلام کے آخر میں آپ نے فرمایا “أَيَنْقُصُ الدِّيْنُ وَاَنَا حَىٌّ” صدیق اکبرؓ کے ان دو لفظوں سے دین کے ساتھ ان کے جس خاص الخاص عاشقانہ تعلق اور اس کی راہ میں قربانی اور فدائیت کے جس جذبہ کا اظہار ہوتا ہے ، راقم سطور اپنی اردو زبان میں اس کے ادا کرنے سے عاجز ہے ۔ اس واقعہ میں یہ نکتہ خاص طور سے قابل غور اور ہمارے لئے سبق آموز ہے کہ حضرت عمرؓ کی رائے حضرت ابو بکرؓ کے اس فیصلہ اور اقدام کے خلاف تھی بعد میں وہی فیصلہ ان کی نظر میں اتنا عظیم ہو گیا کہ اپنے زندگی بھر کے اعمال کو وہ حضرت ابو بکرؓ کے اسی ایک عمل سے کمتر سمجھنے لگے ، اور اس کا برملا اعتراف فرمایا ۔ رضى الله تعالى عنهما وارضاهما ۔

【50】

فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سے پہلی امتوں میں محدث یعنی ایسے لوگ ہوتے تھے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام کی نعمت سے خاص طور پر نوازے جاتے تھے ، تو اگر میری امت میں سے کسی کو اس نعمت سے خاص طور پر نوازا گیا تو وہ عمر ہیں ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب سے متعلق حدیثیں ناظرین کرام ملاحظہ فرما چکے، ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات بھی تھے اور بعض جلیل القدر صحابہ کرام کے بیانات بھی اب آپ کے خلیفہ دوم فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے متعلق چند احادیث درج کی جا رہی ہیں ، ان میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے علاوہ جلیل القدر صحابہ کرام کے بیانات بھی ہوں گے ۔ تشریح .....“محدث” اللہ تعالیٰ کے اس خوش نصیب بندے کو کہا جاتا ہے ، جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بکثرت الہامات ہوتے ہوں اور اس بارے میں اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا خصوصی معاملہ ہو اور وہ نبی نہ ہو کسی نبی کا امتی ہو ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اگلی امتوں میں ایسے لوگ ہوتے تھے اور میری امت میں اگر کسی کو اللہ تعالیٰ نے اس نعمت سے خصوصیت کے ساتھ نوازا ہے) تو وہ عمرؓ ہیں ..... حدیث کے الفاظ سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہونی چاہئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں کوئی شک شبہ تھا ، آپ کی امت جب خیر الامم اور اگلی تمام امتوں سے افضل ہے تو ظاہر ہے کہ اس میں بھی ایسے خوش نصیب بندے ہوں گے جو کثرت الہامات کی نعمت سے نوازے جائیں گے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا مقصد و مدعا اس بارے میں حضرت عمرؓ ، کی خصوصیت اور امتیاز سے لوگوں کو آگا کرنا ہے ، اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے اس انعام کے بارے میں حضرت عمرؓ کو تخصص و امتیاز حاصل تھا ، جیسا کہ آگے درج ہونے والی احادیث سے معلوم ہو گا ۔

【51】

فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : اللہ تعالیٰ نے عمرؓ کی زبان اور اس کے قلب میں حق رکھ دیا ہے ۔ (جامع ترمذی)

【52】

فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ ارشاد فرماتے تھےئ کہ اللہ تعالیٰ نے عمرؓ کی زبان پر حق رکھ دیا ہے ، وہ حق ہی کہتا ہے ۔ (سنن ابی داؤد) تشریح پہلی حدیث حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی روایت سے ہے اور دوسری حضرت ابو ذر غفاریؓ کی روایت سے ، دونوں کا حاصل اور مدعا یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جن خاص انعامات سے نوازا ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کے دل میں جو کچھ آتا ہے اور جو کچھ وہ زبان سے کہتے ہیں وہ حق ہی ہوتا ہے ، وہ حق ہی سوچتے اور حق ہی بولتے ہیں ۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان سے اجتہادی غلطی بھی نہیں ہوتی ....اجتہادی غلطی تو حضرات انبیاء علیہم السلام سے بھی ہو جاتی ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو مطلع کر کے اصلاح کرا دی جاتی ہے ، حضرت عمرؓ سے بھی کبھی کبھی اجتہادی غلطی ہو جاتی تھی ، لیکن حق واضح ہو جانے پر رجوع فرما لیتے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بارے میں اور اسی طرح منکرین زکوٰۃ سے جہاد و قتال کے خلاف ان کی جو رائے تھی وہ ان کی اجتہادی غلطی ہی تھی ، بعد میں حق واضح ہو جانے پر انہوں نے رجوع اور حضرت صدیق اکبرؓ کی رائے سے اتفاق فرما لیا ، بہرحال اجتہادی غلطی کے اس طرح کے چند استثنائی واقعات کے علاوہ (جن میں حق واضح ہو جانے پر انہوں نے رجوع فرما لیا) انہوں نے جو سوچا سمجھا اور جو احکام جاری کئے وہ سب حق ہی تھے ۔ بلاشبہ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا خصوصی انعام تھا ..... آئندہ درج ہونے والی بعض حدیثوں سے ان شاء اللہ حضرت فاروق اعظمؓ کی اس خصوصیت اور فضیلت پر مزید روشنی پڑے گی ۔

【53】

فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک صحبت میں) فرمایا کہ : اگر بالفرض میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن الخطاب نبی ہوتے ۔ (جامع ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کا سلسلہ مجھ پر ختم فرمایا اور قیامت تک کے لئے نبوت کا دروازہ بند ہو گیا (جس کا اعلان قرآن پاک میں بھی فرما دیا گیا ہے) اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فیصلہ نہ فرما دیا گیا ہوتا اور میرے بعد بھی نبوت کا سلسلہ جاری رہتا تو عمر بن الخطاب اپنی روحانی خصوصیات کی وجہ سے بالخصوص اس لائق تھے کہ ان کو نبی بنایا جاتا ۔ اس حدیث میں بھی ان کے اس خصوصی کمال و امتیاز کی طرف اشارہ ہے ، جس کا ذکر مندرجہ بالا حدیثوں میں کیا گیا ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے قلب پر حق کا القا اور الہامات کی کثرت ۔

【54】

فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ

حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ اس بات کو بعید نہیں جانتے تھے کہ عمرؓ کی زبان پر سکینہ بولتا ہے ۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی) تشریح حضرت علی مرتضیٰ کی اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عمرؓ جب خطاب فرماتے یا بات کرتے تو دلوں میں ایک خاص قسم کا سکون و اطمینان پیدا ہوتا تھا ، ہم اس بات کو بعید نہیں سمجھتے تھے کہ ان کی زبان و بیان میں یہ خاص تاثیر اللہ تعالیٰ نے رکھ دی ہے ۔ یہ مطلب لیا جائے تو حضرت علیؓ کے اس کلام میں “السكينة” سے مراد یہی خداداد تاثیر ہے ........ شارحین نے لکھا ہے کہ “السكينه” سے مراد خاص فرشتہ بھی ہو سکتا ہے ۔ اس صورت میں حضرت علیؓ کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم یہ بات بعید نہیں سمجھتے تھے کہ حضرت عمرؓ خطاب اور بات فرماتے ہیں تو ان کی زبان سے اللہ کا ایک خاص فرشتہ کلام کرتا ہے جس کا نام یہ لقب “السكينه” ہے ۔

【55】

فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ : میں نے تین باتوں میں اپنے خداوند تعالیٰ سے موافقت کی (یعنی میری رائے وہ ہوئی جو خدا وند تعالیٰ کا حکم آنے والا تھا) مقام ابراہیم کے بارے میں اور پردے کے مسئلہ میں اور غزوہ بدر کے قیدیوں کے مسئلہ میں ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح واقعہ یہ ہے کہ ذخیرہ حدیث میں کم از کم پندرہ ایسے واقعات کا ذکر ملتا ہے ، کہ کسی مسئلہ میں حضرت عمرؓ کی ایک رائے ہوئی یا ان کے قلب میں داعیہ پیدا ہوا کہ کاش اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم آ جاتا تو وہی حکم وحی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آ گیا اس حدیث میں ان میں سے صرف تین کا ذکر کیا گیا ہے ..... ایک مقام ابراہیم سے متعلق حکم کا ، دوسرے پردے کے بارے میں ، تیسرے غزوہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں حکم کا ...... جس کی مختصر تشریح یہ ہے کہ “مقام ابراہیم” سفید رنگ کا ایک پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی (اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاؤں کے نشانات معجزانہ طور پر پڑ گئے تھے جو اب تک باقی ہیں) وہ اسی زمانہ سے محفوظ چلا آ رہا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے تک خانہ کعبہ کی قریب ہی میں ایک جگہ کھلا رکھا رہتا تھا (بعد میں اس کو عمارت میں محفوظ کر دیا گیا) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ خواہش ظاہر کی کہ کاش ایسا ہوتا کہ مقام ابراہیم کو خصوصیت سے نماز کی جگہ قرار دے دیا جائے ، تو سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۱۲۵ نازل ہوئی اور اس میں حکم آ گیا “وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى” (اور مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنا لیا کرو) آیت کا سہل الفہم مطلب یہ ہے کہ طواف کے بعد جو دو رکعتیں پڑھی جاتی ہیں وہ مقام ابراہیم کے پاس پڑھی جائیں ، فقہا کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ حکم استحبابی ہے ، اگر سہولت سے مقام ابراہیم کے پاس پڑھی جا سکیں تو وہیں پڑھی جائیں ، ورنہ مسجد حرام میں کہیں بھی پڑھی جا سکتی ہیں ۔ دوسرا مسئلہ حجاب یعنی پردے سے متعلق ہے ، جب تک مستورات کے لئے حجاب یعنی پردے کا کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا ۔ عام مسلمانوں کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں بھی بضرورت صحابہ کرامؓ کی آمدورفت ہوتی تھی ، حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے داعیہ پیدا فرمایا کہ خاص کر ازواج مطہرات کے لئے حجاب کا خصوصی حکم آ جائے چنانچہ اس بارے میں آیت نازل ہو گئی “وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ” (سورہ احزاب آیت ۵۴) تیسری بات یہ کہ غزوہ بدر میں مسلمانوں کی فتح اور مشرکین کی شکست کے بعد ان کے جو آدمی گرفتار کر کے قیدی بنائے گئے ، ان کے متعلق میری رائے یہ تھی کہ یہ سب اسلام ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے جانی دشمن اور اکابر مجرمین ہیں ، ان سب کو قتل کر دیا جائے ، ان کو زندہ چھوڑ دینا ایسا ہی ہے ، جیسے زہریلے سانپوں کو زندہ چھوڑنا لیکن ابو بکر صدیقؓ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم دلی کا غلبہ تھا ان کی رائے فدیہ لے کر چھوڑ دینے کی ہوئی اور اسی پر عمل کیا گیا ...... بعد میں سورہ انفال کی وہ آیات نازل ہوئیں جو میری رائے کے مطابق تھیں ۔ یہاں یہ بات خاص طور پر قابل لحاظ ہے کہ واقعہ یہ تھا کہ ان تینوں مسئلوں میں وحی الہی نے حضرت عمرؓ کی موافقت کی تھی ، لیکن حضرت عمرؓ نے از راہِ ادب اس کو اس طرح تعبیر کیا کہ میں نے حکم خداوندی کی موافقت کی تین مسئلوں میں ۔ بلاشبہ یہ حسن ادب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تعلیم و تربیت اور فیض صحبت ہی کا نتیجہ تھا ۔

【56】

فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی (رات میں) کہ اے میرے اللہ اسلام کو عزت اور قوت عطا فرما ابو جہل ابن ہشام کے ذریعہ یا عمر بن الخطاب کے ذریعہ پس صبح کو اٹھے عمرؓ اور آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اور اسلام لے آئے اور مسجد حرام میں علانیہ نماز پڑھی ۔ (مسند احمد ، جامع ترمذی) تشریح اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو عالم اسباب بنایا ہے ، یہاں ہر بڑے کام اور ہر عظیم مقصد کے لئے اس کے مطابق تدبیر اور عملی جدوجہد اور خاص صلاحیت رکھنے والے جانباز کارکنوں کی ضرورت ہوتی ہے ، ابو جہل بن ہشام اور عمر بن الخطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے لائے ہوئے دین کے درجہ اول کے دشمن تھے ، اسی کے ساتھ ان دونوں میں وہ صلاحیتیں جو کسی بڑے کام کے لئے درکار ہوتی ہیں ، (راقم سطور کا خیال ہے کہ غالباً حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر منکشف کر دیا گیا تھا کہ دونوں میں سے کسی ایک کو ہدایت دی جا سکتی ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات کو یہ دعا فرمائی جس کا حدیث میں ذکر ہے ۔ تقدیر الہی میں یہ سعادت حضرت عمرؓ کے لئے مقدر ہو چکی تھی ، ان کے حق میں دعا قبول ہو گئی اور ان کو توفیق مل گئی ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے جو کام لیا خاص کر خلافت کے دس سالوں میں وہ بلا شبہ امت میں ان کا اور صرف ان کا حصہ ہے ۔ مسند احمد اور جامع ترمذی کی مندرجہ بالا روایت میں حضرت عمرؓ کے اسلام لانے کا واقعہ بہت اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ مشکوٰۃ المصابیح کے بعض شارحین نے ابو عبداللہ حاکم کی “دلائل النبوۃ” کے حوالہ سے حضرت ابن عباسؓ ہی کی روایت سے یہ واقعہ مفصل روایت کیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ابو جہل جو مشرکین مکہ کا سردار اور بڑا سرمایہ دار بھی تھا اس نے اعلان کیا کہ جو کوئی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دے میں اس کو سو اونٹنیاں اور ایک ہزار اوقیہ چاندی بطور انعام دینے کی ذمہ داری لیتا ہوں ۔ عمرؓ نے ابو جہل سے کہا کہ تمہاری یہ بات پکی ہے ؟ ابو جہل نے کہا بالکل پکی ، فوراً ادا کروں گا ۔ اس کے بعد عمر تلوار لے کر اس ناپاک ارادہ سے نکلے ، راستہ میں ایک شخص نے ان کو اس حال میں دیکھا تو پوچھا کہ عمر کہاں اور کس ارادہ سے جا رہے ہو ..... عمرؓ نے کہا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قتل کرنے جا رہا ہوں ...... اس شخص نے کہا کیا تم ان کے کنبہ بنی ہاشم سے بےخوف ہو (وہ ان کی حمایت میں میدان میں آ جائیں گے اور پھر خونریز جنگ ہو گی) عمرؓ نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ تو نے بھی باپ دادا کا دین چھوڑ کے محمد کا دین قبول کر لیا ہے ۔ اس شخص نے کہا کہ میں تم کو بتلاتا ہوں کہ تمہاری بہن (فاطمہ) اور بہنوئی (سعید بن زید) نے بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین قبول کر لیا ہے ۔ یہ سن کر عمرؓ سیدھے بہن کے گھر کی طرف گئے ۔ وہ اس وقت سورہ طہ تلاوت کر رہی تھیں ، عمرؓ نے دروازہ پر کھڑے ہو کر سنا ، پھر دروازہ کھلوایا اور کہا کہ تم کیا پڑھ رہی تھیں ؟ ان کی بہن نے بتایا کہ ہم لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور اس میں قرآن کی آیتیں پڑھ رہی تھی ؟ عمرؓ نے کہا مجھے بھی پڑھ کر سناؤ ! چنانچہ ان کی بہن نے سورہ طہ پڑھنی شروع کی ...... جب یہ آیت تلاوت کی “اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ” تو عمر کے دل کی دنیا میں انقلاب آ گیا اور بول اٹھے کہ بیشک وہی اور صرف وہی الٰہ اس لائق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے ، اور کلمہ شہادت پڑھا پھر بہن ہی کے گھر میں رات گزاری اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کی تڑپ دل میں پیدا ہو گئی ۔ بار بار کہتے تھے “وَا شَوْقَاهُ اِلَى مُحَمَّدٍ” اسی حال میں خباب بن الارت ان کے پاس آئے اور ان کو بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج رات برابر دعا کرتے رہے کہ اے اللہ عمر بن خطاب یا ابو جہل بن ہشام کے ذریعہ اسلام کو عزت اور قوت عطا فرما ! اور میرا خیال ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا تمہارے حق میں قبول ہو گئی ۔ اس کے بعد صبح کو عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور اسلام قبول کیا ۔ اور اسی وقت کہا کہ ہم لات اور عزیٰ کی پرستش کرتے تھے وادیوں کے نشیب میں اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور خدا کی عبادت کریں ہم چھپ چھپا کر ؟ ...... یہ نہیں ہو گا ..... خدا کی قسم ہم اللہ کی عبادت اعلانیہ خانہ کعبہ کے صحن میں کریں گے ۔ (اس وقت تک مسلمان علانیہ مسجد حرام میں نماز ادا نہیں کرتے تھے) ۔ حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں ابو جعفر بن ابی شیبہ کی تاریخ کے حوالہ سے ابن عباسؓ ہی کی روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمرؓ نے اسلام قبول کرنے کے فوراً بعد طے کیا کہ ہم ابھی چل کر اعلانیہ مسجد حرام میں نماز پڑھیں گے اور ایسا ہی کیا گیا ..... فتح الباری ہی میں ابن ابی شیبہ اور طبرانی کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن مسعود کا بیان نقل کیا گیا ہے ۔ وَاللَّهِ مَا اسْتَطَعْنَا أَنْ نُصَلِّيَ حَوْلَ الْبَيْتِ ظَاهِرِينَ حَتَّى أَسْلَمَ عُمَرُ ترجمہ ..... خدا کی قسم عمر کے اسلام لانے سے پہلے ہماری طاقت نہ تھی کہ ہم بیت اللہ کے قریب میں علانیہ نماز پڑھ سکتے (عمر کے اسلام میں داخل ہونے کے بعد ہی ہمارے لئے یہ ہوا) ۔ حافظ ابن حجرؒ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی قبول اسلام کی بہت سی روایات مختلف صحابہ کرامؓ کی روایت سے حدیث کی مختلف کتابوں کے حوالوں سے نقل کی ہیں جن میں حضرتے عبداللہ بن مسعودؓ ، حضرت ابن عباسؓ ، حضرت انسؓ ، حضرت عائشہ صدیقہؓ ، حضرت ابن عمرؓ کے علاوہ حضرت علی مرتضیٰ بھی ہیں ۔ (فتح الباری باب مناقب عمر پارہ نمبر ۱۴ ، ص ۳۷۳)

【57】

فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے بیان فرمایا کہ میں سو رہا تھا ، اسی حال میں میرے پاس لایا گیا دودھ کا بھرا ہوا پیالہ تو میں نے خوب سیر ہو کر پیا یہاں تک کہ میں نے سیرابی کا اثر اپنے ناخنوں تک میں محسوس کیا ، پھر میں نے وہ دودھ جو میرے پینے کے بعد بچ گیا تھا وہ عمر بن الخطاب کو دے دیا کہ وہ اس کو پی ل یں ، بعض صحابہ نے عرض کیا کہ آپ نے اس کی کیا تعبیر دی ؟ آپ نے فرمایا کہ علم ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح علمائے عارفین نے کہا ہے کہ علم حق کی صورت مثالیہ دوسرے عالم میں دودھ کی ہے ، جو شخص خواب میں دیکھے کہ اس کو دودھ پلایا جا رہا ہے اس کی تعبیر یہ ہے کہ اس کو علم حق نافع عطا ہو گا ۔ دودھ اور علم حق میں یہ مناسبت ظاہر ہے کہ دودھ جسم انسانی کے لئے بہترین نافع غذا ہے ، اسی طرح علم حق جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہو روح کے لئے بہترین اور نافع ترین غذا ہے ۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائے ہوئے علم حق میں حضرت عمرؓ کا خاص حصہ تھا اور صدیق اکبرؓ کے بعد جس طرح دس سال انہوں نے خلافت اور نبوت کی نیابت کا کام انجام دیا اور جس طرح امت کی رہنمائی فرمائی وہ اس کی دلیل اور شہادت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو علم حق سے وافر حصۃ عطا فرمایا تھا ۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے ازالۃ الحقائق میں فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ، کے علمی کمالات پر جو کچھ تحریر فرمایا ہے ، وہ اہل علم کے لئے قابل دید ہے ، اس کے مطالعہ سے اس بارے میں فاروق اعظم کے امتیاز اور انفرادیت کو پوری طرح سمجھا جا سکتا ہے ۔

【58】

فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ اس حالت میں کہ میں سویا ہوا تھا میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگوں کو وہ میرے سامنے لائے جاتے ہیں اور وہ سب کرتے پہنے ہوئے ہیں ، ان میں سے کچھ کے کرتے ایسے ہیں جو صرف سینے تک ہیں ، اور کچھ ایسے ہیں جن کے کرتے سینے کے کچھ نیچے تک ہیں ، اور عمر بن خطابؓ بھی میرے سامنے لائے گئے ان کا کرتہ اتنا لمبا تھا کہ زمین تک پہنچتا تھا اور وہ اس کو زمین پر گھسیٹ کر چلتے تھے ، بعض صحابہ نے عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کیا تعبیر دی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ “دین” ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح لباس اور دین میں یہ مناسبت اور مشابہت ظاہر ہے کہ لباس سردی او ر دھوپ کی تپش وغیرہ اس عالم کی آفات و تکالیف سے جسم انسانی کی حفاظت کرتا ہے اور سامان زینت ہے ۔ اور دین عالم آخرت میں سامان زینت ہو گا اور عذاب سے حفاظت کا ذریعہ و سیلہ ...... خواب میں جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے تھے وہ یہ ظاہر امت کے مختلف طبقات اور درجات کے لوگ تھے ..... کچھ وہ تھے جن کے دین میں مختلف درجات کا نقص تھا اور ان میں حضرت عمرؓ بھی تھے جن کا دین بہت کامل تھا ۔ وہ سراپا دین تھے ان کا دین ان کی اپنی ہستی سے بھی زیادہ تھا ۔ رضی اللہ عنہ وارضاہ ۔

【59】

فضائل فاروق اعظمؓ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب زخمی کئے گئے حضرت عمرؓ (ان کو خنجر سے زخمی کیا ابو لؤلؤ مجوسی نے)تو تکلیف اور دکھ کا اظہار فرمانے لگے تو حضرت ابن عباسؓ نے ان سے اس طرح کہا کہ گویا وہ سمجھتے تھے کہ تکلیف کا یہ اظہار صبر و برداشت کی کمی کی وجہ سے ہے (اور تسلی دینے کے لئے کہا) اے امیر المؤمنین درد و تکلیف کا یہ اظہار آپ کی طرف سے بالکل نہ ہونا چاہئے (آپ اس وقت اللہ تعالیٰ کے انعامات کو یاد کیجئے کہ اس نے آپ کو کیسی عظیم نعمتوں سے نوازا) آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی اور رفیق بن کر آپ کے ساتھ رہے اور آپ نے اس صحبت و رفاقت کا اچھا حق ادا کیا پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس حال میں آپ سے جدا ہوئے کہ وہ آپ سے راضی اور خوش تھے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ابو بکرؓ کے خصوصی ساتھی اور رفیق بنے تو ان کی صحبت و رفاقت کا بھی آپ نے اچھا حق ادا کیا ، پھر وہ بھی اس حال میں آپ سے جدا ہوئے کہ وہ آپ سے پوری طرح راضی اور خوش تھے (یہاں تک کہ آپ کو اپنے بعد کے لئے خلیفہ بنایا) پھر (اپنے دور خلافت میں) سب مسلمانوں کے ساتھ آپ کا اچھا معاملہ رہا (آپ نے سب کے حقوق ادا کئے) اور اگر آپ ان کو چھوڑ کر جائیں گے تو اس حال میں ان سے جدا ہوں گے کہ وہ سب آپ سے راضی خوش ہوں گے (حضرت ابن عباس کا یہ مطلب تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور پھر حضرت ابو بکرؓ کا اور پھر سب مسلمانوں کا آپ سے راضی خوش رہنا اس بات کی دلیل اور علامت ہے کہ اللہ بھی آپ سے راضی ہے اس لئے آپ کی طرف فسے تکلیف اور بےقراری کا جو اظہار ہو رہا ہے نہ ہونا چاہئے اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کو یاد کر کے مطمئن رہنا چاہئے) ۔ حضرت عمرؓ نے ابن عباسؓ کی اس بات کے جواب میں فرمایا کہ (اے ابن عباس) تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میری صحبت و رفاقت کا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا کا جو ذکر کیا تو یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا خاص احسان تھا جو اس نے مجھ پر فرمایا اور اسی طرح ابو بکرؓ کے ساتھ صحبت و رفاقت اور ان کی رضا کا جو ذکر کیا وہ بھی خداوندی انعام و احسان تھا (یعنی یہ میرا ذاتی کمال نہیں تھا) اور میری طرف سے تکلیف اور پریشانی کا اظہار جو تم دیکھتے ہو وہ (زخم کی تکلیف کی وجہ سے نہیں بلکہ) تم لوگوں کی وجہ سے ہے (یعنی مجھے فکر اور ڈر ہے کہ تم لوگ میرے بعد فتنوں میں مبتلا نہ ہو جاؤ) ۔ اور جہاں تک اخروی انجام کی فکر کا تعلق ہے تو (میرا حال یہ ہے کہ اگر میرے پاس اتنا اسونا ہو کہ ساری زمین بھر جائے تو میں وہ سب عذاب الٰہی سے بچنے کے لئے بطور فدیہ دے دوں قبل اس کے کہ اللہ کا عذاب دیکھوں ۔ (صحیح بخاری) تشریح حضرت فاروق اعظمؓ نے عبداللہ بن عباسؓ کو جواب دیتے ہوئے آخر میں جو یہ فرمایا کہ تم جو مجھے بےچینی اور بےقراری کی حالت میں دیکھ رہے ہو یہ زخم کی تکلیف کی وجہ سے نہیں ہے ، بلکہ یہ اس فکر اور اندیشہ کی وجہ سے ہے کہ میرے بعد تم لوگ فتنوں میں مبتلا نہ ہو جاؤ ..... اس کی بنیاد یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا تھا کہ عمر فتنوں کے لئے بند دروازہ ہیں ۔ جب تک وہ ہیں امت فتنوں سے محفوظ رہے گی ، جب وہ نہ رہیں گے ، تو فتنوں کے لئے دروازہ کھل جائے گا ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ان کی شہادت کے بعد سے شیاطین الجن والانس کی طرف سے فتنوں کی تخم ریزی شروع ہوئی اور حضرت عثمانؓ کے آخری دور خلافت میں فتنہ اس حد تک پہنچ گیا کہ اپنے کو مسلمان کہنے والوں ہی کے ہاتھوں وہ انتہائی مظلومیت کے ساتھ شہید ہوئے اور اس کے بعد خانہ جنگی کا جو سلسلہ شروع ہوا اس میں ہزارہا صحابہ و تابعین شہید ہوئے ۔ یہی وہ فتنے تھے جن کی فکر اور اندیشہ سے اپنے زخم کی تکلیف کو بھلا کر فاروق اعظم بےچین اور مضطرب تھے اور آخر میں جو فرمایا “وَاللَّهِ لَوْ أَنَّ لِي طِلاَعَ الأَرْضِ ذَهَبًا الخ” (خدا کی قسم اگر میرے پاس زمین بھر بھی سونا ہو تو میں اللہ کا عذاب دیکھنے سے پہلے ہی اس سے بچنے کے لئے وہ سارا سونا فدیہ میں دے دوں) اس کا مقصد حضرت ابن عباسؓ کو یہ بتلانا ہے کہ میں جو اضطراب اور بتےچینی محسوس کر رہا ہوں اس کا ایک دوسرا سبب جو زیادہ اہم ہے وہ عذاب الہی کا خوف بھی ہے ...... راقم سطور عرض کرتا ہے ، فاروق اعظم کا یہ خوف ان کے کمال ایمان اور کمال معرفت کی دلیل ہے ، جس کا ایمان اور عرفان جس قدر کامل ہو گا اس پر اسی قدر خوف خدا کا غلبہ ہو گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے “انا اعلمكم بالله واخشاكم” مجھے اللہ تعالیٰ کے بارے میں علم اور معرفت تم سب سے زیادہ ، اور اس کا خوف ڈر بھی مجھے تم سب سے زیادہ ہے ۔ قرآن مجید میں بار بار یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کی خاص رحمت اور جنت کے مستحق وہ بندے ہیں جو اس کے خوف سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں سورہ “بينة” میں مومنین صالحین کا یہ انجام بیان فرما کر کہ وہ “خىر البرية” (اللہ کی مخلوق میں سب سے بہتر) ہیں ، وہ آخرت میں ان غیر فانی جنتی باغات میں رہیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ، ان کو رضائے خداوندی کی نعمت حاصل ہو گی ؟ اور وہ اپنے اس خداوند سے راضی ہوں گے ، آخر میں فرمایا گیا ہے “ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهُ” (یہ سب ان مومنین صالحین کے لئے ہے جو خداوند تعالیٰ سے (یعنی اس کی پکڑ اور اس کے عذاب سے) ڈرتے رہے ہیں) ..... الغرض حضرت فاروق اعظمؓ کا یہ ارشاد ان کے کمال ایمان اور کمال معرفت کی دلیل ہے ۔ قریباں را بیش بود حیرانی ۔ شہادت اس حدیث میں حضرت فاروق اعظمؓ کے جس زخمی کئے جانے کا ذکر ہے وہ وہی ہے ، جس کے نتیجہ میں آپ کی شہادت ہوئی ..... مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اختصار کے ساتھ انتہائی المناک واقعہ کا ذکر کر دیا جائے ۔ فاروق اعظمؓ کے دور خلافت میں ہی ایران فتح ہوا ، ایران کے جو مجوسی جنگی قیدیوں کی حیثیت سے گرفتار کر کے لائے گئے وہ شرعی قانون کے مطابق مسلمانوں میں تقسیم کر دئیے گئے کہ ان سے غلام اور خادم کی حیثیت سے کام لیں اور ان کے کھانے پینے وغیرہ ضروریات زندگی کی کفالت کریں اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں ..... ایران سے آئے ہوئے ان اسیران جنت میں ایک بدبخت ابو لؤلؤ نامی مجوسی بھی تھا جو مشہور صحابی مغیرہ بن شعبہ کے حوالے کیا گیا تھا اس نے فاروق اعظم کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا ایک خنجر تیار کیا اور اس کو بار بار زہر میں بجھایا اور اس کے بعد رات میں مسجد شریف کے محراب میں چھپ کر بیٹھ گیا ، فاروق اعظمؓ فجر کی نماز بہت سویرے اندھیرے میں شروع کرتے اور بڑی بڑی سورتیں پڑھتے تھے ، ذی الحجہ کی ستائیسویں تاریخ تھی وہ حسب معمول فجر کی نماز کے لئے تشریف لائے اور محراب میں کھڑے ہو کر نماز پڑھانی شروع کر دی ابھی تکبیر تحریمہ ہی کہی تھی کہ اس خبیث ایرانی مجوسی نے اپنے خنجر سے تین کاری زخم آپ کے شکم مبارک پر لگائے ، آپ بےہوش ہو کر گر گئے ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے جلدی سے آپ کی جگہ آ کر مختصر نماز پڑھائی ، ابو لؤلؤ نے بھاگ کر مسجد سے نکل جانا چاہا نمازیوں کی صفیں دیواروں کی طرف حائل تھیں ، پھر اس نے اور نمازیوں کو زخمی کر کے نکل جانا چاہا اس سلسلہ میں اس نے تیرہ صحابہ کرام کو زخمی کیا جن میں سے سات شہید ہو گئے اتنے میں نما زختم ہو گئی اور ابو لؤلؤ کو پکڑ لیا گیا ، تو اس نے اسی خنجر سے خودکشی کر لی نماز ختم ہو جانے کے بعد حضرت فاروق اعظمؓ کو اٹھا کر گھر لایا گیا ، تھوڑی دیر میں آپ کو ہوش آیا تو اسی حالت میں آپ نے نماز ادا کی ..... سب سے پہلے آپ نے پوچھا کہ میرا قاتل کون ہے بتلایا گیا کہ ابو لؤلؤ مجوسی آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے ایک کافر کے ہاتھ سے شہادت عطا فرمائی ۔ آپ کو یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے میری دعا کو قبولیت اس طرح مقدر فرمائی ۔ آپ دعا کرتے تھے کہ اے اللہ مجھے شہادت نصیب فرما اور میری موت تیرے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر مدینہ میں ہو ۔ ایک دفعہ آپ کی صاحبزادی ام المؤمنین حضرت حفصہؓ نے آپ کی زبان سے یہ دعا سن کر عرض کیا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ فی سبیل اللہ شہید ہوں اور آپ کی وفات مدینہ ہی میں ہو (ان کا خیال تھا کہ فی سبیل اللہ شہادت کی صورت تو یہی ہے کہ اللہ کا بندہ میدان جہاد میں کافروں کے ہاتھ سے شہید ہو) آپ نے فرمایا کہ اللہ قادر ہے اگر چاہے گا تو یہ دونوں نعمتیں مجھے نصیب فرما دے گا بہرحال آپ کو اپنی شہادت کا یقین ہو گیا ، آپ نے حضرت صہیبؓ کو اپنی جگہ امام نماز مقرر کیا اور اکابر صحابہ سے چھ حضرات کو (جو سب عشری مبشرہ میں سے تھے) نامزد کیا کہ وہ میرے بعد تین دن کے اندر مشورہ سے اپنے ہی میں سے ایک کو خلیفہ مقرر کر لیں ۔ پھر آپ نے اپنے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمر سے فرمایا کہ ام المومنین حضرت عائشہؓ کے پاس جاؤ اور میری طرف سے سلام کے بعد عرض کرو کہ میری دلی خواہش یہ ہے کہ میں اپنے دونوں بزرگ ساتھیوں (یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صدیق اکبرؓ) کے ساتھ دفن کیا جاؤں ، اگر آپ اس کے لئے دل سے راضی نہ ہوں تو پھر جنت البقیع میرے لئے بہتر ہے ..... انہوں نے ام المومنین کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ پیام پہنچایا انہوں نے فرمایا کہ وہ جگہ میں نے اپنے لئے رکھی تھی ، لیکن اب میں اپنے اوپر ان کو ترجیح دیتی ہوں ۔ جب عبداللہ بن عمرؓ نے آپ کو یہ خبر پہنچائی تو فرمایا کہ میری سب سے بڑی تمنا یہی تھی اللہ کا شکر ہے کہ اس نے یہ بھی پوری فرما دی ۔ ۲۷؍ ذی الحجہ بروز چہار شنبہ آپ زخمی کئے گئے تھے یکم محرم بروز یکشنبہ وفات پائی جب آپ کا جنازہ نماز کے لئے رکھا گیا تو حضرت علی مرتضیٰؓ نے آپ کے بارے میں وہ فرمایا جو ناظرین کرام آگے فضائل شیخین میں درج ہونے والی حدیث میں پڑھیں گے ۔ نماز جنازہ حضرت صہیبؓ نے پڑھائی اور روضہ اقدس میں حضرت ابو بکر صدیقؓ کے پہلو میں آپ دن کئے گئے ۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ۔

【60】

فضائل شیخین

ابن ملیکہ (تابعی) سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ حضرت عمرؓ کو (وفات کے بعد) جب (غسل دینے کے لئے) تخت پر رکھا گیا تو لوگ ان کے ارد گرد کھڑے تھے اور ان کے لئے دعائیں اور اللہ تعالیٰ سے رحمت کی استدعا کر رہے تھے ، قبل اس کے کہ ان کو تخت سے اٹھایا جائے اور میں بھی ان لوگوں میں کھڑا تھا ، تو اچانک میں نے محسوس کیا کہ کوئی آدمی میرا کندھا پکڑے کھڑا ہے (میں نے دیکھا) کہ وہ حضرت علی ابن ابی طالبؓ ہیں ، وہ حضرت عمرؓ کے لئے رحمت کی دعائیں کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تم نے اپنے بعد کوئی ایسا شخص نہیں چھوڑا کہ مجھے اس کی خواہش ہو کہ میں اس شخص کے سے عمل لے کر اللہ کے حضور میں حاضر ہوں ، اور خدا کی قسم ! میں یہی گمان کرتا تھا کہ تم کو اللہ تعالیٰ تمہارے دونوں (پیش رو) ساتھیوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و ابو بکر صدیقؓ) کے ساتھ کر دے گا ، میں (یہ اس لئے) سمجھتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت موقعوں پر سنتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے (فلاں کام کے لئے) میں گیا اور ابو بکر و عمر بھی گئے اور (مسجد میں فلاں مکان میں) میں داخل ہوا اور میرے ساتھ ابو بکر و عمر بھی داخل ہوئے اور میں نکلا اور ابو بکرؓ و عمرؓ بھی نکلے ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح گزشتہ صفحات میں پہلے حضرت صدیق اکبرؓ کے فضائل و مناقب سے متعلق حدیثیں نذر ناظرین کی گئی تھیں ، اس کے بعد حضرت فاروق اعظمؓ کے فضائل و مناقب سے متعلق ..... اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چند وہ ارشادات پیش کئے جا رہے ہیں ، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ان دونوں خاص رفیقوں کا ایک ساتھ اس طرح ذکر فرمایا ہے ، جس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر مبارک میں ان دونوں کا خاص الخاص مقام تھا اور بہت سے موقعوں پر آپ نے ان دونوں کا اپنے ساتھ اس طرح ذکر فرمایا ہے کہ گویا یہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شریک حال اور خاص رفیق کار ہیں ..... اس سلسلہ میں سب سے پہلے حضرت ابن عباسؓ کی روایت سے حضرت علی مرتضیٰ کا ایک بیان نذر ناظرین کیا جا رہا ہے ۔ تشریح ..... حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان کسی وضاحت اور تشریح کا محتاج نہیں ہے ، اس میں انہوں نے یہ جو فرمایا کہ “اللہ کی قسم ! میں یہی گمان کرتا تھا کہ تہ تم کو تمہارے دونوں ساتھیوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر صدیقؓ) کے ساتھ کر دے گا” ۔ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مجھے یہی امید تھی کہ تم انہیں کے ساتھ دفن کئے جاؤ گے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آخرت میں جنت میں تم ان کے ساتھ کر دئیے جاؤ گے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں ہی مراد ہوں .... اور اس عاجز کے نزدیک یہی راجح ہے ۔ حضرت علی مرتضیٰؓ نے اپنے اس بیان میں اس واقعی حقیقت کا واضح طور پر اظہار فرما دیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے ان دونوں صاحبوں رفیقوں کے ساتھ خاص الخاص تعلق تھا جو صرف انہی کا حصہ تھا ۔ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنے اس کلام کے شروع میں یہ جو فرمایا “مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا الخ” (یعنی تم نے اپنے بعد اللہ کا کوئی ایسا بندہ نہیں چھوڑا جس کے اعمال کے مثل اعمال لے کر اللہ کے حضور میں حاضر ہونے کی مجھے تمنا اور خواہش ہو) اس سے معلوم ہوا کہ حضرت علی مرتضیٰؓ کی تمنا اور خواہش تھی کہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں حضرت عمرؓ کے جیسے اعمال لے کر حاضر ہوں اور حضرت عمرؓ کے بعد کوئی کے بعد کوئی آدمی ایسا نہیں رہا ۔ حافظ ابن حجرؒ نے اسی حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے : وَقد اخْرُج بن أَبِي شَيْبَةَ وَمُسَدَّدٌ مِنْ طَرِيقِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ نَحْوَ هَذَا الْكَلَامِ وَسَنَدُهُ صَحِيحٌ وَهُوَ شَاهِدٌ جَيِّدٌ لِحَدِيثِ ابن عباس لكون مخرجه من ال على رضى الله عنهم .(فتح البارى جزء 14 صفحه 374 طبع انصارى دهلى) ترجمہ .... اور ابن ابی شیبہ اور مسدد نے جعفر صادق کے طریقے سے روایت کیا ہے انہوں نے اپنے والد محمد (باقر) سے خود حضرت علیؓ سے اس قسم کا کلام روایت کیا ہے اور اس کی اسناد صحیح ہے اور یہ روایت ابن عباس کی اس حدیث کے لئے بہت اچھا شاہد ہے کیوں کہ یہ خود حضرت علیؓ کی اولاد کی روایت ہے ۔

【61】

فضائل شیخین

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک مجلس میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ : ایک آدمی ایک بیل کو ہانکے لئے جا رہا تھا وہ (چلتے چلتے) تھک گیا ، تو وہ بیل پر سوار ہو گیا ، بیل نے کہا کہ ہم اس لئے پیدا نہیں کئے گئے تھے ہم تو زمین کی کاشت کے کام (جتائی وغیرہ) کے لئے پیدا کئے گئے تھے تو (حاضرین مجلس میں سے بعض) آدمیوں نے کہا ، سبحان اللہ بیل بھی بات کرتا ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا ایمان ہے ، اس پر کہ (ایسا ہی ہوا) اور ابو بکر و عمر کا بھی ایمان ہے (راوی کا بیان ہے کہ) اس مجلس میں (اس وقت) وہ دونوں موجود نہیں تھے ۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی بیان فرمایا کہ ایک آدمی اپنی بکریوں کے ریوڑ میں تھا ایک بھیڑئیے نے ریوڑ کی ایک بکری پر حملہ کر کے اس کو اٹھا لیا ، بکریوں والے نے اس کو جا پکڑا اور بھیڑئیے سے بکری کو چھڑا لیا تو بھیڑئیے نے اس سے کہا کہ ان بکریوں کے لئے کون (محافظ اور رکھوالا) ہو گا “یوم السبع” میں ، وہ دن وہ ہو گا جس دن میرے سوا ان بکریوں کے اور کوئی چرواہا اور محافظ نہ ہو گا تو (حاضرین میں سے بعض) لوگوں نے کہا سبحان اللہ ! بھیڑیا بھی باتیں کرتا ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرا ایمان ہے کہ یہ بات حق ہے اور ابو بکر و عمر کا بھی ایمان ہے ، اور وہ دونوں (اس وقت) وہاں موجود نہ تھے ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم وحی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر جو کچھ بیان فرمائیں اس پر یقین کیا جائے اور اس کو بغیر شک و شبہ کے حق مانا جائے اگرچہ دنیا کے عام حالات کے لحاظ سے وہ بات ناقابل فہم ہو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیل اور بھیڑئیے کے کلام کرنے کی جو بات بیان فرمائی وہ اسی طرح کی بات تھی ، اسی وجہ سے بعض حاضرین نے تعجب کا اظہار کیا ، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا ایمان ہے کہ یہ حق ہے اور اپنے ساتھ ابو بکرؓ و عمرؓ کا بھی نام لے کر فرمایا کہ ان دونوں کا بھی ایمان ہے کہ یہ حق ہے ۔ راوی کا بیان ہے کہ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے وقت فرمائی جب کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی وہاں موجود نہ تھا اس لئے یہ شبہ بھی نہیں کیا جا سکتا کہ ان دونوں کا لحاظ کرتے ہوئے اور ان کو خوش کرنے کے لئے یہ بات فرمائی ہو ..... یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے شیخین (ابو بکرؓ و عمرؓ) کے کمال ایمان اور ایمانی کیفیت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تر ہونے اور اس بارے میں ان کے اختصاص و امتیاز کی دلیل اور شہادت ہے اور ان دونوں حضرات کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس رویہ کی یہ ایک اہم مثال ہے جس کا ذکر حضرت علی مرتضیٰؓ نے اپنے مندرجہ بالا بیان میں کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت سے موقعوں پر اپنے ساتھ ان دونوں کا ذکر بھی نام لے کر فرمایا کرتے تھے ۔ رضی اللہ عنہما وارضاھما ۔ حدیث کے آخری حصہ میں “یوم السبع” کا لفظ ہے ، اس کا ترجمہ نہیں کیا گیا ہے شارحین نے اس کی تشریح میں متعدد اقوال نقل کئے ہیں ، اس عاجز کے نزدیک راجح یہ قول ہے کہ اس سے مراد قیامت کے قریب کے وہ دن ہیں جب قیامت کے آثار ظاہر ہو جائیں گے اس وقت لوگ بھیڑ بکری وغیرہ اپنے مویشیوں کی حفاظت اور دیکھ بھال کو بالکل بھول جائیں گے وہ لاوارث ہو کر جنگلوں میں پھریں گے اور گویا بھیڑئیے وغیرہ درندے ہی ان کے وارث و مالک ہوں گے ۔ اسی لحاظ سے اس کو “یوم السبع” (درندوں کا دن) کہا گیا ہے ۔ واللہ اعلم ۔

【62】

فضائل شیخین

حضرت بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے ، اور مسجد میں داخل ہوئے (اور آپ کے ساتھ) ابو بکرؓ و عمرؓ بھی تھے ، ایک ان دونوں میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنی جانب اور دوسرے بائیں جانب اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے (اسی حال میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہم تینوں قیامت کے دن اسی طرح اٹھائے جائیں گے ۔ (جامع ترمذی) تشریح حدیث کا مطلب ظاہر ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بتلایا کہ تم جس طرح اس وقت دیکھ رہے ہو یہ دونوں (ابو بکرؓ و عمرؓ) میرے ساتھ ہیں اور میں ان دونوں کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہوں ، قیامت کے دن ہم تینوں اسی طرح ساتھ اٹھیں گے اور ساتھ ہوں گے ..... بلاشبہ یہ ان دونوں حضرات کی خاص فضیلت ہے ، اس میں کوئی اور شریک نہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دوسرے اصحاب کو ان کی اس خصوصیت و فضیلت سے مطلع فرمانا بھی ضروری سمجھا ۔

【63】

فضائل شیخین

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : میں نہیں جانتا کہ کب تک تم لوگوں میں باقی رہوں گا (تو جب میں تمہارے اندر نہ رہوں) تو تم اقتدا کیجیو اور میرے بعد ان دونوں ابو بکرؓ و عمرؓ کی ۔ (جامع ترمذی) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر منکشف کر دیا گیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے یہ دونوں خاص رفیق ابو بکرؓ و عمرؓ یکے بعد دیگرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ امت کی امامت و قیادت کریں گے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی کہ میرے بعد ان کی اقتدا و پیروی کی جائے ۔

【64】

فضائل شیخین

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : ابو بکرؓ و عمرؓ ادھیڑ عمر والے اولین و آخرین میں سے تمام جنتیوں کے سردار ہیں سوائے انبیاء و مرسلین کے ۔ (جامع ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ بنی آدم میں سے جو لوگ ادھیڑ عمر کو پہنچے اور اس کے بعد وفات پائی اور وہ ایمان اور اعمال صالحہ کی وجہ سے جنت میں جانے والے ہیں ، خواہ دنیا کے ابتدائی زمانے والے ہوں یا آخری زمانے والے ، ابو بکرؓ و عمرؓ جنت میں ان سب کے سردار ہوں گے اور ان کا درجہ ان سب سے بالا تر ہو گا سوائے انبیاء و مرسلین کے یعنی جنت میں سب سے فائق و بالا تر انبیاء و مرسلین ہوں گے ..... اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی ارشاد ابن ماجہ نے اپنی سنن میں حضرت علی مرتضیٰؓ سے بھی روایت کیا ہے ۔

【65】

فضائل شیخین

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : ہر نبی کے دو وزیر ہوتے ہیں آسمان والوں میں سے (یعنی ملائکہ میں سے) اور دو وزیر ہوتے ہیں زمین میں بسنے والے انسانوں میں سے ، تو آسمان والوں میں سے میرے وزیر جبرائیل و میکائیل ہیں اور زمین والوں میں سے میرے وزیر ابو بکر و عمر ہیں۔ (جامع ترمذی) تشریح واقعہ یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ اور برتاؤ ان دونوں حضرات کے ساتھ وہی تھا جو ارباب حکومت کا اپنے خاص معتمد وزیروں کے ساتھ ہوتا ہے ، آپ ہر اہم قابل غور و فکر معاملہ میں ان دونوں حضرات سے مشورہ فرماتے تھے ۔ رضی اللہ عنھما وارضاھما ۔

【66】

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ (میرے والد حضرت) ابو بکرؓ نے (کسی ضرورت سے) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت چاہی ایسے حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بستر پر میری چادر اوڑھے لیٹے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اندر آنے کی اجازت دلوا دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح لیٹے ہوئے تھے اسی طرح لیٹے رہے (ابو بکرؓ آئے) اور جو ضروری بات ان کو کرنا تھی کر کے چلے گئے ۔ پھر (حضرت)عمرؓ (کسی ضرورت سے) آئے اور اندر آنے کی اجازت چاہی ، ان کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دلوا دی (وہ آئے) اور آپ اسی حالت میں رہے (یعنی جس طرح میرے بستر پر میری چادر اوڑھے لیٹے ہوئے تھے اسی طرح لیٹے رہے) پھر وہ بھی اپنی ضرورت پوری کر کے چلے گئے پھر (حضرت) عثمانؓ نے اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھل کر بیٹھ گئے اور اپنے کپڑوں کو اچھی طرح درست فرما لیا اور مجھ سے فرمایا کہ تم بھی اپنے کپڑے (چادر وغیرہ) پوری طرح اوڑھ لو ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آنے کی اجازت دلوا دی (وہ آپ کے پاس آ گئے) اور جو ضروری بات کرنے کے لئے آئے تھے کر کے چلے گئے (حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ حضرت عثمانؓ کے جانے کے بعد) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسا اہتمام (حضرت) عثمانؓ کے لئے کیا ویسا اہتمام ابو بکرؓ اور عمرؓ کے لئے کیا ہو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عثمان ایسے آدمی ہیں کہ ان پر (فطری طور پر) صفت حیا کا غلبہ ہے مجھے اس کا اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے ان کو ایسی حالت میں بلا لیا جس میں میں تھا (کہ تمہاری چادر اوڑھے لیٹا ہوا تھا) تو وہ (فرط حیا کی وجہ سے جلدی واپس چلے جائیں) اور وہ ضروری بات نہ کر سکیں جس کے لئے وہ آئے تھے (اس لئے میں نے ان کے لئے وہ اہتمام کیا جو تم نے دیکھا) ۔ (صحیح مسلم) تشریح متن حدیث کی ضروری تشریح ترجمہ کے ضمن ہی میں کر دی گئی ہے ، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر صفت حیاء کا کس قدر غلبہ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کس قدر لحاظ فرماتے تھے ۔ صحیح مسلم کی اسی حدیث کی ایک دوسری روایت میں یہ ہے کہ حضرت عائشہؓ کے سوال کے جواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “اَلَا اَسْتَحْىِ مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحْىِ مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ” (کیا میں ایسے بندہ خدا کا لحاظ نہ کروں جس کا فرشتے بھی لحاظ کرتے ہیں) ۔ یہاں ایک بات یہ بھی قابل ذکر ہے کہ بظاہر یہ واقعہ اس زمانے کا ہے کہ حجاب (یعنی پردہ) کا حکم نازل نہیں ہوا تھا کیونکہ حضرت عمرؓ ، بھی حضرت صدیقہؓ کے لئے غیر محرم تھے ، ان کے آنے پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اچھی طرح کپڑے اوڑھ لینے کا وہ حکم نہیں فرمایا جو حضرت عثمانؓ کے آنے پر فرمایا ۔

【67】

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

حضرت عبدالرحمٰن بن خباب رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایسے وقت حاضر ہوا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (منبر پر تشریف فرما تھے اور) جیش عسرہ (غزوہ تبوک) کے لئے مدد کرنے کی لوگوں کو ترغیب دے رہے تھے تو عثمانؓ کھڑے ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ میرے ذمے ہیں سو اونٹ ، مع نمدوں اور کجاوؤں کے (یعنی میں سو اونٹ پیش کروں گا مع پورے ساز و سامان ےکے) فی سبیل اللہ (حدیث کے راوی عبدالرحمٰن بن خباب بیان کرتے ہیں کہ) اس کے بعد پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کی مدد کے لئے لوگوں کو ترغیب دی تو پھر عثمان کھڑے ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ میرے ذمے ہیں (مزید)دو سو اونٹ مع نمدوں اور کجاوؤں کے فی سبیل اللہ ، اس کے بعد پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کی امداد کے لئے اپیل دی تو پھر (تیسری مرتبہ)عثمانؓ کھڑے ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ میرے ذمہ ہیں (مزید) تین سو اونٹ مع نمدوں اور کجاوؤں کے فی سبیل اللہ (عبدالرحمٰن بن خباب کہتے ہیں کہ) میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اتر رہے تھے اور فرماتے تھے “مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ” (یعنی عثمان اپنے اس عمل اور اس مالی قربانی کے بعد جو بھی کریں اس سے ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا) یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکرر ارشاد فرمائی ۔ (جامع ترمذی) تشریح فتح مکہ کے اگلے سال ۹؁ھ میں بعض اطلاعات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑے لشکر کے ساتھ ملک شام کی طرف پیش قدمی کا فیصلہ فرمایا ، یہ سفر مقام تبوک تک ہوا جو اس وقت کے ملک شام کی سرحد کے اندر تھا ، وہاں لشکر کا پڑاؤ قریباً بیس دن تک رہا جس مقصد سے دور دراز کا یہ سفر کیا گیا تھا وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی مدد سے جنگ و قتال کے بغیر ہی صرف تبوک تک پہنچنے اور وہاں بیس روزہ قیام ہی سے حاصل ہو گیا تو وہیں سے واپسی کا فیصلہ فرما لیا گیا اس وجہ سے یہ غزوہ غزوہ تبوک کے نام سے معروف ہو گیا ...... حدیث میں اس لشکر کو “جیش العسرۃ” فرمایا گیا ہے عسرۃ کے معنی ہیں تنگ حالی اور سخت حالی ..... یہ سفر ایسے حال میں کیا گیا تھا کہ مدینہ منورہ اور اس کے آس پاس میں قحط اور پیداوار کی بہت کمی کی وجہ سے بہت تنگ حالی تھی ، اور موسم سخت گرمی کا تھا ، لشکریوں کی تعداد اس زمانے کے لحاظ سے بہت غیر معمولی تھی (روایات میں تیس ہزار ذکر کی گئی ہے) سواریاں یعنی اونٹ اور گھوڑے بہت کم تھے ، زادِ راہ یعنی کھانے پینے کا سامان بھی لشکریوں کے تعداد کے لحاظ سے بہت ہی کم تھا ، انہیں وجوہ سے اس غزوہ کو “جیش العسرۃ” کہا گیا ہے ۔ اسی غیر معمولی صورت کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غزوہ کے لئے لوگوں کو مالی و جانی قربانی کی اس طرح ترغیب دی جو غزوات کے سلسلہ میں آپ کا عام معمول نہ تھا ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس لشکر کی امداد و اعانت میں سب سے زیادہ حصہ لیا ، حضرت عبدالرحمٰن بن خبابؓ کی اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ترغیب پر انہوں نے چھ سو اونٹ مع ساز و سامان کے پیش فرمائے ..... شارحین حدیث نے بعض دوسری روایات کی بنیاد پر لکھا ہے کہ ان چھ سو کے علاوہ انہوں نے ساڑھے تین سو اونٹ اور پیش کئے اس طرح ان کے پیش کئے ہوئے اونٹوں کی تعداد ساڑھے نو سو ہوئی ..... ان کے علاوہ پچاس گھوڑے بھی پیش کئے ..... آگے درج ہونے والی حدیث سے معلوم ہو گا کہ اونٹوں گھوڑوں کے علاوہ حضرت عثمانؓ نے ایک ہزار اشرفیاں بھی لا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں ڈال دیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمانؓ کے ان عطیات کو قبول فرما کر مجمع عام میں یہ بشارت سنائی اور بار بار فرمایا “مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ” (مطلب یہ ہے کہ جنت اور رضاء الہٰی حاصل کرنے کے لئے عثمانؓ کا یہی عمل اور یہی مالی قربانی کافی ہے) ..... جب ان حالات کا تصور کیا جائے جن کی وجہ سے اس لشکر کو جیش العسرہ کہا گیا ہے تو حضرت عثمانؓ کی اس مالی قربانی کی قدر و قیمت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے ...... رضی اللہ عنہ وارضاہ ۔ (غزرہ تبوک کے بارے میں تفصیلات سیرت و تاریخ کی کتابوں میں دیکھی جائیں) ۔

【68】

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

حضرت عبدالرحمٰن بن سمرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت جیش عسرہ (غزوہ تبوک) کے لئے ضروریات کا انتظام اور سامان کر رہے تھے تو عثمانؓ اپنی آستین میں ایک ہزار دینار (اشرفیاں) لے کر آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں ڈال دئیے (عبدالرحمٰن بن سمرہ کہتے ہیں کہ) میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان اشرفیوں کو اپنی گود میں الٹ پلٹ رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا “مَا ضَرَّ ابْنُ عَفَّانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ” (یعنی آج کے دن کے بعد عثمانؓ جو کچھ بھی کریں اس سے ان کو کوئی ضرر اور نقصان نہیں پہنچے گا) ۔ (مسند احمد) تشریح حضرت عثمانؓ کی پیش کی ہوئی اشرفیوں کو حضرت عثمانؓ کے اور دوسرے لوگوں کے سامنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی گود میں الٹنا بظاہر اپنی قلبی مسرت کے اظہار کے لئے تھا ۔ حضرت عبدالرحمٰن بن خباب کی مندرجہ بالا حدیث سے معلوم ہو چکا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپیل پر جب حضرت عثمانؓ نے مجاہدین کے لئے اونٹوں کی پیش کش کی تھی ، اس وقت بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایسی ہی بشارت دی تھی ، اور بار بار فرمایا تھا “مَا ضَرَّ ابْنُ عَفَّانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ” مومنین صادقین کو اس طرح کی بشارتیں دینا آخرت کی فکر اور اس کے لئے سعی و عمل سے ان کو غافل نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی محبت و رضا جوئی میں اضافہ کا اور مزید دینی ترقیات کا باعث ہوتا ہے ۔

【69】

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب (حدیبیہ میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت رضوان کے لئے ارشاد فرمایا تو اس وقت عثمانؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد اور سفیر کی حیثیت سے مکہ گئے ہوئے تھے ۔ تو ان سب لوگوں نے (جو اس وقت موجود اور حاضر تھے) بیعت کر لی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (لوگوں سے) فرمایا کہ عثمان (اس وقت یہاں نہیں ہیں) اللہ کے اور اس کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم) کے کام سے مکہ گئے ہوئے ہیں (اگر وہ یہاں ہوتے تو تم سب کے ساتھ وہ بھی بیعت کرتے ، اب میں خود ان کی طرف سے بیعت کرتا ہوں) پھر آپ نے (حضرت عثمانؓ کے قائم مقام کی حیثیت سے) اپنا ایک دست مبارک اپنے ہی دوسرے دست مبارک پر رکھا (جس طرح بیعت میں ہاتھ پر ہاتھ رکھا جاتا ہے ۔ آگے حدیث کے راوی حضرت انسؓ جو خود بیعت کرنے والوں میں تھے کہتے ہیں کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک جس سے آپ نے عثمانؓ کی طرف سے بیعت کی وہ عثمانؓ کے حق میں ان دوسرے تمام لوگوں کے ہاتھوں سے بہتر تھا جنہوں نے خود اپنی طرف سے بیعت کی تھی ۔ (جامع ترمذی) تشریح بیعت رضوان کا واقعہ معلوم و معروف ہے ، قرآن مجید میں بھی اس کا ذکر فرمایا گیا ہے ، یہاں مختصراً صرف اتنا ذکر کیا جاتا ہے جتنا حدیث کا مفہوم سمجھنے کے لئے ضروری ہے ۔ ہجرت کے چھٹے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خواب کی بنا پر بہت سے صحابہؓ کے شدید اصرار سے عمرہ کے لئے مکہ معظمہ جانے کا ارادہ فرمایا جن لوگوں کو اس کا علم ہوا تو اس مبارک سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اور عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لئے ساتھ ہو گئے ، ان ساتھیوں کی تعداد چودہ سو ۱۴۰۰ کے قریب ہو گئی ، چونکہ سفر عمرہ کی نیت سے کیا گیا تھا اور ذیقعدہ کے مہینہ میں کیا گیا تھا جو اشہر حرم میں سے ہے جن کا مشرکین مکہ بھی احترام کرتے اور جنگ و جدال سے پرہیز کرتے تھے ۔ اس کی ضرورت نہیں سمجھی گئی کہ پہلے سے کسی کو بھیج کر مکہ والوں کی رضامندی حاصل کی جائے ۔ مشرکین مکہ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے سخت ترین دشمن تھے ..... جب ان کے علم میں یہ بات آئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بڑی جمیعت کے ساتھ آ رہے ہیں تو انہوں نے باہم مشورہ کر کے طے کر لیا کہ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو ہم اپنے شہر مکہ میں نہیں داخل ہونے دیں گے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور پورا قافلہ مکہ کی قریب مقام حدیبیہ پر پہنچ گیا (جہاں سے مکہ مکرمہ کی مسافت ۲۰ میل سے کچھ زیادہ ہے) تو مکہ والوں کے فیصلہ اور ارادے کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوا ..... آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے قافلہ کے ساتھ حدیبیہ میں قیام فرما لیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ، کو سردارانِ قریش سے گفتگو کرنے کے لئے اپنا خاص قاصد اور سفیر بنا کر مکہ بھیج دیا ، ان کا انتخاب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے فرمایا کہ مخالفین کے لیڈروں میں ان کے بعض قریبی رشتہ دار تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس مقصد سے بھیجا کہ وہ بالخصوص قریش کے سرداروں کو اطمینان دلائیں کہ ہم لوگ صرف عمرہ کے لئے آئے ہیں ، اس کے سوا کوئی مقصد نہیں ہے ، ہم عمرہ کر کے مدینہ واپس ہو جائیں گے ۔ حضرت عثمانؓ مکہ معظمہ چلے گئے لیکن حساب سے ان کو جس وقت تک واپس آ جانا چاہئے تھا واپس نہیں آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قافلہ میں کسی طرح یہ خبر پہنچ گئی کہ عثمانؓ کو دشمنوں نے شہید کر دیا تو آپ کو بہت رنج اور دکھ ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طے فرما لیا کہ اگر ایسا ہوا ہے تو پھر جنگ ہو گی ، تمام ساتھیوں میں بھی اس خبر سے سخت اشتعال تھا اس مرحلہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ سے جہاد فی سبیل اللہ اور اس میں شہادت تک ثابت قدمی پر خصوصی بیعت لی ، یہ بیعت ایک درخت کے نیچے لی گئی تھی ، قرآن مجید میں اس موقع پر بیعت کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی خاص الخاص رضا کا اعلان فرمایا گیا ہے ، اسی لئے اس کا نام بیعت رضوان ، معروف ہو گیا ہے ۔ جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ یہ بیعت جس وقت لی گئی حضرت عثمانؓ اس وقت موجود نہیں تھے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کی حیثیت سے مکہ معظمہ گئے ہوئے تھے ، تو جیسا کہ حدیث میں ذکر کیا گیا حدیبیہ میں موجود تمام صحابہ کرامؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر اپنا ہاتھ رکھ کر بیعت کی ۔ عثمانؓ موجود نہیں تھے ، ان کی طرف سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بیعت کی اپنے دست مبارک کو حضرت عثمانؓ کے ہاتھ کے قائم مقام قرار دے کر ان کی طرف سے بیعت فرمائی ..... بلا شبہ یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خاص الخاص فضائل میں سے ہے ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ حضرت عثمانؓ کی شہادت کی خبر صحیح نہیں تھی وہ گفتگو کر کے واپس آ گئے اس وقت اہل مکہ اور سردارانِ قریش کسی طرح اس پر آمادہ نہیں ہوئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو عمرہ کے لئے مکہ معظمہ میں داخل ہونے کی اجازت دیں ۔ اس کے بعد قریش کی طرف سے گفتگو کرنے کے لئے یکے بعد دیگرے ان کے نمائندے آئے اور بالآخر وہ صلح ہوئی جو صلح حدیبیہ نام سے تاریخ اسلام کا مشہور ترین واقعہ ہے اور قرآن مجید میں اس کو “فتح مبین” فرمایا گیا ہے (تفصیلات سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہیں) ۔

【70】

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

حضرت مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (انہوں نے بیان کیا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے (ایک خطاب میں) سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد امت میں برپا ہونے والے کچھ فتنوں کا ذکر فرمایا اور ان کو قریب ہی میں واقع ہونے والے فتنے بتلایا ۔ اسی وقت ایک شخص سر سے کپڑا اوڑھے ہوئے سامنے گذرا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ، یہ شخص آنے والے ان فتنوں کے دنوں میں طریقہ ہدایت اور راہ راست پر ہو گا (حدیث کے راوی مرہ بن کعب کہتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ بات سن کر) اس شخص کی طرف چلا (تا کہ دیکھ لوں کہ وہ کون ہے) دیکھا تو عثمان بن عفان تھے میں نے ان کا چہرہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ، کیا وہ یہی ہیں ؟ (جن کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ وہ فتنہ کے زمانے میں ہدایت اور راہ راست پر ہوں گے ؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ “ہاں”(یہی وہ ہیں) ۔ تشریح حدیث کسی تشریح و توضیح کی محتاج نہیں ہے مطلب بالکل واضح ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی عطا فرمائی ہوئی اطلاع کی بنا پر بطور پیشن گوئی کے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اپنے اس خطاب عام میں اعلان فرمایا کہ میرے بعد قریبی زمانہ میں جو فتنے امت میں برپا ہوں گے ان میں عثمان بن عفان طریقہ ہدایت اور راہ راست پر ہوں گے ..... معلوم ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت میں سب سے بڑا اور پہلا فتنہ خود حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف اٹھنے والا فتنہ تھا جس میں وہ انتہائی مظلومیت کے ساتھ شہید کئے گئے ، جیسا کہ آئندہ ذکر کی جانے والی حدیثوں سے بھی معلوم ہو گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرح کے ارشادات کی روشنی ہی میں اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ فتنے کے دور میں حضرت عثمانؓ حق و ہدایت پر تھے ، اور ان کے مخالفین جنہوں نے فتنہ برپا کیا اہل ضلال تھے ۔ نَعُوذُ بِاللَّهِ تَعَالَى مِنَ الشُّرُوْرِ وَالفِتَنِ، مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ.

【71】

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں مدینہ کے ایک باغ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا تو ایک شخص آئے اور انہوں نے دروازہ کھلوانا چاہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے لئے دروازہ کھول دو اور ان کو جنت کی خوشخبری دو ، تو میں نے اس شخص کے لئے دروازہ کھول دیا تو دیکھا کہ وہ ابو بکرؓ ہیں ، میں نے ان کو جنت کی بشارت دی ، تو اس پر انہوں نے اللہ کی حمد کی (اور شکر ادا کیا) پھر ایک اور شخص آئے اور انہوں نے دروازہ کھلوانا چاہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ان کے لئے دروازہ کھول دو اور جنت کی خوشخبری دو ، تو میں نے ان کے لئے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ وہ عمرؓ ہیں ، تو میں نے ان کو وہ بتلا دیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ، تو انہوں نے اللہ کی حمد کی (اور شکر ادا کیا) پھر ایک اور شخص نے دروازہ کھلوانا چاہا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ان کے لئے بھی دروازہ کھول دو اور ان کو جنت کی خوشخبری دو ، ایک بڑی مصیبت پر جو ان کو پہنچے گی (تو میں نے دروازہ کھول دیا) تو دیکھا کہ وہ عثمانؓ ہیں ، تو میں نے ان کو وہ بتلایا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا تو انہوں نے اللہ کی حمد کی (اور شکر ادا کیا) پھر کہا (اللَّهُ المُسْتَعَانُ) (یعنی آنے والی مصیبت کے لئے میں اللہ ہی سے مدد چاہتا ہوں) ..... (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حدیث میں باغ کے لئے حائط کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے ، حائط اس باغ کو کہا جاتا ہے جو چہار دیواری سے گھیر دیا گیا ہو ، اس میں داخلہ کے لئے دروازہ ہوتا ہے ۔ اس حدیث میں یہ واقعہ بیان فرمایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے کسی ایسے ہی باغ میں تشریف فرما تھے ، اور اس وقت صرف ابو موسیٰ اشعریؓ آپ کے پاس تھے (اسی حدیث کی ایک دوسری روایت میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا تھا کہ دروازہ کی حفاظت کریں اور کسی کو بغیر اجازت کے اندر نہ آنے دیں) ۔ تو اس وقت کسی شخص نے دروازہ کھلوا کر اندر آنا چاہا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو موسیٰ اشعری سے فرمایا کہ ان کے لئے دروازہ کھول دو اور ان کو جنت کی بشارت دے دو ..... ابو موسیٰ اشعری کو معلوم نہیں تھا کہ یہ دروازہ کھلوانے والے کون صاحب ہیں ، جب دروازہ کھولا تو دیکھا کہ وہ ابو بکرؓ ہیں ، تو ابو موسیٰ نے ان کو وہ بتلایا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اور جنت کی بشارت دی ، تو جیسا کہ حدیث میں ذکر کیا گیا ہے ، انہوں نے جنت کی بشارت سن کر اللہ کی حمد کی اور شکر ادا کیا ، پھر حضرت عمرؓ نے دروازہ کھلوا کر اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو موسیٰ سے وہی فرمایا جو اس سے پہلے ابو بکرؓ کے لئے فرمایا تھا ان کو معلوم نہ تھا کہ اب یہ دروازہ کھلوانے والے کون صاحب ہیں ، دروازہ کھولا تو معلوم ہوا کہ یہ عمرؓ ہیں تو انہوں نے ان کو جنت کی بشارت دی ، انہوں نے بھی بشارت سن کر اللہ کی حمد کی اور شکر ادا کیا ، اس کے بعد تیسرے شخص آئے اور انہوں نے بھی دروازہ کھلوا کر اندر آنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو موسیٰ اشعری سے فرمایا ان کے لئے بھی دروازہ کھول دو اور ان کو جنت کی خوشخبری دو ایک بڑی مصیبت پر جو ان پر آنے والی ہے ابو موسیٰ اشعری کو معلوم نہیں تھا کہ یہ آنے والے کون ہیں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق دروازہ کھولا تو دیکھا کہ عثمان بن عفانؓ ہیں تو انہوں نے ان کو وہ بتلایا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اور ان کو جنت کی بشارت دی اور ساتھ ہی یہ کہ وہ ایک عظیم آزمائش اور مصیبت میں مبتلا ہوں گے ، تو انہوں نے جنت کی بشارت پر اللہ کی حمد کی ، شکر ادا کیا اور مصیبت کی بات سن کر کہا اللَّهُ المُسْتَعَانُ (کہ اللہ ہی سے مدد چاہتا ہوں) حضرت عثمانؓ پر آنے والی اس مصیبت کی کچھ تفصیل آگے ذکر کی جانے والی حدیثوں سے معلوم ہو گی ۔

【72】

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

ثمامہ بن حزم قشیری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضرت عثمانؓ کے گھر پر اس وقت حاضر تھا جب انہوں نے بالا خانے کے اوپر سے (اپنے گھر کا محاصرہ کرنے والے باغیوں بلوائیوں سے خطاب کرتے ہوئے) فرمایا : کہ میں تمہیں اللہ کا اور اس کے دین حق اسلام کا واسطہ دے کر تم سے پوچھتا ہوں ، کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو وہاں بیر رومہ کے علاوہ شیرین پانی کا کنواں نہ تھا (اور وہ ایک یہودی کی ملکیت تھا وہ اس کا پانی جس قیمت پر چاہتا بیچتا تھا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دن) ارشاد فرمایا کہ “کون اللہ کا بندہ ہے جو بیر رومہ کو خرید کر سب مسلمانوں کو اس سے پانی لینے کی اجازت دے دے (یعنی عام مسلمانوں کے لئے وقف کر دے) تو اللہ تعالیٰ جنت میں اس کو اس سے بہتر عطا فرمائے گا” تو میں نے اس کو اپنے ذاتی مال سے خرید لیا (اور قف کر دیا) اور آج تم لوگ مجھے اس کا پانی پینے سے روکتے ہو ؟ جس کی وجہ سے میں سمندر کا (کھاری) پانی پینے پر مجبور ہوں ، تو اس کے جواب میں ان لوگوں نے کہا اللھم نعم (یعنی اے اللہ ہم جانتے ہیں کہ عثمان کی یہ بات صحیح ہے) ۔ اس کے بعد حضرت عثمانؓ نے فرمایا کہ میں تمہیں اللہ کا اور اس کے دین حق اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بنوائی ہوئی مسجد نمازیوں کے لئے تنگ ہو گئی تھی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دن) ارشاد فرمایا “کون اللہ کا بندہ ہے جو فلاں گھرانے کے قطعہ زمین کو (جو مسجد کے برابر میں تھا) خرید کر ہماری مسجد میں شامل کر دے تو اللہ اس کو جنت میں اس سے بہتر قطعہ عطا فرمائے گا” تو میں نے اس کو اپنے ذاتی مال سے خرید لیا (اور مسجد میں شامل کر دیا) اور آج تم لوگ مجھے اس بات سے روکتے ہو کہ میں اس میں دو رکعت نماز پڑھ سکوں ؟ ...... تو ان لوگوں نے کہا اللھم نعم (اے اللہ بےشک ہم یہ بات جانتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے پر عثمانؓ نے وہ قطعہ زمین خرید کر مسجد میں شامل کیا تھا) ..... اس کے بعد حضرت عثمانؓ نے ان لوگوں سے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ میں نے غزوہ تبوک کے لشکر کے لئے اپنے مال سے ساز و سامان کیا تھا ؟ ان لوگوں نے کہا اللھم نعم (اے اللہ ہم یہ بات بھی جانتے ہیں) اس کے بعد حضرت عثمانؓ نے ان سے فرمایا کہ میں اللہ کا اور اس کے دین حق اسلام کا واسطہ دے کر تم سے پوچھتا ہوں کہ کیا تمہارے علم میں یہ بات ہے کہ (ایک دن)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے جبل ثبیر پر تھے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابو بکرؓ و عمرؓ تھے اور میں بھی تھا تو پہاڑ حرکت کرنے لگا یہاں تک کہ اس کے پتھر اوپر سے نیچے کی جانب نشیب میں گرنے لگے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثبیر پہاڑ پر اپنا قدم مبارک زور سے مارا اور فرمایا “اسْكُنْ ثَبِيرُ” (اے ثبیر ساکن ہو جا) کیوں کہ اس وقت تیرے اوپر ایک نبی ہے اور ایک صدیق ہے اور دو شہید ہیں ..... تو ان لوگوں نے کہا اللهم نعم (خداوندا یہ واقعہ بھی ہمارے علم میں ہے) اس کے بعد حضرت عثمانؓ نے فرمایا اللہ اکبر ! ان لوگوں نے بھی گواہی دی ، اسی کے ساتھ حضرت عثمانؓ نے فرمایا) قسم ہے رب کعبہ کی کہ میں شہید (ہونے والا) ہوں ، یہ آپؓ نے تین دفعہ فرمایا ۔ (جامع ترمذی ، سنن نسائی ، دار قطنی) تشریح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد انتخاب خلیفہ کے لئے ان کی بنائی ہوئی مجلس شوریٰ نے حضرت عثمانؓ کو خلیفہ منتخب فرمایا تھا تمام صحابہ مہاجرین و انصارؓ نے ان کو اسی طرح خلیفہ تسلیم کر لیا جس طرح حضرت عمرؓ کو اور اس سے پہلے حضرت ابو بکرؓ کو خلیفہ تسلیم کر لیا تھا ...... قریباً بارہ برس تک آپؓ خلیفہ رہے آپؓ کی خلافت کے آخری سالوں میں آپؓ کے خلاف وہ فتنہ برپا ہوا جس کی پیشن گوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر فرمائی تھی ۔ یہ محاصرہ جس کا اس حدیث میں ذکر ہے اس فتنہ کے سلسلہ کی آخری کڑی تھا ، محاصرہ کرنے والے مصر اور عراق کے بعض شہروں کے باغی اور بلوائی تھے جن کو فتنہ پردازی کے ماہر ایک منافق یہودی عبداللہ بن سبا نے خفیہ سازشی تحریک کے ذریعہ حضرت عثمانؓ کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا تھا (اس فتنے اور عبداللہ بن سبا کی خفیہ تحریک کی تفصیلات سیر و تاریخ کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہیں) ۔ جیسا کہ حدیث سے معلوم ہوا باغی بلوائیوں کا یہ محاصرہ اتنا شدید ہو گیا تھا کہ حضرت عثمانؓ مسجد شریف آ کر نماز بھی نہیں پڑھ سکتے تھے اور آپؓ کو اور آپ کے گھر والوں کو پینے کا پانی نہیں پہنچ سکتا تھا ، ان بلوائیوں کا مطالبہ تھا کہ آپ خلافت سے دستبردار ہو جائیں یعنی خود اپنے آپ کو معزول کر دیں ۔ حضرت عثمانؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک تاکیدی ہدایت کی بنیاد پر (جس کا ذکر آگے ایک حدیث میں آئے گا) ان لوگوں کے مطالبہ پر خلافت سے از خود دستبردار ہونے کو جائز نہیں سمجھتے تھے ، اس کے مقابلہ میں ان باغیوں ، بلوائیوں کے ہاتھوں مظلومیت کے ساتھ جان دے دینا اور شہید ہو جانا بہتر سمجھتے تھے ۔ معلوم ہے کہ حضرت عثمانؓ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور حکومت کے فرمانروا تھے ، اگر ان باغیوں کے خلاف طاقت کے استعمال کرنے کا فیصلہ فرماتے یا اس کی اجازت چاہنے والوں کو اجازت ہی دے دیتے تو یہ بغاوت پوری طرح کچھ دی جاتی لیکن آپ کی فطرت اور طبیعت پر حیا کی طرح حلم کا بھی غلبہ تھا ، نیز آپؓ اس کے لئے کسی طرح تیار نہیں تھے کہ آپؓ کی جان کی حفاظت کے لئے کسی کلمہ گو کے خون کا قطرہ زمین پر گرے اس لئے آپؓ نے آخری حد تک افہام و تفہیم کی کوشش کی اور آخر میں اتمام حجت کے طور پر وہ خطاب فرمایا جسے اس حدیث کے راوی ثمامہ ابن حزم قشیریؓ نے بیان فرمایا ہے جنہوں نے یہ خطاب خود اپنے کانوں سے سنا تھا اور محاصرہ کا وہ منظر آنکھوں سے دیکھا تھا ...... آخر میں حدیث کے الفاظ “وَرَبِّ الْكَعْبَةِ يَعْنِي أَنِّي شَهِيدٌ ثَلَاثًا” (رب کعبہ کی قسم ! میں شہید ہونے والا ہوں یہ بات آپ نے تین دفعہ فرمائی) سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپؓ کو خداداد ایمانی فراست اور کچھ غیبی اشارات سے (جن کا ذکر بعض روایات میں کیا گیا ہے) یقین ہو گیا تھا کہ یہ فتنہ میری شہادت کا تکوینی انتظام ہے جس کی پیشن گوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر فرمائی تھی ، اس لئے آپ نے مظلومانہ شہید ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو جانے کا فیصلہ فرمایا اور مظلومانہ شہادت اور قربانی کی ایک لاثانی مثال قائم کر دی ۔ اسی سلسلہ میں وہ حدیث ناظرین کرام عنقریب پڑھیں گے جس سے معلوم ہوگا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے شہید ہونے کے لئے کس طرح تیاری کی تھی ۔ حدیث میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا جو خطاب ذکر فرمایا گیا ہے ، اس کے آخر یہ واقعہ بھی بیان فرمایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؓ کے ساتھ حضرت ابو بکرصدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت عثمانؓ مکہ کے قریب کے پہاڑ ثبیر پر ایک دن تشریف لے گئے تو پہاڑ میں ایک خاص قسم کی حرکت پیدا ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زور سے قدم مبارک مارا اور فرمایا “اسْكُنْ ثَبِيرُ، فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ” (اے ثبیر ساکن ہو جا اس وقت تیرے اوپر اللہ کا ایک نبی ہے ، اور ایک صدیق ہے اور دو شہید ہیں) ..... اسی طرح کا واقعہ مدینہ منورہ میں احد پہاڑ پر بھی پیش آیا ، جو حضرت انسؓ کی روایت سے صحیح بخاری مین ذکر کیا گیا ہے حدیث کا متن یہ ہے ۔

【73】

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک دن) احد پہاڑ پر چڑھے اور ابو بکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ (بھی آپؓ کے ساتھ تھے) احد پہاڑ ان کی وجہ سے کانپنے لگا (اور اس میں حرکت پیدا ہو گئی) تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا قدم مبارک مارا اور فرمایا ، اے احد ! ٹھہر جا ساکن ہو جا اس وقت تیرے اوپر اللہ کا ایک نبی ہے اور ایک صدیق ہے اور دو شہید ہیں ..... (صحیح بخاری) تشریح بلاشبہ پہاڑ میں حرکت پیدا ہو جانا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا اور حضرت عمرؓ و حضرت عثمانؓ کو شہید فرمانا یہ آپؓ کا دوسرا معجزہ تھا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریباً بارہ ۱۲ سال بعد شہید ہوئے اور حضرت عثمانؓ قریباً چوبیس ۲۴ سال بعد ۔ بلاشبہ ان دونوں حضرات کے شہید ہونے کی اطلاع آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی وحی سے ہی ملی تھی ۔

【74】

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دن) عثمانؓ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا اے عثمان ! امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو ایک خاص قمیص پہنائے گا تو اگر لوگ اس قمیص کو تم سے اترواناچاہیں تو ان کے کہنے سے تم اس کو نہ اتارنا ۔ (جامع ترمذی و سنن ابن ماجہ) تشریح شارحین حدیث کا اتفاق ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مطلب یہی تھا کہ اے عثمان اللہ تعالیٰ تم کو خلافت کا خلعت عطا فرمائے گا اور پہنائے گا تو اگر لوگ تم سے اس خلعت کو اتروانا چاہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے عطا فرمائے ہوئے منصب خلافت سے دستبردار ہو جانے کا مطالبہ کریں تو اس کو نہ ماننا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہدایت و وصیت جامع ترمذی ہی میں خود حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کی گئی ہے روایت کا متن یہ ہے ۔

【75】

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

ابو سہلہ سے روایت ہے کہ جس دن حضرت عثمانؓ کے گھر کا محاصرہ کیا گیا اور وہ شہید کئے گئے اسی دن حضرت عثمانؓ نے مجھ کو بتلایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک خاص وصیت فرمائی تھی ، میں نے صبر کے ساتھ اس وصیت پر عمل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ (جامع ترمذی) تشریح یہ ابو سہلہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے وہ محاصرہ کے وقت حضرت عثمانؓ کے پاس تھے اور دوسرے ہمدردوں اور وفادار رفیقوں کے ساتھ وہ بھی چاہتے تھے کہ باغیوں کے خلاف طاقت استعمال کی جائے ، غالباً یہی بات انہوں نے حضڑت عثمانؓ کی خدمت میں عرض کی تھی ، جس کے جواب میں حضرت عثمانؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہدایت اور وصیت کا حوالہ دیا ، جو حضرت عائشہ کی مندرجہ بالا حدیث میں ذکر کی جا چکی ہے ۔ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ خاص ہدایت اور وصیت تھی جس کی تعمیل کرتے ہوئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ باغیوں بلوائیوں کے مطالبہ پر خلافت سے دستبردار ہونے کے لئے تیار نہ ہوئے اور اس کے مقابلہ میں مظلومیت کے ساتھ شہید ہو جانے کا فیصلہ فرمایا جس کی پیشن گوئی کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر بار بار فرمائی تھی ۔

【76】

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دن اپنے خطاب میں) ایک عظیم فتنہ کا ذکر فرمایا ، اور عثمانؓ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرایا کہ یہ بندہ اس فتنہ میں مظلومیت کے ساتھ شہید ہو گا ۔ (جامع ترمذی) تشریح حدیث کا مطلب واضح ہے یہ ارشاد بھی بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چوبیس سال بعد حضرت عثمانؓ کے خلاف جو فتنہ برپا ہونے والا تھا اس فتنہ کی اور اس فتنہ کی اور اس فتنہ میں ان کی مظلومانہ شہادت کی خبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو دے دی تھی ، ظاہر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع اللہ تعالیٰ کی وحی سے ہی ہوئی تھی ۔

【77】

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

حضرت عثمانؓ کے آزاد کردہ غلام مسلم ابن سعید سے روایت ہے کہ (جس دن حضرت عثمانؓ شہید کئے گئے اس دن) انہوں نے بیس غلام آزاد کئے اور سراویل (پاجامہ) منگوایا (اور پہنا) اور اس کو بہت مضبوط باندھا اور اس سے پہلے کبھی نہ زمانہ جاہلیت میں (یعنی اسلام لانے سے پہلے) پہنا تھا اور نہ اسلام لانے کے بعد کبھی پہنا تھا اور فرمایا کہ میں نے گذشتہ رات خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابو بکرؓ و عمرؓ کو بھی ، ان حضرات نے مجھ سے فرمایا کہ عثمان ! صبر پر قائم رہو تم کل ہمارے پاس روزہ افطار کرو گے ۔ اس کے بعد آپؓ نے مصحف (قرآن مجید) منگوایا اور اس کو سامنے رکھ کر کھولا (اور تلاوت شروع کر دی) پھر آپؓ اسی حال میں شہید کئے گئے کہ مصحف آپ کے سامنے تھا ۔ (مسند احمد ، مسند ابو یعلیٰ ، موصلی) تشریح جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو نور قلب یعنی ایمانی فراست سے اور بعض غیبی اشارات سے یقین ہو گیا تھا کہ باغیوں بلوائیوں کا یہ فتنہ میری شہادت کا تکوینی انتظام ہے ، جس کی پیشن گوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر فرمائی تھی اور اس حدیث میں گذری ہوئی رات کے جس خواب کا ذکر ہے ، جس میں ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبین حضرت ابو بکرؓ و حضرت عمرؓ کی زیارت ہوئی اور انہوں نے فرمایا کہ عثمان ! صبر اور تسلیم و رضا کے راستے پر قائم رہو ، کل تم ہمارے پاس آ کر روزہ افطار کرو گے ، یہ آخری غیبی تلقین تھی جس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس شہادت کی تیاری شروع فرمائی ۔ جس رات کو یہ خواب دیکھا پنجشنبہ اور جمعہ کی درمیانی رات تھی ، اگلے دن جمعہ کو آپؓ نے روزہ رکھا مختلف انواع کے اعمال صالحہ کا خاص طور سے اہتمام فرمایا ، بیس غلام اس دن آزاد کئے ، اور جیسا کہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے آپؓ نے پاجامہ منگوایا جو اس سے پہلے کبھی آپؓ نے نہیں پہنا تھا ، عرب میں عام طور سے تہبند پہننے کا رواج تھا ، آپؓ بھی ہمیشہ تہبند ہی پہنتے تھے ، لیکن چونکہ آپؓ پر شرم و حیا کا غلبہ تھا ، اس لئے آپؓ نے اس دن بجائے تہبند کے پاجامہ منگوا کر پہنا اور اس کو بہت مضبوط باندھا تا کہ شہادت اور موت کے بعد بھی جسم کا وہ حصہ نہ کھلے جس کا کھلنا شرم و حیا کے خلاف ہے پھر آپؓ نے قرآن شریف منگوایا اور اس کی تلاوت شروع فرما دی اسی حال میں بدبخت ظالم باغیوں نے آپ کو شہید کیا ، روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ شہادت کے وقت سورہ بقرہ کا وہ حصہ تلاوت فرما رہے تھے جہاں پاروں کی تقسیم کے لحاظ سے پہلا پارہ الم ختم ہوتا ہے آپؓ کے خون کے قطرے اس آیت پر گرے : فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّـهُ ۚوَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (1) یہ منجانب اللہ اس کا اعلان ہے کہ ان بدبخت ظالموں سے اللہ تعالیٰ پورا انتقام لے گا ۔ (یہاں اپنے معمول کے مطابق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے متعلق فضائل و مناقب کی چند حدیثوں کا عام فہم ترجمہ اور صرف بقدر ضرورت تشریح و توضیح کی گئی ہے جیسا کہ پہلے بھی لکھا جا چکا ہے ، واقعات کی تفصیل حضرت شاہ ولی اللہ کی “ازالة الخفا” اور سیر و تاریخ کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے) ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے فضائل کے سلسلہ میں جو حدیثیں یہاں تک درج کی گئیں ان میں ان کی ان دو اہم فضیلتوں کا ذخر نہیں آیا جن میں وہ تمام صحابہ کرام اور خلفائے راشدین میں بھی ممتاز و منفرد ہیں ۔ ایک یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یکے بعد دیگرے اپنے دو صاحبزادیوں کا ان کے ساتھ نکاح کیا اسی وجہ سے ان کو ذو النورین کہا جاتا ہے اور دوسری یہ کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی اپنی زوجہ محترمہ حضرت رقیہ کے ساتھ دو دفعہ ہجرت فرمائی ، پہلی ہجرت مکہ مکرمہ سے حبشہ کی طرف اور دوسری ہجرت مدینہ منورہ کی طرف ۔ اب چند وہ حدیثیں نذر ناظرین کی جا رہی ہیں جن میں ان دونوں فضیلتوں کا ذکر ہے ۔

【78】

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسلمانوں میں سے جس شخص نے سب سے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی وہ عثمان بن عفان تھے وہ اپنی اہلیہ محترمہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا) کو ساتھ لے کر حبشہ کے لئے روانہ ہو گئے (پھر طویل مدت تک) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں کے بارے میں کوئی خبر نہیں ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے جاتے اور خبر معلوم ہونے کا انتظار فرماتے اور کہیں سے خبر حاصل ہونے کی کوشش فرماتے تو قبیلہ قریش کی ایک خاتون ملک حبشہ سے (مکہ) آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے (ان کے بارے میں) دریافت فرمایا تو اس نے کہا اے ابو القاسم ! میں نے ان دونوں کو دیکھا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تم نے ان کو کس حال میں دیکھا تو خاتون نے کہا کہ میں نے عثمانؓ کو دیکھا انہوں نے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی) رقیہ کو آہستہ چلنے والے ایک حمار پر سوار کر دیا تھا اور وہ خود پیدل پیچھے چل رہے تھے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان دونوں کے ساتھ رہے (اور ان کی حفاظت فرمائے) اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (اللہ کے پیغمبر) لوط (علیہ السلام) کے بعد عثمان پہلے شخص ہیں جنہوں نے اپنی بیوی کو ساتھ لے کر اللہ کی طرف ہجرت کی ہے ۔(معجم کبیر طبرانی ، بیہقی ابن عساکر) تشریح حدیث اور سیر و تاریخ کی روایات کی روشنی میں یہ معلوم و مسلم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زوجہ مطہرہ ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے (باختلاف روایات دو یا تین صاحبزادوں کے علاوہ جو صغر سنی ہی میں وفات پا گئے) آپ کی چار صاحبزادیاں پیدا ہوئیں حضرت زینب ، حضرت رقیہ ، حضرت ام کلثوم ، حضرت فاطمہ ۔ (رضی اللہ عنہن) حضرت زینب جو سب سے بڑی تھیں ان کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو العاص بن الربیع سے کر دیا تھا اور وہ انہی کے ساتھ رہیں (یہاں ان کے بارے میں اس سے زیادہ لکھنا ضروری ہے) اور حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم کا رشتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےچچا ابو لہب کے دو بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے ہو گیا تھا ، لیکن رخصتی کی نوبت نہیں آئی تھی کہ ابو لہب اور اس کی بیوی (ام جمیل) کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید کی شدید ترین مخالفت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذا رسانی پر سورہ لہب نازل ہوئی جس میں ان دونوں میاں بیوی کی بدانجامی کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان فرمایا گیا اس سے طیش میں آ کر ابو لہب اور اس کی بیوی نے اپنے دونوں بیٹوں عتبہ اور عتیبہ پر دباؤ ڈالا کہ رقیہ اور ام کلثوم سے تمہارا جو رشتہ ہو چکا ہے اس کو ختم کر دو ، انہوں نے ایسا ہی کیا فی الحقیقت یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انتظام تھا کہ یہ پاک صاحبزادیاں اس ناپاک گھرانے میں نہ جا سکیں ۔ (ان ربی) اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں سے بڑی بہن رقیہ کا نکاح بحکم خداوندی (جیسا کہ دوسری روایات میں بصراحت موجود ہے) حضرت عثمان بن عفانؓ سے کر دیا جو دعوت اسلام کے ابتدائی دور ہی میں ایمان لا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خواص اصحاب و رفقاء میں شامل ہو چکے تھے ..... معلوم ہے کہ دعوت توحید کے ابتدائی دور میں مکہ کے شریر و ظالم اور سنگدل مشرکین کی طرف سے اسلام قبول کرنے والوں پر کیسے کیسے ظلم و ستم ڈھائے جاتے تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم تھا کہ ملک حبشہ کا بادشاہ جو دین عیسوی کا پیرو ہے ایک نیک دل اور عادل حکمران ہے اور امید ہے کہ وہاں جو بھی جائے گا امن و امان سے رہ سکے گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان لانے والے اپنے اصحاب کو مشورہ دیا کہ جو لوگ جا سکتے ہوں وہ فی الحال حبشہ چلے جائیں ، چنانچہ چند حضرات نے اس کا ارادہ کر لیا ، ان میں سب سے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے حضرت عثمانؓ تھے ۔ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مشورہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی اپنی زوجہ محترمہ حضرت رقیہؓ کو بھی ساتھ لے کر حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی ..... پھر جیسا کہ حضرت انسؓ کی اس روایت میں بیان کیا گیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدت تک ان دونوں کے بارے میں کوئی خیر خبر نہیں ملی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت فکر مند رہے اور کوشش فرماتے رہے کہ کسی طرح ان کا حال معلوم ہو ..... تو طویل عرصہ کے بعد قبیلہ قریش کی ایک عورت حبشہ سے مکہ مکرمہ آئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے حضرت عثمانؓ اور حضرت رقیہؓ کے بارے میں دریافت فرمایا تو اس نے بتلایا کہ میں نے ان دونوں کو دیکھا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کسی حال میں دیکھا ہے اس نے کہا کہ میں نے ان کو اس حالت میں دیکھا ہے کہ عثمانؓ نے اپنی اہلیہ رقیہؓ کو آہستہ آہستہ چلنے والے ایک حمار پر (1) سوار کر دیا تھا اور خود پیدل اس کے پیچھے چل رہے تھے (راقم سطور کا گمان ہے کہ حمار کو آہستہ اس لئے چلایا جا رہا ہو گا کہ حضرت رقیہؓ کو تکلیف نہ ہو) ..... اس قریشی خاتون سے یہ حال معلوم کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطمینان ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ “صَحِبَهُمَا الله” (ان دونوں کو اللہ تعالیٰ کی معیت اور حفاظت نصیب رہے) اس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اللہ کے پیغمبر لوط علیہ السلام کے بعد عثمان پہلے شخص ہیں جنہوں نے اپنی رفیقہ حیات کو ساتھ لے کر اللہ کی طرف یعنی اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہجرت کی ، اپنا وطن اپنا گھر بار اور اپنے عزیز و اقارب کو چھوڑا اور محض لوجہ اللہ جلا وطنی اختیار کی ..... اس زمانہ میں مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کرنا کتنا بڑا مجاہدہ تھا ، اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ یہاں یہ ذکر کر دینا بھی مناسب ہے کہ اسلام میں یہ پہلی ہجرت تھی جس کا اس حدیث میں ذکر ہے ، اس قافلہ میں چند ہی حضرات تھے ، اس کے بعد ایک بڑے قافلہ نے بھی مکہ سے حبشہ کو ہجرت کی ۔ ان سب حضرات کا طویل مدت تک حبشہ میں قیام رہا ، حضرت عثمانؓ چند برس وہاں قیام کے بعد مکہ مکرمہ واپس آئے ، ایسے وقت پہنچے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت فرما چکے تھے تو حضرت عثمانؓ نے بھی اپنی زوجہ مطہرہ حضرت رقیہؓ اور ایک صاحبزادے (عبداللہ کو ساتھ لے کر جو حبشہ میں پیدا ہوئے تھے) مکہ مکرمہ سے مدینہ کو ہجرت کی اس طرح وہ صاحب الهجرتين ہیں اور حضرات خلفاء راشدین میں بھی یہ فضیلت انہی کو حاصل ہے ۔ رضی اللہ عنہ وارضاہ ۔ مدینہ منورہ ہجرت کے دوسرے سال غزوہ بدر پیش آیا انہی دنوں حضرت رقیہؓ بیمار ہو گئیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ بدر کے لئے روانہ ہونے لگے تو حضرت عثمانؓ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جانا چاہا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم رقیہؓ کی تیمارداری کے لئے یہیں رہو ہمارے ساتھ نہ چلو ، اللہ تعالیٰ تم کو وہی اجر عطا فرمائے گا جو اس غزوہ کے مجاہدین کو عطا فرمایا جائے گا اور غنیمت میں تمہارا وہی حصہ ہو گا جو غزوہ میں شریک ہونے والے مجاہدین کا ہو گا ...... حضرت عثمانؓ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کی وجہ سے غزوہ بدر کے لئے نہیں جا سکے ، حضرت رقیہؓ کی تیمارداری میں مصروف رہے ...... لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قضا و قدر کا فیصلہ کہ وہ صحت یاب نہ ہو سکیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ واپسی سے پہلے ہی وفات پا گئیں واپسی پر حض صلی اللہ علیہ وسلم ر صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوا تو رقیہؓ جیسی لخت جگر کی وفات کا جو صدمہ ہونا چاہئے تھا وہ ہوا اور حضرت عثمانؓ کا جو حال ہوا وہ آئندہ درج ہونے والی حدیث سے معلوم ہو گا ۔

【79】

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عثمانؓ بن عفان سے ملے اور وہ اس وقت بہت ہی غمزدہ اور سخت رنجیدہ تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کا یہ حال دیکھ کر) فرمایا عثمان تمہارا یہ کیا حال ہے ؟ انہوں نے عرض کیا اے رسول خدا ! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں کیا کسی شخص پر بھی ایسی مصیبت آئی ہے جو مجھ پر آئی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی جو میرے ساتھ تھیں (یعنی رقیہ رضی اللہ عنہا) وہ وفات پا گئیں اللہ ان پر رحمت فرمائے (اس صدمہ سے) میری کمر ٹوٹ گئی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دامادی کے رشتہ کا جو شرف مجھے نصیب تھا اب وہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا (اور میں اس عظیم نعمت اور سعادت سے محروم ہو گیا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ عثمان ! کیا تم ایسا ہی کہتے ہو (اور تمہیں اسی کا صدمہ اور رنج ہے ؟) حضرت عثمانؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں قسم کے ساتھ وہی عرض کرتا ہوں جو میں نے عرض کیا ہے (میرا یہی حال اور یہی احساس ہے) اسی درمیان کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم عثمانؓ سے یہ گفتگو فرما رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عثمان ! یہ جبرئیل امین ہیں یہ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم پہنچا رہے ہیں کہ میں اپنی بیٹی مرحومہ رقیہ کی بہن ام کلثوم کا نکاح تم سے کر دوں اسی مہر پر جو رقیہ کا تھا اور اسی کے مثل معاشرت پر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمانؓ کے ساتھ اپنی بیٹی ام کلثوم کا نکاح کر دیا ۔ (ابن عساکر) تشریح حدیث کا مضمون واضح ہے کسی وضاحت کا محتاج نہیں اور متعدد دوسری روایات سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے ..... اس حدیث کے بارے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس کے راوی سعید بن المسیب تابعی ہی ظاہر ہے کہ یہ حدیث ان کو کسی صحابی سے پہنچی ہو گی جن کا انہوں نے حوالہ نہیں دیا ، ایسی حدیث کو محدثین کی اصطلاح میں مرسل کہا جاتا ہے ۔ لیکن سعید بن المسیب ان جلیل القدر تابعین میں سے ہیں جن کی اس طرح کی مرسل روایات مستند اور قابل قبول ہیں اور جیسا کہ عرض کیا گیا دوسری متعدد روایات سے اس حدیث کے مضمون کی تائید ہوتی ہے ۔

【80】

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : اللہ تعالیٰ نے مجھے بذریعہ وحی حکم دیا کہ میں اپنے دونوں عزیز بیٹیوں کا نکاح عثمان سے کروں ۔ (ابن عدی ، دار قطنی ، ابن عساکر) تشریح اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمانؓ کے ساتھ پہلے اپنی صاحبزادی حضرت رقیہؓ کا نکاح بھی اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے کیا تھا اور ہجرت کے دوسرے سال ان کی وفات کے بعد دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثومؓ کا نکاح بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمانؓ کے ساتھ وحی کے ذریعہ ملنے والے خداوندی حکم سے ہی کیا ۔

【81】

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

حضرت عصمۃ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان صاحبزادی کا انتقال ہو گیا جو حضرت عثمانؓ کے نکاح میں تھیں (یعنی ام کلثومؓ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا کہ ..... آپ لوگ عثمانؓ کا نکاح کر دیں ، اگر میری کوئی تیسری بیٹی ہوتی تو میں اس کا نکاح بھی عثمان ہی سے کر دیتا اور میں نے اپنی بیٹیوں کا نکاح عثمان سے وحی کے ذریعہ ملے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے کیا تھا ۔ (ابن عساکر) تشریح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت ام کلثومؓ جن کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بڑی صاحبزادی حضرت رقیہؓ کی ۲؁ھ میں انتقال فرما جانے کے بعد حضرت عثمانؓ سے کر دیا تھا ، وہ بھی ۹؁ھ میں وفات پا گئیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحابِ کرام سے فرمایا کہ آپ لوگوں میں سے کوئی اپنی بیٹی یا اپنے زیر ولایت بہن یا کسی عزیزہ کا عثمانؓ سے نکاح کر دیں ، اگر میری کوئی تیسری غیر شادی شدہ بیٹی ہوتی تو مین اس کا نکاح بھی عثمان ہی سے کر دیتا اس کے لئے آپ لوگوں سے نہ کہتا ..... ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ میں نے اپنی بیٹیوں کا نکاح جو عثمان کے ساتھ کیا تھا تو وہ محض اپنی صوابدید اور اپنی رائے سے نہیں بلکہ وحی کے ذریعہ ملے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکم سے کیا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک حضرت عثمانؓ کا جو مقام و مرتبہ معلوم ہوتا ہے وہ ظاہر ہے ۔ رضی اللہ عنہ وارضاہ ۔

【82】

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری صاحبزادی (ام کلثوم) کا انتقال ہو گیا ..... تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عثمان ! اگر میری دس بیٹیاں ہوتیں تو میں ان میں سے ایک کے بعد ایک کا (سب کا) تم سے نکاح کر دیتا ، کیوں کہ میں تم سے بہت راضی اور خوش ہوں ۔ (معجم اوسط طبرانی ، افراد دار قطنی ، ابن عساکر) تشریح حدیث کا مضمون واضح ہے ، اس سے پہلی عصمہ بن مالک الخطمی کی روایت کی ہوئی حدیث سے معلوم ہوا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحبزادی کلثومؓ کے انتقال کے بعد حاضرین مجلس یعنی صحابہ کرامؓ سے فرمایا تھا کہ “اگر میری تیسری کوئی بیٹی ہوتی تو میں اس کا نکاح بھی عثمانؓ ہی سے کر دیتا” ...... اور اس حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حضرت عثمانؓ سے فرمایا کہ “اگر میری دس بیٹیاں ہوتیں تو میں یکے بعد دیگرے ان کا نکاح تمہارے ساتھ ہی کر دیتا” ...... ظاہر ہے کہ ان دونوں باتوں میں کوئی اختلاف اور تضاد نہیں ہے ۔ پہلی بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمائی تھی اور اس حدیث میں جو فرمایا گیا ہے اس کے مخاطب خود حضرت عثمانؓ تھے اور مقصد یہ تھا کہ ان کے ساتھ اپنی رضا اور قلبی تعلق کا اظہار فرمائیں ۔ حضرت ام کلثوم کی وفات پر حضرت عثمانؓ کو جو غیر معمولی صدمہ تھا ، اس کی تعزیت اور تسلی و تسکین کا یہ بہترین طریقہ تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کریمی اور خلق عظیم کے عین مطابق تھا ۔ صلی اللہ علیہ وبارک وسلم ۔ بعض بعض روایات میں اس سے زیادہ عدد بھی آیا ہے ۔ اس میں بھی کوئی اختلاف اور تضاد نہیں ، مقصد وہی ہے جو عرض کیا گیا ۔ حضرت عثمان ذو النورین رضی اللہ عنہ کے فضائل کے اس سلسلہ کو امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ایک ارشاد پر ختم کیا جاتا ہے ۔

【83】

فضائل حضرت عثمان ذو النورین

ثابت بن عبید سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت علیؓ کی خدمت میں عرض کیا کہ میں مدینہ جانے والا ہوں ، وہاں لوگ مجھ سے عثمانؓ کے بارے میں سوالات کریں گے تو (مجھے بتلا دیجئے) کہ میں ان کو کیا جواب دوں ، تو حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ان لوگوں کو جواب دیجیو اور بتلائیو کہ عثمانؓ اللہ کے ان بندوں میں سے تھے (جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے) {الَّذِيْنَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوْا وَأَحْسَنُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ} وہ بندے جو ایمان لائے اور اعمال صاسلحہ کئے ، پھر انہوں نے تقویٰ اور کامل ایمان والی زندگی گذاری پھر تقویٰ اور احسان کا مقام ان کو حاصل ہوا اور اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں سے محبت و پیار فرماتا ہے جو مقام احسان پر فائز ہوں ۔ (ابن مردویہ ابن عساکر) تشریح معلوم ہے کہ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ ، نے کوفہ کو دارالحکومت بنا لیا تھا جو صاحب مدینہ جانے والے تھے اور انہوں نے حضرت سے وہ سوال کیا تھا جو روایت میں ذکر کیا گیا ہے ، بظاہر وہ حضرت علیؓ کے خواص اہل تعلق میں سے تھے ان کا مقصد یہ تھا کہ جب میں مدینہ پہنچوں گا تو لوگ مجھ سے آپ کے تعلق سے عثمانؓ کے بارے میں سوالات کریں گے تو میں ان کو کیا جواب دوں ؟ (ملحوظ رہے کہ یہ وہ زمانہ تھا جب حضرت عثمانؓ کی شخصیت متنازعہ ہو گئی تھی اور وہ شہید کر دئیے گئے تھے اور ان کو شہید کرنے والے باغی حضرت علیؓ کی محبت کا دم بھرتے تھے) تو حضرت علیؓ نے ان کو وہ جواب دیا جو روایت میں میں ذکر کیا گیا ہے ..... یہ دراصل سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۹۳ کا اقتباس ہے ، آیت کا مطلب ہے کہ جو بندے ایمان ، اعمال صالحہ ، تقویٰ اور احسان والی زندگی گذاریں ، ان سے کسی قصور کے بارے میں آخرت میں پوچھ گچھ نہ ہو گی اور وہ اللہ کے محبوب اور پیارے ہیں ، عثمانؓ اللہ کے انہی محبوب و مقبول بندوں میں سے تھے ۔ ملحوظ رہے کہ یہاں جو احسان کا لفظ استعمال ہوا ہے وہ ایک خاص دینی اصطلاح ہے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث مٰں اس کی تشریح یہ فرمائی ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی اور اس کے احکام کی فرمانبرداری اس طرح کرے کہ گویا اللہ تعالیٰ اس کی نگاہ کے سامنے ہے ..... ظاہر ہے کہ یہ ایمان و ایقان کا اعلیٰ درجہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان سطروں کے لکھنے والے اور پڑھنے والے اپنے بندوں کو بھی اس احسانی کیفیت کا کوئی ذرہ نصیب فرما دے ۔

【84】

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن ارشاد فرمایا کہ : کل میں یہ پرچم ایسے ایک شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ خیبر کو فتح کرا دے گا ، وہ اللہ اور اس کے رسول کا محب اور محبوب ہو گا ..... پس جب صبح ہوئی تو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے یہ سب امید اور تمنا رکھتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرچم ان کو عطا فرما دیں گے ..... تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ “علی بن ابی طالب کہاں ہیں ؟” تو لوگوں نے عرض کیا کہ ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے (اس لئے وہ اس وقت یہاں موجود نہیں ہیں) ..... آپ نے ارشاد فرمایا کہ ان کو بلانے کے لئے کسی کو بھیجو .... چنانچہ ان کو بلا کر لایا گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دونوں آنکھوں میں اپنا آب دہن (تھوک) ڈال دیا تو وہ ایسے اچھے ہو گئے کہ گویا ان کو کوئی تکلیف تھی ہی نہیں .....ن اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پرچم ان کو عنایت فرمایا (یہ اس کا نشان تھا کہ آج لشکر کے سپہ سالار اور قائد یہ ہوں گے) تو حضرت علیؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا میں خیبر والوں سے اس وقت تک جنگ کروں کہ وہ ہماری طرح ہو جائیں (یعنی اسلام قبول کر لیں) تو آپ نے فرمایا کہ تم آہستہ روی کے ساتھ جاؤ ، یہاں تک کہ ان کی زمین اور ان کے علاقہ میں پہنچ جاؤ ، پھر ان کو اسلام کی دعوت دو ، اور ان کو بتلا دو کہ اسلام قبول کرنے کے بعد ان پر اللہ تعالیٰ کا کیا حق واجب ہو گا .... خدا کی قسم ! یہ بات کہ تمہارے ذریعہ ان میں سے ایک آدمی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت نصیب ہو جائے تمہارے حق میں اس سے بہتر ہے کہ مال غنیمت میں سرخ اونٹ تم کو ملیں ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح خیبر مدینہ سے ایک سو چوراسی کلو میٹر (قریباً سوا سو میل) شمال میں واقع ہے ، یہ یہودیوں کی بستی تھی ، یہ وہ یہودی تھے جو کسی زمانے میں شام سے نکالے گئے اور یہاں آ کر بس گئے تھے ، یہ سب دولت مند اور سرمایہ دار تھے ، یہاں انہوں نے بہت مضبوط قلعے بنا لئے تھے اور اس وقت کے معیار کے مطابق جن کی ساز و سامان کا اچھا ذخیرہ بھی رکھتے تھے ، یہ علاقہ سرسبز و شاداب اور بہت زرخیز تھا ۔ مدینہ منورہ کے قرب و جوار کے جن یہودیوں کو ان کی غداریوں اور شراتوں کی وجہ سے نکالا اور جلا وطنم کیا گیا تھا وہ بھی یہیں آ کر بس گئے تھے ، یہ مسلمانوں کے خلاف سخت کینہ رکھتے اور سازشیں کرتے رہتے تھے ۔ مدینہ منورہ جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا دار الہجرۃ اور مسلمانوں کا دار الحکومت تھا ، اس کے لئے خیبر کے یہ یہودی ایک مستقل خطرہ تھے ۔ ۶؁ھ کے اواخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ سے واپس آ کر اور قریش مکہ سے مصالحبت اور دس سال کے لئے نا جنگ معاہدہ کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے ، ذی الحجہ کا قریبا پورا مہینہ مدینہ ہی میں گذرا ، محرم ۷؁ھ میں آپ نے خیبر کی خطرناک دشمن طاقت سے تحفظ اور مامون رہنے کے لئے صرف قریباً ڈیڑھ ہزار صحابہ کرامؓ کا لشکر ساتھ لے کر خیبر کی طرف کوچ فرمایا ، خیبر کے قریب پہنچ کر جس جگہ کو لشکر کے قیام کے لئے مناسب سمجھا وہاں قیام فرمایا ، حسب معمول آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں کو اسلام کی دعوت دی اور ساتھ ہی یہ کہ اگر وہ فی الحال اسلام قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہو۔ تو سیاسی ماتحتی قبول کر کے جزیہ ادا کیا کریں اور اگر ان میں سے کوئی بات قبول نہ کی گئی تو ہم اللہ کے حکم کے مطابق جنگ کریں گے ۔ یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کریں یا جزیہ دینا منظور کریں ۔ خیبر کے یہودی سرداروں نے کسی بات کے بھی قبول کرنے سے متکبرانہ انداز میں انکار کر دیا اور جنگ لئے تیار ہو گئے ۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے انہوں نے متعدد قلعے بنا لئے تھے ، جن میں سامان جنگ کے علاوہ کھانے پینے کی چیزوں کا بھی وافر ذخیرہ تھا ، وہ مطمئن تھے کہ مسلمانوں کا لشکر کسی طرح بھی ان پر فتح نہ حاصل کر سکے گا ۔ بہرحال جنگ شروع ہوئی اور کئی دن تک جاری رہی مسلمانوں نے یکے بعد دیگرے ان کے کئی قلعوں پر قبضہ کر لیا ، لیکن ایک قلعہ جو بہت مضبوط اور مستحکم تھا اور اس کی حفاظت اور دفاع کا بھی غیر معمولی انتظام کیا گیا تھا بار بار کے حملوں کے باوجود وہ فتح نہ ہو سکا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ارشاد فرمایا کہ کل میں یہ پرچم اور جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول کا محب اور محبوب ہو گا اور اللہ اس کے ہاتھ پر یعنی اس کے ذریعہ فتح مکمل کرا دے گا اور یہ آخری قلعہ بھی فتح ہو جائے گا اور اس طرح جنگ کا خاتمہ بالخیر ہو جائے گا پھر یہاں کے یہودی یا تو اسلام قبول کر لیں گے یا سیاسی ماتحتی قبول کر کے جزیہ دینا منظور کر لیں گے ..... حضور نے اس شخص کو نامزد نہیں فرمایا جس کو آئندہ کل پرچم دینے کا آپ کا ارادہ تھا بس یہ فرمایا کہ وہ اللہ ااور اس کے رسول کا محب اور محبوب ہو گا اور اللہ اس کے ذریعہ یہ آخری قلعہ بھی فتح کرا دے گا ، بلاشبہ یہ بڑی فضیلت اور سعادت تھی اور بہت سے حضرات اس کے متمننی اور امیدوار تھے کہ کل پرچم ان کو عطا فرمایا جائے ..... حضرت علی مرتضیٰؓ اس وقت وہاں موجود نہں تھے ..... جب اگلی صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا علی بن ابی طالب کدھر ہیں ؟ لوگوں نے بتلایا ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے اس لئے وہ اس وقت یہاں حاضر نہیں ہو سکے ہیں ، آپ نے ارشاد فرمایا کسی کو بھیج کر ان کو بلواؤ ، چنانچہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس ھال میں کہ ان کی دونوں آنکھوں میں تکلیف تھی ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دہن ان کی آنکھوں میں ڈال دیا فورا تکلیف جاتی رہی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے آنکھ میں کوئی تکلیف تھی ہی نہیں ، اس کے بعد آپ نے پرچم (جھنڈا) ان کو عطا فرمایا ، یہ اس بات کی علامت تھی کہ آج لشکر کی قیادت یہ کریں گے ..... حضرت علی مرتضیٰ نے جھنڈا ہاتھ میں لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا میں ان یہودیوں سے اس وقت تک نگ کروں کہ وہ اسلام قبول کر کے ہمارے طرح ہو جائیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ ایک آدمی کو بھی ہدایت عطا فرما دے اور اس کو ایمان کی دولت حاصل ہو جائے تو یہ تمہارے واسطے اس سے بہتر ہو گا کہ تم کو غنیمت میں بہت سے سرخ اونٹ مل جائیں (اس زمانے میں سرخ اونٹ عربوں کے لئے عزیز ترین دولت تھی) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ ہماری جنگ کا مقصد دشمن پر فتح حاصل کر کے مال غنیمت سمیٹنا نہیں ہے ، اصل مقصد اور نصب العین بندگانِ خداس کی ہدایت ہے ، جہاد اور قتال فی سبیل اللہ میں بس یہی نصب العین پیش نظر رکھنا چاہئے اور اسی کے تقاضے کے مطابق رویہ متعین کرنا چاہئے ۔ واضح رہے کہ صحیحین کی مندرجہ بالا حدیث کے راوی حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے اس روایت میں حاضرین مجلس اور اپنے مخاطبین کی خصوصیت یا کسی دوسرے وقتی تقاضے سے جنگ خیبر کے آخری مرحلہ کا صرف اتنا ہی واقعہ بیان کیا ہے جس سے حضرت لی مرتضیٰرضی اللہ عنہ کی یہ خاص فضیلت معلوم ہوتی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے محب اور محبوب ہیں ..... یہ بھی بیان نہیں فرمایا کہ جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ حضرت علی مرتضیٰ ہی کے ہاتھ پر یہودیوں کا آخری قلعہ بھی فتح ہوا اور خیبر کی فتح مکمل ہوئی ۔ یہاں راقم سطور نے جنگ خیبر کے سلسلہ میں اتنا ہی لکھنا مناسب سمجھا جس سے اس کا پس منظر اور کچھ اجمالی حال بھی معلوم ہو جائے ، اس غزوہ خیبر سے متعلق تفصیلات سیرت و تاریخ کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہیں ۔ اس حدیث میں ضمنی طور پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دو معجزے بھی معلوم ہوئے ایک یہ کہ حضرت علی مرتضیٰؓ کی دونوں آنکھوں میں سخت تکلیف تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن ڈالا فوراً تکلیف دور ہو گئی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے کوئی تکلیف تھی ہی نہیں ..... دوسرا معجزہ یہ معلوم ہوا کہ آئندہ کل فتح مکمل ہو جانے کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پیشن گوئی فرمائی تھی وہ پوری ہوئی ۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی روایت کی ہوئی اس حدیث کا خاص سبق یہ ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ اللہ اور اس کے رسول کے محب و محبوب ہیں اور الحمدللہ ہم اہل السنۃ والجماعۃ اور امت کے سواد اعظم کا یہی عقیدہ ہے ۔ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کے سوا کسی دوسرے کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا محب و محبوب ہونے کی سعادت نصیب نہ ہو اور اللہ و رسول پر ایمان رکھنے والا ہر مومن صادق اپنے ایمانی درجہ کے مطابق اللہ اور اس کے رسول کا محب و محبوب ہے ، سورہ آل عمران کی آیت قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّـهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ بھی اس کی دلیل اور شاہد عدل ہے ۔

【85】

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

زر بن حبیش سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جو دانے کو پھاڑ کر پودا نکالتا ہے اور جس نے جانداروں کو پیدا فرمایا ، نبی اُمّی صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصیت سے مجھ سے فرمایا تھا کہ مجھ سے وہی بندہ محبت کرتے گا جو مومن صادق ہو گا اور وہی شخص مجھ سے بغض و عداوت رکھے گا جو منافق ہو گا ۔ (صحیح مسلم) تشریح بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ وارضاہ کو جن عظیم انعامات اور دینی فضائل سے نوازا ، مثلاً یہ کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر اسلام پر سب سے پہلے لبیک کہنے والوں میں ہیں ، اور یہ کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی چچا زاد بھائی تھے اور وہ ان سے محبت فرماتے تھے اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحبزادی حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کو ان کے نکاح میں دے کر دامادی کا شرف عطا فرمایا اور اکثر غزوات میں وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور بار بار میدان جہاد و قتال میں اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر کارہائے نمایاں انجام دئیے اور جیسا کہ مندرجہ بالا حدیث سے معلوم ہوا غزوہ خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشاد و عمل سے یہ ظاہر فرمایا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے محب اور محبوب ہیں .... الغرض ان اور ان جیسے ان کے دوسرے فضائل اور خداوندی انعامات کا یہ حق ہے کہ ہر مومن صادق ان سے محبت کرے اور ان سے بغض و کینہ رکھنے والوں کے متعلق سمجھا جائے کہ وہ ایمان کی حقیقت سے محروم اور نفاق کے مریض ہیں ۔ البتہ یہ بات قابل لحاظ ہے کہ محبت سے مراد وہی محبت ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک معتبر اور شریعت کے حدود میں ہو ، ورنہ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے محبت کا دعویٰ کرنے والوں میں سب سے پہلا نمبر ان بدبختوں کا ہے ، جنہوں نے ان کو خدا مانا ، یا پھر ان بدنصیبوں کا ہے جن کا عقیدہ ہے کہ نبوت کے اصل مستحق حضرت علی مرتضیٰؓ تھے ، اللہ نے جبرئیل کو انہیں کے پاس بھیجا تھا وہ غلطی سے محمد بن عبداللہ کے پاس پہنچ گئے ، اسی طرح شیعوں کے اسماعیلیہ و نصیریہ وغیرہ فرقے جو اپنے اماموں کے بارے میں یہ مشرکانہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ خدا کا روپ ہیں اور خداوندی صفات و اختیارات ان کو حاصل ہیں ۔ اسی طرھ وہ شیعہ اثنا عشریہ جو حضرت علی مرتضیٰ اور ان کی اولاد میں گیارہ شخصیتوں کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبیوں رسولوں کی طرح نامزد امام معصوم مفترض الطاعۃ ، تمام انبیاي سابقین سے افضل کمالات میں ان سے فائق ، صاحب وحی و کتاب و صاحب معجزات اور متصرف فی الکائنات ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں .... ظاہر ہے کہ یہ محبت ایسی ہی ہے جیسی محبت کا دعویٰ نصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کرتے ہین ، جس نے ان کو مشرک اور جہنمی بنا دیا ..... الغرض حضرت علی مرتضیٰ سے اس طرح کی محبت کرنے والے فرقے مشرک فی الالوہیت یا شرک فی النبوۃ ہیں ، حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ ان سے بری اور بیزار ہیں ، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پاک کے نزدیک مقبول محبت وہی ہے جو حضرت علی مرتضیٰ اور ان کی اولاد بزرگان دین سے اہل السنہ والجماعت کو نصیب ہے ۔ اس حدیث میں حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنے والوں کو منافق فرمایا گیا ہے ، اس کا خاص مصداق خوارج و نواصب ہیں ، جنہوں نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر قرآنی ہدایت سے انحراف کا بہتان لگایا اور ان کو دینی حیثیت سے گمراہ قرار دیا اور انہیں میں کے ایک بدبخت عبدالرحمن بن ملجم نے حضرت کو شہید بھی کیا ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد خود صحابہ کرامؓ میں اختلافات پیدا ہوئے اور جمل وصفین کی جنگوں کی بھی نوبت آئی ، یہ اختلافات کچھ غلط فہمیوں کی وجہ سے پیدا ہوئے تھے ، صحابہ کرامؓ میں سے کوئی بھی حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو دینی حیثیت سے گمراہ سمجھ کر ان سے بغض نہیں رکھتا تھا یہ اجتہادی اختلاف تھا اور ہر فریق نے دوسرے فریق کو مومن و مسلم ہونے کا اظہار و اعلان فرمایا اور بعد میں اس جنگ و قتال پر فریقین کو رنج و افسوس اور اس سب کے بعد سیدنا حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی مصالحت نے ثابت کر دیا کہ جو کچھ ہوا بغض و عداوت کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ اجتہادی اختلاف کی وجہ سے ہوا ..... رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسنؓ کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا “ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ عَلَى يَدَيْهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ” (میرا یہ بیٹا عظیم المقام سردار ہے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو بڑے گرہوں میں صلح کرا دے گا) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں گروہ مسلمانوں کے تھے ، کوئی گروہ بھی منافق نہیں تھا ۔ آخر میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صحیح مسلم شریف میں زر بن حبیش کی یہ حدیث ذکر کی گئی ہے اس سے پہلا متصلاً حضرت انسؓ ، حضرت براء بن عازب ، حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم سے مختلف سندوں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا گیا ہے کہ انصار سے محبت رکھنا ایمان کی علامت ہے ، اور ان سے بغض رکھنا نفاق کی نشانی ہے ۔ حضرت براء بن عازب کی حدیث کے الفاظ صحیح مسلم میں یہ ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے بارے میں ارشاد فرمایا : «لَا يُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ، مَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللهُ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ اللهُ» ترجمہ : انصار سے صرف وہی شخص محبت کرے گا جو مومن صادق ہو گا اور وہی شخص بغض رکھے گا جو منافق ہو گا ، جو انصار سے محبت کرے گا اللہ تعالیٰ اس سے محبت فرمائے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ اللہ کا مبغوض ہو گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر مختلف اصحاب کے بارے میں بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ان کی محبت ایمان کی علامت اور ان سے بغض رکھنا نفاق کی نشانی ہے ار بلاشبہ اس بارے میں حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو خصوصیت حاصل ہے ، اللہ تعالیٰ اپنی ، اپنے رسول پاک اور اپنے تمام محبین و محبوبین کی محبت ہم کو نصیب فرمائے ۔

【86】

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ تبوک کے لئے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کو اپنا خلیفہ بنا کر مدینہ میں چھوڑ دیا تو انہوں نے عرض کیا ، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو بچوں اور عورتوں پر خلیفہ (اور نگراں) بنا کر چھوڑ رہے ہیں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا کیا تم اس بات پر راضی اور خوش نہیں ہو کہ تمہارا مرتبہ اور درجہ میری نسبت سے وہ ہو جو ہارون کا مرتبہ و درجہ موسیٰ کی نسبت سے تھا ، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہو گا ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح غزوہ تبوک اور اس کی غیر معمولی اہمیت کا ذکر حضرت عثمانؓ کے فضائل کے سلسلہ میں کیا جا چکا ہے ، یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری غزوہ تھا اور بعض پہلوؤں سے سب سے اہم غزوہ تھا جس میں روایات کے مطابق تیس ہزار صحابہ کرامؓ کا لشکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، مدینہ منورہ کے سب ہی اہل ایمان جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا سکتے تھے ، لشکر میں شامل تھے ، پس وہ منافقین جن کو ایمان کی حقیقت نصیب نہیں تھی جھوٹے بہانے کر کے لشکر میں شامل نہیں ہوئے تھے (مومنین صادقین میں سے بھی دو چار ایسے تھے ..... جو ساتھ چلنے کی نیت رکھنے کے باوجود ..... کسی وجہ سے ساتھ نہیں نہیں جا سکے تھے) ..... رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ، اور صاحبزادی سیدہ فاطمہ طاہرہؓ اور ان کے صاحبزادے اور صاحبزادیاں اور لشکر میں جانے والے سب ہی صحابہ کرامؓ کے اہل و عیال مدینہ ہی میں چھوڑ دئیے گئے تھے ..... چونکہ سفر دور دراز کا تھا ، اندازہ تھا کہ واپسی طویل مدت میں ہو سکے گی ، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضروری سمجھا کہ اس مدت کے لئے کسی کو اپنا نائب اور قائم مقام بنا کر مدینہ میں چھوڑ دیا جائے تا کہ خدا نہ کردہ اگر کوئی خارجی یا داخلی فتنہ برپا ہو تو اس کی قیادت میں اس سے مدینہ میں رہ جانے والوں کی اور دین کی حفاظت کی کاروائی کی جا سکے ..... اس کے لئے آپؓ نے حضرت علیؓ کو زیادہ مناسب سمجھا اور ان کو حکم دیا کہ وہ آپؓ کے ساتھ نہ چلیں بلکہ مدینہ میں رہیں ۔ روایات میں ہے کہ بعض بد باطن منافقین نے کہنا شروع کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علیؓ کو اس لئے ساتھ نہیں لیا کہ ان کو اس کا اہل نہیں سمجھا ، بس بچوں اور عورتوں کی نگرانی اور دیکھ بھال کے لئے مدینہ میں چھوڑ دیا ..... حضرت علی مرتضیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا “أَتُخَلِّفُنِي عَلَى الصِّبْيَانِ وَالنِّسَاءِ” ؟ (کیا آپ مجھے بچوں اور عورتوں پر خلیفہ اور نگراں بنا کر چھوڑے جا رہے ہیں ؟) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا “کیا تم اس پر راضی اور خوش نہیں ہو کہ تمہارا مرتبہ مجھ سے وہ ہو جو ہارون کا موسیٰ سے تھا” بجز اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہو گا۔ سورہ اعراف کی آیت نمبر ۱۴۲ میں یہ واقعہ بیان فرمایا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو تورات عطا فرمانے کے لئے طور سینا پر طلب فرمایا (تا کہ وہاں چالیس دن تک گویا اعتکاف کریں اور عبادت و دعا و مناجات میں مشغول رہیں ۔ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نزول قرآن سے پہلے غار حرا میں رہے تھے) تو موسیٰ علیہ السلام نے جاتے وقت اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو اپنا نائب اور خلیفہ بنا کر اپنی قوم بنی اسرائیل کی اصلاح و تربیت اور فتنوں سے حفاظت کا ذمہ دار بنا کر قوم کے ساتھ چھوڑ دیا تھا ..... تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے حضرت علیؓ کو جواب دیا کہ میں تم کو اپنا نائب اور خلیفہ بنا کر اسی طرح مدینہ میں چھوڑ رہا ہوں جس طرح اللہ کے پیغمبر موسیٰ علیہ السلام طور سینا جاتے وقت اپنی عدم موجودگی کے زمانے تک کے لئے ہارون کو اپنا نائب اور خلیفہ بنا کر قوم میں چھوڑ گئے تھے ..... بلا شبہ حضرت علیؓ کی یہ بڑی فضیلت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ سفر کے لئے انہیں کو اپنا نائب اور خلیفہ بنا کر مدینہ منورہ میں چھوڑا ..... اور واقعہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت قریبہ اور بعض دوسرے وجوہ سے بھی جن کی تفصیل کی ضرورت نہیں اس کام کے لئے حضرت علیؓ ہی زیادہ موزوں تھے (یہ بھی ملحوظ رہے کہ شیخین اور دوسرے تمام ہی اکابر صحابہؓ لشکر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جانے والوں میں تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اہم معاملات میں مشورہ کے لئے بھی ان کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے تھے ۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شیعہ علماء و مصنفین غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل اور اس ارشاد کو اس بات کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلافت کے سب سے زیادہ حق دار حضرت علیؓ ہی تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی زندگی میں خلیفہ بنا کر اپنے بعد کے لئے خلافت کا مسئلہ بھی طے فرما دیا تھا .... ظاہر ہے کہ اس دلیل کی رکاکت اور غیر معقولیت سمجھنے کے لئے کسی خاص درجہ کی عقل و فہم کی ضرورت نہیں ..... سفر وغیرہ کی محدود مدت کے لئے عارضی طور پر کسی کو اپنا نائب اور قائم مقام بنانے میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے مستقل خلیفہ اور امت کی امامت عامہ میں جو فرق ہے اس کو ہر شخص بآسانی سمجھ سکتا ہے ۔ پھر اگر ایسا ہوا ہوتا کہ حضرت موسیٰؑ کے بعد ان کے خلیفہ اور ان کی جگہ امت کے امام عام حضرت ہارونؑ ہوئے ہوتے تب تو یہ واقعہ کسی درجہ میں دلیل ہو سکتا تھا ..... لیکن معلوم و مسلم ہے کہ حضرت ہارونؑ حضرت موسیٰؑ کی زندگی ہی میں روایات کے مطابق حضرت موسیٰ کی وفات سے چالیس سال پہلے وفات پا گئے تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کے خلیفہ یوشع ہوئے ۔ اس سلسلہ میں یہ بات بھی خاص طور سے قابل لحاظ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کو جاتے وقت حضرت علی مرتضیٰؑ کو تو اپنی جگہ گویا مدینہ کا امیر و حاکم اور خلیفہ بنایا تھا لیکن مسجد نبوی میں اپنی جگہ نماز کی امامت کے لئے عبداللہ ابن مکتومؓ کو مقرر فرمایا تھا ..... حالانکہ حضرت علیؓ ہر حیثیت سے ان سے افضل تھے ..... راقم سطور کے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اسی لئے کیا تھا کہ غزوہ تبوک کے زمانہ کی حضرت علیؓ کی اس خلافت و نیابت کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مستقل خلافت اور امامت عامہ کی دلیل نہ بنایا جا سکے ۔ واللہ اعلم ۔

【87】

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : علی مجھ میں سے ہیں اور میں ان میں سے ہوں اور وہ ہر ایمان والے کے ولی ہیں ۔ (جامع ترمذی) تشریح صاحبِ مشکوٰۃ المصابیح نے جامع ترمذی کی اس روایت کا یہی آخری جز نقل کیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ، امام ترمذی نے وہ پورا واقعہ بھی نقل کیا ہے جس سلسلہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی مرتضیٰؓ کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا تھا ۔ واقعہ کا حاصل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی مرتضیٰؓ کو امیر بنا کر ان کی سرکردگی میں ایک لشکر کسی مہم پر روانہ فرمایا ، اللہ تعالیٰ کی مدد سے مہم کامیاب ہوئی اور فتح حاصل ہوئی ، لیکن لشکر میں شامل بعض لوگوں نے حضرت علی مرتضیٰؓ کے اس سلسلہ کے ایک عمل کو صحیح نہیں سمجھا اور واپس آ کر ان لوگوں نے اپنے خیال کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت علیؓ کی شکایت کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی یہ بات سخت ناگوار ہوئی ، کیوں کہ حضرت علی مرتضیٰؓ کے بارے میں ان کی شکایت صحیح نہیں تھی غلط فہمی پر منبی تھی ، اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شکایت کرنے والوں پر ناگواری ظاہر فرمائی ، اور حضرت علی مرتضیٰؓ پر اپنے اعتماد اور خصوصی قرابت و محبت کے خاص تعلق کا اظہار فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا “إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ ..... ” ہماری اردو زبان کے محاورہ میں اس کا حاصل یہ ہے کہ “علی میرے ہیں اورمیں علی کا ہوں” اور حضرت علی مرتضیٰؓ کے ساتھ اپنی محبت اور خصوصی قرب و تعلق کا اظہار انہیں الفاظ کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع جپر فرمایا ہے ، جیسا کہ آئندہ درج ہونے والی حدیث سے بھی معلوم ہو گا ۔ ملحوظ رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مواقع پر دوسرے بعض صحابہؓ کے ساتھ بھی اپنے خصوصی تعلق اور قرب و محبت کا انہیں الفاظ میں اظہار فرمایا ہے ، چنانچہ صحیح مسلم میں روایت ہے کہ ایک غزوہ میں شہید ہو جانے والے ایک صحابی حضرت جلیبیبؓ کی لاش کے پاس کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ “هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ” (1) (یعنی یہ جلیبیب مجھ میں سے ہیں اور میں ان میں سے ہوں) ..... اسی طرح آپ نے ایک مرتبہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے قبیلہ اشعریین کے ایک طرز عمل کا ذکر فرما کر کہ جب وہ جہاد کے سفروں میں جاتے ہیں یا مدینہ کے قیام ہی کے زمانہ میں کھانے پینے کا سامان ان میں سے کچھ لوگوں کے پاس کم ہو جاتا ہے تو جو کچھ جس کے پاس ہوتا ہے وہ سب ایک جگہ جمع کر لیتے ہیں اور آپس میں برابر تقسیم کر لیتے ہیں ان کے بارے میں ارشاد فرمایا “هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ” (یعنی یہ اشعریین مجھ میں سے ہیں اور میں ان میں سے ہوں) ظاہر ہے جیسا کہ عرض کیا گیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ ان اشعریین کے سات خصوصی محبت اور قرب و تعلق کا اظہار ہے ، اس حدیث کو بھی امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے ۔ (1) حدیث کا آخری جملہ ہے “وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ”...... ولی کے معنی دوست ، مدد گار اور سرپرست کے ہیں ، قرآن مجید میں بھی یہ لفظ مختلف مقامات پر ان میں سے کسی ایک معنی میں اساستعمال ہوا ہے ۔ زیر تشریح اس حدیث میں بظاہر یہ لفظ دوست اور محبوب کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا مطلب و مدعا یہ ہے کہ ہر صاحب ایمان کو علیؓ کے ساتھ دوستی اور محبت ہی کا تعلق رکھنا چاہئے ، میرے ساتھ ان کے خصوصی تعلق کا یہ بھی حق ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پاک کی اور اپنے سب محبین اور محبوبین کی (جن میں بلا شبہ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا بھی خاص مقام و مرتبہ ہے) محبت اس عاجز کو اور سب اہل ایمان کو نصیب فرمائے ۔

【88】

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

حضرت حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : علی مجھ میں سے ہیں اور میں علی میں سے ہوں اور میری طرف سے (یہ اہم پیغام) خود میں پہنچا سکتا ہوں یا علی ۔ (جامع ترمذی) تشریح حدیث کا مطلب سمجھنے کے لئے وہ صورت حال پیش نظر رکھنی ضروری ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا ..... ۸؁ھ میں فتح مکہ اور وہاں اسلامی اقتدار قائم ہو جانے کے بعد اگلے سال سورہ براءۃ نازل ہوئی ، جس میں مشرکین و کفار کے بارے میں خاص اور اہم احکام ہیں مثلاً یہ کہ جو معاہدہ ان کے ساتھ کیا گیا تھا ان کی شرارتوں کی وجہ سے وہ فسخ کر دیا گیا اور یہ کہ اس سال کے بعد کسی مشرک و کافر کو مسجد حرام میں داخلہ کی اجازت نہیں ہو گی وغیرہ وغیرہ ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر حج بنا کر بھیجا اور یہ ذمہ داری بھی ان کے سپرد ہوئی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حج کے موقع پر مختلف علاقوں سے آنے والے تمام کفار و مشرکین کو اللہ تعالیٰ کے وہ احکام پہنچا دیں جو سورہ براءۃ میں ان کے بارے میں نازل کئے گئے ہیں اور سورہ براءۃ کی وہ سب آیتیں بھی ان کو سنا دیں ..... صدیق اکبر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں حج کے لئے ساتھ جانے والوں کی جمیعت کے ساتھ روانہ ہو گئے ۔ بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آیا کہ عربوں کا یہ قانون اور ان کی یہ روایت رہی ہے کہ اگر کوئی معاہدہ کیا جائے یا کسی معاہدہ کو فسخ کیا جائے یا اس طرح کا کوئی بھی اہم معاملہ ہو تو وہ قبیلہ کا سردار یا سربراہ بذات خود کرے یا اس کے نائب اور قائم مقام کی حیثیت سے نسبی رشتے سے اس کا کوئی قریب ترین عزیز ۔ اس کے بغیر وہ قابل قبول نہ ہو گا ..... تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضروری سمجھا کہ آپ کی طرف سے ان اہم اعلانات کے لئے علی مرتضیٰؓ کو بھیجا جائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی چچا زاد بھائی اور داماد بھی تھے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس کام کے لئے بعد میں مکہ معظمہ کے لئے روانہ فرمایا ..... اس موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : “عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْ عَلِيٍّ، وَلاَ يُؤَدِّي عَنِّي إِلاَّ أَنَا أَوْ عَلِيٌّ” الغرض اس ارشاد کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کے بعد حضرت علی مرتضیٰؓ کو اس کام کے لئے بھیجنے کی غرض و غایت بیان فرمائی ۔ پھر جب حضرت علی مرتضیٰ جا کر صدیق اکبرؓ سے مل گئے تو انہوں نے دریافت فرمایا کہ آپؓ امیر کی حیثیت سے بھیجے گئے ہیں یا مامور کی حیثیت سے ، تو حضرت علی مرتضیٰؓ نے فرمایا ، میں امیر کی حیثیت سے نہیں مامور کی حیثیت سے آیا ہوں ، امیر آپ ہی ہیں اور میں خاص طور سے اس غرض سے بھیجا گیا ہوں ۔ یہ جو کچھ ہوا من جانب اللہ ہوا ، اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شروع ہی میں حضرت علی مرتضیٰؓ کو امیر حج کی حیثیت سے روانہ فرماتے تو اس سے غلط فہمی ہو سکتی تھی کہ آنحضرت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلافت کے اولین حق دار حضرت علی مرتضیٰؓ ہیں ، امت کو اس غلط فہمی سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک میں ڈالا گیا کہ امیر حج بنا کر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو روانہ کریں ، بعد میں حضور کے قلب میں وہ بات ڈالی گئی جس کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی مرتضیٰؓ کو بھیجنا ضروری سمجھا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس طرح امت میں رہنمائی فرمائی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں کے امیر اور آپ کے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیقؓ ہوں گے یہ بالکل اسی طرح ہوا جس طرح کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود مسجد جا کر امامت کرنے سے معذور ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈالا گیا کہ اپنی جگہ ابو بکر صدیقؓ کو نماز کا امام مقرر فرما دیں ۔ ان ربنا لطيف لما يشاء .

【89】

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ آ کر) اپنے اصحاب میں مواخاۃ قائم فرمائی (یعنی صحابہؓ میں سے ہر ایک کو کسی دوسرے کا بھائی بنا دیا) تو حضرت علیؓ آئے (اس حال میں کہ رنج و غم سے) ان کی دونوں آنکھون سے آنسو جاری تھے اور عرض کیا کہ آپ نے اپنے تمام اصحاب کے درمیان مواخاۃ کا رشتہ قائم فرما دیا اور میرے اور کسی دوسرے کے درمیان آپ نے مواخاۃ قائم نہیں فرمائی (یعنی مجھے کسی کا اور میرا کسی کو بھائی ہو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ (جامع ترمذی) تشریح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام جب ہجرت فرما کر مدینہ آئے یہ آنے والے مہاجرین مختلف قبیلوں اور مختلف مقامات کے تھے ، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخاۃ کا نظام قائم فمایا یعنی دو دو صحابیوں کا ایک جوڑا بنا کر ان کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دے دیا تا کہ ایک دوسرے کے دکھ درد میں اور ضرورت میں حقیقی بھائی کی طرح کام آویں اور کسی کو تنہائی اور بے کسی کا احساس نہ ہو ۔ مثلاً آپ نے حضرت ابو الدرداء انصاریؓ اور حضرت سلمان فارسیؓ کو ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا ، جن کے درمیان پہلے سے نہ کوئی نسبی رشتہ تھا اور نہ ہم وطنی کا تعلق ..... اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام اصحاب کے درمیان مواخاۃ کا رشتہ قائم فرما دیا ، حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا کسی کے ساتھ یہ رشتہ قائم نہیں فرمایا وہ اکیلے ہی رہ گئے ، اس سے رنجیدہ اور غمگین ہو کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ نے اپنے تمام اصحاب کے درمیان مواخاۃ کا رشتہ قائم فرمایا اور مجھے کسی کا اور کسی کو میرا بھائی نہیں بنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “انت اخى فى الدنيا والاخرة” (یعنی تم میرے بھائی ہو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی) .... ظاہر ہے کہ حضرت مرتضیٰؓ کو یہ سن کر کیسی مسرت اور خوشی ہوئی ہو گی .... بلا شبہ حضرت علی مرتضیٰؓ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو قرابت نصیب تھی وہ صرف انہیں کا حصہ تھا جیسا کہ معلوم ہے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی چچا زاد بھائی تھے اور آپ کی دعوت پر سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں ہیں اور دامادی کے شرف سے بھی مشرف فرمائے گئے ۔ رضی اللہ عنہ وارضاہ ۔

【90】

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (کھانے کے لئے بھنا ہوا یا پکا ہوا) ایک پرندہ تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اے اللہ ! تو میرے پاس بھیج دے ایسے بندے کو جو تیری مخلوق میں تجھ کو سب سے زیادہ محبوب اور پیارا ہو ، جو اس پرندہ کے کھانے میں میرے ساتھ شریک ہو جائے ، تو آ گئے علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس پرندہ کے کھانے میں شریک ہو گئے ۔ (جامع ترمذی) تشریح اس حدیث سے شیعہ صاحبان استدلال کرتے ہیں کہ حضرت علی مرتضیٰؓ اللہ کی ساری مخلوق سے جس میں شیخین بھی شامل ہیں افضل اور اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب اور پیارے تھے ۔ لیکن ظاہر ہے کہ اللہ کی مخلوق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل ہیں اگر حدیث سے یہ نتیجہ نکالا جائے گا تو لازم آ جائے گا کہ ان کو شیخین ہی سے نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی افضل اور للہ کا زیادہ محبوب اور پیارا مانا جائے ۔ اس بنا پر شارحین حدیث نے لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ ! تو کسی ایسے بندے کو بھیج دے جو تیرے محبوب ترین بندوں میں سے ہو اور یقیناً حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے محبوب ترین بندوں میں سے ہیں ۔ اس حدیث کے بارے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ علامہ ابن الجوزیؒ نے اس کو موضوع قرار دیا ہے ، حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے ان کی اس رائے سے اتفاق نہیں کیا لیکن یہ تسلیم کیا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے ۔

【91】

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں ۔ (جامع ترمذی) تشریح معلوم ہوا کہ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ صغر سنی ہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر اسلام لائے اور اس کے بعد برابر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت اور صحبت میں رہے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم سے استفادہ میں ان کو ایک درجہ خصوصیت حاصل ہے ۔ اسی بنا پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا “أَنَا دَارُ الحِكْمَةِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا” (میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں) لیکن اس سے یہ سمجھنا اور یہ نتیجہ نکالنا بس حضرت علیؓ ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ آئے ہوئے علم و حکمت کے حامل و وارث تھے اور ان ہی کے ذریعہ اس کو حاصل کیا جا سکتا ہے اور ان کے سوا کسی دوسرے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے علم و حکمت کو حاصل نہیں کیا جا سکتا ۔ انتہائی درجہ کی نافہمی ہے ، قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اُمیین میں اپنا رسول بنا کر بھیجا جو ان کو اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سناتے ہیں اور کتاب اللہ اور حکمت کی ان کو تعلیم دیتے ہیں قرآن مجید کی یہ آیتیں بتلاتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتاب و حکمت کی تعلیم اپنے اپنے ظرف اور اپنی اپنی استعداد کے مطابق تمام صحابہ کرامؓ نے پائی ، لہذا یہ سبھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ آئے ہوئے علم و حکمت کا ذریعہ اور دروازہ ہیں ۔ یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ جب اسلام لائے تو جیسا کہ ل کھا جا چکا ہے کہ وہ صغیر السن تھے ان کی عمر مشہور روایات کے مطابق صرف آٹھ یا دس سال یا اس سے کچھ زیادہ تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم سے استفادہ کی وہی استعداد اور صلاحیت اس وقت ان کو حاصل تھی جو فطری طور پر اس عمر میں ہونا چاہئے لیکن صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اسی دن جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر اسلام قبول کیا تو ان کی عمر چالیس سال کی ہو چکی تھی اور فطری طور پر ان کو استفادہ کی وہ کامل استعداد اور صلاحیت حاصل تھی جو اس عمر میں ہونی چاہئے اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے آئے ہوئے علم و حکمت میں ان کا حصہ دوسرے تمام صحابہ کرامؓ سے مجموعی طور پر زیادہ تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض وفات میں ان کو اپنی جگہ نماز کا امام مقرر فرمایا یہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حضرت صدیق اکبرؓ کے اعلم بالکتاب والحکمۃ ہونے کی سند تھی پھر صحابہ کرامؓ نے بالاتفاق ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ اور امت کا امام تسلیم کر کے عملی طور پا اس کا اعتراف کیا اور گویا اس حقیقت کی شہادت دی ۔ نیز یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ مختلف صحابہ کرام کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علم دین کے مختلف شعبوں میں ان کے تخصص اور امتیاز کا کر فرمایا ہے ، جیسا کہ ان شاء اللہ مناقب ہی کے سلسلہ میں آئندہ درج ہونے والی بعض احادیث سے معلوم ہو گا ۔ پھر اس واقعی حقیقت میں کس کو شک و شبہ کی گنجائش ہو سکتی ہے کہ حضرات تابعینؒ نے مختلف صحابہ کرام سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا علم حاصل کیا ، جس کو اللہ تعالیٰ نے محدثین کے ذریعہ حدیث کی کتابوں میں محفوظ کرا دیا اور اسی سے قیامت تک امت کو رہنمائی ملتی رہے گی ۔ ذالك تقدير العزيز العليم. یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ابن الجوزیؒ اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ وغیرہ ناقد محدثین نے زیر تشریح اس حدث “أَنَا دَارُ الحِكْمَةِ” کو موضوع قرار دیا ہے ، خود امام ترمذیؒ نے یہ حدیث نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے ۔ “هذا حديث غريب منكر” بہرحال سند کے لحاظ سے یہ حدیث محدثین کے نزدیک غیر مقبول اور ناقابل استناد ہے ۔

【92】

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

حضرت ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر (کسی مہم پر روانہ فرمایا) جس میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی تھے ، کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا ، اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (دعا کے لئے) ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے کہ اے اللہ ! مجھے اس وقت تک دنیا سے نہ اٹھا ، تا آنکہ تو مجھے علی کو دکھا دے ۔ (جامع ترمذی) تشریح حدیث کسی تشریح و توضیح کی محتاج نہیں ، بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان وجوہ سے جن کا ذکر کیا جا چکا ہے ، حضڑت علی مرتضیٰؓ کے ساتھ غایت درجہ کی محبت تھی ..... اسی کا مظہر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا بھی ہے ۔

【93】

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے دونوں نواسوں) حسنؓ اور حسینؓ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا کہ جس نے مجھ سے محبت کی اور ان دونوں سے اور ان کے والد اور والدہ (علی مرتضیٰ اور سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہما) سے محبت کی تو وہ قیامت کے دن جنت میں میرے درجہ میں میرے ساتھ ہو گا ۔ (جامع ترمذی) تشریح اسی سلسلہ معارف الحدیث (1) میں ناظرین صحیح بخاری و صحیح مسلم کے حوالہ سے انس رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث پڑھ چکے ہیں جس میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر دریافت کیا ۔ متی الساعۃ ؟ (قیامت کب آئے گی) آپ ن ے فرمایا ۔ تم قیامت کے بارے میں پوچھتے ہو ، تم نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے ؟ اس نے عرض کیا میں نے قیامت کے لئے اس کے سوا کوئی خاص تیاری نہیں کی ہے کہ مجھے اللہ اور اس کے رسول سے محبت ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “انت مع من احببت” مطلب یہ کہ تم اطمینان رکھو ، آخرت میں تم ان کے ساتھ کر دئیے جاؤ گے جن سے تمہیں محبت ہے یعنی جب تم کو مجھے سے محبت ہے تو تم میرے ساتھ کر دئیے جاؤ گے ..... اس حدیث کے راوی حضرت انس رضی اللہ عنہ ، نے بیان فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سن کر تمام صحابہؓ ایسے خوش ہوئے کہ اسلام لانے کے بعد انہیں کبھی ایسی خوشی نصیب نہیں ہوئی تھی ۔ آگے حضرت انس رضی اللہ عنہ خود اپنے بارے میں فرماتے ہیں ۔ «فَأَنَا أُحِبُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ مَعَهُمْ بِحُبِّي إِيَّاهُمْ» ترجمہ : پس میرا حال یہ ہے کہ میں محبت رکھتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ابو بکرؓ و عمرؓ سے اور امید رکھتا ہوں کہ اپنی اس محبت ہی کی وجہ سے آخرت میں مجھے ان حضرات کا ساتھ نصیب ہو گا ۔ الغرض یہ اللہ تعالیٰ کا قانون رحمت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوبین سے محبت کرنے والے آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دئیے جائیں گے (اور بلاشبہ حضرات حسنینؓ اور ان کی والدہ ماجدہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر سیدہ فاطمہ زہراؓ اور ان کے محترم شوہر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عزیز بھائی حضرت علیؓ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوبین میں خاص مقام ہے) پس جن خوش نصیب اہل ایمان کو محبوب رب العالمین سیدا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان محبوبین کے ساتھ محبت ہو گی ۔ ان کو اللہ تعالیٰ کے اس قانون رھمت کے مطابق آخرت اور جنت میں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت نصیب ہو گی ۔ اللہ تعالیٰ اس عاجر (راقم سطور) کو اور قارئین کو اپنی اور اپنے محبوب سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے محبوبین کی محبت نصیب فرمائے ۔

【94】

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں بیمار ہو گیا تھا (اور مجھے سخت تکلیف تھی) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گذرے اور میں اللہ سے یہ دعا کر رہا تھا اے اللہ ، اگر میری موت کا وقت قریب آ گیا تو مجھ کو راحت عطا فرما دے (یعنی موت دے کر اس تکلیف سے نجات دے دے) اور اگر میری موت دیر سے آنے والی ہے تو مجھے فراخی کی زندگی عطا فرما اور اگر یہ (بیماری اور تکلیف تیری طرف سے) امتحان اور آزمائش ہے تو مجھ کو صبر کی توفیق عطا فرما ۔ (کہ بےصبری اور تکلیف کا اظہار نہ کروں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ سن کر مجھ سے) فرمایا ، تم نے یہ کیا کہا ؟ تو (جو میں نے بطور دعا کے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا تھا وہ) میں نے آپ کے سامنے دہرایا تو آپ نے اپنا قدم مبارک مارا اور دعا فرمائی ۔ اللَّهُمَّ عَافِهِ، اے اللہ اس کو عافیت عطا فرما دے ! (راوی کو شک ہے کہ آپ نے فرمایا) اللَّهُمَّ اشْفِهِ، (اے اللہ اس کو شفا عطا فرما دے) حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے کبھی وہ تکلیف نہیں ہوئی ۔ (جامع ترمذی) تشریح حدیث کسی تشریح کی محتاج نہیں ۔ بلاشبہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا ۔

【95】

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے بعض لوگوں نے کہا کہ ہم آپ کو شدید گرمی کے زمانہ میں دیکھتے ہیں کہ آپ سردی کے موسم کے کپڑے پہنے ہوتے ہیں ، اور اسی طرح ہم کبھی جاڑوں کے زمانہ میں آپ کو دیکھتے ہیں کہ آپ گرمی کے موسم کے کپڑے پہنے ہوتے ہیں اور پسینہ پونچھتے ہیں ! تو حضرت علیؓ نے جواب میں فرمایا کہ ایک دفعہ میری آنکھ میں تکلیف تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا آب دہن ڈالا (تھوک دیا) اس کے بعد سے اب تک کبھی مجھے آنکھ کی وہ تکلیف نہیں ہوئی ۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے دعا فرمائی تھی ۔ اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ (اے اللہ گرمی اور جاڑے کو اس سے دور رکھ) تو اس کے بعد سے نہ تو میں نے آج تک گرمی محسوس کی اور نہ سردی ۔ (معجم اوسط للطبرانی) تشریح حدیث کسی تشریح و وضاحت کی محتاج نہیں ، ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا یہ اثر آپ کے معجزات میں سے ہے ۔

【96】

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس حالت میں دیکھا ہے کہ بھوک کی وجہ سے میں اپنے پیٹ پر پتھر باندھتا تھا (اور اب بفضلہ تعالیٰ میری یہ حالت ہے کہ) میرے مال کی زکوٰۃ چالیس ہزار اشرفیاں ہوتی ہیں ۔ (مسند احمد) تشریح اسی سلسلہ معارف الحدیث (1) میں کتاب الرقاق میں وہ حدیثیں درج کی جا چکی ہیں جن میں ذکر کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے اور اپنے گھر والوں کے لئے فقر و فاقہ کی زندگی پسند فرمائی اور اللہ تعالیٰ سے اس کی دعا کی تھی کئی کئی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل و عیال پر ایسے گذر جاتے تھے کہ کچھ بھی کھانے کی نوبت نہ آتی تھی ، ایسے دنوں میں کبھی کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم شدت ضعف سے پیٹ پر پتھر باندھ لیتے تھے جس سے ضعف میں کمی آ جاتی تھی ..... آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص متعلقین میں حضرت علیؓ بھی تھے ، ان کو بھی کبھی ایسا کرنا پڑتا تھا ۔ اس حدیث میں انہوں نے اسی وقت کا حوالہ دے کر فرمایا ہے کہ ایک زمانہ ایسا تھا کہ فاقہ کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مجھے بھی پیٹ پر پتھر باندھنا پڑ جاتا تھا اور اب بفضل خداوندی میرے پاس اتنی دولت ہے کہ چالیس ہزار اشرفیاں اس کی زکوٰۃ ہوتی ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر فقر و فاقہ کی زندگی پسند کرنا بلاشبہ سعادت اور بہت بڑی فضیلت ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو جائز اور حلال طریقہ سے دولت عطا فرمائے اور وہ اللہ کے شکر کے ساتھ دولت کا حق ادا کرے تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کے انعام کی ایک خاص صورت ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مضمون کے ارشادات بھی معارف الحدیث (1) کے اسی سلسلے میں ذکر کئے جا چکے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت علیؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر فقر و فاقہ کی زندگی کی سعادت بھی عطا فرمائی اور بعد میں دولت اور اس کا حق ادا کرنے کی نعمت سے بھی نوازا ۔ ما احسن الدين والدنيا لو اجتمعا ۔

【97】

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

حضرت براء بن عازب اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیر خم پر نزول اور قیام فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر (عام حاضرین و رفقاء سفر سے خطاب کرتے ہوئے) فرمایا کہ “أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ” (کیا تم نہیں جانتے ہو کہ میں مسلمانوں کا ان کے نفسوں اور ان کی جانوں سے بھی زیادہ دوست اور محبوب ہوں) سب نے عرض کیا کیوں نہیں ہاں ! بےشک ایسا ہی ہے (اس کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ” (کیا تم نہیں جانتے کہ میں ہر مسلمان کا اس کے نفس اور اس کی جان سے زیادہ دوست اور محبوب ہوں)سب نے عرض کیا کیوں نہیں ہاں ! بےشک ایسا ہی ہے (اس کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “اَللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ” (اے اللہ ! میں جس کا دوست ہوں تو یہ علی بھی اس کے دوست ہیں ، اے اللہ جو علیؓ سے دوستی رکھے تو اس سے دوستی فرما اور جو اس سے دشمنی رکھے تو اس کے ساتھ دشمنی کا معاملہ فرما) اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملے اور (ان کو مبارک باد دیتے ہوئے) فرمایا کہ تمہیں مبارک اور خوشگوار ہو اے ابن ابی طالب ! کہ تم ہر صبح اور ہر شام (یعنی ہر وقت) ہر مومن اور مومنہ کے دوست اور محبوب ہو گئے ۔ (مسند احمد) تشریح یہ واقعہ جس کا ذخر اس روایت میں کیا گیا ، حجۃ الوداع کے سفر سے واپسی کا ہے “غدیر” کے معنی تالاب کے ہیں اور خم ایک مقام کا نام ہے جس کے قریب یہ تالاب تھا ، یہ مقام مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ جاتے ہوئے مشہور بستی “الجحفہ” سئ تین چار میل کے فاصلہ پر واقع تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع سے واپس ہوتے ہوئے اپنے فرقاء سفر کے پورے قافلہ کے ساتھ جس میں مدینہ منورہ اور قرب و جوار کے تمام ہی وہ صحابہ کرامؓ تھے جو اس مبارک سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، ۱۸؍ ذی الحجہ کو اس مقام پر پہنچے تھے ، اور قیام فرمایا تھا ، یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان رفقاء سفر کو جمع کر کے ایک خطبہ ارشاد فرمایا ۔ اس خطبہ سے متعلق حدیث کی کتابوں میں جو روایات ہیں ۔ ان سے کو جمع کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خطاب میں کچھ اہم باتیں ارشاد فرمائی تھی جن میں سے ایک بات حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے بارے میں وہ بھی تھی جو اس روایت میں ذکر کی گئی ہے ۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تمہید کے ساتھ خاص اہمیت سے بیان فرمائی ۔ سورہ احزاب کے آیت نمبر ۶ میں ارشاد فرمایا گیا ہے : “النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ” اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کو فطری طور پر سب سے زیادہ محبت و خیرخواہی اپنے نفس اور اپنی عزیز جان کے ساتھ ہوتی ہے ، ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ہے کہ اہل ایمان اپنے نفس اور اپنی جان عزیز سے بھی زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت رکھیں ۔ قرآن پاک کی اس آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضرین سے فرمایا کہ کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ میں سب ایمان والوں کی دوستی اور محبت کا ان کے نفسوں اور ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق دار ہوں ۔ سب حاضرین نے بیک زبان عرض کیا کہ ہاں ! بےشک ایسا ہی ہے ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ “کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ ہر مومن کو اپنے نفس اور اپنی عزیز جان سے جو محبت اور تعلق ہے اس سے زیادہ محبت اور تعلق اس کو میرے ساتھ ہونا چاہئے ۔ سب حاضرین نے عرض کیا کہ ہاں بےشک ایسا ہی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ھق ہم میں سے ہر ایک پر یہ ہے کہ اپنے نفس اور اپنی جان عزیزسے بھی زیادہ محبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو ..... اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا ۔ «اَللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» اے اللہ (تو گواہ رہ کہ) میں جس کا دوست اور محبوب ہوں تو یہ علی بھی اس کے دوست اور محبوب ہیں ، تو اے اللہ ! میری تجھ سے دعا ہے کہ جو علیؓ سے محبت رکھے تو اس سے محبت کا معاملہ فرما اور جو اس سے عداوت رکھے تو اس کے ساتھ عداوت کا معاملہ فرما ..... حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خطاب کے بعد حضرت عمرؓ ، حضرت علی مرتضیٰؓ سے ملے اور مبارک باد دیتے ہوئے فرمایا اے ابن ابی طالب ! تم کو مبارک اور خوشگوار ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق ہر ایمان والے اور ہر ایمان والی کے تم محبوب ہو گئے ، ہر ایک تم سے ہمیشہ محبت کا تعلق رکھے گا ۔ یہاں تک صرف حدیث کے مضمون کی تشریح کی گئ ، اس موقع پر راقم سطور ناظرین کو یہ بتلانا بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ شیعہ علماء و مصنفین اس حدیث کو اپنے اس عقیدہ اور دعوے کی مضبوط ترین اور سب سے زیادہ وزنی دلیل کے طور پر پیش کرے ہیں غدیر خم کے س خطاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد کے لئے حضرت علی مرتضیٰؓ کو خلیفہ و جانشین اور امت کا امام و حاکم بنا دیا تھا اور اس خطاب کا خاص مقصد یہی تھا ، وہ کہتے ہیں کہ مولیٰ کے معنی آقا ، مالک اور حاکم کے ہیں اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ میں جن لوگوں کا آقا اور حاکم ہوں ۔ علیؓ ان سب کے آقا اور حاکم ہیں ، پس یہ حضرت علی مرتضیٰؓ کی خلافت اور امت پر ان کی حاکمیت کا اعلان تھا ..... ان شاء اللہ آئندہ سطور سے ناظرین کرام کو معلوم ہو جائے گا کہ شیعہ علماء کا یہ دعویٰ اور ان کی یہ دلیل کس قدر لچر ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ عربی زبان میں بہت سے الفاظ ایسے جو بیس بیس یا اس سے بھی زیادہ معنوں میں استعمال ہوتے ہیں ۔ لفظ مولیٰ بھی انہیں الفاظ میں سے ہے ۔ عربی لغت کی مشہور و مستند ترین کتاب “القاموس المحیط” میں اس لفظ مولیٰ کے مندرجہ ذیل ۲۱ معنی لکھے ہیں ۔ المولى : (1) المالك(2) والعبد(3) والعتق(4) والمعتق(5) والصاحب(6) والقريب كابن العم ونحوه(7) والجار(8) والحليف(9) والابن(10) والعم(11) والنزيل(12) والشريك(13) وابن الاخت(14) والولى(15) والرب(16) والناصر(17) والمنعم(18) والمنعم عليه(19) والمحب(20) والتابع(21) والصهر (1) (ان تمام الفاظ کا ترجمہ مصباح اللغات کی عبارت میں ناظرین کرام ملاحظہ فرمائیں گے جو آگے نقل کی جا رہی ہے) اور عربی لغت کی دوسری مستند و معروف کتاب “اقرب الموارد” میں بھی لفظ مولیٰ کے یہی سب معنی لکھے گئے ہیں ۔ (2) لغت حدیث کی مشہور و مستند ترین کتاب “النهاية لابن الاثير الجزري فى غريب الحديث والاثر” میں بھی قریبا یہ سب معنی لکھے گئے ہیں ، علامہ طاہر پٹنی نے مجمع بحار الانوار میں نہایہ ہی کے حوالہ سے اس کی پوری عبارت نقل کر دی ہے ۔ (3) مصباح اللغات جس میں عربی الفاظ کے معنی اردو زبان میں لکھے گئے ہیں ، اس میں قریب قریب ان سب الفاظ کا ترجمہ آ گیا ہے جو “القاموس المحیط” اور “اقرب الموارد” وغیرہ مندرجہ بالا کتابوں میں لکھے گئے ہیں ، ہم اس کی عبارت بعینہٖ ذیل میں درج کرتے ہیں ۔ المولی = مالک و سردار ، غلام آزاد کرنے والا ، آزاد شدہ ، انعام دینے والا جس کو انعام دیا جائے ، محبت کرنے والا ، ساتھی ۔ حلیف پڑوسی ، مہمان ، شریک ، بیٹا ، چچا کا بیٹا ، بھانجا ، چچا ، داماد ، رشدہ دار ، والی ، تابع ۔ (4) معلوم ہونا چاہئے کہ قرآن پاک کی کسی آیت یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ارشاد میں یا کسی بھی فصیح و بلیغ کلام میں جب کوئی کثیر المعنی لفظ استعمال ہو تو خود اس میں یا اس کے سیاق و سباق میں ایسا قرینہ موجود ہوتا ہے جو اس لفظ کے معنی اور اس کی مراد متعین کر دیتا ہے .... اس زیر تشریح حدیث میں خود قرینہ موجود ہے ، جس سے اس حدیث کے لفظ مولیٰ کے معنی متعین ہو جاتے ہیں ، حدیث کا آخری دعائیہ جملہ ہے “اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ” (اے اللہ جو علی سے دوستی اور محبت رکھے تو اس سے دوستی اور محبت فرما ، اور جو اس سے دشمنی رکھے ، تو اس کے ساتھ دشمنی کا معاملہ فرما) ۔ اس سے متعین طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ حدیث میں لفظ مولیٰ دوست اور محبوب کے معنی میں استعمال ہوا ہے ، اور “مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ” کا مطلب وہی ہے جو اوپر تشریح میں بیان کیا گیا ہے ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جو کچھ ہوا ، وہ اس بات کی روشن اور قطعی دلیل ہے کہ غدیر خم کے ہزاروں صحابہ کرام کے اس مجمع میں کسی فرد نے ، خود حضرت علی مرتضیٰؓ اور ان کے قریب ترین حضرات نے بھی حضور کے اس ارشاد کا مطلب یہ نہیں سمجھا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد کے لئے ان کی خلافت و حاکمیت اور امت کی امامت عامہ کا اعلان فرما رہے ہیں ، اگر خود حضرت علی مرتضیٰؓ نے اور ان کے علاوہ جس نے بھی ایسا سمجھا ہوتا ، تو ان کا فرض تھا کہ جس وقت خلافت کا مسئلہ طے ہو رہا تھا تو یہ لوگ کہتے کہ ابھی صرف ستر (۷۰) بہتر (۷۲) دن پہلے غدیر خم کے موقعہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ کو اپنا خلیفہ اور جانشین بنا دیا تھا اور اہتمام سے اس کا اعلان فرمایا تھا الغرض یہ مسئلہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم طے فرما گئے ہیں اور حضرت علیؓ کو اپنے بعد کے لئے خلیفہ نامزد فرما گئے ہیں ، اب وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ امت کے حکمران اور سربراہ ہیں .... لیکن معلوم ہے کہ نہ حضرت علیؓ نے یہ بات کہی اور نہ کسی اور نے ، سبھی نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ اور جانشین تسلیم کر کے بیعت کر لی ۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ اگر شیعہ علماء کی یہ بات مان لی جائے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیر خم کے اس خطبہ میں “مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ” فرما کر حضرت علی مرتضیٰؓ کی خلافت و جانشینی صاف صاف اعلان فرمایا تھا تو معاذ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سب سے بڑے مجرم ٹھہریں گے کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وصال کے بعد اس کی بنیاد پر خلافت کا دعویٰ کیوں نہیں فرمایا ؟ ان کا فرض تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تجویز کی تنقید اور اس فرمان و اعلان کو عمل میں لانے کے لئے میدان میں آتے اگر کوئی خطرہ تھا تو اس کا مقابلہ فرماتے ۔ یہی بات حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے پوتے حسن مثلث نے اس شخص کے جواب میں فرمائی تھی جو حضرت علی مرتضیٰؓ کے بارے میں رافضیوں والا غالیانہ عقیدہ رکھتا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد من کنت مولاہ فعلی مولاہ کے بارے میں کہتا تھا کہ اس ارشاد کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی مرتضیٰؓ کو خلیفہ نامزد فرمایا تھا ، تو حضرت حسن مثلث نے اس شخص سے فرمایا تھا ۔ ولو كان الامر كما تقولون ان الله جل وعلى ورسوله صلى الله عليه وسلم اختار عليا لهذا الامر والقيام على الناس بعده فان عليا اعظم الناس خطيئة وجر ما اذ ترك امر رسول الله صلى الله عليه وسلم ۔ (1) ترجمہ : اگر بات وہ ہو جو تم لوگ کہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام نے علیؓ کو رسول کے بعد خلافت کے لئے منتخب اور نامزد فرما دیا تھا تو علیؓ سب سے زیادہ خطاکار اور مجرم ٹھہریں گے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل نہیں کی ۔ اور جب اس شخص نے حضرت حسن مثلث سے یہ بات سن کر اپنے عقیدہ کی دلیل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد “مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ” کا حوالہ دیا تو حضرت حسن مثلث نے فرمایا ۔ اما و الله لو يعني رسول الله صلى الله عليه و سلم بذالك الامر و السلطان و القيام على الناس لا فصح به كما افصح بالصلاة و الزكاة و الصيام و الحج ولقال ايها الناس ان هذا الولي بعدي اسمعوا واطيعوا. (1) تشریح : سن لو ! میں اللہ کی قسم کھا کے کہتا ہوں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد علی مرتضیٰؓ کو خلیفہ اور حاکم بنانا ہوتا تو بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح صراحت اور وضاحت سے فرماتے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ، زکوٰۃ ، روزوں اور حج کے بارے میں صراحت اور وضاحت سے فرمایا ہے اور صاف صاف یوں فرماتے کہ اے لوگو ! یہ علی میرے بعد ولی الامر اور حاکم ہوں گے لہٰذا تم ان کی بات سننا اور اطاعت و فرمانبرداری کرنا ۔ اس کے بعد یہ بات وضاھت طلب رہ جاتی ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد اس ارشاد سے کیا تھا اور حضرت علی مرتضیٰؓ کے بارے میں اس خطاب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات کس خاص وجہ سے اور کس غرض سے فرمائی ۔ واقعہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع سے کچھ عرصہ پہلے حضرت علی مرتضیٰؓ کو قریبا تین سو افراد کی جمیعت کے ساتھ یمن بھیج دیا تھا ، وہ حجۃ الوداع میں یمن سے مکہ مکرمہ آ کر ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تھے ، یمن کے زمانہ قیام میں ان کے چند ساتھیوں کو ان کے بعض اقدامات سے اختلاف ہوا تھا ، وہ لوگ بھی حجۃ الوداع میں شرکت کے لئے ان کے ساتھ ہی مکہ مکرمہ آئے تھے ، یہاں آ کر ان میں سے بعض لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اپنے احساس و خیال کے مطابق حضرت علیؓ کی شکایت کی (2) اور دوسرے لوگوں نے بھی ذکر کر دیا ..... بلا شبہ یہ ان کی بہت بڑی غلطی تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جن لوگوں نے شکایت کی ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی مرتضیٰؓ کا عنداللہ اور دین میں جو مقام و مرتبہ ہ ان کو بتلا کر اور ان کے اقدامات کی تصویب اور توثیق فرما کر ان کے خیالات کی اصلاح فرما دی ، لیکن بات دوسرے لوگوں تک بھی پہنچ چکی تھی ، شیطان ایسے موقعوں سے فائدہ اٹھا کر دلوں میں کدورت اور افتراق پیدا کر دیتا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس صورت حال کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت محسوس فرمائی کہ حضرت علی مرتضیٰؓ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے محبوبیت اور مقبولیت کا جو مقام حاصل ہے اس سے عام لوگوں کو آگاہ فرما دیں اور اس کے اظہار و اعلان کا اہتمام فرمائیں .... اسی مقصد سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیر خم کے اس خطبہ میں جس کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام رفقاء سفر صحابہ کرامؓ کو جمع فرما دیا تھا ، خاص اہتمام سے حضرت علیؓ کا ہاتھ اپنے دست مبارک میں لے کر ارشاد فرمایا تھا ۔ “مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ” جیسا کہ تفصیل سے اوپر ذکر کیا جا چکا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا مطلب یہی ہے کہ میں جس کا محبوب ہوں یہ علیؓ بھی اس کے محبوب ہیں لہذا جو مجھ سے محبت کرے اس کو چاہئے وہ ان علی سے بھی محبت کرے ، آگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ، اے اللہ جو بندہ علی سے محبت و موالاۃ کا تعلق رکھے اس سے تو محبت و موالاۃ کا معاملہ فرما اور جو کوئی علی سے عداوت رکھے اس کے ساتھ عداوت کا معاملہ فرما ، جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا گیا یہ دعائیہ جملہ اس کا واضح قرینہ ہے کہ اس حدیث میں مولیٰ کا لفظ محبوب ہے اور دوست کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ الغرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد “مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ..... الخ” کا مسئلہ امامت و خلافت سے کوئی تعلق نہیں ۔ امید ہے کہ یہاں تک جو کچھ اس مسئلہ کے بارے میں عرض کیا گیا وہ ہر صاحب ایمان سلیم القلب کے لئے ان شاء اللہ کافی و شافی ہو گا ۔ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ

【98】

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قاضی بنا کر یمن بھیجا (یعنی بھیجنے کا فیصلہ فرمایا) تو میں نے رض کیا کہ اے رسول خدا ! آپ مجھے قاضی بنا کر بھیج رہے ہیں اور میں نو عمر ہوں اور مجھے قضاء کا (یعنی نزاعات اور مقدمات کا فیصلہ کرنے کا کما حقہ) علم نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے قلب کی رہنمائی فرمائے گا اور تمہاری زبان کو ثابت رکھے گا (یعنی دل میں وہی ڈالے گا اور زبان سے وہی کہلوائے گا جو صحیح اور حق ہو گا) جب تمہارے پاس دو آدمی کسی نزاعی معاملہ کا فیصلہ کروانے کے لئے آئیں تو تم (معاملہ کو) پہلے پیش کرنے والے کے حق میں فیصلہ نہ کر دینا یہاں تک کہ دوسرے فریق کی بات سن لو ، یہ طریقہ تم کو فیصلہ کرنے میں زیادہ کارآمد ہو گا ۔ حضرت علیؓ کا بیان ہے کہ (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تعلیم اور دعا کے) بعد مجھے کسی قضیہ کا فیصلہ کرنے کے بارے میں شکو شبہ بھی پیدا نہیں ہوا ۔ (جامع ترمذی ، سنن ابی داؤد ، سنن ابن ماجہ) تشریح متن حدیث کی ضروری تشریح ترجمہ میں کر دی گئی ہے البتہ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس واقعہ کی روایت حدیث کی مختلف راویوں سے کی گئی ہے جن میں سے بعض میں کچھ اضافے ہیں ، اب سب روایتوں کو سامنے رکھنے کے بعد پورا واقعہ سامنے آ جاتا ہے ۔ کنز العمال میں ابن جریر کے حوالے سے واقعہ اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ : “یمن کے کچھ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں کسی ایسے صاحب کو بھیج دئیے جو ہمیں دین سکھائیں اور شریعت کی تعلیم دیں ، اور ہمارے نزاعات اور قضیوں کا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کریں ۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ تم اس کے لئے یمن چلے جاؤ حضرت علیؓ کا بیان ہے میں نے عرض کیا ہو سکتا ہے کہ وہاں کے لوگ میرے پاس ایسے مقدمات اور ایسے قضیے لے کر آئیں جن کے بارے میں مجھ کو علم نہ ہو تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر اپنا دست مبارک رکھا اور فرمایا “إِذْهَبْ إِنَّ اللَّهَ سَيَهْدِي قَلْبَكَ، وَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ” (جاؤ اللہ تعالیٰ تمہارے قلب کی رہنمائی فرمائے گا اور تمہاری زبان کو ثابت رکھے گا) آگے حضرت علیؓ نے بیان کیا کہ اس کے بعد سے اب تک مجھے کسی قضیہ کا فیصلہ کرنے میں کوئی شک و شبہ پیش نہیں آیا” ْ۔ (1) کنز العمال ہی میں مستدرک حاکم ، ابن سعد ، مسند احمد ، ابن جریر وغیرہ کے حوالہ سے اسی واقعہ کی ایک اور روایت حضرت علیؓ ہی سے کی گئی ہے ، اس میں ہے کہ : “جب میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ عرض کیا کہ میں نو عمر ہوں اور مجھے نزاعات اور مقدمات کا فیصلہ کرنے میں کوئی خاص بصیرت حاصل نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر رکھا اور دعا فرمائی ۔ “اللَّهُمَّ ثَبِّتْ لِسَانَهُ، وَاهْدِ قَلْبَهُ” (اے اللہ تو اس کی زبان کو ثابت رکھ اور اس کے قلب کو ہدایت عطا فرما) ۔ آخر میں حضرت علیؓ کا بیان ہے کہ “فَمَا أَشْكَلَ عَلَيَّ قَضَاءٌ بَعْدُ” (تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کے بعد میرے لئے کسی قضیہ کا فیصلہ نہیں ہوا) ۔ (2) اس عاجز (راقم سطور) کا خیال ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ کے سینہ پر دست مبارک رکھا اور وہ دعا فرمائی جو روایت میں ذکر کی گئی ہے اور ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین ہو گیا کہ یہ دعا قبول فرما لی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ “إِنَّ اللَّهَ سَيَهْدِي قَلْبَكَ، وَيٌثَبِّتُ لِسَانَكَ” “سَيَهْدِي” میں “س” یقین کے اظہار کے لئے ہے ، جیسا کہ قرآن مجید میں موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا گیا ہے ، انہوں نے اپنی قوم سے کہا : “كلا انى معى ربى سيهدين” یہ حقیقت امت کے مسلمات میں سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت علی مرتضیٰ کو نزاعات اور خصوصیات کے فیصلہ کا خاص ملکہ عطا فرمایا تھا اور اس بارے میں آپ کو تخصص اور امتیاز کا مقام حاصل تھا .... اور بلاشبہ یہ ان کی ایک بڑی فضیلت ہے اور ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ بھی ہے ۔

【99】

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! تم کو عیسیٰ ابن مریم سے خاص مشابہت ہے ، یہودیوں نے ان کے ساتھ بغض و عداوت کا رویہ اختیار کیا ، یہاں تک کہ ان کی ماں مریم پر (بدکاری کا) بہتان لگایا اور نصاریٰ نے ان کے ساتھ ایسی محبت کی کہ ان کو اس مرتبہ پر پہنچایا جو مرتبہ ان کا نہیں تھا ، (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کرنے کے بعد) حضرت علیؓ نے فرمایا کہ (بےشک ایسا ہی ہو گا) دو طرح کے آدمی میرے بارے میں ہلاک ہوں گے ، ایک محبت کے غلو کرنے والے جو میری وہ بڑائیاں بیان کریں گے جو مجھ میں نہیں ہیں ، جو دوسرے بغض و عداوت میں حد سے بڑھنے والے ۔ جن کی عداوت ان کو اس پر آمادہ کرنے گی کہ وہ مجھ پر بہتان لگائیں ۔ (مسند احمد) تشریح اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ ارشاد فرمایا تھا اور اسی کی بنیاد پر حضرت علی مرتضیٰؓ نے جو کچھ فرمایا اس کا ظہور ان کے دور خلافت ہی میں ہو گیا ..... خوارج کا فرقہ آپؓ کی مخالفت و عداوت میں اس حد تک چلا گیا کہ آپؓ کو مخرب دین ۔ کافر اور واجب القتل قرار دیا ، اور انہیں میں کے ایک شقی عبدالرحمٰن بن ملجم نے آپؓ کو شہید کیا اور اپنے اس بدبختانہ عمل کو اس نے اعلیٰ درجہ کا جہاد فی سبیل اللہ اور داخلہ جنت کا وسیلہ سمجھا ۔ اور آپ کی محبت میں ایسے غلو کرنے والے بھی پیدا ہو گئے جنہوں نے آپ کو مقام الوہیت تک پہنچا دیا اور ایسے بھی جنہوں نے کہا کہ نبوت و رسالت کے لائق دراصل آپؓ ہی تھے اور اللہ تعالیٰ کا مقصد آپ ہی کو نبی و رسول بنانا تھا اور جبرائیل امین کو وحی لے کر آپ ہی کے پاس بھیجا تھا لیکن ان کو اشتباہ ہو گیا اور وحی لے کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے اور ان کے علاوہ ایسے بھی جنہوں نے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی اور آپ کے بعد کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نامزد امام و خلیفہ اور سربراہ امت تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرح معصوم اور مفترض الطاعۃ تھے اور مقام و مرتبہ میں دوسرے تمام انبیاء علیہم السلام سے افضل اور بالاتر تھے اور کائنات میں تصرف اور علم غیب جیسی خداوندی صفات کے بھی آپؓ حامل تھے ۔ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے حق میں غلو کرنے والے یہ لوگ مختلف فرقوں میں منقسم ہیں ، مذاہب اور فرقوں کی تاریخ میں جو کتابیں لکھی گئی ہیں ان کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان فرقوں کی تعداد پچاس کے قریب تک پہنچتی ہے ۔ ان فرقوں میں اکثر وہ ہیں جن کا ذکر صرف کتابوں میں ملتا ہے ہماری اس دنیا میں جہاں تک ہمارا علم ہے اب ان کا کہیں وجود نہیں ہے .... جو فرقے اب موجود ہیں ان میں بڑی تعداد فرقہ اثنا عشریہ کی ہے جس کا دوسرا نام امامیہ بھی ہے ، اب اکثر ملکوں اور علاقوں میں اسی فرقہ کو “شیعہ” کہا جاتا ہے ، یہ فرقہ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے بعد ان کی اولاد میں گیارہ حضرات کو انہیں کی طرح اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نامزد امت کا امام و حاکم اور آپ ہی کی طرح معصوم اور مفترض الطاعۃ اور تمام انبیاء سابقین سے افضل ہونے کا عقیدہ رکھتا ہے ، اس فرقہ کے عقائد کی تفصیل اور حقیقت حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کی بےنظیر فارسی تصنیف “تحفہ اثنا عشریہ” کے مطالعہ سے معلوم کی جا سکتی ہے اردو خواں حضرات اس موضوع پر امام اہل سنت حضرت مولانا محمد عبدالشکور فاروقی رحمۃ اللہ علیہ کی تصانیف نیز اس عاجز (راقم سطور) کی کتاب “ایرانی انقلاب ، امام خمینی اور شیعیت” کے مطالعہ سے بھی اس فرقہ کا تعارف حاصل کر سکتے ہیں ۔

【100】

فضائل حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ سے (ایک دن) فرمایا ، (بتلاؤ) اگلی امتوں میں سب سے زیادہ شقی اور بدبخت کون تھا ؟ تو حضرت علیؓ نے عرض کیا کہ اے رسول خدا (قوم ثمود کا) وہ بدبخت آدمی تھا جس نے اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ کر اس کو مار ڈالا تھا (جس کو حضرت صالح علیہ السلام کے معجزہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے پتھر کی چٹان سے پیدا فرمایا تھا ، یہ جواب سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا کہ تم نے سچ اور ٹھیک بتایا ، (اب بتلاؤ) بعد کے لوگوں میں سب سے زیادہ شقی اور بدبخت کون ہو گا ؟ انہوں نے عرض کیا ، مجھ کو اس کا علم نہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ کے سر کے اگلے حصہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا وہ (انتہائی بدبخت اور سب سے زیادہ شقی) وہ ہو گا جو (تلوار سے) تمہاری اسی جگہ پر ضرب لگائے گا ..... تو حضرت عیل مرتضیٰ رضی اللہ عنہ (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی بنا پر اپنی داڑھی پکڑ کر) فرمایا کرتے تھے ، اے عراق والوں میں آرزو مند ہوں اور چاہتا ہوں کہ تم میں سے کوئی شقی اور بدبخت ترین آدمی اٹھے اور میری اس داڑھی کو رنگ دے میری اس پیشانی کے خون سے ۔ (معجم کبیر) تشریح قرآن مجید کے آخری پارہ کے سورہ الشمس کے آخر میں حضرت صالح علیہ السلام کی قوم ثمود کی بدترین کافرانہ سرکشی کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا “كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَاهَا ﴿١١﴾ إِذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا” الایۃ .... ان آیتوں میں اس شخص کو “أَشْقَا” یعنی انتہائی درجہ کا بدبخت فرمایا گیا ہے جس نے اس اونٹنی کو مار ڈالا تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے صالح علیہ السلام کے معجزہ کے طور پر پیدا فرمایا تھا ۔ حضرت علی مرتضیٰؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دریافت فرمانے پر انہیں آیات کی روشنی میں عرض کیا تھا کہ اگلی امتوں میں کا انتہائی درجہ کا شقی اور بدبخت وہ تھا جس نے اس ناقہ کو مار ڈالا ۔ اس عاجز راقم سطور کا خیال ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سوال دراصل تمہید تھی ۔ اس پیش گوئی کی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ سے خود انہیں کے بارے میں فرمائی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے حضرت علیؓ کی شہادت کی پیشن گوئی اس تفصیل کے ساتھ فرمائی کہ بدبخت قاتل تمہارے سر کے اگلے حصہ پر تلوار سے ضرب لگائے گا جس کے نتیجہ میں تمہاری یہ داڑھی خون سے رنگ جائے گی اور ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا کہ وہ قاتل بعد میں آنے والے لوگو ں میں سب سے زیادہ اشقیٰ اور انتہائی درجہ کا بدبخت ہو گا ۔ آگے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کے بیان سے معلوم ہوا کہ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ اپنی شہادت کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیش گوئی کو اپنے حق میں بڑی بشارت سمجھتے تھے اور اپنے دار الحکومت عراق کے شہر کوفہ میں فرمایا کرتے تھے کہ اے اہل عراق میں اس کا آرزو مند ہوں اور شوق سے اس دن کا انتظار کر رہا ہوں ، جب تم میں کا بدبخت ترین انسان میرے سر کے خون سے میری داڑھی کو رنگ دے گا ۔ اور جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریبا تیس سال بعد بالکل اسی طرح حضرت علیؓ کی شہادت ہوئی ۔ رضی اللہ عنہ وارضاہ ۔ بلاشبہ پیشنگوئی اور اس کا ٹھیک اسی طرح پورا ہو جانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے ہے ۔ صَلَّى الله عَلَيْهِ واله وصحبه وبارك وَسَلَّمْ. حضرت علی مرتضیٰؓ کی شہادت صاحب مجمع الفوائد نے حضرت صہیبؓ کی مندرجہ بالا روایت کے بعد متصلا معجم کبیر طبرانی ہی کے حوالہ سے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ کس قدر تفصیل سے اسمٰعیل ابن راشد کی روایت سے نقل کیا ہے ، ذیل میں اس کا حاصل اور خلاصہ نذر ناظرین کیا جانا مناسب معلوم ہوا ، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ فرقہ خوارج کا کچھ تعارف کرا دیا جائے ۔ یہ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے لشکر ہی کا ایک خاص گروہ تھا جو اپنی حماقت اور ذہنی کجروی کی وجہ سے ان کے ایک فیصلہ کو غلط اور معاذ اللہ قرآن مجید کے صریح خلاف سمجھ کر ان کا مخالف اور آمادہ بغاوت ہو گیا تھا ، ان کی تعداد کئی ہزار تھی ، پھر حضرت علی مرتضیٰ کی افہام و تفہیم کے نتیجہ میں ان میں سے ایک خاص تعداد راہ راست پر آ گئی ، لیکن ان کی بڑی تعداد اپنی گمراہی پر قائم رہی اور قتل و قتال پر آمادہ ہو گئی بالآخر حضرت علی مرتضیٰؓ کو ان کے خلاف طاقت استعمال کرنی پڑی (تاریخ میں یہ واقعہ جنگ نہروان کے نام سے معروف ہے) جس کے نتیجے میں ان میں سے اکثر کا خاتمہ ہو گیا ، کچھ باقی رہ گئے ، ان باقی رہ جانے والوں میں سے تین شخص برک ابن عبداللہ عمرو ابن بکر تمیمی اور عبدالرحمٰن ابن ملجم مکہ میں جمع ہوئے انہوں نے صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ سارا فتنہ ان لوگوں کی وجہ سے جن کے ہاتھوں میں حکومت ہے ، ان کو کسی طرح ختم کر دیا جائے ، اس سلسلہ میں تین حضرات کو متبعین طور پر نامزد کیا .... حضرت معاویہ ، حضرت عمرو بن العاص ، حضرت علی مرتضیٰؓ ..... برک نے کہا کہ معاویہ کو قتل کر دینے کی ذمہ داری میں لیتا ہوں ، عمرو تیمی نے کہا کہ عمرو بن العاص کو ختم کردینے کی میں ذمہ داری لیتا ہوں ، عبدالرحمٰن ابن ملجم نے کہا کہ علی کو قتل کر دینے کی ذمہ داری میں لیتا ہوں ، پھر انہوں نے آپس میں اس پر عہد و پیمان کیا اور اس کے لئے یہ اسکیم بنائی کہ ہم میں سے ہر ایک ۱۷؍ رمضان المبارک کو جب کہ یہ لوگ فجر کی نماز پڑھانے کے لئے نکل رہے ہوں ، حملہ کر کے اپنا کام کریں ، اس دور میں نماز کی امامت خلیفہ وقت یا ان کے مقرر کئے ہوئے امیر ہی کرتے تھے ۔ اپنے بنائے ہوئے اس پروگرام کے مطابق برک ابن عبداللہ حضرت معاویہؓ کے دارالحکومت دمشق روانہ ہو گیا اور عمرو تمیمی مصر کی طرف جہاں کے امیر و حاکم حضرت عمرو بن العاصؓ تھے ، اور عبدالرحمٰن ابن ملجم حضرت علی مرتضیٰؓ کے دارالحکومت کوفہ کے لئے روانہ ہو گیا ۔ ۱۷؍ رمضان کی صبح فجر کی نماز پڑھانے کے لئے حضرت معاویہ تشریف لے جا رہے تھے ، برک نے تلوار سے حملہ کیا ، حضرت معاویہؓ کو کچھ محسوس ہو گیا اور انہوں نے دوڑ کر اپنے کو بچانا چاہا پھر بھی برک کی تلوار سے ان کی ایک سرین پر گہرا زخم آ گیا ، برک کو گرفتار کر لیا گیا (اور بعد میں قتل کر دیا گیا) زخم کے علاج کے لئے طبیب بلایا گیا ، اس نے زخم کو دیکھ کر کہا کہ جس تلوار کا زخم ہے ، اس کو زہر میں بجھایا گیا ہے ، اسو کے علاج کی ایک صورت یہ ہے کہ گرم لوہے سے زخم کو داغ دیا جائے اس طرح امید ہے کہ زہر سارے جسم میں سرایت نہیں کر سکے گا ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ میں آپ کو ایک ایسی دوا تیار کر کے پلاؤں جس کا اثر یہ ہو گا کہ اس کے بعد آپ کی کوئی اولاد نہ ہو سکے گی ، حضرت معاویہؓ نے فرمایا کہ گرم لوہے کے داغ کو تو میں برداشت نہ کر سکوں گا اس لئے مجھے وہ دوا تیار کر کے پلا دی جائے ، میرے لئے دو بیٹے یزید اور عبداللہ کافی ہیں ..... ایسا ہی کیا گیا اور حضرت معاویہ صحتیاب ہو گئے ۔ عمرو تمیمی اپنے پروگرام کے مطابق حضرت عمرو بن العاصؓ کو ختم کرنے کے لئے مصر پہنچ گیا تھا ، لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت کہ ۱۷؍ رمضان کی رات میں حضرت عمرو بن العاص کو ایسی شدید تکلیف ہو گئی کہ وہ فجر کی نماز پڑھانے کے لئے مسجد نہیں آ سکے تھے انہوں نے ایک دوسرے صاحب خارجہ بن حبیب کو حکم دیا کہ وہ ان کی جگہ مسجد جا کر نماز پڑھائیں چنانچہ وہ آئے اور نماز پڑھانے کے لئے امام کے مصلے پر کھڑے ہوئے ، تو عمرو نے ان کو عمرو ابن العاص سمجھ کر تلوار سے وار کیا ۔ وہ وہیں شہید ہو گئے ، عمرو گرفتار کر لیا گیا ، لوگ اس کو پکڑ کر مصر کے امیر و حاکم حضرت عمرو بن العاصؓ کے پاس لے گئے ، اس نے دیکھا کہ لوگ ان کو امیر کے لفظ سے مخاطب کر رہے ہیں ، اس نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ بتلایا گیا کہ یہ مصر کے امیر و حاکم حضرت عمرو بن العاصؓ ہیں ، اس نے کہا میں نے جس شخص کو قتل کیا وہ کون تھا ؟ بتلایا گیا وہ خارجہ ابن حبیب تھے ، اس بدبخت نے حضرت عمرو بن العاصؓ کو مخاطب کو کے کہا اے فاسق ! میں نے تجھ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا ، حضرت عمرو بن العاص نے فرمایا تو نے یہ ارادہ کیا تھا اور اللہ تعالیٰ کا ارادہ وہ تھا جو ہو گیا ، اس کے بعد خارجہ ابن حبیب کے قصاص میں عمرو تمیمی کو قتل کر دیا گیا ۔ ان میں سے تیسرا خبیث ترین اور شقی ترین بدبخت عبدالرحمٰن ابن ملجم اپنے پروگرام کے مطابق کوفہ پہنچ گیا تھا وہ ۱۷؍ رمضان کو فجر سے پہلے مسجد کے راستے میں چھپ کر بیٹھ گیا ، حضرت علی مرتضیٰؓ کا معمول تھا کہ وہ گھر سے نکل کر الصلوة الصلوة پکارتے ہوئے اور لوگوں کو نماز کے لئے بلاتے ہوئے مسجد تشریف تے ۔ اس دن میں حسب معمول اسی طرح تشریف لا رہے تھے کہ اس بدبخت ابن ملجم نے سامنے سے آ کر اچانک آپ کی پیشانی پر تلوار سے وار کیا اور بھاگا لیکن تعاقب کر کے لوگوں نے اسے پکڑ لیا اور حضرت علی مرتضیٰؓ کے سامنے پیش کیا گیا ، آپ نے اپنے بڑے صاحبزادے حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اگر میں زندہ رہا تو اس قاتل ابن ملجم کے بارے میں جیسا چاہوں گا فیصلہ کروں گا چاہوں گا تو معاف کر دوں گا ، اور چاہوں گا تو قصاص میں قتل کرا دوں گا اور اگر میں اس میں فوت ہو جاؤں تو پھر اس کو شرعی قانون قصاص کے مطابق قتل کر دیا جائے لیکن مثنہ نہ کیا جائے (یعنی ہاتھ پاؤں وغیرہ اعضاء الگ الگ نہ کاٹے جائیں) کیوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ کٹ کھنے کتے کو بھی مارا جائے تو اس کو مثلہ نہ کیا جائے ۔ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ خبیث ابن ملجم کی اس ضرب کے نتیجہ میں واصل بحق ہو گئے تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے حکم سے اس بدبخت کو قتل کیا گیا ، اور غیظ و غضب سے بھرے ہوئے لوگوں نے اس کی لاش کو جلا بھی دیا ۔

【101】

فضائل خلفاء اربعہ

حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :“اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو ابو بکر پر ، انہوں نے اپنی بیٹی (عائشہ) کا میرے ساتھ نکاح کر دیا ، اور دارالہجرۃ مدینہ منورہ تک پہنچنے کے لئے میرے واسطے (سواری وغیرہ) سفر کے انتظامات کئے ، اور بلال کو اپنے مال سے خرید کر آزاد کیا ، ..... اللہ کی رحمت ہو عمر پر ، وہ حق بات کہتا ہے اگرچہ کڑوی ہو ، اس کی اس (بےلاگ) حق گوئی نے اس حال میں کر چھوڑا ہے کہ کوئی اس کا سچا اور پورا دوست نہیں .... اللہ کی رحمت ہو عثمان پر جس کا حال یہ ہے کہ فرشتے بھی اس سے شرماتے ہیں .... اور اللہ کی رحمت ہو علی پر ، اے اللہ ! تو حق اور سچائی کو اس کے ساتھ دائر اور سائر کر دے ، وہ حق کے ساتھ رہے اور حق اس کے ساتھ ”۔ (جامع ترمذی) تشریح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض ارشادات میں جس طرح ایک ساتھ شیخین حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل بیان فرمائے اور جس طرح بعض ارشادات میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی شامل فرما کر ایک ساتھ تینوں حضرات کے فضائل بیان فرمائے (جو اپنے موقعہ پر پہلے ذکر کئے جا چکے ہیں) اسی طرح آپ نے اپنے بعض ارشادات میں حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو بھی شامل فرما کر چاروں خلفاء کے فضائل ایک ساتھ بیان فرمائے ہیں ذیل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے ہی چند ارشادات پیش کئے جا رہے ہیں ۔ تشریح .....رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد میں چاروں خلفاء راشدین کے لئے رحمت کی دعا فرمائی ، سب سے پہلے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حق میں دعاءرحمت فرمائی اور خصوصیت کے ساتھ ان کے تین اعمال خیر کا ذکر فرمایا ، سب سے پہلے ان کے اس عمل کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اپنی صاحبزادی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کر دیا .... اس عاجز کا خیال ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ اگرچہ کم از کم آٹھ ازواج مطہرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور بھی ہوئیں ، لیکن حضرت عائشہؓ کے نکاح کی خاص اہمیت یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پہلی رفیقہ حیات حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا جن کا وجود ان کے کمال ایمان ، ان کی فراست و دانشمندی اور بالخصوص ان کی وجہ سے خانگی ضروریات کی فکروں سے بے فکر اور آزادی حاصل ہو جانے کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے باعث سکون کاطر تھا ..... ان کی وفات سے فطری طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غیر معمولی رنج اور صدمہ تھا ، اس وقت عالم غیب کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اشارہ ملا کہ ابو بکر کی بیٹی عائشہ تمہاری رفیقہ حیات ہوں گی ۔ اگرچہ وہ اس وقت بہت کمسن تھیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غیبی اشارہ کی بنا پر یقین فرما لیا کہ یہ منجانب اللہ مقدر ہو چکا ہے اور ان کی رفاقت حضرت خدیجہؓ ہی کی طرح میرے لئے خیر اور باعث سکون خاطر ہو گی ، چنانچہ ایک نیک خاتون خولہ بنت حکیم نے حضرت ابو بکرؓ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے رشتہ کا پیغام پہنچایا ..... جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا حضرت عائشہؓ اس وقت بہت کمسن تھیں نیز ان کی نسبت جبیر ابن مطعم کے بیٹے سے ہو چکی تھی جو ابو بکر ہی کی طرح مکہ کے خوشحال اور دولت مند لوگوں میں تھے .... اور مالی حیثیت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جو حال تھا وہ ابو بکرؓ کے سامنے تھا اس کے باوجود انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حالت کو بالکل نظر انداز کرتے ہوئے اس امید پر کہ یہ نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک کے سکون کا ذریعہ بنے گا اپنی اور بیٹی کی سعادت سمجھ کو اسے قبول کر لیا اور حضرت عائشہؓ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کر دیا ..... بہرحال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مندرج بالا ارشاد میں حضرت ابو بکرؓ کے حق میں رحمت کی دعا کرنے کے ساتھ پہلے ان کے اس احسان کا ذکر فرمایا اس کے بعد ان کے اس دوسرے احسان کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کے لئے میرے واسطے انتظامات کئے اور پورے سفر میں میرے ساتھ رہے ، آخر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر صدیقؓ کے اس تیسرے عمل خیر کا ذکر فرمایا کہ حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کو جو مکہ کی ایک انتہائی سنگدل کافر و مشرک کے غلام تھے وہ صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور شرک چھوڑ کر توحید کو قبول کر لینے کی وجہ سے ان کو سخت لرزہ خیز تکلیفیں دیتا تھا ، حضرت ابو بکرؓ نے حضرت بلالؓ کے علاوہ بھی ایسے متعدد غلاموں اور باندیوں کو خرید کر آزاد کیا تھا جن کو ان کے کافر و مشرک مالک صرف ایمان لانے کے جرم میں تکلیفیں دیتے تھے لیکن حضرت بلالؓ حبشی کی خصوصیات کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ارشاد میں صرف انہیں کو خرید کر آزاد کرنے کا ذکر فرمایا ۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے خلیفہ حضرت عمرؓ کے حق میں رحمت کی دعا فرمائی اور ان کے اس خاص وصف کا ذکر فرمایا کہ وہ مخلوق کی رضا مندی و ناراضی سے بےپرواہ ہو کر ہر معاملے میں حق بات کہتے ہیں اگرچہ وہ لوگوں کو کڑوی معلوم ہو اور اس کی وجہ سے ان سے دور اور ناراض ہو جائیں ..... معلوم ہوا کہ کسی بندہ کا یہ حال بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک بہت پسندیدہ ہے اور ایسا بندہ اللہ کی رحمت کا خاص طور پر مستحق ہے ..... حضرت عمرؓ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے خلیفہ حضرت عثمانؓ کے حق میں رحمت کی دعا فرمائی اور ان کے اس وصف کا ذکر فرمایا کہ اللہ کے فرشتے بھی ان سے شرماتے ہیں (اسی سلسلہ معارف الحدیث میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے فضائل میں ان کے اس وصف کا ذکر گذر چکا ہے) ..... حضرت عثمانؓ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوتھے خلیفہ حضرت علی مرتضیٰؓ کے حق میں رحمت کی دعا فرمائی اور ساتھ ہی یہ دعا بھی فرمائی کہ اے اللہ ! تو علی کے ساتھ حق کو دائر و سائر کر دے یعنی ہمیشہ وہ حق پر رہیں اور حق ان کے ساتھ رہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد میں جس ترتیب کے ساتھ ان چاروں کا ذکر کیا اور ان کے حق میں رحمت کی دعا فرمائی اس سے مفہوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں یہ چاروں حضرات سب سے افضل اور بلند مرتبہ ہیں اور ان کے درمیان اسی ترتیب کے مطابق درجات کا فرق ہے ، نیز اس ترتیب سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ چاروں حضرات اسی ترتیب کے مطابق یکے بعد دیگرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اور جانشین ہوں گے ..... اس کے علاوہ بھی آپ کے بہت سے ارشادات میں اسی ترتیب سے ان چاروں حضرات کا ذکر فرمایا گیا ہے اور ان سب احادیث سے یہی اشارہ ملتا ہے ..... ان میں سے چند حدیثیں ذیل میں پیش کی جا رہی ہیں ۔

【102】

فضائل خلفاء اربعہ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : میری امت کے لوگوں کے ساتھ سب سے زیادہ رحم دل میری امت میں ابو بکر ہیں ..... اور اللہ کے معاملہ میں سب سے سخت عمر بن خطاب ہیں ..... اور حیاء کے لحاظ سے میری امت میں سب سے افضل عثمان بن عفان ہیں اور نزاعات و خصومات کا فیصلہ کرنے میں علی ابن ابی طالب میری امت میں سب سے فائق ہیں ۔ (ابن عساکر) تشریح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ارشاد میں خلفاء اربعہ میں سے ہر ایک کے اس وصف کا ذکر فرمایا ہے ، جس میں اس کو امت کے تمام دوسرے افراد پر امتیاز حاصل ہے ..... حضرت ابو بکرؓ صفت رحمت اور رحم دلی کے لحاظ سے تمام امت میں فائق ہیں ..... اسی طرح شدت فی امر اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام اور حقوق کے بارے میں سخت گیری کے لحاظ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ ممتاز ہیں علیٰ ہذا صفت حیاء جس کو حدیث شریف میں ایمان کا خاص شعبہ بتایا گیا ہے اس ایمانی صفت کے لحاظ سے امت میں حضرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ کو امتیاز حاصل ہے ، اور نزاعات و خصومات کا صحیح اور حق کے مطابق فیصلہ کرنے کی صلاحیت جو اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت اور الٰہی اور نبوی خلافت کا خاص وظیفہ ہے اس میں حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو تمام امت پر فوقیت حاصل ہے ۔

【103】

فضائل خلفاء اربعہ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : جس نے ابو بکر و عمر اور عثمان و علی پر (کسی اور کو) فضیلت دی تو ا س نے میری بتلائی ہوئی بات کی تردید کی ، اور یہ چاروں (عنداللہ) جس مرتبے پر ہیں ، اس کی تکذیب کی ۔ (الرافعی) تشریح حدیث کسی تشریح کی محتاج نہیں ، اہل حق کا اس پر اجماع اور اتفاق ہے کہ یہ چاروں حضرات تمام امت میں افضل ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اس بارے میں واضح ہیں جو کوئی بد عقیدہ شخص کسی دوسرے کو ان چاروں سے افضل جانے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ارشادات کی تردید اور مخالفت کا مرتکب ہوا ۔

【104】

فضائل خلفاء اربعہ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : ان چاروں (میرے ساتھیوں اور رفیقوں ابو بکر و عمر اور عثمان و علی) کی محبت کسی منافق کے دل میں جمع نہ ہو گی ۔ (معجم اوسط طبرانی ، ابن عساکر) تشریح یہ حدیث بھی کسی تشریح کی محتاج نہیں بفضلہٖ تعالیٰ اہل السنۃ والجماعۃ کا حال یہی ہے کہ وہ ان چاروں حضرات سے محبت کو گویا جزو ایمان یقین کرتے ہیں اور جو بدنصیب ان میں سے کسی ایک سے بھی بغض رکھے اس کو فاسد العقیدہ اور حقیقی ایمان سے محروم جانتے ہیں ۔ جیسا کہ اوپر لکھا گیا تھا کتب حدیث میں اور بھی ایسی روایات ہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خلفاء اربعہ کی فضیلت اور ان کے امتیاز کا ذکر اسی ترتیب سے فرمایا ہے ، ان سب روایات سے ان حضرات کی فضیلت کے ساتھ ان کے درمیان فرق مراتب اور خلافت کے بارے میں ترتیب کا بھی اشارہ ملتا ہے ۔ خلفاء اربعہ کے فضائل کے بارے میں ایک قابل لحاظ حقیقت حدیث کی اکثر کتابوں میں شیخین (حضرت ابو بکرؓ و عمر رضی اللہ عنہما) کے فضائل کے بارے میں حدیثوں کی تعداد کم ہے ..... حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے فضائل سے متعلق حدیثوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے اور حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے فضائل سے متعلق حدیثوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ..... اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ دور صحابہ میں شیخین کی شخصیتیں متفق علیہ تھیں اور کسی کو اس کی ضرورت نہیں تھی کہ ان کے فضائل کی روایتیں تلاش کرے اور امت کے عوام کو پہچائے ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری سالوں میں خاص طور سے ایک گروہ کی سازش اور شرارت سے جس کا سرغنہ ایک منافق عبداللہ بن سبا تھا ان کی شخصیت متفق علیہ نہیں رہی ، اس لئے اس کی ضرورت پیدا ہو گئی کہ ان کے فضائل سے متعلق روایتیں تلاش کر کے بیان کی جائیں ۔ اسی وجہ سے ان کے فضائل سے متعلق حدیثوں کی تعداد حدیث کی کتابوں میں شیخین کی بہ نسبت زیادہ ہے ان کے بعد حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شخصیت بھی متنازعہ وہ گئی اور خوارج کا ایک مستقل ایسا گروہ بھی پیدا ہو گیا جو ان کو دین اور امت میں فتنہ جانتا اور واجب القتل سمجھتا تھا (جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے) ۔ اس لئے ان کے فضائل کی حدیثیں تلاش کرنے کی بھی ضرورت پیدا ہو گئی اور اللہ کے مخلص بندوں نے محنت و تلاش سے ان کے فضائل کی حدیثیں جمع کیں ۔ علاوہ ازیں ان کے بارے میں غلو کرنے والوں میں ایسے لوگ بھی پیدا ہوئے جو ان کے فضائل میں حدیثیں وضع کرنا کار ثواب سمجھتے تھے ، ان میں سے بہت سے بظاہر صالحین کی سی زندگی گذارتے تھے ۔ ہمارے محدثین بشر ہی تھے ان کا زمانہ بھی ان راویوں کے بہت بعد کا تھا ، وہ ان کے اندرونی حال سے واقف نہ ہو سکے اور ان کی روایتیں بھی ہماری کتب حدیث میں شامل ہو گئیں ، اس لئے بھی حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے فضائل کی روایات ہماری کتب حدیث میں خلفاء ثلثہ کی بہ نسبت بہت زیادہ تعداد میں نظر آتی ہیں ۔ اس بات کی ضرورت واقعۃً موجود ہے کہ ان احادیث کا محدثانہ اور محققانہ اصول و قواعد کی روشنی میں جائزہ لیا جائے ..... یہ عاجز اب عمر کے اس مرحلہ اور ضعف و معذوری کے اس حال میں ہے کہ خود اس طرح کے کسی کام کی ہمت نہیں کر سکتا ، دعا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کام کا داعیہ اس کے اہل لوگوں کے قلب میں ڈال دے اور یہ کام بھی انجام پا جائے ۔

【105】

عشرہ مبشرہ کے بقیہ حضراتؓ کے فضائل

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابو بکرؓ جنتی ہیں ، عمرؓ جنتی ہیں ، عثمانؓجنتی ہیں ، علیؓ جنتی ہیں ، طلحہؓ جنتی ہیں ، ، زبیرؓ جنتی ہیں ، عبدالرحمٰن بن عوفؓ جنتی ہیں ، سعد بن ابی وقاصؓ جنتی ہیں ، سعید بن زیدؓ جنتی ہیں ، اور ابو عبیدہ الجراحؓ جنتی ہیں ۔ (جامع ترمذی) تشریح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ارشاد میں (جو ناظرین کرام ان تمہیدی سطروں کے بعد جامع ترمذی کے حوالہ سے پڑھیں گے) اپنے اصحاب کرام سے خصوصیت کے ساتھ دس حضرات کو نامزد کر کے اعلان فرمایا کہ یہ جنتی ہیں .... ان حضرات کو عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے ۔ ان دس میں خلفاء اربعہ حضرت ابو بکر صدیق ، حضرت عمر فاروق ، حضرت عثمان ذو النورین ، حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہم بھی ہیں اور حضور نے سب سے پہلے انہیں کے جنتی ہونے کا اعلان فرمایا ہے ، ان حضرات کے فضائل و مناقب سے متعلق حدیثیں ناظرین کرام کی نظر سے گذر چکی ہیں ، ان کے علاوہ باقی حضرات کے فضائل سے متعلق حدیثیں ذیل میں درج کی جا رہی ہیں ۔ تشریح ..... ظاہر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اعلان وحی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطلاع اور اس کے حکم سے تھا ..... جمہور علماء اہل سنت نے حضور کے اس ارشادع ہی سے یہ سمجھا ہے کہ یہ دس حضرات باقی اصحاب کرام اور پوری امت میں افضل ہیں ، اگرچہ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے حضرات کے جنتی ہونے کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر اطلاع دی ہے ، لیکن ان دس حضرات کو دوسرے تمام حضرات کے مقابلہ میں امتیاز اور فضیلت حاصل ہے ۔ واللہ اعلم ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مندرجہ بالا ارشاد میں حضرات خلفاء اربعہ کے بعد جس ترتیب سے باقی حضرات کے اسماء گرامی درج کئے گئے ہیں اسی ترتیب کے مطابق ان حضرات کے فضائل کی حدیثیں ذیل میں درج کی جا رہی ہیں ۔

【106】

حضرت طلحہ بن عبید رضی اللہ عنہ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلحہ ابن عبیداللہ کو دیکھ کر فرمایا جس کے لئے یہ بات خوشی اور مسرت کا باعث ہو کہ وہ کسی ایسے شہید کو دیکھے جو زمین پر چل پھر رہا ہو تو وہ طلحہ ابن عبیداللہ کو دیکھ لے ۔ (جامع ترمذی) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بات منکشف فرما دی گئی تھی کہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ شہید ہوں گے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ارشاد میں جس خاص انداز میں ان کے شہید ہونے کی اطلاع دی ، ظاہر ہے کہ اس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد ان کی ایک خاص فضیلت اور عنداللہ ان کی شہادت کی غیر معمولی اہمیت اور مقبولیت بیان فرمانا تھا ۔ حضرت طلحہ ابن عبیداللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال فرمانے کے قریباً پچیس سال بعد جنگ جمل میں شہید ہوئے ۔ بلاشبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کی شہادت کی اطلاع دینا آپ کے معجزات میں سے ہے ۔

【107】

حضرت طلحہ بن عبید رضی اللہ عنہ

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ جنگ احد کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دو زرہیں پہنے ہوئے تھے ، آپ نے اسی حالت میں پتھر کی ایک چٹان پر چڑھنا چاہا تو (دو زرہوں کے بوجھ اور دباؤ کی وجہ سے) آپ چٹان پر چڑھ نہیں سکے ، تو طلحہ بیٹھ گئے تا کہ آپ ان کے اوپر اپنا قدم مبارک پر رکھ کر اس چٹان تک پہنچ سکیں چنانچہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر اپنا پائے مبارک رکھ کر پتھر کی اس چٹان تک پہنچ گئے (حضرت زبیرؓ بیان کرتے ہیں) میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر فرمایا “أَوْجَبَ طَلْحَةُ” یعنی طلحہ نے اپنے لئے (جنت واجب کر لی ۔ (جامع ترمذی) تشریح حدیث کا مطلب واضح ہے کسی تشریح کا محتاج نہیں ۔ حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو زرہیں پہننے کا ذکر ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جنگ کے موقع پر اپنی حفاظت اور دشمن پر فتح حاصل کرنے کے لئے امکانی حد تک اسباب کا استعمال کرنا نہ صرف یہ کہ توکل کے منافی نہیں ہے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی ہے ۔

【108】

حضرت طلحہ بن عبید رضی اللہ عنہ

قیس ابن ابی حازم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے طلحہ کا ہاتھ دیکھا کہ وہ شل ہو چکا تھا ، انہوں نے غزوہ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ہاتھ کے ذریعہ (دشمن کے تیروں کا نشانہ بننے سے) بچایا تھا ۔ (صحیح بخاری) تشریح جنگ احد کے دن ایک وقت ایسا آیا کہ دشمن لشکر کے تیر اندازوں نے خصوصیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے تیروں کا نشانہ بنا کر آپ کو شہید کر دینا چاہا ..... اس وقت جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر تیروں کی بوچھاڑ ہو رہی تھی ، حضرت طلحہ ابن عبیداللہؒ نے اپنے سپر کے ذریعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بچانے کی کوشش کی ، اسی حال میں ہاتھ ایسا زخمی ہوا کہ سپر ہاتھ سے گر گیا تو انہوں نے خود اپنی ذات اور اپنے پورے جسم کو خاص طور سے اپنے دونوں ہاتھوں کو سپر بنا لیا اور حضور کی طرف آنے والے ہر تیر کو اپنے اوپر لیا دشمن کا ایک تیر بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچنے دیا ، جس کی وجہ سے ایک ہاتھ تو بالکل شل ہو گیا اور پورا جسم گویا چھلنی ہو گیا ، روایات میں ہے کہ ان کے جسم پر اسی سے اوپر زخم شمار کئے گئے لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق زندہ ہے اور احد کے بعد بھی قریباً تمام ہی غزوات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت تک دین اور امت مسلمہ کی خدمت ہی ان کا نصب العین اور ان کی زندگی کا مصرف رہا یہاں تک کہ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا جنگ جمل میں شہید ہوئے ۔ رضی اللہ عنہ وارضاہ ۔ اس روایت کے سلسلے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس کے راوی قیس ابن ابی ھازم معروف اصطلاح کے مطابق صحابی نہیں ہیں ، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ ہی میں اسلام قبول کر لیا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کے ارادہ سے مدینہ منورہ کی طرف سفر کیا لیکن ایسے وقت پہنچے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رفیق اعلیٰ کی طرف رحلت فرما چکے تھے ، اس لئے اگرچہ تابعین میں ہیں ، لیکن چونکہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری اور زیارت و بیعت کی نیت سے مدینہ منورہ کی طرف سفر کیا تھا ، اس لئے ان کتابوں کے مصنفین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد “إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى” کی روشنی میں ان کی نیت ہی کو عمل کے قائم مقام قرار دے کر صحابہ کرامؓ کے ساتھ شمار کر لیا ہے ۔

【109】

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ احزاب کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کون ہے جو دشمن قوم (کے لشکر) کی خبر لائے ، حضرت زبیرؓ نے عرض کیا ۔ میں (خبر لاؤں گا) اس پر (ان کے اس عرض کرنے پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر نبی کے لئے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر ہیں ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح غزوہ احزاب جس کو غزوہ خندق بھی کہا جاتا ہے ، راجح قول کے مطابق ۵؁ھ کے اواخر میں ہوا بعض حیثیتوں سے اس غزوہ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے قرآن مجید میں غیر معمولی انداز میں پورے دو رکوع میں اس غزوہ کے حالات کا ذکر فرمایا گیا ہے ، اسی وجہ سے اس سورۃ کا نام الاحزاب ہے ، س کے بارے میں تفصیلات حدیث اور سیرت کی کتابوں مین دیکھی جا سکتی ہیں ، ہاں عام ناظرین کی واقفیت کے لئے کسی قدر اختصار کے ساتھ اس کا واقعہ لکھا جاتا ہے ۔ معلوم ہے کہ قریش مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے لائے ہوئے دین کے شدید ترین دشمن تھے ۔ بدر اور احد کے تجربوں اور حالات کی رفتار دیکھنے کے بعد انہوں نے گویا طے کر لیا تھا کہ آئندہ وہ اپنی طرف سے مسلمانوں کے خلاف کوئی جنگی اقدام نہیں کریں گے ..... مدینہ طیبہ کے جوار میں جو یہودی قبائل آباد تھے ، ان میں سے بنو نضیر کو ان کی شرارتوں اور فتنہ انگیزیون کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جلا وطن کرا دیا تھا اور وہ خیبر جا کر آباد ہو گئے تھے .... سازش اور فتنہ پردازی یہودیوں کی گویا فطرت ہے ، انہوں نے خیبر میں آباد ہو جانے کے بعد یہ اسکیم بنائی کہ عرب کے تمام بڑے قبائل کو اس پرا ٓمادہ کیا جائے کہ وہ اپنی پوری اجتماعی طاقت کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کے مرکز مدینہ پر حملہ کریں اور ان کو نیست و نابود کر دیں گے اس مقصد کے لئے بنو نضیر کا ایک وفد پہلے مکہ معظمہ پہنچا اور قریش کے سرداروں کی سامنے جو اسلام اور مسلمانوں کے شدید ترین دشمن تھے اپنی یہ اسکیم رکھی ، اور ساتھ ہی بتلایا کہ ہم اس کی پوری کوشش کریں گے کہ دوسرے قبیلے بھی اس جنگ میں اپنی پوری طاقت کے ساتھ شریک ہوں اور مدینہ کے قریب میں جو یہودی آبادیاں ہیں (بنو قریظہ وغیرہ) وہ بھی اس جنگ میں آپ کا پورا ساتھ دیں گے اور اس صورت میں مسلمان آپ لوگوں کا مقابلہ نہ کر سکیں گے اور ان کا نام و نشان تک مٹ جائے گا ..... قریش مکہ کے ان سرداروں کو راضی کرنے کے بعد اس وفد نے قبیلہ غطفان اور بنو اسد وغیرہ قبائل میں پہنچ کر ان کو بھی اس جنگ میں شرکت پر آمادہ کیا اور بتلایا کہ اس جنگ کے نتیجہ میں مدینہ اور اس کے قرب و جوار کے پورے علاقے پر جو بہت سرسبز و شاداب اور بہت زرخیز تھا ، آپ لوگوں کا قبضہ ہو جائے گا ، چنانچہ یہ قبیلے بھی آمادہ ہو گئے ، اس طرح قریش مکہ ، غطفان ، بنو اسد وغیرہ عرب قبائل پر مشتمل دس ہزار اور ایک روایت کے مطابق بارہ ہزار کا لشکر مدینہ پر حملہ کے لئے تیار ہو گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دشمنانِ اسلام کے اس ناپاک منصوبہ کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معمول کے مطابق اپنے خواص اصحاب سے مشورہ کیا .... صورت حال یہ تھی کہ مدینہ میں ان مسلمانوں کی کل تعداد جن سے جنگ میں حصہ لینے کی توقع کی جا سکتی تھی ، تین ہزار سے زیادہ نہ تھی وہی اس وقت کی اسلامی فوج تھی ، اس کے پاس زندگی کی ضروریات اور جنگ کا سامان اس کا عشر عشیر بھی نہ تھا ، جو دشمن لشکر کے پاس تھا ، اس لئے مشورہ ہی سے جنگی حکمت عملی یہ طے کی گئی کہ باہر نکل کر کھلے میدان جنگ نہ کی جائے بلکہ مدینہ میں رہ کر ہی مدافعانہ جنگ کی جائے ۔ سلمان فارسیؓ جو ایرانی النسل تھے انہوں نے بتلایا کہ ایسے موقعوں پر ہمارے ملک ایران میں کثیر التعداد اور طاقت ور دشمن لشکر کے مقابلے اور اس سے بچاؤ کے طریقہ یہ ہے کہ ایسی خندق کھودی جاتی ہے کہ آدمی نہ خود ہی چھلانگ لگا کر اس کو پار کر سکے اور نہ گھوڑے کا سوار ۔ مدینہ منورہ تین طرف سے قدرتی طور پر پہاڑوں وغیرہ سے اس طرح گھرا ہوا تھا کہ ان سمتوں سے کسی بڑے لشکر کے حملہ آور ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا ، ایک سمت شمال مشرق کھلی ہوئی تھی کہ دشمن لشکر اس طرف سے حملہ کر سکتا تھا .... رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام نے سلمان فارسیؓ کے مشورہ کو قبول کرنا مناسب سمجھا اور اس سمت میں خندق کھودے جانے کا فیصلہ کر لیا گیا اس خندق کی گہرائی اور چوڑائی قریباً دس ہاتھ تھی ، دس (۱۰) دس (۱۰) مسلمانوں کی جماعت بنا کر ان پر خندق کا کام تقسیم کر دیا گیا اور صحابہ کرامؓ نے انتہائی مشقت کے ساتھ سخت سردی کے موسم میں دن کے علاوہ سرد راتوں میں بھی کھدائی کا کام کیا ، اس خندق کا طول آثار مدینہ کے بعض ماہرین کے لکھنے کے مطابق تقریباً پانچ ہزار ذراع یعنی ڈھائی ہزار گز تھا (گویا قریباً ڈیڑھ میل) ۔ دشمن لشکر ابو سفیان کی سربراہی میں آیا اور خندق کے مقابل میدان میں پڑاؤ ڈالا ان لوگوں کے ساتھ خیمے وغیرہ بھی تھے اور کھانے پینے کا سامان بھی وافر ، قریباً ایک مہینے تک یہ لشکر پڑاؤ ڈالے رہا لیکن خندق کو پار کر کے مدینہ پر حملہ کرنا اس لشکر کے لئے ممکن نہ تھا بس دونوں طرف سے کچھ تیر اندازی ہوئی ، سیر کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں صحابہ کرام میں سے سات شہید ہوئے اور مشرکین میں چار جہنم واصل ہوئے ..... قرآن مجید (سورۃ الاحزاب) میں اس غزوہ میں مسلمانوں کی سخت ترین آزمائش اور قربانی کا جس طرح ذکر فرمایا گیا ہے اس طرح کسی دوسرے غزوہ کے بارے میں ذکر نہیں فرمایا گیا ، آگے قرآن مجید ہی میں یہ بھی بیان فرمایا گیا ہے کہ جب مسلمانوں کی مشقت و مصیبت اور قربانی انتہا کو پہنچ گئی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیبی مدد آئی یہ ایسی تیز و تند ہوا تھی جس نے دشمن لشکر کے سارے خیمے اکھاڑ پھینکے چولہوں پر دیگیں چڑھی ہوئی تھیں وہ سب الٹ گئیں ، ان کے کچھ گھوڑے اور اونٹ رسیاں تڑا کر مختلف فمتوں میں بھاگ گئے ..... (میرا خیال ہے کہ لشکر کے بہت سے لوگوں نے آندھی کی اس غیر معمولی نوعیت کی وجہ سے اس کو خداوندی عذاب سمجھا ہو گا) .... لشکر کے قائد اور سپہ سالار ابو سفیان نے بھی واپسی کا فیصلہ کر لیا اور اس طرح پورا لشکر نامراد ہو کر واپس ہو گیا ۔ وَكَفَى اللَّـهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ اسی غزوہ میں کسی خاص مرحلہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دشمن لشکر کا حال معلوم کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو آپ نے فرمایا “مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ القَوْمِ” یعنی کون ہے جو دشمن لشکر کا حال معلوم کر کے لائے ، ظاہر ہے کہ اس میں جان کا بھی خطرہ تھا ..... حضرت زبیرؓ نے سبقت کر کے عرض کیا کہ اس خدمت کو میں انجام دوں گا ، اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خوش ہو کر فرمایا ہر نبی کے لئے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر ہیں ۔ اردو میں کوئی لفظ نہیں ہے جو حواری کے پورے مفہوم کو ادا کر سکے (جاں نثار ، رفیق کار اور مدد گار کے الفاظ سے کسی حد تک حواری کا مطلب ادا ہو جاتا ہے) ..... بلا شبہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی یہ بڑی فضیلت ہے ۔ ان کے بارے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عشرہ مبشرہ میں حضرت علی مرتضیٰؓ کی طرح ان کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت قریبیہ حاصل ہے ، حضرت علی مرتضیٰؓ آپ کے چچا ابو طالب بن عبدالمطلب کے بیٹے ہونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی ہیں اور حضرت زبیرؓ آپ کی پھوپھی حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب کے بیٹے ہونے کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی ۔ رضی اللہ عنہ وارضاہ ۔

【110】

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حراء پہاڑ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابو بکرؓ و عمرؓ ، علیؓ ، عثمانؓ اور طلحہؓ و زبیرؓ بھی تھے ۔ تو پہاڑ کی اس چٹان میں (جس پر یہ حضرات تھے) جنبش پیدا ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پہاڑ کو مخاطب کر کے) فرمایا کہ ساکن ہو جا کہ تیرے اوپر بس اللہ کا ایک نبی ہے اور ایک صدیق اور شہید ہونے والے ۔ (صحیح مسلم) تشریح جیسا کہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کا معجزانہ واقعہ کئی دفعہ پیش آیا ہے ، وہ حدیثیں پہلے ذکر کی جا چکی ہیں ، جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف شیخین یا ان کے علاوہ حضرت عثمانؓ و حضرت علیؓ کا بھی ذکر کیا گیا ہے ، اس حدیث میں جس واقعہ کا ذکر ہے ، اس میں آپ کے ساتھ خلفاء اربعہ کے علاوہ عشرہ مبشرہ میں سے حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ بھی تھے ، اور اس حدیث میں آپ نے ان دونوں کے شہید ہونے کی بھی پیشن گوئی فرمائی اور یہ دونوں حضرات اسی پیشن گوئی کے مطابق جنگ جمل میں مظلومانہ شہید ہوئے ۔

【111】

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ

حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میرے دونوں کانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے تھے کہ طلحہؓ اور زبیرؓ جنت میں میرے ہمسایہ ہوں گے ۔ (جامع ترمذی) تشریح حدیث کا مطلب واضح ہے کسی تشریح کا محتاج نہیں البتہ یہ بات خاص طور سے قابل ذکر ہے کہ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ ان دونوں حضرات (حضرت طلحہؓ و زبیرؓ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے ہوئے فضائل خاص طور سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ ارشادات جن میں ان دونوں بزرگوں کے شہید فی سبیل اللہ اور جنتی ہونا ذکر فرمایا گیا ہے خاص اہتمام سے بیان فرماتے تھے چنانچہ یہی حدیث جس میں ان دونوں حضرات کی یہ عظیم ترین فضیلت بیان ہوئی ہے کہ “یہ دونوں جنت میں میرے ہمسایہ ہوں گے ، اس کے لئے حضرت علیؓ نے یہ پیرایہ بیان اختیار فرمایا کہ “سَمِعَتْ أُذُنِي مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ” کہ میرے کانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے تھے ، ظاہر ہے کہ یہ پیرایہ بیان اسی خاص اہتمام کا مظہر ہے اور اس کی خاص وجہ غالباً یہ تھی کہ ان دونوں حضرات کو جنگ جمل کے موقعہ پر جب کہ یہ دونوں جنگ سے کنارہ کش ہو گئے تھے حضرت علی مرتضیٰؓ کے لشکر کے بعض بدبختوں نے ان کو شہید کیا تھا ۔ اس جنگ کے بارے میں اتنی وضاحت یہاں بھی کر دینا ضروری ہے کہ یہ اس دنیا کی وہ عجیب و غریب اور عبرت آموز جنت تھی جس کے دونوں فریقوں میں سے کوئی ایک بھی جنگ کرنا نہیں چاہتا تھا ، دونوں ایک دوسرے کے فضائل و مناقب سے واقف اور ان کے معترف تھے ، لیکن کچھ شیاطین الانس عبداللہ بن سبا اور اس کے چیلوں نے اپنی شیطنت و فریب کاری سے رات کے اندھیرے میں دونوں فریقوں میں جنگ کرا دینے میں کامیابی حاصل کر لی ..... بہرحال یہ جنگ بلا ارادہ محض دھوکہ میں ہوئی جنگ کے بعد دونوں فریقوں کو انتہائی رنج و افسوس ہوا ، اور وہ برابر استغفار اور تلافی کی ممکن کوشش کرتے رہے ۔ اس جنگ کے بارے میں تفصیلات ان کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہیں جن میں اس پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے ۔

【112】

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ

حضرت حارث بن صمہ انصاریؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ غزوہ احد کے دن جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھاٹی میں تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا : “کہ تم نے عبدالرحمن بن عوف کو دیکھا ہے ؟” میں نے عرض کیا “ہاں یا رسول اللہ! مین نے ان کو دیکھا ہے ، پہاڑ کے سیاہ پتھروں والے حصے کی طرف ، اور ان پر حملہ کر رہی تھی مشرکین کی ایک جماعت ، تو میں نے ارادہ کیا ان کی پاس جانے کا تا کہ میں ان کو بچاؤں کہ اسی وقت میری نگاہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑی ، تو میں آپ کی طرف چلا آیا !”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : “معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ کے فرشتے عبدالرحمن بن عوف کے ساتھ جنگ کر رہے ہیں ۔” (حارث کہتے ہیں کہ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سننے کے بعد میں عبدالرحمٰن بن عوف کی طرف لوٹ آیا ، تو می نے ان کو اس حال میں دیکھا کہ سات مشرکوں کی لاشیں ان کے پاس پڑی تھیں تو میں نے ان سے کہا ۔ کامیاب اور فتح یاب رہیں تمہارے ہاتھ ، کیا ان سب کو تم نے قتل کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : کہ یہ ارطاہ بن عبد شرحبیل اور یہ دو ان کو تو میں نے قتل کیا ہے ، باقی یہ چار میں نے نہیں دیکھا کہ ان کو کس نے قتل کیا ہے ۔ (ان کا یہ جواب سن کر) میں نے کہا کہ “صادق ہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ” ۔ (روایت کیا اس کو ابن منذہ نے اپنے مسند میں اور طبرانی نے معجم کبیر میں اور ابو نعیم نے حلیہ میں) تشریح حدیث کا مطلب صحیح طور پر سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ غزوہ احد کے بارے میں مختصراً کچھ ذکر کر جائے ۔ غزوہ بدر جو رمضان المبارک ۲؁ھ میں ہوا تھا م، اس میں مسلمان صرف تین سو تیرہ تھے ، اور سامان جنگ نہ ہونے کے برابر تھا ، کیوں کہ مدینہ سے کسی باقاعدہ جنگ کے ارادہ سے چلے ہی نہ تھے ، اس لئے جو سامان جنگ ساتھ لے سکتے تھے وہ بھی ساتھ نہیں اور مکہ کے مشرکین کے لشکر کی تعداد تین گنی سے بھی زیادہ ایک ہزار تھی ، وہ جنگ ہی کے ارادہ سے پورے سامان جنگ کے ساتھ لیس ہو کر آئے تھے ، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کی خاص غیبی مدد سے مسلمانوں کو شاندار فتح حاصل ہوئی ، مسلمان مجاہدین کے ہاتھوں سے قتل ہو کر مشرکین مکہ میں ستر (۷۰) جہنم رسید ہوئے جن میں ابو جہل اور اس جیسے کئی دوسرے قریشی سردار بھی تھے اور ستر (۷۰) کو قیدی بنا لیا گیا ، باقی سب نے شکست کھا کر راہ فرار اختیار کی جنگ کے اس نتیجہ نے مکہ کے خاص ان مشرکوں میں جو جنگ میں شریک نہیں تھے ، مسلمانوں کے خلاف سخت غیظ و غضب کی آگ بھڑکا دی اور انہوں نے طے کیا کہ ہمیں اس کا انتقام لینا ہے اور پوری تیاری کے ساتھ مدینہ پر حملہ کر کے مسلمانوں کو نیست و نابود کر دینا ہے ، چنانچہ پورے ایک سال تک ان لوگوں نے تیاری کی اور واقعہ بدر کے ٹھیک ایک سال بعد شوال ۳؁ھ میں تین ہزار کا لشکر ابو سفیان کی قیادت میں مسلمانوں کو ختم کر دینے کے ناپاک ارادہ کے ساتھ روانہ ہوا اور منزلیں طے کرتا ہوا مدینہ کی قریب پہنچ گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاں نثار صحابہؓ کو ساتھ لے کر مقابلہ کے لئے تشریف لائے ، آپ کے ساتھ مجاہدین کی تعداد صرف سو تھی ..... مدینہ کی آبادی سے دو ڈھائی میل کے فاصلہ پر احد پہاڑ ہے ، اس کے دامن میں ایک وسیع میدان ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں صحابہؓ کے لشکر کو اس طرف صف آرا کیا کہ احد پہاڑ ان کی پشت پر تھا جس کی وجہ سے یہ اطمینان تھا کہ دشمن پیچھے سے حملہ نہیں کر سکے گا ، لیکن پہاڑ میں ایک درہ ایسا تھا کہ دشمن اس درہ سے آ کر پیچھے حملہ کر سکتا تھا ، اس کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ انتظام فرمایا کہ پچاس تیر اندازوں کی ایک جماعت کو درہ کے قریب کی ایک پہاڑی پر متعین کیا اور عبداللہ بن جبیرؓ کو (جو تیر اندازی میں خود بھی خاص مہارت رکھتے تھے) اس دستہ کا امیر مقرر فرمایا اور ہدایت فرما دی کہ “وہ اسی جگہ رہیں” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ دشمن لشکر اس درہ کی طرف سے آ کر حملہ نہ کر سکے ۔ جنگ شروع ہوئی پہلے ہی مرحلہ میں مسلمان مجاہدین نے ایسے زور کا حملہ کیا کہ دشمن لشکر (جس کی تعداد چار گنا سے زیادہ تھی) کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو گیا ، یہاں تک کہ مجاہدین نے سمجھ لیا کہ جنگ ہماری فتح پر ختم ہو گئی اور وہ دشمن کا چھوڑا ہوا مال غنیمت بٹورنے میں مشغول ہو گئے ..... درہ پر متعین کی ہوئی تیر اندازوں کی جماعت نے جب یہ حال دیکھا تو ان میں سے بھی بہت سے مال غنیمت بٹورنے کے لئے پہاڑی سے نیچے اتر کر میدان کی طرف آنے لگے ، ان کے امیر عبداللہ بن جبیرؓ نے ان کو روکنا چاہا اور یاد دلایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی تھی کہ “تم کو ہر حال میں یہیں رہنا ہے” ۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکم تو اس وقت تک کے لئے تھا جب تک جنگ جاری ہو ، مگر اب جب کہ جنگ ختم ہو گئی ، اور دشمن میدان چھوڑ کر بھاگ گیا ، تو ہم یہاں کیوں رہیں ، الغرض ان لوگوں نے اپنے امیر کی بات نہیں مانی اور پہاڑی سے نیچے اتر کر یہ بھی مال غنیمت سمیٹنے میں لگ گئے ، مگر دستہ کے امیر عبداللہ بن جبیر اور چند ساتھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق پہاڑی ہی پر رہے ..... خالد بن ولید جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے مشرکین کے ایک دستہ کو ساتھ لے کر اس درہ کی طرف سے آ گئے ، عبداللہ بن جبیرؓ اور ان کے چند ساتھیوں نے جو پہاڑی پر تھے ، روکنا چاہا ، لیکن وہ نہیں روک سکے اور سب کے سب شہید ہو گئے ، خالد بن ولید نے اپنے دستہ کے ساتھ درہ میں سے آ کر پیچھے سے اچانک مسلمانوں پر ایسے وقت میں حملہ کر دیا جب وہ لوگ غلطی سے جنگ ختم سمجھ چکے تھے ، اس حملہ نے بہت سے مسلمانوں کو حواس باختہ کر دیا اور وہ جم کر اور منظم ہو کر اس حملہ کا مقابلہ نہیں کر سکے ، ان میں افرا تفری کی کیفیت پیدا ہو گئی ، متعدد جلیل القدر صحابہ کرامؓ شہید ہوئے ، حتیٰ کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی شدید طور پر زخمی ہوگئے ۔ (اس صورت حال کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے) ..... پھر اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد سے پانسہ پلٹا ، صحابہ کرام جو منتشر ہو گئی تھے ، یہاں تک کہ ایک دوسرے کی خبر نہ تھی ، یہ معلوم ہونے کے بعد کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بفضلہٖ تعالیٰ زندہ سلامت ہیں ، پھر منظم ہو گئے ، اور اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد سے پھر دشمن کو شکست دی ..... مندرجہ بالا حارث بن صمہؓ کی اس حدیث کا تعلق بظاہر اسی مرحلہ سے ہے ، معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبدالرحمٰن بن عوف کا یہ حال منکشف کیا گیا کہ وہ مشرکین سے جنگ کر رہے ہیں اور اللہ کے فرشتے ان کے ساتھ شریک جنگ ہیں ، اور ان کی مدد کر رہے ہیں آپ نے اسی بنا پر حارث بن صمہؓ سے عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے بارے میں دریافت کیا ، اور انہوں نے وہ جواب دیا جو حدیث میں مذکور ہوا ، ان کا جواب سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “أَمَا إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُقَاتِلُ مَعَهُ” (معلوم ہونا چاہئے کہ فرشتے ان کے ساتھ ہو کر جنگ کر رہے ہیں) حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سننے کے بعد حارث بن صمہؓ پھر وہاں پہنچے جہاں انہوں نے عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو اس حال میں دیکھا تھا کہ مشرکین کی ایک جماعت ان پر حملہ کر رہی ہے تو انہوں نے وہاں پہنچ کر دیکھا کہ سات مشرکوں کی لاشیں پڑیں ہیں ، عبدالرحمٰن بن عوفؓ سے انہوں نے دریافت کیا ، کیا ان سب کو تم نے ہی جہنم رسید کیا ہے ؟ تو انہوں نے سات میں سے تین کے بارے میں کہا کہ “ان کو تو اللہ تعالیٰ کی مدد سے میں نے ہی قتل کیا ہے ، باقی چار کے متعلق مجھے معلوم نہیں کہ ان کو کس نے قتل کیا ، ان کا یہ جواب سن کر حارث بن صمہؓ کہہ اٹھے کہ : “صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ” مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ “عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے ساتھ فرشتے جنگ کر رہے ہیں ، اس کو میں نے آنکھوں سے دیکھ لیا اور میرا ایمان تازہ ہو گیا” ۔ اس حدیث سے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کی یہ خصوصیت معلوم ہوئی کہ وہ جنگ احد کے خاص آزمائشی وقت میں بھی استقامت کے ساتھ مشرکین سے جنگ کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے جنگ میں ان کی مدد کر رہے تھے ..... بلاشبہ یہ واقعہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے خاص فضائل میں سے ہے ، نیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں جو فرمایا تھا کہ “فرشتے جنگ میں ان کی مدد کر رہے ہیں” یقیناً یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا ۔

【113】

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ

ابراہیم بن سعد (تابعی) سے روایت ہے انہو نے بیان کیا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو غزوہ احد میں (تیروں اور تلواروں کے) اکیس زخم آئے تھے ، ان کا پاؤں بھی زخمی ہو گیا تھا جس کی وجہ سے وہ لنگڑا کر چلتے تھے ۔ (ابو نعیم ابن عساکر) تشریح معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس گزوہ اھد میں شدید طور پر زخمی ہوئے تھے ، بلاشبہ بڑے خوش نصیب اور بلند مرتبہ ہیں وہ سب حضرات جو اس غزوہ میں شہید یا شدید طور پر زخمی ہوئے ، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عبدالرحمٰن بن عوفؓ بھی انہیں خوش نصیبوں میں سے ہیں ۔

【114】

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ وہ ایک سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وضو کا پانی لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور اس وضو میں خفین پر مسح کیا پھر آپ لوگون کے ساتھ نماز کی جماعت میں شریک ہوئے ، اس وقت حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ امام کی حیثیت سے نماز پڑھا رہے تھے ، تو جب عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، ارادہ کیا کہ پیچھے ہٹ کر جماعت میں شامل ہو جائیں ، (اور باقی نماز حضور صلی اللہ علیہ وسلم پڑھائیں) لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا کہ تم اپنی جگہ پر رہو ۔ (پیچھے نہ ہٹو .... آگے حضرت مغیرہؓ بیان کرتے ہیں کہ تو ہم دونوں نے نماز باجماعت کا جو حصہ پایا وہ عبدالرحمٰن بن عوفؓ کی اقتداء میں پڑھا ، اور جو فوت ہو گیا تو وہ ہم نے بعد میں ادا کیا۔ (مختار لضیاء المقدسی) تشریح اس روایت میں واقعہ کے بیان میں انتہائی درجہ کے اجمال اور اختصار سے کام لیا گیا ہے ، واقعہ کی پوری تفصیل حضرت مغیرہؓ ہی کی ایک دوسری روایت سے معلوم ہوتی ہے جو سنن سعید بن منصور کے حوالہ سے “کنز العمال” میں مندرجہ بالا روایت کے ساتھ ہی درج کی گئی ہے ، اس کا حاصل یہ ہے کہ کسی نے مغیرہ بن شعبہؓ سے دریافت کیا کہ حضرت ابو بکرؓ کے علاوہ کسی اور شخص کی اقتداء میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز پڑھی ہے ؟ تو مغیرہؓ نے بیان کیا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جب صبح صادق کا وقت قریب آیا تو آپ نے مجھے اشارہ فرمایا تو میں نے سمجھ لیا کہ آپ قضاء حاجت کے لئے جانا چاہتے ہیں ، تو میں آپ کے ساتھ ہو گیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی ساتھیوں سے الگ ہو کر ایک طرف چل دئیے یہاں تک کہ لوگوں نے بہت دور ہو گئے .... پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے چھوڑ کر ایک طرف چلے گئے یہاں تک کہ میری نظر سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم غائب ہو گئے ، کچھ دیر کے بعد فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور مجھ سے فرمایا : کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا ۔ “ہاں ہے” پھر میں اپنے نے مشکیزہ سے پانی لیا جو میری سواری کے کجاوے کے ساتھ لٹکا ہوا تھا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اپنے دونوں ہاتھ بہت اچھی طرح دھوئے اور پانی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں پر ڈالا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرہ مبارک اور دونوں ہاتھ (کہنیوں تک) دھوئے اور سر کا مسح فرمایا اور خفین پر بھی مسح فرمایا پھر ہم دونوں اپنی سواریوں پر سوار ہو کر واپس آئے اور ایسے وقت پہنچے کہ فجر کی جماعت شروع ہو چکی تھی ، عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ امام کی حیثیت سے نماز پڑھا رہے تھے وہ دوسری رکعت میں تھے تو میں نے عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو بتلانا چاہا (یعنی یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع فرما دیا ، اور دوسری رکعت جو ہم نے پائی تھی وہ عبدالرحمٰن بن عوفؓ کی اقتداء میں ادا کی ، اور پہلی رکعت جو ہمارے آنے سے پہلے ہو چکی تھی اس کو ہم دونوں نے بعد میں ادا کیا ۔ اسی واقعہ کی دوسری بعض روایات میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ فجر کی نماز میں جب زیادہ تاخیر ہونے لگی ، (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر کے رفقاء میں سے کسی کو علم نہیں تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کدھر تشریف لے گئے ہیں اور کب تک تشریف لائیں گے) تو مشورہ سے طے ہوا کہ اب نماز ادا کر لی جائے اور لوگوں نے عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو امام بنا کر نماز شروع کر دی ، تو جیسا کہ مندرجہ بالا روایت سے معلوم ہو چکا ، ایک رکعت ہو چکی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مغیرہ بن شعبہؓ پہنچے اور جماعت میں شامل ہو کر دوسری رکعت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کی اقتداء میں ادا کی اور پہلی رکعت جو فوت ہو چکی تھی اس کو بعد میں ادا کیا ۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو یہ خاص امتیازی فضیلت بھی حاصل ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اقتداء میں نماز ادا فرمائی اور انہوں نے پیچھے ہٹنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پیچھے ہٹنے سے منع فرما دیا ۔

【115】

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ

ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نے خود سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج سے فرماتے تھے ، کہ جو شخص میرے بعد اپنی دولت سے تمہاری بھرپور خدمت کرے گا وہ ہے صادق الایمان اور صاحب احسان بندہ ، اے اللہ ! عبدالرحمٰن بن عوف کو جنت کے سلسبیل سے سیراب فرما ۔ (مسند احمد) تشریح حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث سے “سلسبیل” کا لفظ آیا ہے ، وہ جنت کا ایک خاص اور نفیس ترین چشمہ ہے ..... قرآن مجید سورہ دہر میں فرمایاگیا ہے “عَيْنًا فِيهَا تُسَمَّىٰ سَلْسَبِيلًا” چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ “انبیاء علیہم السلام کے ترکہ میں وراثت جاری نہیں ہوتی ، وہ جو کچھ چھوڑیں وہ فی سبیل اللہ صدقہ ہے ، اس لئے فطری طور پر ازواج مطہرات کے لئے از راہِ بشریت یہ فکر و تشویش کی بات ہو سکتی تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہمارا گذارہ کس طرح اور کہاں سے ہو گا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مطمئن کرنے کے لئے فرمایا کہ “اللہ کا ایک صادق الایمان بندہ جس کی فطرت میں اللہ نے احسان کی صفت خاص طور سے رکھی ہے ، تمہاری بھرپور خدمت کرے گا ... آگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائیہ کلمہ میں عبدالرحمٰن بن عوفؓ کا نام لے کر متعین بھی فرما دیا کہ وہ کون ہو گا ..... ظاہر ہے کہ یہ پیشن گوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ تھا ..... جامع ترمذی میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے صاحبزادے ابو سلمہ سے (جو اکابر تابعین میں سے ہیں) فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے والد عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو جنت کے خاص چمہ “سلسبیل” سے سیراب فرمائے ..... آگے اسی روایت میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے اپنا ایک ایسا قیمتی باغ ازواج مطہرات کی خدمت میں لوجہ اللہ پیش کر دیا تھا جو بعد میں چالیس ہزار مین فروخت ہوا ..... اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ چار لاکھ میں فروخت ہوا تھا ..... بعض شارحین نے ان دونوں روایتوں میں تطبیق اس طرح کی ہے کہ “چالیس ہزار” سے مراد ہزار دینار ہیں اور “چار لاکھ” سے مراد چار لاکھ درہم ہیں ۔ (عہد نبوی میں درہم و دینار کا یہی تناسب تھا) ۔

【116】

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ

حضرت عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن مجمع بن حارثہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن بن عوف کی بیوی ام کلثوم بنت عقبہ سے دریافت کیا تھا : کیا (یہ بات صحیح ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے فرمایا تھا کہ تم عبدالرحمٰن بن عوفؓ سے نکاح کر لو جو “سید المسلمین” ہیں ؟ تو ام کلثوم نے کہا کہ “ہاں ، بے شک” (حضور نے مجھ سے یہی ارشاد فرمایا تھا) ۔(مسند ابن منذہ و تاریخ ابن عساکر) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو “سید المسلمین” فرمایا تھا ، بلاشبہ یہ ان کی اعلیٰ درجہ کی فضیلت و منقبت ہے ۔ رضی اللہ عنہ وارضاہ ۔

【117】

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے نہیں سنا ، رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمع کیا ہو اپنے ماں باپ دونوں کو کسی کے لئے (یعنی فداک ابی وامی فرمایا ہو) سوائے سعد بن مالک (یعنی سعد بن ابی وقاصؓ) کے میں نے غزوہ احد کے دن آپ کو فرماتے ہوئے سنا “يَا سَعْدُ ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي” (اے سعد ! تیر چلاتے رہو اسی طرح ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں) ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے اس بیان میں حضرت سعد بن مالک سے مراد “سعد بن ابی وقاص” ہیں ، ان کے والد کا نام مالک تھا ، ابو وقاص کنیت تھی ۔ غزوہ احد کا مختصر حال حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے تذکرہ میں بیان کیا جا چکا ہے ، اس غزوہ میں صحابہ کرامؓ میں سے جو حضرات اللہ تعالیٰ کی کاص توفیق سے پوری طرح ثابت قدم رہے ، ان میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ بھی ہیں ، یہ تیر اندازی میں بڑے ماہر تھے ...... یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہی تھے ، تیر پر تیر چلا رہے تھے اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا “يَا سَعْدُ ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي” (سعد ! تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں اسی طرح تیر چلاتے رہو ،) بلاشبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ صرف ہمت افزائی نہ تھی ، بلکہ بہتر سے بہتر الفاظ میں اپنی انتہائی دلی مسرت اور خوشنودی کا اظہار بھی تھا ..... اور شرح السنہ میں کود حضرت سعد بن ابی وقاص ہی کی روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے یہ دعا بھی فرمائی “اللهم اشدد رميته واوجب دعوته” (اے اللہ اپنے اس بندے (سعد) کی تیر اندازی میں قوت و طاقت پیدا فرما دے اور اس کی دعائیں قبول فرما ۔) اور جامع ترمذی میں حضرت سعدؓ کی روایت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں ۔ “اللهم استجب لسعد اذا دعاك” خداوند ، سعد جب تجھ سے کوئی دعا کرے تو اس کی دعا قبول فرما لے) ..... حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعاو ہی کا نتیجہ تھا کہ حضرت سعدؓ جو دعا کرتے وہ عموماً قبول ہی ہوتی ، اسی لئے لوگ ان سے اپنے واسطے دعائیں کراتے تھے اور ان کی بددعا سے بہت ڈرتے تھے ۔

【118】

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (کسی غزوہ سے) مدینہ تشریف آوری پر (غالباً کسی وقتی خطرہ کی وجہ سے) رات کو نیند نہیں آ رہی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کاش کوئی مرد صالح اس وقت حفاظت کے لئے آ جاتا اسی وقت ہم نے ہتھیاروں کی کھڑکھڑاہٹ کی آواز سنی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “کون ہے ؟” آنے والے شخص نے کہا ۔ “میں سعد ہوں” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : “تم اس وقت کیوں آئے ؟” سعد نے عرض کیا میرے دل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خطرہ پیدا ہوا (کہ مبادا کوئی دشمن آپ کو ایذا پہنچائے) تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت اور نگہبانی ہی کے ارادہ سے آ گیا ہوں ..... تو آپ نے ان کے لئے دعا فرمائی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اطمینان سے) سو گئے ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح جب کسی بندہ کو اللہ کے کسی خاص مقبول بندے سے وہ للہی محبت ہو جاتی ہے جس کو “عشق” سے تعبیر کیا جا سکتا ہے تو بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ محبوب کے قلب میں جو کیفیت پیدا ہوتی ہے ، محب کے قلب پر اس کا اثر پڑتا ہے ..... حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جو واقعہ بیان فرمایا وہ اسی حقیقت کی ایک مثال ہے ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ جو سابقین اولین میں ہیں ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہی “عشق” والی محبت تھی ، اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ کسی وقتی خطرہ کی وجہ سے نیند نہ آنے سے جو کیفیت اور تمنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں پیدا ہوئی کہ کاش کوئی مرد صالح حفاظت و نگہبانی کے لئے اس وقت آ جاتا تا کہ میں اطمینان سے سو سکتا ..... اس کا اثر سعد بن ابی وقاصؓ کے قلب پر پڑا ، اور وہ تیر ، کمان ، نیزے وغیرہ سے مسلح ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت ہی کی نیت سے آ گئے ، بلاشبہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے قلب کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ للہی عاشقانہ تعلق ان پر اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمت اور بڑی فضیلت ہے ۔

【119】

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

قیس بن ابی حازم سے روایت ہے (جو تابعی ہیں) انہوں نے بیان کیا کہ سنا میں نے سعد بن ابی وقاصؓ سے فرماتے تھے : “عربوں میں سے میں پہلا شخص ہوں جس نے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں (اسلام کے دشمنوں پر) تیر اندازی کی اور میں نے دیکھا اپنے کو اور اپنے ساتھی دوسرے صحابہ کو کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (دشمنانِ اسلام سے) جہاد کرتے تھے ایسی حالت میں کہ ہمارے لئے کھانے کا کوئی سامان نہیں ہوتا تھا ، سوائے ببول (کیکر) کی پھلیوں اور اسی کے پتوں کے (ببال کی ان پھلیوں اور پتوں کے کھانے کی وجہ سے) ہم لوگوں کو اجابت ہوتی تھی بکریوں کی مینگنی کی طرح ، (بالکل خشک) جس میں کوئی چیک نہیں ہوتی تھی ، پھر اب بنو اسد مجھے سرزنش کرنے لگے ہیں ، اسلام کے بارے میں پھر تو میں خائب و نامراد رہ گیا اور میرے سارے عمل غارت گئے (واقعہ یہ ہوا تھا کہ) بنو اسد کے لوگوں نے اس بات کی شکایت کی تھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہ یہ نماز اچھی نہیں پڑھتے ۔”(صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا ولی و حاکم مقرر فرمایا تھا ، قاعدہ کے مطابق وہی نماز کی امامت بھی فرماتے تھے ...... حضرت زبیر بن عوام کے پردادا کا نام اسد ہے اسی وجہ سے حضرت زبیرؓ کے پورے خاندان کو “بنو اسد” کہا جاتا تھا ۔ اسی خاندان کے کچھ لوگوں نے حضرت عمرؓ کی خدمت میں شکایت بھیجی کہ سعد نماز اچھی نہیں پڑھتے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں حضرت سعدؓ کو لکھا کہ تمہارے بارے میں یہ شکایت کی گئی ہے ، جب یہ بات حضرت سعدؓ تک پہنچی تو یہ فطری طور پر سخت متاثر ہوئے اور وہ فرمایا جو اس روایت میں قیس بن حازم سے نقل کیا گیا کہ میں پہلا شخص ہوں جس نے دشمنانِ اسلام پر تیر اندازی کی ۔ واقعہ یہ ہے کہ ہجرت کے پہلے ہی سال صحابہ کرامؓ ایک جماعت کو جس میں سعد بن ابی وقاصؓ بھی تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کے لئے روانہ فرمایا ، اسی غزوہ میں سعد بن ابی وقاصؓ نے تیر اندازی کی ، جہاد اسلامی کی تاریخ میں یہ پہلی تیر اندازی تھی ، اسی واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے حضرت سعدؓ نے فرمایا کہ اللہ کی توفیق سے راہ خدا میں تیر سب سے پہلے میں نے ہی چلایا ۔ آگے حضرت سعدؓ نے اپنا اور اپنے ساتھ والے مومنین سابقین کے مجاہدوں اور قربانی کا یہ حال بیان فرمایا کہ “ہم ایسی بےسرو سامانی کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفار سے جہاد کرتے تھے کہ ہمارے پاس انسانی خوراک اور غذا کی قسم کی کوئی چیز نہیں ہوتی تھی ، ہم ببول (کیکر) کے درخت کی پھلیوں ، اور اس کے پتوں کو بطور غذا استعمال کرتے تھے ، (جو دراصل جنگل میں چرنے والی بکریاں عام طور سے کھاتی ہیں) اور پھر اسی وجہ سے ہم لوگوں کو بکریوں کی مینگنیوں ہی طرح اجابت ہوتی تھی ۔ اپنا یہ حال بیان فرمانے کے بعد حضرت سعدؓ نے دلی دکھ کے ساتھ فرمایا کہ اب یہ بنو اسد کے کچھ لوگ میری سرزنش کرتے ہیں اسلام کے بارے میں ، تو اگر ان کی شکایت صحیح ہو تو پھر تو میں بالکل ہی ناکام اور نامراد رہ گیا ، اور میرے سارے عمل غارت و ضائع ہو گئے ۔ اگرچہ شکایت کرنے والوں نے حضرت عمرؓ سے حضرت سعدؓ کے نماز اچھی طرح نہ پڑھنے ہی کی شکایت کی تھی ، لیکن نماز چونکہ اسلام کا اولین رکن ہے ، اور اسلام کے قالب کی گویا روح اور جان ہے ۔ اس لئے حضرت سعدؓ نے نماز اچھی نہ پڑھنے کی شکایت کو ناقص الاسلام ہونے کی شکایت سے تعبیر فرمایا ، (تُعَزِّرُنِي عَلَى الْاِسْلَامِ)...... آگے اسی روایت میں ہے کہ حضرت سعدؓ نے حضرت عمرؓ کو شکایت کے جواب میں لکھا کہ میں ویسی ہی نماز پڑھاتا ہوں ، جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھاتے دیکھا تھا ، پہلی دو رکعتوں میں قرأت طویل کرتا ہوں اور بعد کی دو رکعتوں میں مختصر ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب میں ان کو لکھا ۔ “میرا بھی تمہارے بارے میں یہی خیال تھا مطلب یہ ہے کہ میں نے خود اس شکایت کو صحیح نہیں سمجھا تھا ، لیکن میں نے اصول و ضابطہ کے مطابق ضرور سمجھا کہ تم کو اس کی اطلاع کروکں ، اور حقیقت حال دریافت کروں” ۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ نے بنو اسد کے لوگوں کی شکایت کو رد فرما دیا ۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر اللہ کا کوئی بندہ کسی وقت ضروری سمجھے تو اپنی اسلامی خدمات اور اس سلسلہ کے ان مجاہدات کا بیان کرنا جن سے اس کی بڑائی ثابت ہو جائز ہے ، اور یہ وہ تفاخر اور خودستائی نہیں ہے جس کی ممانعت ہے ۔ حضرت سعدؓ سے متعلق یہ چند باتیں بھی قابل ذکر ہیں ، جو صحیح احادیث روایت میں متفرق طور پر بیان کی گئیں ہیں ۔ ایک یہ کہ آپؓ نے خود بیان فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایمان و اسلام کی دعوت کو قبول کرنے والا تیسرا اادمی ہوں ، مجھ سے پہلے اللہ کی صرف دو بندوں نے اسلام قبول کیا تھا ..... وہ اس وقت صرف سترہ سالہ نوجوان تھے ۔ ان کی والدہ نے ان پر انتہائی درجہ دباؤ ڈالا کہ وہ اپنے باپ دادا کا مشرکانہ دین و مذہب چھوڑ کر اس نئے دین (اسلام)کو قبول نہ کریں ، جب حضرت سعدؓ ان کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہوئے تو انہوں نے قسم کھا لی کہ جب تک تو میری بات نہیں مانے گا میں نہ کچھ کھاؤں کی نہ کچھ پیوں گی ۔ اسی کے مطابق انہوں نے عمل شروع کر دیا ، کئی دن تک نہ کچھ کھایا نہ پیا ، اس درمیان میں تین دفعہ ان پر بےہوشی بھی طاری ہوئی ۔ لیکن حضرت سعدؓ ان کو منانے کی کوشش تو کرتے رہے ، مگر اسلام چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوئے .... صحیح مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے کہ اسی موقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ “وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۖوَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا” (1) حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کا یہ واقعہ بھی خاص طور سے قابل ذکر ہے کہ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے بیعت تو کر لی تھی ، لیکن جب اس مظلومانہ شہادت کے نتیجہ ہی میں باہمی خانہ جنگی اور قتل و قتال کا فتنہ شروع ہوا تو حضرت سعدؓ نے اپنے کو اس سے بالکل الگ اور دور رہنے کا فیصلہ کر لیا ، چنانچہ جب حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ یا ان کے بعض خاص رفیقوں نے حضرت سعدؓ کو جنگ میں اپنا ساتھ دینے کے لئے فرمایا یا تو انہوں نے کہا کہ : “مجھ کو ایسی تلوار لا کر دے دو کہ اس سے میں کافر پر وار کروں تو اس کو قتل کر دے اور اگر وار مومن پر ہو تو کوئی اثر نہ کرے” اور پھر اس خانہ جنگی اور قتل و قتال سے الگ رہنے ہی پر اکتفا نہیں کیا ، بلکہ مدینہ طیبہ کی آبادی سے فاصلہ پر وادی عقیق میں ان کی جو زمین تھی ، اس پر مکان بنا لیا اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ سب سے الگ تھلگ وہیں پر رہائش اختیار فرما لی ، چاہتے تھے کہ باہمی خانہ جنگی کی باتیں بھی ان تک نہ پہنچیں ۔ اسلامی تاریخ سے معمولی سی واقفیت رکھنے والے ہر شخص کو معلوم ہے کہ عراق اور پورا ملک فارس انہیں کی قیادت میں فتح ہوا ۔ راجح قول کے مطابق حضرت معاویہؓ کے دور حکومت میں ۵۵؁ھ میں اپنے وادی عقیق والے مکان ہی میں وفات پائی وہاں سے جنازہ مدینہ منورہ لایا گیا اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے ۔ یہ بھی مسلمات میں سے ہے کہ عشرہ مبشرہ میں سب سے آخر میں وفات پانے والے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ ہی ہیں ۔ رضی اللہ عنہ وراضاہ ۔

【120】

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ

حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا کہ :میں نو حضرات کے بارے میں شہادت دیتا ہوں کہ وہ “جنتی” ہیں اور اگر ایک دسویں آدمی کے بارے میں یہی شہادت دوں کہ وہ جنتی ہیں تو گنہگار نہ ہون گا ، آپ سے کہا گیا : “یہ بات کس طرح ہے؟” یعنی آپ کس بنیاد پر یہ بات فرما رہے ہیں ؟ تو اس کے جواب میں) حضرت سعیدؓ نے بیان کیا : کہ ہم لوگ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حراء پہاڑ پر تھے ، (پہاڑ میں جنبش پیدا ہوئی ، اور وہ حرکت کرنے لگا تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : “اے حراء ساکن ہو جا اس وقت تیرے اوپر یا تو اللہ کے نبی ہیں یا صدیق یا شہید ..... (اس کے بعد حضرت سعیدؓ سے دریافت کیا گیا “وہ کون حضرات تھے ؟” تو انہوں نے بتایا ۔ ایک خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (آپ کے علاوہ) ۲۔ ابو بکر ، اور ۳۔ عمر اور ۴۔ عثمان اور ۵۔ علی اور ۶۔ طلحہ اور۷۔ زبیر اور۸۔ سعد (یعنی ابن ابی وقاصؓ) اور ۹۔ عبدالرحمٰن بن عوفؓ ” لوگوں نے آپ سے کہا : بتلائیے کہ دسواں آدمی کون ہے ؟ تو فرمایا : “خود یہ بندہ” ..... (جامع ترمذی) تشریح عشرہ مبشرہ سے متعلق جامع ترمذی ہی کے حوالہ سے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کی وہ روایت پہلے گذر چکی ہے ، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دس اصحاب کرام کو نام لے کر ان سب کے بارے میں جنت کی بشارت دی ہے ، ان میں نو حضرات تو وہی ہیں جن کے اسماء گرامی حضرت سعید بن زیدؓ کی زیر تشریح حدیث میں ذکر کئے گئے ہین اور دسواں نام حضرت ابو عبیدہ بن جراح کا ہے ، اس عاجز (راقم سطور) کا خیال ہے کہ جبل حراء کا جو واقعہ حضرت سعید بن زیدؓ نے بیان فرمایا ہے ، اس میں ابو عبیدہ بن جراح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں تھے ۔ ایک دوسرا فرق ان دونوں روایتوں میں یہ ہے کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ والی روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دس صحابہ کا نام لے کر ان کے “جنتی” ہونے کی بشارت دی ہے ..... اور حضرت سعید بن زیدؓ کی اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کا نام لے کر کچھ نہیں فرمایا ، بلکہ صرف یہ فرمایا : “اے حراء ساکن ہو جا اس وقت تیرے اوپر یا تو اللہ کے ایک نبی ہیں ، یا صدیق یا شہید ..... آگے حضرت سعیدؓ کا بیان ہے کہ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نو صحابی اور تھے ، جن کے اسماء گرامی حدیث میں ذکر کئے گئے ہیں ۔ حضرت سعید بن زیدؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی بنیاد پر یقین کر لیا کہ یہ سب حضرات بلابشہ “جنتی” ہیں اور اسی بنیاد پر ان کے “جنتی” ہونے کی شہادت دی ہے ، کیوں کہ اللہ کے نبی و رسول اور صدیق اور شہید کے “جنتی” ہونے میں کوئی شبہ نہیں ..... جن حضرات کے اسماء گرامی کا ذکر حضرت سعید بن زیدؓ نے کیا ہے ، ان میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی ہیں اور حضرت ابو بکر صدیق بلکہ “صدیق اکبر” ہیں اور حضرت عمرؓ ، حضرت عثمانؓ ، حضرت علیؓ ، حضرت طلحہؓ ، حضرت زبیرؓ ، یہ پانچوں شہید ہوئے ، باقی حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور حضرت سعید بن زیدؓ یہ تینوں بھی بلاشبہ “صدیقین” میں ہیں ۔ حضرت سعید بن زیدؓ کا عنداللہ کیا مقام و مرتبہ تھا ، وہ اس حدیث سے بھی معلوم ہو جاتا ہے جو اسی سلسلہ “معارف الحدیث” کتاب المعاملات ، غصب کے بیان میں ذکر کی جا چکی ہے ، جس کے ایک راوی خود یہ حضرت سعید بن زیدؓ بھی ہیں ، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کو یہاں بھی نقل کر دیا جائے ۔ اور وہ یہ ہے ۔ “ایک عورت نے (جس کا نام ارویٰ تھا) حضرت معاویہؓ کے دور خلافت میں انہی حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے خلاف مدینہ کے اس وقت کے حاکم مروان کی عدالت میں دعویٰ کیا کہ “انہوں نے میری فلاں زمین دبا لی ہے ۔ حضرت سعید رضی اللہ عنہ کو اس جھوٹے الزام سے بڑا صدمہ پہنچا ، انہوں نے مروان سے کہا : “قَالَ: أَنَا أَنْتَقِصُ مِنْ حَقِّهَا شَيْئًا أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الأَرْضِ ظُلْمًا، فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ القِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ»” ترجمہ : کہا کیا میں اس عورت کی زمین دباؤں گا اور غصب کروں گا ؟ میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ “جس شخص نے ظالمانہ طور پر کسی کی ایک بالشت بھر زمین بھی غصب کر لی تو قیامت کے دن زمین کا وہ غصب کیا ہوا ٹکڑا سالوں زمین تک طوق بنا کر اس ظالم کے گلے میں ڈالا جائے گا” ۔ یہ روایت حضرت سعیدؓ نے دل کے کچھ ایسے تاثر کے ساتھ اور ایسے انداز سے کہی کہ خود مروان بہت متاثر ہوا اور اس نے آپ سے کہا کہ “اب میں آپ سے کوئی دلیل اور ثبوت نہیں مانگتا ..... اس کے بعد حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے (دکھے ہوئے دل سے) بددعا کی کہ اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ اس عورت نے مجھ پر یہ جھوٹا الزام لگایا ہے تو اس کو آنکھوں کی روشنی سے محروم کر دے ، اور اس کی زمین ہی کو اس کی قبر بنا دے”۔ (واقعہ کے راوی حضرت عروہ کہتے ہیں کہ) “پھر ایسا ہی ہوا ، میں نے خود اس عورت کو دیکھا ہے وہ آخر عمر میں نابینا ہو گئی ، اور خود کہا کرتی تھی کہ “سعید بن زیدؓ کی بددعا سے میرا یہ حال ہوا ہے ، اور پھر ایسا ہوا کہ وہ ایک دن اپنی زمین ہی میں چلی جا رہی تھی کہ ایک گڑھے میں گر پڑی اور بس وہ گڑھا ہی اس کی قبر بن گیا ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) اللہ تعالیٰ اس واقعہ سے سبق لینے کی توفیق دے ۔

【121】

حضرت ابو عبیدہ ابن جراح رضی اللہ عنہ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر امت کے لئے ایک امین ہوتا ہے ، اور میری اس امت کے امین ابو عبیدہ بن جراحؓ ہیں ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اسی سلسلہ معارف الحدیث میں پہلے بھی بیان کیا جا چکا ہے کہ قرآن پاک اور احادیث نبویہ میں “امانت” کا لفظ بہت وسیع معنی میں استعمال ہوا ہے ، اس کا مطلب ہے اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق سے متعلق جو ذمہ داریاں کسی بندے ہوں ، صحیح اور پورے طور پر ان کو ادا کرنا ۔ حضرت انسؓ کی زیر تشریح روایت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت و توفیق سے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو اس صفت میں امتیاز حاصل تھا ..... آگے درج ہونے والی حدیث سے بھی مزید وضاحت کے ساتھ یہی معلوم ہو گا ۔

【122】

حضرت ابو عبیدہ ابن جراح رضی اللہ عنہ

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ نجران کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور انہوں نے درخواست کی کہ آپ ایک امین شخص کو ہمارے لئے مقرر فرما کر بھیج دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ“میں ایک ایسے “مرد امین ” کو تمہارے لئے مقرر کروں گا جو سچا پکا امین ہو گا” تو لوگ اس کے لئے متوقع اور خواہش مند ہوئے ، آگے حدیث کے راوی (حضرت حذیفہؓ) نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو عبیدہ بن جراحؓ کو نجران بھیجنے کا فیصلہ فرمایا ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح نجران ایک علاقہ تھا یمن اور شام اور حجاز کے درمیان ، اس کے بڑے اور مرکزی شہر کو نجران ہی کہا جاتا تھا ، یہ ۱۰ ھ میں فتح ہوا ، اس میں بیشتر آبادی عیسائیوں کی تھی اور یہ اس پورے علاقہ میں عیسائیت کا سب سے بڑا مرکز تھا ، اس نجران کے ایک وفد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر وہ درخواست کی تھی جس کا حذیفہ بن الیمانؓ کی زیر تشریح حدیث میں ذکر کیا گیا ہے ، اور ان کی درخواست پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ کو وہاں کا عامل اور حاکم بنا کر بھیجا ۔ کنز العمال میں حضرت حذیفہؓ کی یہ حدیث مسند احمد وغیرہ متعدد کتب حدیث کے حوالہ سے بھی نقل کی گئی ہے اور اس میں نجران کے وفد کی اس درخواست کے جواب میں کہ “آپ ہمارے لئے ایک “مرد امین” مقرر فرما دیجئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے ۔ “لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے “أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ” کا لفظ تین دفعہ فرمایا ۔ ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تین دفعہ اس کلمہ کے ارشاد فرمانے سے وصف امانت کے لحاظ سے حضرت ابو عبیدہؓ کی عظمت و فضیلت میں اور اضافہ ہو جاتا ہے ۔

【123】

حضرت ابو عبیدہ ابن جراح رضی اللہ عنہ

ابن ابی ملیکہ (تابعی) سے روایت ہے کہ میں نے خود سنا ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے ، ان سے دریافت کیا گیا تھا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد کے لئے کسی کو خلیفہ مقرر فرماتے تو کس کو نامزد کرتے ؟ تو حضرت صدیقہؓ نے فرمایا : ابو بکرؓ کو ، اس کے بعد ان سے پوچھا گیا کہ ابو بکر کے بعد کے لئے کس کو نامزد فرماتے تو حضرت صدیقہؓ نے فرمایا : عمرؓ کو ، پھر دریافت کیا گیا عمرؓ کے بعد کے لئے کس کو نامزد فرماتے ؟ تو انہوں نے فرمایا : ابو عبیدہ بن جراحؓ کو ..... (صحیح مسلم) تشریح ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے مبارک ، اور رجحانات و عزائم سے واقفیت میں خاص امتیاز ھاصل تھا ، انہوں نے حضور کا جو معاملہ اپنے والد ماجد حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ ، اور حضرت ابو عبیدہ ابن جراحؓ کے ساتھ دیکھا تھا ، اس کی بنا پر انہوں نے یہ رائے قائم فرمائی ۔ اور بالخصوص حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اظہار بھی فرما دیا تھا ، اسی سلسلہ معارف الحدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات کے بیان میں حضرت عائشہ صدیقہؓ ہی کا یہ بیان ذکر کیا جا چکا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مرض کے آغاز ہی میں فرمایا تھا کہ اپنے والد ابو بکر اور بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بلوا لو ، میں ابو بکر کی خلافت کے بارے میں وصیت لکھوا دوں ۔ لیکن پھر آپ نے یہ لکھانے کی ضرورت نہیں سمجھی اور اپنے اس یقین اطمینان کا اظہار فرمایا ۔ “يابى الله والمومنون الا ابا بكر” (یعنی مجھے اطمینان ہے کہ اللہ مومنین ابو بکر کے سوا کسی کو قبول نہیں کریں گے) پھر حضرت ابو بکر صدیقؓ نے اپنے آخری وقت میں جس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے بعد کے لئے خلیفہ مقرر فرمایا ، اور جس طرح اس وقت کی امت مسلمہ نے اس کو بشرح صدر قبول کیا اس سے بھی حضرت عمرؓ کے بارے میں حضرت صدیقہؓ کے بیان کی تصدیق ہو گئی ۔ اور کنز العمال میں مسند احمد اور ابن جریر وغیرہ کے حوالے سے یہ واقعہ نقل کیا گیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، جب ملک شام کی فتح مکمل ہو جانے کے بعد (ملک کے عمائد کی درخواست پر) شام کی طرف روانہ ہوئے ، اور راستہ میں مقام سرغ پر پہنچے تو آپ کو بتایا گیا کہ ملک شام میں سخت وبا ہے اور لوگ بکثرت لقمہ اجل بن رہے ہیں ، اس اطلاع کے دینے والوں کا مقصد یہ تھا کہ آپ اس وقت شام تشریف نہ لے جائیں ، لیکن آپ نے شام کی طرف سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور اس وقت یہ بھی فرمایا : إِنْ أَدْرَكَنِي أَجَلِي، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ حَيٌّ، اسْتَخْلَفْتُهُ، فَإِنْ سَأَلَنِي اللهُ: لِمَ اسْتَخْلَفْتَهُ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ أَمِينًا، وَأَمِينِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ. ترجمہ : اگر میری موت کا مقررہ وقت آ گیا اور ابو عبیدہ اس وقت زندہ ہوئے تو میں ان کو اپنے بعد کے لئے خلیفہ مقرر کروں گا پھر اگر اللہ تعالیٰ نے پوچھا کہ ابو عبیدہؓ کو تم نے کس وجہ سے امت محمدیہ پر خلیفہ مقرر کیا ہے تو میں عرض کروں گا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنا ہے کہ “ہر پیغمبر کا ایک امین ہوتا ہے اور میرے امین ابو عبیدہ ابن جراح ہیں” ۔ لیکن اللہ کی مشیت اور قضا و قدر کے فیصلے کے مطابق حضرت عمرؓ تو شام کے سفر سے صحیح سالم واپس تشریف لے آئے ، مگر حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ طاعون میں مبتلا ہو کر واصل بحق ہوئے ۔ “وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ قَدَرًا مَقْدُورًا” اور کنز العمال ہی کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا تھا : لَوْ أَدْرَكْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ لَاسْتَخْلَفْتُهُ وَمَا شَاوَرْتُ فِيهِ فَإِنْ سُئِلْتُ عَنْهُ، قُلْتُ: اسْتَخْلَفْتُ أَمِينَ اللَّهِ وَأَمِينَ رَسُولِهِ. ترجمہ : اگر میں ابو عبیدہ کو پاتا تو ان کو اپنے بعد کے لئے خلیفہ نامزد کرتا اور کسی سے مشاورت بھی نہ کرتا ، اگر اس بارے میں مجھ سے پوچھا جاتا تو میں جواب دیتا کہ میں نے اس شخص کو خلیفہ نامزد کیا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک امین ہے ۔ بظاہر یہ بات آپ نے اس وقت فرمائ جب آپ کو ایک شقی ازلی ابو لؤلؤ مجوسی نے عین نماز کی حالت میں خنجر سے ایسا زخمی کیا کہ اس کے بعد زندہ رہنے کی توقع نہیں رہی اور اپنے بعد کے لئے خلیفہ مقرر کرنے یا نہکرنے کا اہم مسئلہ آپ کے سامنے آیا ۔ واللہ اعلم ۔ الغرض حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ان ارشادات سے بھی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے اس خیال کی پوری تصدیق و توثیق ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد کے لئے خلیفہ مقرر کرنے کا فیصلہ فرماتے تو پہلے نمبر پر حضرت ابو بکر صدیقؓ اور دوسرے پر حضرت عمرؓ اور ان کے بعد ابو عبیدہ بن جراحؓ کو نامزد فرماتے ، بلاشبہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح کا یہی مقام و مرتبہ تھا ۔ رضی اللہ عنہ وارضاہ ۔ اللہ کے فضل و کرم اور اس کی توفیق سے حضرات عشرہ مبشرہ کے مناقب کا سلسلہ ختم ہوا ۔

【124】

فضائل اہل بیت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم (ازواجِ مطہرات اور ذریت طیّبہ): فضائل ام المومنین حضرت خدیجہؓ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ جبرائیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ اے رسول خدا : یہ خدیجہ آ رہی ہیں ان کے ساتھ ایک برتن ہے اس میں سالن اور کھانا ہے ، جب وہ آپ کے پاس آ جائیں تو ان کو ان کے پروردگار کی طرف سے سلام پہنچائیے اور میری طرف سے بھی ، اور ان کو خوشخبری سنائیے جنت میں موتیوں سے بنے ہوئے ایک گھر کی ، جس میں نہ شور و شغب ہو گا اور نہ کوئی زحمت و مشقت ہو گی ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح یہ ایک حقیقت ہے جس میں کسی شک شبہ کی گنجائش نہیں کہ “اہل البیت” کا لفظ قرآن مجید میں ازواج مطہرات ہی کے لئے استعمال ہوا ہے ، سورۃالاحزاب کے چوتھے رکوع میں ازواج مطہرات کو کچھ خاص ہدایات دینے کے بعد فرمایا گیا ہے ۔ “إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا” جس کا مطلب یہ ہے کہ “اے ہمارے پیغمبر کی بیویوں ! تم کو جو یہ خاص ہدایتیں دی گئیں ہیں ان سے اللہ کا مقصد تم کو زحمت و مشقت میں مبتلا کرنا نہیں ہے ، بلکہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ ان ہدایات سے یہ ہے کہ تم کو ہر قسم کی ظاہری و باطنی برائی اور گندگی سے مطہر اور پاک صاف کر دیا جائے .....“جو شخص عربی زبان کی کچھ بھی واقفیت رکھتا ہے اس کو سورہ احزاب کے اس پورے رکوع کے پڑھنے کے بعد اس میں کوئی شک شبہ نہیں ہو گا کہ یہاں “اہلبیت” کا لفظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ہی کے لئے استعمال ہوا ہے ..... لیکن یہ کیسی عجیب بات ہے کہ قرآن پر ایمان رکھنے والے ہم مسلمانوں کا حال آج یہ ہے کہ “اہل بیت”کا لفظ سن کر ہمارا ذہن ازواج مطہرات کی طرف بالکل نہیں جاتا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ زہرا اور ان کے شوہر حضرت علی مرتضیٰؓ اور ان دونوں کی ذریت (رضی اللہ عنہم) ہی کی طرف جاتا ہے ۔ “اہل البیت” کا لفظ قرآن مجید میں سورہ احزاب کے علاوہ صرف ایک جگہ اور سورہ ہود کے چھٹے رکوع میں بھی آیا ہے ، جہاں یہ واقعہ بیان ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جب بڑھاپے کی اس عمر کو پہنچ گئے تھے جس میں عام قانون فطرت کے مطابق اولاد کی امید نہیں کی جا سکتی اور لاولد تھے ، تب اللہ تعالیٰ کی بھیجے ہوئے فرشتوں کی ایک جماعت نے آ کر انہیں اور ان کی زوجہ محترمہ حضرت سارہ کو ایک بیٹے کو تولد کی بشارت دی ، حضرت سارہ نے از راہ تعجب کہا : “أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهَذَا بَعْلِي شَيْخًا” (میں خود بڑھیا اور میرے یہ میاں بھی بوڑھے تو اب کیا میں بچہ جنوں گی ؟) ..... اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا “ أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ ۖ رَحْمَتُ اللَّـهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ ۚ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ” (محترمہ ! کی آپ اللہ کے تکوینی حکم کے بارے میں تعجب کرتی ہیں ، آپ “اهل البيت” پر تو اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتیں اور برکتیں ہیں) ..... ظاہر ہے کہ اس آیت میں بھی “اهل البيت” سے مراد ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ محترمہ حضرت سارہ کو مخاطب کیا گیا ہے ۔ عربی زبان و محاورات سے واقفیت رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ کسی شخص کے “اهل البيت” کا اولین مصداق اس کی بیوی ہی ہوتی ہے ، اسی طرح فارسی میں “اہل خانہ” اور اردو میں “گھر والے” یا “گھر والی” بیوی ہی کو کہا جاتا ہے ، ماں ، بہن ، بیٹی اور داماد اور ان کی اولاد کے لئے “اہل البیت” اور “اہل خانہ” اور “گھر والوں” کا لفظ استعمال نہیں ہوتا ، الغرض اس میں شک شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ “اہل البیت” کا لفظ قرآن مجید میں ازواج مطہرات ہی کے لئے استعمال ہوا ہے اور وہی اس کی اولین مصداق ہے ..... البتہ یہ بات حدیث شریف سے ثابت ہے کہ جب سورہ احزاب کی مندرجہ بالا آیت : “إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا” نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ زہرا اور ان کے دونوں صاحبزادوں حضرت حسن اور حضرت حسین اور ان کے ساتھ ان کے شوہر اور اپنے چچازاد بھائی حضرت علی مرتضیٰ (رضی اللہ عنہم اجمعین) کو ایک کملی میں اپنے ساتھ لے کر دعاء فرمائی : “اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَحَامَّتِي، فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا” (اے اللہ ! یہ بھی میرے اہل بیت ہیں ان سے بھی ہر طرح کی برائی اور گندگی کو دور فرما دے اور ان کو مکمل طور سے مطہر و پاک صاف فرما دے) ..... بلاشبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا قبول ہوئی اور سورہ احزاب والی آیت میں ازواج مطہرات “اھل البیت” کے لفظ سے ذکر فرما کر ان پر اللہ تعالیٰ کے جس خاص انعام کا ذکر فرمایا گیا تھا ، اس میں اور لفظ “اھل البیت” کے اطلاق میں یہ حضرات بھی شامل ہو گئے ، اس بنیاد پر یہ حضرات بھی لفظ “اھل البیت” کا صحیح مصداق ہیں ، لیکن جیسا کہ تفصیل سے عرض کیا جا چکا ، قرآن مجید میں یہ لفظ ازواج مطہرات ہی کے لئے استعمال ہوا ہے ، اور وہی اس کی اولین مصداق ہیں ۔ الغرض یہ بات کہ ازواج مطہرات آ پ کے اہل بیت میں سے نہیں ہیں بلکہ اس لفظ کا مصداق صرف آپ کی ایک بیٹی ، ایک داماد اور دو نواسے ہیں ، نہ تو زبان کے لحاظ سے درست ہے نہ قرآن و حدیث سے ثابت ..... بلکہ ایک خاص فرقہ کے فنکاروں کی سازش کے نتیجہ میں اس غلطی نے امت میں عام کی حیثیت اختیار کر لی اور ہماری سادہ دلی کی وجہ سے اس طرھ کی بہت سی دوسری غلط باتوں کی طرح اس کو بھی قبول عام حاصل ہو گیا اور جیسا کہ عرض کیا گیا حالت یہ ہو گئی کہ “اھل بیت” کا لفظ سن کر ہمارے اچھے پڑھے لکھوں کا ذہن بھی ازواج مطہرات کی طرف نہیں جاتا جو قرآن مجید کی رو سے اس لفظ کی اولین مصداق ہیں ۔ اب اس عاجز نے لفظ “اھل البیت” کے صحیح مفہوم کو امت میں رائج کرنے کی نیت سے “اھل بیت نبوی” کے عنوان کے تحت ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اور آپ کی ذریت طیبہ دونوں کے فضائل و مناقب لکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وَالله ُالْمُوَفِّقْ وَهُوَ الْمُسْتَعَانِ ازواج مطہرات جیسا کہ حدیث و سیرت کی مستند روایات سے معلوم ہوتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات جو منکوحہ بیوی کی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھوڑی یا زیادہ مدت رہیں وہ کل گیارہ ہیں ، ان کے اسماء گرامی یہ ہیں ۔ 1.حضرت خدیجہ بنت خویلد 2.حضرت سودہ بنت زمعہ 3.حضرت عائشہ صدیقہؓ 4.حضرت حفصہ بنت عمر بن الخطاب 5.حضرت زینب بنت جحش 6.حضرت ام سلمہ 7.حضرت زینب نبت جحش 8.حضرت ام حبیبہ 9.حضرت جویریہ بنت الحارث 10.حضرت صفیہ بنت حیی بن اخطب 11.حضرت میمونہ (رضی اللہ عنہن وارضاھن) ان میں سے حضرت خدیجہؓ اور حضرت زینب بنت خزیمہؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مین وفات ان گیارہ کے علاوہ بنو قریظہ میں سے ریحانہ شمعون کے متعلق بھی بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی بنی قریظہ کی غداری کی وجہ سے ان کے خلاف کار روائی کی اور ان کی بقایا کو گرفتار کیا گیا تو ان میں یہ ریحانہ بھی تھیں ، انہوں نے اسلام قبول کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد کر کے اپنے نکاح میں لے لیا، لیکن بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی منکوحہ بیوی بننے کا شرف حاصل نہیں ہوا ، بلکہ یہ باندی کی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہیں ، یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے چند روز پہلے اور ایک روایت کے مطابق حجۃ الوداع سے واپس آنے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات ہی میں وفات پا گئیں ۔ زوجیت کا شرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت کا شرف بجائے خود یقیناً اعلیٰ درجہ کی فضیلت اور اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمت ہے اور فرق مراتب کے باوجود یہ تمام ازواج مطہرات کو یکساں طور پر حاصل ہے اسی طرح ازواج مطہرات کو جو خصوصی احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے دئیے گئے ہیں ، وہ بھی یکساں طور پر ان سبھی کے لئے ہیں ، قرآن مجید میں “وَاَزْوَاجُهُ اُمَّهَاتُهُمْ” فرما کر ان کو تمام اہل ایمان کی مائیں قرار دیا گیا ہے ۔ اسی بنیاد پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کے ہر امتی اور ہر صاحب ایمان کے لئے ان میں سے کسی کے ساتھ نکاح کرنا ابد الآباد تک اسی طرح حرام قرار دے دیا گیا ہے جس طرح اپنی حقیقی ماں کے ساتھ نکاح کرنا حرام ہے ۔ یہاں تک ازواج مطہرات کے صرف اسماء گرامی لکھے گئے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت کے شرف سے متعلق مختصراً کچھ اشارات کئے گئے ہیں ، آگے ان شاء اللہ ان “امہات المومنین” کا بقدر ضرورت تعارف ، قابل ذکر خصوصی احوال و اوصاف ، ان میں سے ہر ایک کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آنے کی تفصیل اور اس کے خاص اسباب و محرکات ، نیز ان کی وفیات کا تذکرہ ناظرین کرام مطالعہ فرمائیں گے اور ان شاء اللہ ان سوالات و شبہات کا جواب بھی ان کو مل جائے گا ، جو ازواج مطہرات کی تعداد کے بارے میں کچھ شیاطین الانس کی وسوسہ اندازی سے ان کے دلوں میں پیدا ہو سکتے ہیں ۔ ام المومنین حضرت خدیجہ (رضی اللہ عنہا) یہ پہلی خوش قسمت خاتون ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت کے شرف سے مشرف ہوئیں ، ان کے والد خویلد بن اسد مکہ کے ایک دولت مند اور معزز تاجر تھے ، حضرت خدیجہؓ کی پہلی شادی ابو ہالہ تمیمی سے ہوئی تھی ان سے دو (۲) بیٹے (ہالہ اور ہند) پیدا ہوئے ، کچھ مدت کے بعد ابو ہالہ کا انتقال ہو گیا تو ان کا دوسرا نکاح عتیق ابن عابد مخزومی سے ہوا ، ان سے بھی ایک بیٹی پیدا ہوئی ، لیکن عتیق کی عمر نے بھی زیادہ وفا نہ کی ..... پھر جب کہ خدیجہ کی عمر قریباً ۳۵ ۔ ۳۶ سال کی ہو گئی تھی ، ان کے والد خویلد کا بھی انتقال ہو گیا ، اب تجارتی کاروبار کی ذمہ داری خود حضرت خدیجہؓ کو سنبھالنی پڑی ..... مکہ میں رواج تھا کہ لوگ نفع میں مقررہ شرح سے شرکت کی بنیاد پر دوسرے لوگوں کے ذریعہ بھی تجارتی کاروبار کرتے تھے (جس کو فقہی اصطلاح میں “مضاربت” کہا جاتا ہے) اپنے والد اور شوہر کے انتقال کے بعد حضرت خدیجہؓ نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معصومانہ سیرت ، امانت و دیانت ، صداقت شعاری اور راست بازی کا مکہ میں عام شہرہ تھا ، یہاں تک کہ آپ “الامین” کے لقب سے معروف تھے اسی وجہ سے حضرت خدیہؓ نے ایک دفعہ چاہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا مال تجارت لے کر ملک شام جائیں اور پیشکش کی کہ منافع میں جتنا حصہ اب تک میں دوسروں کو دیتی رہی ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا مال تجارت لے کر ملک شام جائیں اور پیشکش کی کہ منافع میں جتنا حصہ اب تک میں دوسروں کو دیتی رہی ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے دوگنا دوں گی آپ نے اپنے چچا ابو طالب سے مشورہ کے بعد اس کو قبول فرما لیا ، خدیجہؓ نے اپنے غلام میسرہ کو بھی آپ کے ساتھ کر دیا ، اس تجارتی سفر میں اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی برکت دی اور پہلے جو نفع ان کو ہوا کرتا تھا اس سے دوگنا نفع ہوا ، اس کے علاوہ حضرت خدیجہؓ کے غلام میسرہ نے آپ کے حسن اخلاق ، معصومانہ سیرت کا تجربہ اور کچھ غیر معمولی خارق عادت کرامتی قسم کی باتوں کا بھی مشاہدہ کیا ، واپس آنے پر جن کا تذکرہ میسرہ نے حضرت خدیجہؓ سے بھی کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکاح حضرت خدیجہؓ ایک دولت مند شریف الطبع خاتون ہونے کے علاوہ ظاہری حسن و جمال ، باطنی محاسن اخلاق ، کردار کی بلندی ، فیاضی اور پاک بازی جیسے اوصاف حمیدہ میں بھی ممتاز تھیں ، اسی بناء پر وہ طاہرہ کے لقب سے مشہور تھیں ، اس وجہ سے قریش مکہ کے بہت سے معزز حضرات کی طرف سے ان کو نکاح کا پیغام دیا گیا ، لیکن دو شوہروں سے بیوہ ہو جانے کے باعث باقی زندگی اسی طرح گزارنے کا ارادہ کر لیا تھا ، اس لئے کسی کا پیغام قبول نہیں کیا ..... مگر میسرہ نے تجارتی سفر سے واپسی کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تجربات اور مشاہدات بیان کئے تو خود ان کے دل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کی خواہش پیدا ہوئی ، اور اس مقصد کے لئے ایک دوسری خاتون نفیسہ بنت امیہ کو رازدارانہ طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا نفیسہ کا بیان ہے کہ ..... میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ “آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکاح کیوں نہیں کر لیتے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نادار اور خالی ہاتھ ہوں ، کس طرح نکاح کر سکتا ہوں ، میں نے کہا کہ اگر کوئی ایسی عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کرنے کی خواہش مند ہو جو ظاہری حسن و جمال اور طبعی شرافت کے علاوہ دولت مند بھی ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ضروریات کی کفایت کرنے پر بھی خوش دلی سے آمادہ ہو تو آپ اس سے نکاح کر لینا پسند کریں گے ؟ ..... آپ نے دریافت کیا کہ ایسی کون خدا کی بندی ہو سکتی ہے ؟ میں نے کہا : خدیجہ بنت خویلد ..... آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ابو طالب سے ذکر کیا ، انہوں نے بڑی خوشی کا اظہار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نفیسہ کو جواب دے دیا کہ اگر خدیجہ اس کے لئے آمادہ ہیں تو میں بھی راضی ہوں ۔ نفیسہ نے آ کر حضرت خدیجہ کو اس کی اطلاع دی ، پھر خدیجہ نے نفیسہ ہی کے ذریعہ آپ کو بلوا کر براہ راست بھی آپ سے بات کی ، اس گفتگو ہی میں طے ہو گیا کہ آپ اپنے خاندان کے بزرگوں کو لے کر فلاں دن میرے یہاں آ جائیں ، چنانچہ آپ اپنے چچا ابو طالب اور دوسرے خاندانی بزرگوں کو لے کر جن میں حضرت حمزہؓ بھی تھے ، خدیجہ کے گھر پہنچ گئے ، انہوں نے بھی اپنے چچا عمرو ابن اسد کو بلوا لیا ، اور قریش کے اس دور کے رواج کے مطابق انہیں کی ولایت میں نکاح ہو گیا ، اس وقت آپ کی عمر پچیس سال تھی اور حضرت خدیجہ کی چالیس سال ، آپ کا یہ پہلا نکاح تھا جو بعثت سے قریباً پندرہ سال پہلے ہوا ۔ اولاد اس رشتہ اردواج کے کچھ مدت بعد (ایک مشہور تاریخی روایت کے مطابق ۵ سال بعد) آپ کے پہلے صاحبزادہ پیدا ہوئے ، جن کا نام “قاسم” رکھا گیا ، انہیں کے نام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کنیت “ابو القاسم” رکھی ، ان کا صغر سنی ہی میں انتقال ہو گیا ، ان کے بعد آپ کی سب سے بڑی صاحبزادی “زینب” پیدا ہوئیں ان دونوں کی پیدائش آغاز نبوت سے پہلے ہی ہوئی ، اس کے بعد ایک صاحبزادے پیدا ہوئے ، ان کا ام عبداللہ رکھا گیا ان کی پیدائش دور نبوت میں ہوئی اسی لئے ان کو طیب اور طاہر کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے ۔ ان کا انتقال بھی صغر سنی ہی میں ہو گیا ، پھر ان کے بعد مسلسل تین صاحبزادیاں پیدا ہوئیں جن کے نام رقیہ ، ام کلثوم ، اور فاطمہ رکھے گئے ، چاروں صاحبزادیوں کا تذکرہ آگے “ذریت طبیہ” کے عنوان کے تحت ناظرین کرام ان شاء اللہ مطالعہ فرمائیں گے ۔ حضرت خدیجہؓ کی بعض قابلِ ذکر خصوصیات معلوم ہے کہ قریش کا قبیلہ بلکہ عام طور سے اہل مکہ بت پرستی کے شرک میں مبتلا تھے اور یہ شرک انہیں اتنا پیارا تھا کہ اس کے خلاف کوئی لفظ سننا بھی ان کے لئے ناقابل برداشت تھا ، لیکن جاہلیت کے اس دور میں گنتی کے دو چار آدمی ایسے بھی تھے جن کو فطری طور پر بت پرستی سے نفرت تھی ، ان میں ایک حضرت خدیجہؓ بھی تھیں ..... اس دور کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ واحد خاتون تھیں جو شرک و بت پرستی سے بیزار تھیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دوسرے بہت سے انعامات کے علاوہ دولت مندی کی نعمت سے بھی نوازا تھا ..... رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حال اس کے برعکس تھا ، انہوں نے اپنی پوری دولت گویا آپ کے قدموں میں ڈال دی اور آپ کو اس سلسلہ کی فکروں سے آزاد کر دیا ، قرآن مجید سورہ “والضحى” میں اسی صورت حال کے بارے میں فرمایا گیا ہے “ وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَىٰ” (اے پیغمبر ! تم کو تمہارے پروردگار نے مفلس اور نادار پایا پھر مستغنی کر دیا) اس سلسلہ میں یہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے کہ زید بن حارثہ ، حضرت خدیجہؓ کے زر خرید غلام تھے ، انہوں نے دیکھا کہ زید کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص انس و محبت ہے اور آپ کا معاملہ بھی زید کے ساتھ خصوصی درجہ کی شفقت و پیار کا ہے ، تو انہوں نے زید کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ملکیت میں دے دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد کر دیا اور عربوں کے اس وقت کے رواج کے مطابق ..... ان کو اپنا منہ بولا بیٹا ، بنا لیا یہاں تک کہ ان کو زید بن حارثہ کے بجائے زید بن محمد ہی کہا جانے لگا ۔ پھر جب نکاح کے پندرہ سال بعد اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شرف نبوت سے سرفراز فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ شدید غیر معمولی حالات آئے جن کا ذکر بیان مناقب کے شروع ہی میں آغاز نبوت والی حدیث کے حوالہ سے کیا جا چکا ہے ، تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح کی دانش مندانہ و ہمدردانہ تسلی کی ضرورت تھی وہ اللہ تعالیٰ کی خاص توفیق سے حضرت خدیجہ ہی سے ملی اور جب وہ آپ کے اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو مکہ کی پوری آبادی میں موحد صحیح العقیدہ نصرانی اور توریت و انجیل کے عالم تھے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غار حراء کی واردات اور سرگذشت سن کر یقین و وثوق کے ساتھ آپ کے مبعوث من اللہ نبی ہونے کی بات کہی تو حضرت خدیجہؓ نے بھی ان کی اس بات کو دل سے قبول کر لیا ، بلکہ یہ کہنا صحیح ہو گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات و اوصاف کے پندرہ سالہ تجربہ کی بنا پر پہلے ہی سے ان کا دل آپ کی ہر بات کی تصدیق کے لئے تیار ہو چکا تھا ، اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ پوری امت میں وہ سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبعوث من اللہ نبی ہونے کی تصدیق کرنے والی ہیں ۔ پھر جب آپ نے بحکم خداوندی توحید اور دین حق کی دعوت کا کام شروع کیا تو پوری قوم آپ کی دشمن بن کر کھڑی ہو گئی ، ہر ممکن طریقہ سے آپ کو ستایا برسوں تک ان بدنصیبوں کا محبوب ترین مشغلہ رہا ، مظلومیت کے اس پورے دور میں حضرت خدیجہؓ نہ صرف آپ کی غم خوار و غمگسار بلکہ پوری طرح شریک حال رہیں ، یہاں تک کہ جب ان ظالموں نے مکہ کی قریبا پوری آبادی کو اپنے ساتھ لے کر آپ کا اور آپ کے خاندان بنو ہاشم کے ان تمام لوگوں کا بھی جنہوں نے اگرچہ آپ کی دعوت اسلام کو قبول نہیں کیا تھا لیکن نسبی اور قرابتی تعلق کی وجہ سے آپ کی کسی درجہ میں حمایت کرتے تھے بائی کاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ، اور آپ اور آپ کے وہ قریبی رشتہ دار بھی شعب ابی طالب میں محصور کر دئیے گئے اور ایسی ناکہ بندی کی گئی کہ کھانے پینے کی ضروریات بھی ان کو نہ پہنچ سکیں ، یہاں تک کہ ان لوگوں کو کبھی کبھی درختوں کے پتے کھا کر گذارہ کرنا پڑا ..... اس حالت میں بھی حضرت خدیجہؓ شعب ابی طالب میں آپ کے ساتھ رہیں ، حالانکہ ان کے لئے بالکل ممکن تھا کہ وہ ان دنوں اپنے گھر ہی رہتیں ۔ حضرت خدیجہؓ کے سلسلہ میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وہ پورے پچیس سال تک آپ کی رفیقہ حیات کی حیثیت سے آپ کے ساتھ رہیں اور اس پورے دور میں آپ نے کوئی دوسرا نکاح نہیں کیا نبوت کے دسویں سال ہجرت سے قریباً تین سال پہلے رمضان المبارک ۱۱ نبوی میں عمر کے ۶۵ ویں سال وفات پائی ۔ اس وقت تک نہ تو نماز پنجگانہ فرض ہوئی تھی اور نہ نماز جنازہ کا حکم ہوا تھا ، اس لئے ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان کو اپنے مبارک ہاتھوں سے قبر مین اتارا اور رحمت خداوندی کے سپرد کیا ۔ (رضی اللہ عنہا وارضاھا) تشریح ..... حدیث کا مطلب واضح ہے کسی تشریح و وضاحت کا محتاج نہیں ، لیکن اس میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ حضرت جبرئیل کی یہ آمد کہاں اور کب ہوئی ، جس میں انہوں نے حضرت خدیجہؓ سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات کہی ۔ فتح الباری میں حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے اسی حدیث کی شرح کرتے ہوئے طبرانی کی ایک روایت کے حوالہ سے لکھا ہے : إِنَّ ذَالِكَ كَانَ وَهُوَ بِحِرَاءَ ...... یعنی جبرائیل کی یہ آمد اس وقت ہوئی تھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں تھے ..... اس سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یہ واقعہ غار حراء میں حضرت جبرئیل کی اس پہلی آمد کے بعد کا ہے جس کا ذکر اسی سلسلہ معارف الحدیث کتاب المناقب کے شروع میں “آغاز وحی و نبوت” کے تحت پوری تفصیل سے کیا جا چکا ہے ..... اسی سے ضمنی طور پر یہ بھی معلوم ہو گیا کہ حضرت جبرائیلؑ کی پہلی آمد اور آغاز نبوت کے بعد اس غار حرا میں آپ کی خلوت گزینی کا سلسلہ بالکل ختم اور منقطع نہیں ہو گیا تھا ..... یہ بات ناقابل فہم ہے ، کہ جہاں آپ طویل مدت تک خلوت گزیں ہو کر اللہ تعالیٰ کے ذکر و عبادت میں مشغول رہے ہوں اور جہاں اس کے عظیم المرتبہ حامل وحی فرشتے جبرئیل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے کلام کا نزول آپ پر شروع ہوا ہو ، اس کے بعد آپ کا اس مقدس مقام سے کوئی تعلق نہ رہا ہو ..... الغرض اس روایت سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ آغاز نبوت کے بعد بھی آپ غار حراء میں کبھی کبھی قیام فرماتے تھے ، اسی دور میں یہ واقعہ پیش آیا کہ حضرت جبرئیل آئے اور آپ کو مطلع کیا کہ آپ کی زوجہ محترمہ خدیجہؓ آ رہی ہیں اور آپ کے لئے کھانے کا کچھ سامان لا رہی ہیں ، جب وہ آئیں تو آپ ان کے پروردگار کی طرف سے اور میری طرف سے بھی ان کو سلام پہنچائیں اور ان کو موتیوں سے جنت میں بنے ہوئے ایک ایسے گھر کی بشارت دیں جس میں نہ شور و شغب ہو گا اور نہ کسی قسم کی زحمت اور نہ تکلیف ہو گی ۔ اس حدیث سے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی تین خاص فضیلتیں معلوم ہوئیں ۔ ۱۔وہ ایک معزز دولت مند اور بوڑھی خاتون ہونے کے باوجود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانے پینے کا سامان گھر پر تیار کر کے غار حراء تک خود لے کے گئیں ، جو کہ اس وقت شہر مکہ مکرمہ کی آبادی سے قریباً ڈھائی تین میل کے فاصلہ پر تھا اور حراء کی بلندی کی وجہ سے اس پر چڑھنا اچھے طاقتور آدمی کے لئے بھی آسان نہیں ، (راقم سطور کو خود بھی اس کا تجربہ ہے) بلاشبہ حضرت خدیجہؓ کا یہ عمل ایسا ہی تھا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں اس کی خاص قدر ہو ۔ ۲۔دوسری بڑی فضیلت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ان کو رب العرش (اللہ تعالیٰ) کا سلام اور اسی کے ساتھ اس کے عظیم المرتبہ فرشتے جبرئیل امین کا سلام پہنچایا گیا ہے ۔ ۳۔جنت میں ان کے لئے موتیوں سے بنے ہوئے بیت (گھر) کی بشارت دی گئی جس کی خاص صفت یہ بیان کی گئی کہ نہ تو اس میں کسی قسم کا شور و شغب ہو گا اور نہ کسی طرح کی زحمت و تکلیف اٹھانی پڑے گی ، جیسا کہ دنیا کے گھروں میں عام طور سے اپنے گھر والوں کا یا پاس پڑوس کا شور و شغب آرام و یکسوئی میں خلل انداز ہوتا ہے اور جس طرح گھر کی صفائی اور درستی وغیرہ میں زحمت و تکلیف اٹھانی پڑتی ہے ۔

【125】

فضائل اہل بیت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم (ازواجِ مطہرات اور ذریت طیّبہ): فضائل ام المومنین حضرت خدیجہؓ

حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے کہ اس (دنیا) کی عورتوں میں سب سے بہتر مریم بنت عمران ہیں اور اس (دنیا) کی عورتوں میں سب سے بہتر خدیجہ بنت خویلد ہیں ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حدیث کے ظاہری الفاظ سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ ہماری اس دنیا کی تمام عورتوں میں سب سے بہتر اور بالا تر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حضرت مریم بنت عمران اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت خدیجہ بنت خویلدؓ ہیں اگر حدیث کا مطلب یہی ہو تو یہ سمجھا جائے گا کہ یہ دونوں مرتبہ میں برابر ہیں ..... بعض شارحین نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ حضرت مریم پہلی امتوں کی تمام عورتوں میں بہتر اور بالاتر ہیں اور حضرت خدیجہؓ اس امت محمدیہ کی تمام عورتوں میں بہتر اور بالاتر ہیں اور چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ امت خیر امم ہے یعنی پہلی تمام امتوں سے بہتر اور بالاتر ہے ، اس لئے حضرت خدیجہؓ بہ نسبت حضرت مریم بنت عمران کے بہتر اور برتر ہوں گی ۔ واللہ اعلم ۔

【126】

فضائل اہل بیت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم (ازواجِ مطہرات اور ذریت طیّبہ): فضائل ام المومنین حضرت خدیجہؓ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے کسی پر ایسا رشک نہیں آیا جیسا کہ خدیجہؓ پر آیا حالانکہ میں نے ان کو دیکھا نہیں ، لیکن آپ ان کو بہت یاد کرتے ، اور بکثرت ان کا ذکر فرماتے ، کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکری ذبح فرماتے ، پھر اس کے اعضاء الگ الگ ٹکڑے کرتے ، پھر وہ ٹکڑے خدیجہؓ سے میل محبت رکھنے والیوں کے یہاں بھیجتے تو میں کس وقت کہہ دیتی دنیا میں بس خدیجہ ہی ایک عورت تھیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ وہ ایسی تھیں ، ایسی تھیں اور ان سے میری اولاد ہوئی ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جن اخلاق حسنہ سے نوازا تھا ان میں ایک احسان شناسی کا وصف بھی تھا ۔ حضرت خدیجہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو خدمتیں کیں اور دور نبوت کے آغاز میں جس طرح وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تقویت اور تسلی کا ذریعہ بنیں ، اور پھر دین حق کی دعوت کے وقت جس طرح وہ شدائد و مصائب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریک حال رہیں ، اور ان کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے جو خصوصیات ان کو عطا فرمائی تھیں (جن میں سے کچھ کا ذکر اوپر آ چکا ہے) ان کا حق تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کو کبھی فراموش نہ کرتے اور احسان شناسی کے جذبہ کا تقاضا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا اور ان کی خدمات و احسانات کا دوسروں کے خاص کر اپنی ازواج مطہرات کے سامنے ذکر فرماتے یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل تھا ، یہاں تک کہ اس سلسلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی معمول تھا کہ کبھی کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکری ذبح کرتے تھے اس کے گوشت کے پارچے حضرت خدیجہؓ سے میل محبت کا تعلق رکھنے والی خواتین کو ہدیہ کے طور پر بھیجتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی وہ طرز عمل تھا ، جس کی بنا پر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے کسی پر ویسا رشک نہیں آیا جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی مرحومہ بیوی خدیجہؓ پر آتا تھا ، ھالانکہ میں نے ان کو دیکھا بھی نہیں تھا (کیوں کہ ان کے پچپنے ہی میں وہ وفات پا گئیں تھیں) ..... اسی سلسلہ بیان میں حضرت صدیقہؓ نے کود ہی اپنی اس کمزوری کا ذکر فرمایا کہ میں ایسے وقت جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرحومہ بیوی خدیجہؓ کی خوبیوں کا ذکر فرماتے تو کبھی کہہ دیتی کہ “دنیا میں بس خدیجہؓ ہی ایک عورت تھیں” ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ وہ ایسی تھیں ایسی تھیں ۔ مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی خدمات و احسانات اور خوبیوں کا ذکر فرماتے ، اس سلسلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اس خصوصیت کا بھی ذکر فرماتے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کے ذریعہ مجھے اولاد عطا فرمائی ۔ کیوں کہ ان کے علاوہ دس بیویوں میں سے کسی سے بھی کوئی اولاد نہیں ہوئی ۔ یہاں یہ بات قابل لحاظ ہے کہ حضرت ماریہ قبطیہؓ سے ایک صاحبزادے پیدا ہوئے تھے جن کا نام آپ نے ابراہیم رکھا تھا ، وہ شیر خوارگی ہی کے ایام میں قریباً صرف ڈیڑھ سال کی عمر پا کر انتقال فرما گئے تھے لیکن حضرت ماریہؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے نہیں تھیں ، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مملوکہ تھیں جن کو اسکندریہ کے صاحب حکومت مقوقس نے کچھ اور ہدایا کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ کے طور پر بھیجا تھا ، پھر وہ حضرت ابراہیم کی پیدائش کے بعد شریعت کے حکم کے مطابق “ام ولد” ہو گئی تا آنکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے ۵ سال بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں وفات پائی ۔ (رضی اللہ عنہا وارضاہا) ام المومنین حضرت سودہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے قوم کو بت پرستی اور جاہلیت والی زندگی چھوڑ کر خدائے واحد کی پرستش اور اس کی فرمانبرداری والی زندگی کی دعوت کا کام شروع کیا ، تو پوری قوم آپ کی دشمن بن کر کھڑی ہو گئی ، لیکن چند ایسے سلیم الفطرت افراد بھی تھے ، جن کے دلوں نے آپ کی دعوت حق کو ابتدائی دور ہی میں قبول کر لیا ، ان میں ایک سودہ بنت زمعہ عامریہ بھی تھیں ، ان کی شادی اپنے چچا زاد بھائی سکران سے ہوئی تھی ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی دعوت اسلام کی دشمنی میں عام مشرکین قریش کے ساتھ تھا ، حضرت سودہؓ نے مصلحت اس میں سمجھی کہ وہ اپنے اسلام کو ظاہر نہ کریں ۔ جس وقت وہ مناسب سمجھتیں تو اپنے شوہر سکران کے سامنے ایسی باتیں کرتیں جن سے ان کا دل بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور اسلام کی حقانیت کے بارے میں سوچنے لگے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کی توفیق سے ان کے شوہر سکران نے بھی کچھ مدت کے بعد اسلام قبول کر لیا اور پھر میاں بیوی دونوں نے اپنے اسلام و ایمان کا اعلانیہ اظہار بھی کر دیا ، جس کے بعد ان دونوں پر بھی کفار قریش کی طرف سے ظلم و ستم کا سلسلہ شروع ہو گیا ، جو بڑھتا ہی گیا ..... بالآخر مظالم سے تنگ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشورہ پر ان دونوں نے بھی بہت سے دوسرے مظلوم اور ستم رسیدہ مسلمانوں کی طرح ملک حبشہ کی طرف ہجرت کی ..... چند برس کے بعد ان کے شوہر سکران کا حبشہ ہی میں انتقال ہو گیا ، تو یہ بیوہ ہو کر مکہ مکرمہ واپس آ گئیں اور اپنے والد کے پاس رہیں ۔ نبوت کے دسویں سال جب ام المؤمنین حضرت خدیجہؓ کی وفات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فطری طور پر ان کے مفارقت کی صدمہ سے سخت غمگین تھے ، علاوہ اس کے ایک پریشان کن صورت ھال یہ پیدا ہو گئی کہ گھر میں صرف کم عمر چار بچیاں تھیں ، جن کی دیکھ بھال کرنے والا اور خانہ داری کی دوسری ضرورتیں پوری کرنے والا کوئی نہ تھا ..... عثمان بن مظعون کی بیوی خولہ بنت حکیم نے اس صورت حال کو محسوس کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ کو جلدی نکاح کر لینا چاہئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہاری نگاہ میں کون ایسی خاتون ہیں ، جن کو تم ان حالات میں مناسب سمجھتی ہو ؟ انہوں نے سودہ بنت زمعہؓ کا نام لیا ، جو بیوہ اور سن رسیدہ تھیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان میں ان کی سابقیت ، پھر حبشہ کی طرف ہجرت اور سکران کی وفات کے بعد ان کی بیوی کے صدمہ کا لحاظ کرتے ہوئے ان سے نکاح کرنے کا ارادہ فرما لیا ، اور خولہ سے فرمایا : تم خود ہی ان کو میرا پیغام پہنچاؤ ..... خولہ کا بیان ہے کہ میں سودہ کے پاس پہنچی اور ان کو مبارک باد دیتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام پہنچایا ، انہوں نے کہا کہ “میں دل و جان سے راضی ہوں“ التبہ بہتر یہ ہے کہ تم میرے والد زمعہ سے بھی اس سلسلہ میں بات کرو ! میں اسی وقت ان کے پاس بھی گئی اور پیام پہنچایا ، انہوں نے بھی اپنی رضامندی ظاہر کی ، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ تم خود سودہ سے بھی دریافت کرو ، میں نے بتایا کہ میں ان سے بات کر چکی ہوں ، وہ بڑی خوش دلی کے ساتھ رضامند ہیں ، بالآخر زمعہ نے خولہ بنت حکیم ہی کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلوایا ، اور آپ کے ساتھ اپنی بیٹی سودہ کا نکاح کر دیا ، اس وقت حضرت سودہؓ کی عمر قریباً پچاس سال تھی ..... نکاح کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت فرمانے تک تین سال منکوحہ رفیقہ حیات کی حیثیت سے تنہا وہی آپ کے ساتھ رہیں ..... ان کے اوصاف و احوال میں ان کی سرچشمی ، استغناء دنیا سے بےرغبتی ، اور فیاضی خاص طور سے قابل ذکر ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ ان کے مذکورہ بالا امتیازات کی وجہ سے ان کے ساتھ احترام کا خاص رویہ رکھتے تھے ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے درہموں سے بھری ہوئی ایک تھیلی ، ان کی خدمت میں بھیجی ، لانے والے سے پوچھا : کیا تھیلی میں کھجوریں ہیں ، انہوں نے کہا نہیں ! اس میں درہم ہیں ، آپؓ نے فرمایا : کھجوریں ہوتیں تو کھانے کے کام آ جاتیں ، یہ کہہ کر تھیلی لے لی ، اور اس میں بھرے ہوئے سب درہم ضرورت مندوں پر تقسیم فرما دئیے ۔ حضرت عمرؓ کے اخیر دور خلافت ۲۲ھ مین قریباً ۵۷ سال کی عمر میں وفات پائی ۔ رضی اللہ عنہا وارضاہا ۔

【127】

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مردوں میں تو بہت لوگ درجہ کمال کو پہنچے ہیں ، مگر عورتوں میں صرف مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ ہی کامل ہوئی ہیں ..... اور عائشہؓ کی فضیلت تما عورتوں پر ایسی ہے جیسے کہ تمام کھانوں میں ثرید افضل و اعلیٰ ہے ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح یہ بعثت کے چوتھے سال پیدا ہوئیں ، جیسا کہ معلوم ہے وہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کی صاحبزادی ہیں جو اول المومنین ہیں ، اور ان کی والدہ ماجدہ ام رومان بھی اولین مومنات میں سے ہیں ، ازواج مطہرات میں سے یہ شرف تنہا انہیں کو حاصل ہے کہ ان کے والدین ان کی پیدائیش سے پہلے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت ایمان کو قبول کر چکے تھے اور عنقریب ہی ناظرین کرام کو صحیح بخاری و صحیح مسلم اور جامع ترمذی کےک حوالہ سے معلوم ہو گا کہ خواب میں متعدد بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی صورت دکھلائی گئی اور بتلایا گیا کہ یہ دنیا و آخرت میں آپ کی زوجہ ہونے والی ہیں ۔ اوپر ام المومنین حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے حالات میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ جب ام المؤمنین حضرت خدیجہؓ کی وفات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خصوصی درجہ کا ایمانی تعلق رکھنے والی خاتون خولہ بنت حکیم نے آپ سے نکاح کے بارے میں گفتگو کی ، وہاں اس سلسلہ میں صرف وہی حصہ ذکر کیا گیا جس کا تعلق حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے تھا ...... اسی موقع پر انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں بھی عرض کیا تھا ، جن کی عمر اس وقت صرف چھ سات سال کے قریب تھی اور معلوم ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر شریف پچاس سال سے متجاوز ہو چکی تھی ، اس حالت میں کولہ بنت حکیمؓ کی طرف سے حضرت عائشہؓ کے ساتھ نکاح کی تجویز پیش کرنے کے لئے توجیہہ اس کے سوا نہیں کی جا سکتی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو فیصلہ اس بارے میں عالم غیب میں ہو چکا تھا ، اس کے عمل میں آنے کا ذریعہ خولہ بنت حکیم کی اس تجویز کو بنایا جائے روایت کے الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خولہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کے بارے میں علم نہیں تھا، اور واقعہ یہ ہے کہ یہ خواب ایسا ہی تھا کہ کسی سے بھی اس کا ذکر نہ فرمایا جاتا ..... بہرحال یہی ہوا خولہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سودہ بنت زمعہؓ کے ساتھ ہی حضرت عائشہؓ سے نکاح کی بھی تجویز پیش کی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح حضرت سودہؓ کے بارے میں فرمایا تھا کہ تم ہی میری طرف سے پیام ان کو پہنچاؤ ، اسی طرح حضرت عائشہؓ کے بارے میں بھی ان ہی کو مامور فرمایا کہ تم ہی ان کے والدین کو میری طرف سے پیام پہنچاؤ ۔ چنانچہ وہ حضرت ابو بکرؓ کے مکان پر پہنچیں ، لیکن اتفاق سے وہ اس وقت موجود نہیں تھے ، ان کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہؓ کی والدہ ماجدہ ام رومانؓ موجود تھیں ، خولہ نے مبارک باد دیتے ہوئے ان کی بیٹی عائشہ کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کا ذکر کیا ۔ انہوں نے سن کر بڑی خوشی کا اظہار کیا کچھ دیر کے بعد حضرت ابو بکرؓ بھی آ گئے ..... خولہ نے ان کے سامنے بھی ان کی بیٹی عائشہ کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیام کی بات کہی ، حضرت ابو بکرؓ نے کہا “أَوْ تَصْلُحُ لَهُ وَهِىَ بِنْتُ اَخِيْهِ” ؟ مطلب یہ تھا کہ کیا عائشہ کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ہو سکتا ہے حالانکہ وہ ان کے بھائی کی بیٹی ہے ، (حضرت ابو بکرؓ نے یہ بات اس بنیاد پر فرمائی کہ عربوں میں جس طرح پہلے منہ بولے بیٹے کی حیثیت حقیقی بیٹے کی تھی اسی طرح منہ بولے بھائی کی حیثیت حقیقی نسبی بھائی جیسی ہوتی تھی اور اسی طرح اس کی بیٹی سے نکاح کو جائز اور درست نہیں سمجھا جاتا تھا ، جس طرح حقیقی نسبی بھتیجی سے نکاح کو درست اور جائز نہیں سمجھا جاتا تھا ۔) خولہ نے حضرت ابو بکرؓ کی یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : “هُوَ اَخِىْ فِى الْاِسْلَامِ وَابْنَتُهُ تَحُلُّ لِىْ” مطلب یہ تھا کہ وہ اسلامی بھائی ہیں ۔ نسبی بھائی نہیں ہیں ، اس لئے ان کی بیٹی عائشہؓ سے میرا نکاح اللہ کی نازل فرمائی ہوئی شریعت میں جائز اور صحیح ہے ، اگر بالفرض وہ میرے حقیقی نسبی بھائی ہوتے تو ان کی بیٹی سے نکاح کرنا میرے لئے جائز اور درست نہ ہو گا ۔ خولہ نے ابو بکرؓ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب پہنچایا تو فطری طور پر ان کو بڑی خوشی ہوئی ، لیکن اس بارے میں ایک رکاوٹ یہ تھی کہ عائشہ کی نسبت بچپن ہی میں جبیر ابن مطعم سے ہو چکی تھی اور اس نسبت کو ایک طرھ کا معاہدہ سمجھا جاتا تھا ، اس لئے انہوں نے اخلاقی طور سے ضروری سمجھا کہ جبیر کے والد مطعم سے بات کر کے ان کو اس کے لئے راضی کر لیں ، تا کہ میری طرف سے معاہدہ کی خلاف ورزی اور عہد سکنی نہ ہو ، اس بارے میں گفتگو کرنے کے لئے وہ مطعم کے مکان پر پہنچے ..... یہاں یہ بات قابل لحاظ ہے کہ یہ بعثت نبوی کا گیارہوں سال تھا ، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی دعوت اسلام ، اور اس کو قبول کرنے والوں کے ساتھ کفار مکہ کی دشمنی انتہائی درجہ کو پہنچ چکی تھی حضرت ابو بکرؓ نے مطعم کے مکان پر پہنچ کر اپنی بات شروع کی ، اور کہا کہ میری بیٹی عائشہ کے بارے میں تمہارا اب کیا خیال ہے ؟ اس وقت مطعم کی بیوی قریب ہی بیٹھی ہوئی تھیں ، انہوں نے اپنی بیوی کو مخاطب کر کے کہا کہ “تم بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے ؟” اس نے کہا کہ “میں نہیں چاہتی کہ اب وہ بچی (عائشہ ہمارے گھر میں آئے ، اگر وہ آئے گی تو اس کے ساتھ اسلام کے قدم بھی ہمارے گھر میں آ جائیں گے ، اور ہم اپنے باپ دادا کے جس دین پر اب تک چل رہے ہیں اس کے نظام میں گڑبڑ ہو جائے گی)”۔ مطعم کی بیوی کا یہ جواب سن کر حضرت ابو بکرؓ نے مطعم سے کہا کہ “تم بتاؤ تمہارا فیصلہ کیاہے ؟ اس نے کہا : کہ تم نے اس (میری بیوی) کی بات سن لی میری بھی یہی رائے ہے” ..... حضرت ابو بکرؓ مطمئن ہو کر واپس تشریف لائے ، اور خولہ سے کہا کہ “تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لاؤ” وہ گئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور اسی وقت نکاح ہو گیا ۔ یہ شوال کا مہینہ تھا جس کے بعد قریباً تین سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام مکہ معظمہ ہی میں رہا ..... جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے اس پوری مدت میں حضرت سودہ بنت زمعہؓ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی منکوحہ رفیقہ حیات کی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہیں اور وہی تنہا تمام امور خانہ داری انجام دیری رہیں ..... بعثت کی قریباً ۱۳ سال پورے ہو جانے پر آپ نے بحکم خداوندی مکہ مکرمہ سے ہجرت فرمائی ..... جیسا کہ معلوم ہے یہ سفر رازداری کے ساتھ رات میں ہوا اور تنہا حضرت ابو بکرؓ ہی کو اپنےساتھ لیا ، ان کے بیوی بچے سب مکہ مکرمہ ہی میں رہے ، مدینہ طیبہ پہنچ کر قیام کے بارے میں ضروری انتظام کے بعد حضرت ابو بکرؓ نے ایک شخص (عبداللہ بن اریقط) کو مکہ معظمہ بھیج کر اپنی اہلیہ مکرمہ ام رومان اور دونوں صاحبزادیوں حضرت عائشہؓ اور ان کی بڑی بہن حضرت اسماء کو بھی بلوا لیا ..... اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہؓ کو مکہ مکرمہ بھیج کر اپنے اہل و عیال حضرت سودہ بنت زمعہؓ اور دونوں صاحبزادیوں (حضرت ام کلثومؓ و حضرت فاطمہؓ) کو بلوا لیا ، یہ وقت تھا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد تعمیر کرا رہے تھے اور اس کے ساتھ اپنے لئے چھوٹے چھوٹے گھر بنوا رہے تھے ، تو حضرت سودہؓ نے مکہ مکرمہ سے آ کر انہیں میں سے ایک گھر میں قیام فرمایا ..... حضرت عائشہؓ جن کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح تین سال پہلے مکہ مکرمہ میں ہو چکا تھا ، اب قریباً ۹۔۱۰ سال کی ہو گئیں تھیں ، حضرت ابو بکرؓ کو ان کی غیر معمولی صلاحیت کا پورا اندازہ تھا اور جانتے تھے کہ تعلیم و تربیت اور سیرت سازی کا بہترین اور سب سے زیادہ مؤثر ذریعہ صحبت ہے ، اس لئے انہوں نے خود ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ “اگر آپ کے نزدیک نامناسب نہ ہو تو یہ بہتر ہو گا کہ عائشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ اور شریک حیات کی حیثیت سے آپ کے ساتھ رہے ۔ (1) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منظور فرما لیا ، اور وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بنوائے ہوئے ایک گھر مین مقیم ہو گیں ، راجح روایت کے مطابق یہ ۱ ہجری شوال کے مہینہ میں ہوا ..... یہاں یہ بات خاص طور سے قابل ذکر ہے کہ چونکہ کبھی شوال کے مہینہ میں عرب میں طاعون کی شدید وبا آئی تھی ، اس وجہ سے اس مہینہ کو نامبارک اور منحوس مہینہ سمجھا جاتا تھا اور اس میں شادی جیسی تقریبات نہیں کی جاتی تھیں ، لیکن ام المومنین حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کا مکہ مکرمہ میں نکاح بھی شوال کے مہینہ میں ہوا تھا ، اور جب ہجرت کے بعد مدینہ منورہ آ کر رفیقہ حیات کی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقیم ہوئی تو وہ بھی شوال کا مہینہ تھا ، اس طرح حضرت صدیقہؓ کے مبارک نکاح اور مبارک رخصتی نے عربوں کی اس توہم پرستی کا خاتمہ کر دیا ۔ بعض قابل ذکر خصوصیات ازواج مطہرات میں صرف انہیں کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ صغر سنی یعنی قریباً ۹۔۱۰ سال کی عمر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت و رفاقت ، اور تعلیم و تریبت سے مستفید ہوتی رہیں ، اسی طرح چند اور سعادتیں بھی تنہا انہیں کے حصہ میں آئیں جن کا وہ کود اللہ تعالیٰ کے شکر کے ساتھ ذکر فرمایا کرتی تھیں ..... فرماتی تھیں : تنہا مجھے ہی یہ شرف نصیب ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد نکاح میں آنے سے پہلے سے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں میری صورت دکھلائی گئی اور فرمایا گیا کہ یہ دنیا اور آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہونے والی ہیں ..... اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں تنہا میں ہی ہوں جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں آنے سے پہلے کسی دوسرے کے ساتھ یہ تعلق اور رشتہ نہیں ہوا ..... اور تنہا مجھی پر اللہ تعالیٰ کا یہ کرم تھا کہ آپ جب میرے ساتھ ایک لحاف میں آرام فرما ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آتی ، دوسری ازواج میں سے کسی کو یہ سعادت میسر نہیں ہوئی اور یہ کہ میں ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھی اور اس باپ کی بیٹی ہوں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھے ..... اور یہ شرف بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے مجھے ہی نصیب ہے کہ میرے والد اور میری والدہ دونوں مہاجر ہیں ..... اور یہ کہ بعض منافقین کی سازش کے نتیجہ میں جب مجھ پر ایک گندی تہمت لگائی گئی تو اللہ تعالیٰ نے میری برأت کے لئے قرآنی آیات نازل فرمائیں جن کی قیامت تک اہل ایمان تلاوت کرتے رہیں گے ، اور ان آیات میں مجھے نبی پاک (طیب) کی پاک بیوی (طیبہ) فرمایا گیا ، نیز اس سلسلہ کی آخری آیت میں “أُولَـٰئِكَ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ” فرما کر میرے لئے مغفرت اور رزق کریم کا وعدہ فرمایا گیا ہے ۔ اس سلسلہ میں کبھی اپنی اس خوش نصیبی کا بھی ذکر فرماتیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کا آخری پورا ایک ہفتہ میرے ہی گھر میں میرے ساتھ قیام فرمایا ، اسی سلسلہ میں یہ بھی فرماتیں کہ حیاۃ مبارکہ کا آخری دن میری باری کا دن تھا ، اور اللہ تعالیٰ کا خاص الخاص کرم مجھ پر یہ ہوا کہ اسی آخری دن میرا آب دہن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آب دہن کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شکم مبارک مین گیا اور آخری لمحات میں میں ہی آپ کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھی تھی ، اور جس وقت بحکم خداوندی روح مبارک نے جسد اطہر سے مفارقت اختیار کی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میں ہی تھی ، یا موت کا فرشتہ اور آخری بات یہ کہ میرا ہی گھر قیامت تک کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آرام گاہ بنا یعنی اسی میں آپ کی تدفین ہوئی ۔ تشریح ..... ظاہر ہے کہ حضرات انبیاء علیہم السلام جن کی تعداد بعض روایات کے مطابق ایک لاکھ سے اوپر ہے ، سبھی درجہ کمال کو پہنچے ہوئے تھے ، اسی طرح ان کے حواریین اور خلفاء جن کی تعداد اللہ ہی کے علم میں ہے ، سب کامل ہی تھے ، لیکن اللہ تعالیٰ کی پیدا فرمائی ہوئی خواتین میں سے اس حدیث میں صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کے بارے میں فرمایا گیا کہ بس وہی درجہ کمال کو پہنچ سکیں ۔ ان دونوں کے اس امتیاز ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ قرآن پاک سورہ تحریم کے آخر میں ان دونوں کے مومنانہ کردار کو سب ایمان والوں کے لئے لائق تقلید مثال اور نمونہ کے طور پر پیش فرمایا گیا ہے ۔ بعض شارحین نے اس کی شرح میں لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا تعلق صرف اگلی امتوں سے ہے ، اس لئے اس حدیث سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں اللہ کی کوئی بندی درجہ کمال کو نہیں پہنچی ..... کچھ ہی پہلے حضرت خدیجہؓ کے فضائل کے بیان میں یہ حدیث گذر چکی ہے ۔ “خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ” (دنیا کی سب عورتوں میں بہتر مریم بنت عمران ہیں ، اور خدیجہ بنت خویلد ۔) خود اسی زیر تشریح حدیث کے آخر میں ارشاد فرمایا گیا ہے “وَفَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ” اسکا مطلب یہ ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہؓ کو اللہ تعالیٰ کی پیدا فرمائی ہوئی تمام خواتین پر ایسی فضیلت و برتری حاصل ہے جیسی ثرید کو تمام کھانوں پر ..... واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ثرید کو لذت اور نافعیت میں دوسرے سب کھانوں پر فوقیت و برتری حاصل تھی ..... ثرید کے بارے میں لغت کی کتابوں میں اور شروح حدیث میں جو کچھ لکھا گیا ہے اس سے اس کی حقیقت کو نہیں سمجھا جا سکتا ..... اس عاجز (راقم سطور) کو حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کے دسترخوان پر بار بار ثرید کھانا نصیب ہوا ہے ..... اس عاجز کا تجربہ اور احساس بھی یہی ہے کہ وہ لذت ، کھانے میں سہولت سرعت ہضم اور نافیعت کے لحاظ سے ہمارے زمانہ کے ان تمام کھانوں سے بھی جو عام طور پر بہتر سمجھے جاتے ہیں ، فائق ہے ۔ بعض حضرات نے اس حدیث کی بنا پر یہ خیال ظاہر فرمایا ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کو تمام دنیا کی عورتوں پر ، اگلی امتوں ، اور امت محمدیہ کی بھی تمام خواتین پر فضیلت و برتری حاصل ہے ..... لیکن ان تمام حدیثوں پر غور کرنے کے بعد جن میں اس طرح کسی کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے ۔ قرین صواب یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ فضیلت کلی نہیں ، بلکہ کسی خاص جہت سے ہے ۔ مثلاً حضرت صدیقہؓ کو احکام شریعت کے علم ، تفقہ جیسے کمالات کی بنا پر دوسری تمام خواتین پر فضیلت و برتری حاصل ہے ، اور ام المومنین حضرت خدیجہؓ کو ان خصوصیات کی وجہ سے جو ان کے احوال و اوصاف کے بیان میں ذکر کی جا چکی ہیں ، دوسری تمام خواتین پر فضیلت حاصل ہے ، اور مثلاً سیدہ حضرت فاطمہؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر ہونے کے ساتھ ان کمالات کی وجہ سے جن کا بیان ان کے فضائل کے بیان میں قارئین کرام پڑھیں گے ، جو شرف و فضیلت حاصل ہے ، وہ بلاشبہ انہیں کا حصہ ہے ۔ یہ حدیث ابو موسیٰ اشعریؓ کی روایت سے ہے ، صحیح بخاری ہی میں حضرت انسؓ کی روایت سے حدیث کا صرف آخری حصہ (فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ) روایت کیا گیا ہے ۔

【128】

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم مجھے دکھائی گئیں خواب میں تین رات ، فرشتہ ریشمی کپڑے کے ایک ٹکڑے میں تمہیں لے کر آتا ، اور مجھ سے کہتا کہ یہ آپ کی بیوی ہیں ، تو میں نے تمہارے چہرے سے کپڑا ہٹایا ، تو دیکھا کہ وہ تم ہو ، تو میں نے دل میں کہا کہ اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو وہ اس کو پور افرمائے گا ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حدیث میں اس کا کوئی ذخر نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خواب کب اور کس زمانہ میں دیکھا ؟ بظاہر قرین قیاس یہ ہے کہ حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعد جب ان جیسی شریک ھیات کی مفارقت کا فطری طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت صدمہ تھا ، اور مستقبل کے بارے میں فکر تھی تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دکھایا گیا ۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ اگرچہ اس وقت قریباً چھ سال کی بچی تھیں ، لیکن اس بچپن ہی میں ان کے جو احوال و اطوار تھے ان سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی ذہانت و فطانت اور غیر معمولی صلاحیت کا بخوبی اندازہ تھا ، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو منجانب اللہ بتلایا گیا کہ یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مستقبل میں حضرت خدیجہؓ کا بدل ثابت ہوں گی ، واللہ اعلم ...... یہاں یہ بات قابل لحاظ ہے کہ نبوت کے ابتدائی دور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شریک حیات میں جن خصوصیات کی ضرورت تھی ، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت خدیجہؓ کو بھرپور عطا فرمائی تھیں اور ہجرت کے بعد کے مدنی دور میں اپنی رفیقہ حیات میں آپ کو جن خاص صفات کی ضرورت تھی ، وہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ کو بدرجہ کمال عطا فرمائی تھیں ۔ حدیث شریف کے آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب دیکھنے کے بعد اپنے دل میں کہا : “إِنْ يَكُنْ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ.” (جس کا لفظی ترجمہ یہ کیا گیا ہے کہ اگرچہ یہ خواب منجانب اللہ ہے تو وہ اس کو پورا فرمائے گا) اس پر کسی کو اشکال ہو سکتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام خاص کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب تو وحی کی ایک قسم ہے تو اس کے بارے میں شک شبہ کی کیا گنجائش تھی ..... حقیقت یہ ہے کہ “إِنْ يَكُنْ” کا لفظ شبہ ظاہر کرنے کے لئے نہیں ہے ، بلکہ یہ بالکل اس طرح ہے کہ کسی ملک کا بادشاہ کسی شخص سے راضی ہو کر کہے : اگر میں بادشاہ ہوں تو تمہارا یہ کام ضرور کیا جائے گا ، ..... الغرض اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل میں اطمینان محسوس کیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور ضرور ایسا ہی ہو گا ..... اور ایسا ہی ہوا ۔ آخر میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جامع ترمذی کی روایت میں صراھت ہے کہ خواب میں حضرت عائشہ کی صورت لے کر آنے والے فرشتے حضرت جبرائیل تھے اور انہوں نے ؓحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا : “هَذِهِ زَوْجَتُكَ فِى الدُّنْيَا وَالْاَخِرَةِ” (یہ آپ کی بیوی ہونے والی ہیں دنیا اور آخرت میں)

【129】

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے بیان فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :“اے عائشہ ! یہ جبرائیل ہیں جو تم کو سلام کہلوا رہے ہیں” تو میں نے عرض کیا “وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ” (ان پر بھی سلام ہو اور اللہ کی رحمت) آگے حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہ دیکھتے تھے ، جو ہم نہیں دیکھتے ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حضرت خدیجہؓ کے فضائل کے بیان میں یہ حدیث گذر چکی ہے کہ حضرت جبرائیل غار حراء میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ خدیجہؓ کھانے پینے کا کچھ سامان لے کر آ رہی ہیں ان کو اپنے رب کا سلام پہنچائیے اور میرا ..... اور یہاں اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا کہ “یہ جبرائیل ہیں جو تم کو سلام کہلوا رہے ہیں” حضرت صدیقہؓ نے جواب میں عرض کیا “وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ” ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ جبرائیل کو حضور دیکھ رہے تھے ،میں نہیں دیکھ رہی تھی ۔

【130】

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب خصوصیت سے میری باری ہی کے دن ہدیے بھیجنے کا اہتمام کرتے تھے ، وہ اپنے اس عمل سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی چاہتے تھے ، (اور صورت حال یہ تھی کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے دو گروہ تھے ، ایک گروہ میں عائشہ ، حفصہ ، صفیہ ، اور سودہ تھیں ، اور دوسرے گروہ میں ام سلمہ اور باقی ازواج ، ام سلمہ کی گروہ والیوں نے ام سلمہ سے بات کی ، اور ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تم کہو کہ آپ اپنے اصحاب سے فرما دیں کہ اگر کوئی آپ کے لئے ہدیہ بھیجنا چاہے تو آپ جہاں بھی ہوں (یعنی ازواج میں سے کسی کے یہاں بھی مقیم ہوں) تو وہ وہیں آپ کو ہدیہ بھیجے ، چنانچہ ام سلمہؓ نے آپ سے یہی عرض کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم مجھے عائشہؓ کے بارے میں اذیت نہ دو ، عائشہؓ ہی کی خصوصیت ہے کہ انہیں کے لحاف میں مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے ، ام سلمہؓ نے عرض کیا ۔ اے اللہ کے رسول ! میں اللہ کے حضور میں آپ کو اذیت دینے سے توبہ کرتی ہوں ۔ پھر ام سلمہؓ کی گروہ والی ازواج مطہرات نے (آپ کی صاحبزادی) حضرت فاطمہؓ کو اسی غرض سے آپ کے پاس بھیجا ، چنانچہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی عرض کیا تو آپ نے فرمایا : اے بیٹا ! کیا تم اس سے محبت نہیں کرو گی جس سے مجھے محبت ہو ، عرض کیا : کیوں نہیں ! (یعنی آپ جس سے محبت کرتے ہیں میں ضرور اس سے محبت کروں گی) آپ نے فرمایا : “فَأَحُبِّيْ هَذِهِ” تو تم اس (عائشہ) سے محبت کرو ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث میں چند باتیں وضاحت طلب ہیں ..... ایک یہ کہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے دو گروہ میں تقسیم ہونے کی بات کہی گئی ہے ، دو گروہوں میں یہ تقسیم کسی باہمی اختلاف کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ یوں سمجھنا چاہئے کہ کچھ ازواج مطہرات کو مزاجی مناسبت حضرت عائشہ صدیقہؓ سے زیادہ تھی ، اور کچھ کو حضرت ام سلمہؓ سے (واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ عقل و دانش کے لحاظ سے یہ دونوں تمام ازواج مطہرات میں ممتاز تھیں ، اور حضور کو قلبی تعلق بھی ان دونوں کے ساتھ بہ نسبت دوسری ازواج کے زیادہ تھا ..... دوسری بات قابل وضاحت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے پینے ، پہننے اور شب باشی جیسے اختیاری معاملات میں اپنی تمام ازواج کے ساتھ امکانی حد تک یکساں برتاؤ کا خاص اہتمام فرماتے تھے ..... لیکن قلبی محبت کا تعلق انسان کے اختیار میں نہیں ہے ، اسی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تھے کہ «اللَّهُمَّ هَذِا قَسْمِي فِيمَا أَمْلِكُ، فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ، وَلَا أَمْلِكُ» (1) (اے اللہ میں تقسیم میں برابری کرتا ہوں ان چیزوں میں جو میرے اختیار میں ہیں ، اے میرے مالک مجھ سے درگذر فرما اس چیز کے بارے میں جو صرف تیرے اختیار میں ہے اور میرے اختیار میں نہیں ہے یعنی دل کا لگاؤ) بہرحال یہ واقعہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بعض ازواج کے ساتھ زیادہ محبت تھی ، اور سب سے زیادہ محبت حضرت عائشہ صدیقہؓ سے تھی ، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی تعلق رکھنے والے اصحاب کرام اس حقیقت سے باخبر اور واقف تھے ، اس لئے وہ جب کوئی کھانے وغیرہ کی قسم کی کوئی چیز ہدیہ کے طور پر بھیجنا چاہتے تو اس کا اہتمام کرتے کہ اس دن بھیجیں جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام حضرت عائشہؓ کے یہاں ہو ..... یہاں یہ بات خاص طور سے قابل لحاظ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے کبھی کسی کو کوئی اشارہ بھی نہیں فرمایا ، تاہم یہ بات ان ازواج کے لئے گرانی کا باعث تھی جو حضرت ام سلمہؓ سے خصوصی تعلق رکھتی تھیں ، انہوں نے ان سے کہا کہ تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں بات کرو اور یہ عرض کرو ، پھر ام سلمہؓ کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرنا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اور اس پر ام سلمہؓ کی گذارش یہ سب حدیث کے ترجمہ میں آپ پڑھ چکے ہیں ۔ آگے حدیث میں یہ ہے کہ اس کے بعد انہوں نے حضور کی صاحبزادی ، حضرت فاطمہؓ سے بات کی اور ان کو اسی غرض سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا انہوں نے جا کر آپ کی ان ازواج کی طرف سے وہی عرض کیا جو حضرت ام سلمہؓ نے کیا تھا پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا اور حضرت فاطمہؓ نے جو عرض کیا وہ بھی ترجمہ میں آپ پڑھ چکے ہیں ..... البتہ یہ بات خاص طور سے قابل لحاظ ہے کہ حدیث میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے ، کہ حضرت فاطمہؓ کو اس کا علم تھا کہ حضرت ام سلمہؓ اس بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کر چکی ہیں یقین ہے کہ اگر انہیں اس کا علم ہوتا تو وہ ہرگز اس کے لئے تیار نہ ہوتیں ۔ واللہ اعلم ۔

【131】

علمی فضل و کمال

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ جب کبھی ہم لوگوں یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو کسی بات اور کسی مسئلہ میں اشتباہ ہوا ، تو ہم نے ام المؤمنین حضرت عائشہؓ سے پوچھا تو ان کے پاس اس کے بارے میں علم پایا ۔ (جامع ترمذی) تشریح معلوم ہونا چاہئے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ قدیم الاسلام ہیں ، ان چند صحابہ کرامؓ میں ہیں جو علم اور تفقہ میں ممتاز تھے ، یہ دراصل علاقہ یمن کے رہنے والے تھے ، دعوت ایمان و اسلام کے ابتدائی دور ہی میں ان کو اس کی خبر پہنچی تو یہ خود مکہ معظمہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معمول کے مطابق ان کے سامنے بھی اسلام کی دعوت پیش کی تو ان کے قلب سلیم نے بغیر تردد و توقف کے اسلام قبول کر لیا ، اور مکہ معظمہ ہی میں رہنے کا فیصلہ کر لیا ، اور پھر جب مکہ کے کفار و مشرکین نے اسلام قبول کرنے والوں کو اپنے مظالم کا نشانہ بنایا ، اور بات ناقابل برداشت حد تک پہنچ گئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مشورہ سے ان ستم رسیدہ مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کا فیصلہ کیا ، اور حضرت جعفر بن ابی طالبؓ کی قیادت میں صحابہ کرامؓ کی جو جماعت حبشہ کے لئے روانہ ہوئی ان ہی میں ابو موسیٰ اشعریؓ بھی تھے ..... چند برسوں تک یہ حضرات حبشہ ہی میں مقیم رہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ طیبہ ہجرت فرمانے کے بعد یہ حضرات مدینہ طیبہ آ گئے ۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو اللہ تعالیٰ نے خاص درجہ کی علمی صلاحیت عطا فرمائی تھی وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور حیات ہی میں ان چند صحابہؓ میں شمار ہوتے تھے جن کی طرف عام مسلمان دینی معلومات حاصل کرنے کے لئے رجوع کرتے تھے ، اصطلاحی الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ “فقہاء صحابہ میں سے تھے ان کا یہ بیان بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ ہم کو یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کرام کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی مسئلہ میں مشکل پیش آتی تو وہ حضرت عائشہؓ ہی کی طرف رجوع کرتے تھے اور جو مسئلہ ان کے سامنے پیش کیا گیا تو ہم نے دیکھا کہ اس کے بارے میں ان کے پاس علم ہے ..... یعنی وہ مسئلہ حل فرما دیتیں یا تو ان کے پاس اس بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہوتا یا اپنی اجتہادی صلاحیت سے مسئلہ حل فرما دیتیں .... اس سلسلہ میں چند اکابر تابعین کی یہ شہادتیں بھی ذیل میں پیش کی جاتی ہیں ۔” حضرت عروہ ابن زبیرؓ جو حضرت عائشہؓ کے حقیقی بھانجے ہیں ، اور حضرت صدیقہؓ کی روایتوں کی بڑی تعداد کے وہی راوی ہیں ، حاکم اور طبرانی نے ان کا یہ بیان حضرت صدیقہؓ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ : «مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ أَعْلَمَ بِالْقُرْآنِ وَلَا بِفَرِيضَةٍ وَلَا بِحَرَامٍ وَلَا بِحَلَالٍ وَلَا بِفِقْهٍ وَلَا بِشِعْرٍ وَلَا بِطِبٍّ وَلَا بِحَدِيثِ الْعَرَبِ وَلَا بِنَسَبٍ مِنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا» (1) ترجمہ : میں نے کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا جو اللہ کی کتاب قرآن پاک اور فرائض کے بارے میں اور حرام و حلال اور فقہ کے بارے م یں اور شعر اور طب کے بارے میں اور عربوں کے واقعات اور تاریخ کے بارے میں اور انساب کے بارے میں (ہماری خالہ جان) عائشہؓ سے زیادہ علم رکھتا ہو ۔ اور حاکم اور طبرانی ہی نے ایک دوسرے تابعی مسروق سے روایت کیا ہے ۔ فرمایا : وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُ الْأَكَابِرَ مِنَ الصَّحَابَةِ وَفِىْ لَفْظِ مَشِيْخَةِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَكَابِرَ يَسْأَلُونَ عَائِشَةَ عَنِ الْفَرَائِضِ. (2) ترجمہ : میں نے اکابر صحابہؓ کو دیکھا ہے فرائض کے بارے میں حضرت عائشہؓ سے دریافت کرتے تھے ۔ اور حاکم ہی نے ایک تیسرے بزرگ تابعی عطاءابن ابی رباح کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ : «كَانَتْ عَائِشَةُ، أَفْقَهَ النَّاسِ وَأَعْلَمَ النَّاسِ وَأَحْسَنَ النَّاسِ رَأْيًا فِي الْعَامَّةِ» (3) ترجمہ : حضرت عائشہؓ بڑی فقیہہ تھیں اور بڑی عالم اور عام لوگوں کی رائے ان کے بارے میں بہت اچھی تھی ۔ کمالِ خطابت مندرجہ بالا علمی کمالات کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خطابت میں بھی کمال عطا فرمایا تھا ، طبرانی نے حضرت معاویہؓ کا بیان نقل کیا ہے ، فرمایا : قَالَ مُعَاوِيَةَ: " وَاللهِ مَا رَأَيْتُ خَطِيبًا قَطُّ أَبْلَغَ وَلَا أَفْصَحَ وَلَا أَفْطَنَ مِنْ عَائِشَةَ. (رواه الطبرانى) ترجمہ : خدا کی قسم میں نے کوئی خطیب نہیں دیکھا جو فصاحت و بلاغت اور فطانت میں حضرت عائشہؓ سے فائق ہو ۔ یہی وہ خداداد کمالات تھے جن کی وجہ سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھیں ۔ (رضی اللہ عنہا وارضاھا)

【132】

ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا

قیس ابن زید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہؓ کو ایک مرتبہ طلاق دی پھر رجوع فرما لیا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حفصہؓ سے رجعت کر لیں اس لئے کہ وہ بہت روزہ رکھنے والی اور بہت نماز پڑھنے والی ہیں اور وہ جنت میں بھی آپ کی زوجہ ہوں گی ۔ تشریح یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں ، حضرت عمرؓ کی اولاد میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی تنہا یہی حقیقی بہن تھیں ، ان کی والدہ زینب بنت مظعونؓ تھیں جو مشہور صحابی حضرت عثمان بن مظعون کی بہن تھیں ، اور خود بھی صحابیہؓ تھیں ۔ حضرت حفصہؓ کی ولادت بعثت نبوی سے ۵ سال پہلے ہوئی تھی ، اس لحاظ سے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریباً ۳۵ سال چھوٹی تھیں ۔ ہجرت سے پہلے ان کا نکاح حضرت خنیس بن حذافہ سہمی نامی ایک صحابی سے ہوا تھا اور ان ہی کے ساتھ انہوں نے مدینہ منورہ ہجرت کی تھی ۔ حضرت خنیسؓ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے اور راجح قول کے مطابق بدر ہی میں ان کے کاری زخم آئے جن سے وہ جانبر نہیں ہو سکے تھے ۔ اور کچھ ہی عرصہ کے بعد ان ہی زخموں کی وجہ سے شہادت پائی ۔ حضرت خنیسؓ کے انتقال کے بعد حضرت عمرؓ کو اپنی بیٹی کی فکر ہوئی ۔ یہ غزوہ بدر کے بعد کا زمانہ ہے ۔ اسی موقعہ پر حضرت عثمانؓ کی اہلیہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت رقیہؓ کا انتقال ہوا تھا ۔ حضرت عمرؓ نے حضرت عثمانؓ سے حضرت حفصہؓ کے نکاح کی پیشکش کی ۔ انہوں نے غور کرنے کے لئے کچھ وقت مانگا ۔ اور چند دن کے بعد معذرت کر دی ۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکرؓ سے یہی پیش کش کی ، مگر انہوں نے خاموشی اختیار کی اور کوئی جواب نہیں دیا ۔ حضرت عمرؓ کا بیان ہے کہ مجھے ان کی خاموشی حضرت عثمانؓ سے زیادہ ناگواری گذری ...... اس کے کچھ ہی عرصہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہؓ کے لئے پیام دیا ، اور جب یہ نکاح ہو گیا تب حضرت ابو بکرؓ حضرت عمرؓ سے ملے اور کہا کہ میرا خیال ہے کہ جب تم نے مجھ سے حفصہ سے نکاح کی خواہش کی تھی ، اور میں خاموش رہا تھا تو تم اس سے رنجیدہ ہوئے تھے ۔ اصل میں قصہ یہ تھا کہ مجھے یہ معلوم ہو چکا تھا کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ حفصہؓ کو اپنے نکاح میں لینے کا ہے ۔ اور اسی وجہ سے میں نے تمہاری پیشکش کا کوئی جواب نہیں دیا تھا ، میں یہ بھی مناسب نہیں سمجھتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات ابھی راز میں رکھی تھی ، مین اس کو ظاہر کر دوں ۔ اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارادہ میرے علم میں نہ ہوتا تو میں ضرور تمہاری پیش کش قبول کر لیتا ۔ یہ ساری تفصیلات صحیح بخاری اور صحیح مسلم وغٖیرہ میں حضرت حفصہؓ کے بھائی حضرت عبداللہ بن عمرؓ ہی کی روایت سے موجود ہیں ۔ حدیث کی ایک اور کتاب مسند ابو یعلیٰ میں اتنی بات کا اور اضافہ ہے کہ جب حضرت عثمانؓ نے حضرت عمرؓ کی پیش کش قبول کرنے سے معذرت کر دی تو حضرت عمرؓ نے اس کا شکوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ۔ جس پر آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حفصہ کو عثمانؓ سے بہتر شوہر دے گا اور عثمانؓ کو تمہاری بیٹی حفصہؓ سے بہتر بیوی ۔ چنانچہ کچھ ہی دنوں کے بعد حضرت عثمانؓ کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی دوسری صاحبزادی ام کلثومؓ سے ہوا اور حضرت حفصہؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت کا شرف ملا ۔ حضرت حفصہؓ کے مناقب میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مشورہ سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں قرآن مجید کا جو نسخہ مکمل شکل میں مرتب و مدون کیا گیا تھا ۔ وہ نسخہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا ہی کی تحویل میں رہا ، اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں جب ضرورت پڑی کہ قرآن مجید کے یکساں نسخے مرکز خلافت ہی سے مدون و مرتب کرا کے عالم اسلام میں بھیجے جائین تو حضرت حفصہؓ کے پاس محفوظ نسخہ کو بنیاد مانا گیا تھا ..... اس کی ضروری تفصیل اسی سلسلہ معارف الحدیث میں حضرت عثمانؓ کے مناقب میں لکھی جا چکی ہے ..... یہاں تو صرف یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ عہد فاروقی کے بعد اس نسخہ کی حفاظت کا شرف حضرت حفصہؓ کے حصہ میں آنا یقیناً ان کی ایک قابل ذکر فضیلت ہے ۔ ام المومنین حضرت حفصہؓ نے حضرت معاویہؓ کے عہد خلافت میں ۴۵؁ھ میں انتقال فرمایا ۔ اس وقت ان کی عمر قریباً ۶۳ سال تھی ۔ ان تعارفی و تمہیدی کلمات کے بعد وہ حدیث پڑھئے جس میں اللہ کے مقرب فرشتے حضرت جبرائیل کی زبانی حضرت حفصہؓ کے بارے میں ایک شہادت نقل ہوئی ہے اور اسی کی وجہ سے واقعہ یہ ہے کہ حضرت حفصہؓ کے فضائل میں تنہا یہی حدیث بالکل کافی ہے ۔ تشریح ..... اللہ تعالیٰ کی یہاں حضرت حفصہؓ کی قدر و منزلت اور مقبولیت و محبوبیت کا اندازہ کرنے کے لئے یہ حدیث بالکل کافی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کسی وجہ سے ان کو طلاق دے دی تو اللہ نے نہ صرف حضرت جبرائیل کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رجعت کرنے کا حکم بھیجا بلکہ حضرت حفصہؓ کی سیرت و کردار کے بارے میں یہ سند اور یہ شہادت بھی عطا فرمائی کہ یہ دن کو کثرت سے روزہ رکھتی ہین اور رات کو اللہ کی بارگاہ میں کھڑے ہو کر نمازیں پڑھتی ہیں اور یہی نہیں ، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ خوشخبری بھی سنائی کہ جنت میں بھی ان کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت کا شرف مقدر ہو چکا ہے ۔ یہ بات تحقیقی طور پر نہیں معلوم ہو سکی کہ طلاق کے اس واقعہ کا اصل سبب کیا تھا ۔ البتہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ طلاق اور رجعت ان دونوں کے سلسلہ کا یہ واقعہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں پیش آیا اسی سے امت کو طلاق اور رجعت کا صحیح اور مسنون طریقہ عملی طور پر معلوم ہوا ۔ ہو سکتا ہے کہ اس واقعہ کے پیش آنے کی ایک حکمت اسی طریقہ کی تعلیم ہو ...... اس کے علاوہ یہ بھی اسی واقعہ کی برکت ہے کہ اس کی بدولت اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں حضرت حفصہؓ کی بلندی مقام ، اور ان کے وہ خاص اوصاف جو اس کا سبب بنے ، اور پھر ان کا جنتی ہونا ، یہ سب بھی معلوم ہو گیا ۔ رضی اللہ عنہا وارضاہا ۔ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا ام المومنین حضرت ام سلمہؓ کا نام ہند تھا ، بعض مورخین نے رملہ لکھا ہے آپ کے والد کے نام میں بھی اختلاف ہے ۔ بعض لوگ حذیفہ بتلاتے ہیں زیادہ مشہور قول سہل یا سہیل بن المغیرہ ہے ۔ ان کی کنیت ابو امیہ تھی اور کنیت سے ہی مشہور ہیں مکہ کے معززین میں شمار ہوتا تھا ۔ بہت سخی اور صاحب خیر تھے ۔ سفر میں جاتے تو تمام شرکاء سفر کا تکفل فرماتے ، اسی لئے آپ کا لقب زاد الراکب (اہل قافلہ کی زاد راہ کے ذمہ دار) پڑ گیا تھا ۔ حضرت ام سلمہؓ کی پہلی شادی اپنے چچازاد بھائی حضرت عبداللہ بن عبدالاسد المخزومی کے ساتھ ہوئی تھی ، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رضائی (دودھ شریک) بھائی بھی تھے ۔ ام سلمہؓ کے ایک بیٹے سلمہ کی وجہ سے ہی ان کی کنیت ام سلمہؓ کے شوہر حضرت عبداللہ کی کنیت ابو سلمہؓ پڑ گئی تھی ۔ حضرت ابو سلمہؓ بھی شرفاء مکہ میں شمار ہوتے تھے ۔ میاں بیوی دونوں ہی مکہ میں بالکل ابتدائی زمانہ میں اسلام لانے والے اور سابقین اولین میں ہیں ۔ اہل مکہ کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر یہ دونوں میاں بیوی حبشہ کو ہجرت کر گئے تھے کچھ عرصہ حبشہ میں قیام کے بعد دونوں مکہ تشریف لے آئے ۔ لیکن مکہ کے حالات نے اب بھی مکہ میں نہ رہنے دیا اور دونوں اپنے بیٹے سلمہ کو لے کر ہجرت کے ارادہ سے اونٹ پر سوار ہو کر مکہ معظمہ سے مدینہ طیبہ کے لئے نکلے ابھی یہ لوگ مکہ سے نکلے ہی تھے کہ حضرت ام سلمہؓ کے خاندان بنو مغیرہ کے لوگوں کو اس کا علم ہو گیا کہ ابو سلمہؓ خود تو مدینہ جا ہی رہے ہیں ان کے خاندان کی لڑکی ، ام سلمہؓ کو بھی اپنے ساتھ لے جا رہے ہیں ان لوگوں نے حضرت ابو سلمہؓ سے کہا کہ اپنے بارے میں تم بااختیار ہو جہاں چاہو رہو ۔ لیکن ہم اپنی بیٹی کو دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے لئے تمہارے ساتھ ہرگز نہ جانے دیں گے اور وہ حضرت ام سلمہؓ اور ان کے بچے سلمہ کو مکہ واپس لے گئے حضرت ابو سلمہؓ تنہا ہی مدینہ طیبہ روانہ ہو گئے ۔ اس واقعہ کی اطلاع جب حضرت ابو سلمہب کے خانداں بنو المخزوم کے لوگوں کو ہوئی کہ ان کے خاندان کے ایک فرد ابو سلمہ کے ساتھ بنو المغیرہ کے لوگوں نے یہ زیادتی کی ہے ، تو خاندانی حمیت کی وجہ سے ان لوگوں نے ام سلمہؓ کے کاندان بنو المغیرہ سے سلمہؓ کو جو ابھی بچے ہی تھے یہ کہہ کر لے لیا کہ ام سلمہؓ تو تمہارے خاندان کی ہیں ان کو تم رکھو لیکن سلمہؓ تو ہمارے خاندان کا بچہ ہے ۔ اب صورت ھال یہ ہو گئی کہ ابو سلمہؓ تو مدینہ طیبہ تشریف لے گئے ، ام سلمہؓ اپنے گھر بنو المغیرہ میں ہیں ، اور بچہ سلمہؓ حضرت ابو سلمہؓ کے قبیلہ بنو المخزوم کے قبضہ میں ہے ۔ اس مصیبت میں مبتلا حضرت ام سلمہؓ مکہ سے نکل کر دن بھر مقام ابطح میں بیٹھی اپنے شوہر اور بچہ کے غم میں روتی رہتیں ۔ ہفتہ عشرہ اسی حال میں گزر گیا ، ایک دن ان کے خاندان کے کسی شخص نے ان کو اس طرح روتے دیکھا تو اہل خاندان سے کہا اس بیچاری پر رحم کرو اور اس کو اپنے شوہر کے پاس جانے دو ، قبیلہ کے لوگوں کو بھی ان پر ترس آ گیا اور ان کو ان کے شوہر ابو سلمہؓ کے پاس مدینہ طیبہ جانے کی اجازت دے دی گئی ۔ جب اس کا علم حضرت ابو سلمہؓ کے قبیلہ کو ہوا تو انہوں نے سلمہؓ کو حضرت ام سلمہؓ کے حوالے کر دیا ۔ حضرت ام سلمہؓ اپنے بچہ سلمہ کو لے کر اونٹ پر سوار ہو کر مدینہ کے ارادہ سے تنہا نکل پڑیں ۔ ابھی مکہ سے چند میل دور مقام تنعیم تک ہی پہنچیں تھیں کہ عثمان بن طلحہ نامی مکہ کے ایک شخص ملے پوچھا ابو امیہ کی بیٹی کہاں کا ارادہ ہے ، ام سلمہؓ نے جواب دیا اپنے شوہر ابو سلمہؓ کے پاس مدینہ جانا ہے ، پوچھا کوئی ساتھ ہے ام سلمہؓ نے کہا کہ اس بچہ اور اللہ کے سوا کوئی بھی نہیں ۔ عثمان بن طلحہ نے کہا میں ساتھ ہوں ابو امیہ کی بیٹی تنہا سفر نہیں کرے گی ۔ حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں میں نے ان جیسا شریف آدمی نہیں دیکھا ۔ راستہ بھر ان کا معمول یہ رہا کہ جب منزل پر اترنے کا وقت آتا تو اونٹ کو بٹھاتے اور خود وہاں سے ہٹ جاتے اور میں اونٹ سے اتر آتی اور جب چلنے کا وقت آتا تو آ کر اونٹ بٹھاتے میں سوار ہو جاتی اور وہ اونٹ کی نکیل پکڑ کر چل دیتے پورا سفر اسی طرح طے ہوا ۔ جب یہ لوگ مقام قبا میں (جو اس زمانہ میں مدینہ سے باہر ایک چھوٹی سی آبادی تھی اور اب مدینہ طیبہ ہی کا ایک محلہ ہے) پہنچے تو عثمان بن طلحہ نے حضرت ام سلمہؓ سے کہا کہ تمہارے شوہر یہیں قبا میں ہیں انہوں نے حضرت ام سلمہؓ کو ان کے حوالے کیا اور خود مکہ واپس چلے گئے ۔ اکثر مؤرخین اور سیر نگاروں کے نزدیک سب سے پہلے مدینہ ہجرت کرنے والی عورت حضرت ام سلمہؓ ہی ہیں ۔ مسلم شریف کی آئندہ ذکر کی جانے والی روایت سے بھی اس قول کی کچھ تائید ہوتی ہے ۔ غزوہ احد میں حضرت ابو سلمہؓ نے بڑی بےجگری و جاں بازی اور شوق شہادت میں شرشار ہو کر قتال میں حصہ لیا ، اسی موقعہ پر ان کے بہت گہرا زخم لگا تھا جو کچھ دنوں میں ٹھیک ہو گیا ۔ اور حضرت ابو سلمہؓ بالکل صحت یاب ہو گئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بنو اسد سے جہاد کرنے والی جماعت کا امیر بنا کر بھیجا ۔ اس جنگ میں ان کا پرانا زخم پھر ہرا ہو گیا اور اس میں شدید تکلیف پیدا ہو گئی اور اسی زخم کی وجہ سے ۸؍ جمادی الاخریٰ ۴ھ کو حضرت ابو سلمہؓ کی وفات ہو گئی ۔ انتقال کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف فرما تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے اپنے دست مبارک سے ابو سلمہؓ کی آنکھیں بند کیں اور ان کی مغفرت اور رفع درجات کی دعا کی اور یہ بھی عرض کیا کہ اے اللہ ان کی جگہ آپ ہی ان کے پسماندگان کی نگرانی و سرپرستی فرمائیں ۔ حضرت ام سلمہؓ کے لئے حالت پردیسی میں شوہر کی وفات بڑا حادثہ تھا ۔ وہ اپنے شوہر کو بےمثال شوہر سمجھتی تھیں اور ان کے بعد ان سے بہتر یا ان جیسے شوہر کے ملنے کی امید نہ تھی ۔ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے باوجود مجھے ابو سلمہؓ کا متبادل نظر نہ آتا تھا کہ : مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ فَيَقُولُ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ: {إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ}، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلُفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَخْلَفَ اللَّهُ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا " قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ: أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ؟ أَوَّلُ بَيْتٍ هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ إِنِّي قُلْتُهَا فَأَخْلَفَ اللَّهُ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ترجمہ : جس صاحب ایمان پر کوئی مصیبت آئے (اور کوئی چیز فوت ہو جائے) اور وہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے وہ عرض کرے جو عرض کرنے کا حکم ہے ۔ یعنی إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلُفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا (ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہم سب لوٹ کر جانے والے ہیں ۔ اے اللہ مجھے میری اس مصیبت میں اجر عطا فرما اور (جو چیز مجھ سے لے لی گئی ہے) اس کے بجائے اس سے بہتر مجھے عطا فرما) تو اللہ تعالیٰ اس چیز کے بجائے اس سے بہتر ضرور عطا فرمائے گا (ام سلمہؓ کہتی ہیں کہ) جب میرے پہلے شوہر ابو سلمہ کا انتقال ہوا تو میں نے اپنے جی میں سوچا کہ میرے شوہر مرحوم ابو سلمہؓ سے اچھا کون ہو سکتا ہے ۔ وہ سب سے پہلے مسلمان تھے جنہوں نے گھر بار کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی (لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے مطابق) میں نے ان کی وفات کے بعد إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہا اور دعا کی اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلُفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ابو سلمہؓ کی جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے نصیب فرمایا ۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت مسلم شریف کے حوالے سے معارف الحدیث جلد سوم میں گزر چکی ہے یہاں بھی اصل روایت اور اس کا ترجمہ وہیں سے نقل کیا گیا ہے صحیح مسلم کے علاوہ حدیث کی دوسری کتابوں میں بھی اس واقعہ کے ساتھ یہ دعا الفاظ کے کچھ اختلاف کے ساتھ روایت کی گئی ہے ، ابن سعد نے طبقات میں ام سلمہؓ کے واسطہ سے یہ واقعہ بھی نقل کیا ہے کہ ایک دن میں نے اپنے شوہر ابو سلمہؓ سے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ اگر کوئی شہر مر جائے اور بیوہ دوسری شادی نہ کرے اور دونوں جنت میں جائیں تو اللہ تعالیٰ جنت میں بھی ان کا رشتہ برقرار رکھتا ہے ۔ اسی طرح اگر بیوی مر جائے اور شوہر دوسری شادی نہ کرے تو بھی دنیا کا یہ رشتہ جنت میں باقی رکھا جاتا ہے ۔ آئیے ہم دونوں عہد کریں کہ ہم دونوں میں سے جو پہلے مر جائے دوسری شادی نہیں کرے گا ۔ حضرت ابو سلمہؓنے یہ سن کر کہا کیا تم مجھ سے عہد کرنے کو تیار ہو ، میں نے کہا بالکل اس پر حضرت ابو سلمہؓ نے فرمایا کہ اگر میرا انتقال پہلے ہو جائے تو تم شادی کر لینا اور اس کے بعد یہ دعا بھی کی کہ اے اللہ میرے بعد ام سلمہؓ کو مجھ سے بہتر شوہر عطا فرما جو ان کے لئے نہ باعث غم ہو نہ باعث تکلیف ۔ ام سلمہؓ کہتی ہیں کہ ان کے انتقال کے بعد میری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ ان سے بہتر کون ہو سکتا تھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام آیا ۔ ابو سلمہؓ کے انتقال اور ام سلمہؓ کی عدت گذر جانے کے بعد حضرت ابو بکرؓ و حضرت عمرؓ نے اور ام سلمہؓ کو شادی کا پیغام دیا تھا لیکن ام سلمہؓ نے شادی سے انکار کر دیا تھا ۔ لیکن جب حضرت عمرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام لے کر آئے تو انہوں نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو قبول کرنے میں مجھے تین (۳) عذر ہیں نمبر ۱ میں بہت غیرت مند ہوں ۔ نمبر ۲ میرے کئی بچے ہیں ۔ نمبر ۳ میری عمر بہت زیادہ ہو گئی ہے ۔ مطلب یہ تھا کہ ان وجوہات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق کی ادائیگی میں کہیں کوتاہی نہ ہو جائے ۔ بعض روایات میں یہ عذر بھی مذکور ہے کہ میرا کوئی ولی مدینہ میں نہیں ہے ۔ جب حضرت عمرؓ نے ام سلمہؓ کے یہ اعذار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں تک ان کی حد سے بڑھی ہوئی غیر کا معاملہ ہے تو میں دعا کروں گا اللہ تعالیٰ اسے دور فرما دے گا اور رہا بچوں کا سوال تو وہ اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ ہیں اور رہا ان کی درازی عمر کا مسئلہ تو میری عمر ان سے زیادہ ہے ۔ اور ان کا کوئی بھی ولی اس رشتہ کو ناپسند نہیں کرے گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ...... کی یہ ہدایات جب ام سلمہؓ کو پہنچیں تو وہ فوراً رشرہ کے لئے تیار ہو گئیں اور شوال ۴ھ میں حضرت ام سلمہؓ حرم نبوی میں داخل ہو گئیں ۔ اولاد حضرت ام سلمہؓ کے اپنے پہلے شوہر سے دو لڑکے سلمہ اور عمر تھے اور دو لڑکیاں درہ اور برہ تھیں بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بردہ کا نام بدل کر زینب رکھ دیا تھا ۔ فضائل ام المومنین حضرت ام سلمہؓ کے فضائل میں صحیح بخاری و صحیح مسلم میں یہ روایت ذکر کی گئی ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت جبرائیلؑ آئے اور حضرت ام سلمہب آپ کی قریب بیٹھی ہوئی تھیں ۔ جب جبرائیلؑ چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہؓ سے سوال کیا کہ یہ کون تھے ؟ حضرت ام سلمہؓ نے عرج کیا کہ یہ دحیہ کلبیؓ تھے (اس لئے کہ حضرت جبرائیل دحیہ کلبیؓ ہی کی شکل میں آئے تھے) اس کے بعد آپ نے مسجد تشریف لے جا کر حضرت جبرائیل کی تشریف آوری کا ذکر کیا تو حضرت ام سلمہؓ سمجھیں کہ وہ حضرت جبرائیلؑ ہی تھے ۔ ازواج مطہرات کے سلسلہ میں سورہ احزاب کی آیت “ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّـهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ” حضرت ام سلمہؓ ہی کے مکان میں نازل ہوئی ۔ اس کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہؓ اور حضرات حسنینؓ کو بلا کر اپنی چادر میں لپیٹ لیا اور حضرت علیؓ آپ کی پشت کے پیچھے بیٹھ گئے پھر آپ نے یہ دعا کی “اللهم هوءلاء اهل بيتى فطهرهم تطهيرا” اے اللہ یہ لوگ بھی میرے اہل بیت ہیں ان کو بھی پاک و صاف فرما دیجئے ۔ یہ سن کر حضرت ام سلمہؓ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی میں بھی تو ان کے ساتھ ہوں آپ نے فرمایا انت علی مکانک وانت علی خیر یعنی تم تو اہل بیت میں ہو ہی اور تم خیر پر بھی ہو ۔ حضرت ام سلمہؓ نے ایک مرتبہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ عورتوں کا ذکر قرآن مجید میں کیوں نہیں ہے ان کی اس طلب اور خواہش پر آیت کریمہ “ إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ...... الخ” نازل ہوئی ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر اس آیت کو صحابہ کرامؓ کو سنایا ۔ حضرت ام سلمہب بہت ذہین اور فہیم تھیں اللہ نے تفقہ فی الدین سے بھی خوب نوازا تھا صلح حدیبیہ کے موقع پر جب یہ طے ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ اس سال تو واپس چلے جائیں اور آئندہ سال عمرہ کے لئے آنا چاہیں تو آ سکتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ سب عمرہ کا احرام باندھے ہوئے تھے واپسی کے لئے احرام سے نکلنا اور اپنی ہدی کے جانوروں کو ذبح کرنا ضروری تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو احرام سے نکلنے یعنی اپنی ہدی کے جانوروں کو ذبح کرنے اور سر منڈوانے کا حکم دے دیا یہ کام صحابہ کرامؓ کے لئے بڑا شاق اور گراں تھا ان کے دل کسی طرھ عمرہ کئے بغیر احرام کھولنے کے لئے آمادہ نہ ہوتے تھے ۔ آپ نے اپنے خیمہ میں آ کر صحابہ کرامؓ کی اس حالت اور اس پر اپنی ناگواری کا اظہار ام سلمہؓ سے کیا حضرت ام سلمہب نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ خیمے سے باہر تشریف لے جائیں اور اپنی ہدی کا جانور ذبح کر کے اور بال منڈوا کر احرام سے نکل جائیں ۔ آپ نے باہر آ کرایسا ہی کیا صحابہ کرامؓ نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل دیکھا تو سب نے اپنے جانور ذبح کئے بال منڈوائے اور احرام کھول دئیے ۔ حضرت ام سلمہؓ کو احادیث رسول بکثرت یاد تھیں ۔ حضرت عائشہؓ حضرت ابن عباسؓ اور بہت سے صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ نے آپؓ سے احادیث روایت کی ہیں ۔ محدثین نے آپ کی روایت کردہ احادیث کی تعداد ۳۷۸ بتلائی ہے ۔ لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز پر قرآن مجید پڑھنے کی ترغیب دیتی تھیں اور بتلاتی تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک رک کر قرآن مجید پڑھتے تھے ۔ اور مثال کے طور پر کہتیں کہ آپ الحمدللہ رب العالمین پڑھتے اور وقف فرماتے پھر الرحمٰن الرحیم پڑھتے اور وقف فرماتے ۔ ام سلمہب یہ بھی ذکر کرتی تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مالک یوم الدین کی جگہ ، ملک یوم الدین پڑھتے تھے ۔ ترمذی ۲ ص ۱۱۶ روایات احکام کے علاوہ قراۃ قرآن کی کیفیت اور قرآن کی تفسیر کے سلسلہ کی متعدد روایات حضرت ام سلمہؓ کے واسطہ سے کتب حدیث میں مروی ہیں ۔ آپ کے سن وفات میں اختلاف ہے راجح قول یہ ہے کہ آپ نے ۵۹ھ میں وفات پائی اور حضرت ابو ہریرہؓ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ ام المؤمنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا ام المومنین حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا نام پہلے برہ تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر زینب رکھ دیا ۔ برہ کے معنی نیک اور فیاض کے ہیں ۔ ام المومنین حضرت زینب کے علاوہ بعض ۔۔۔۔۔ جن کا نام برہ تھا ان کا نام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل دیا اور فرمایا لا تزكوا انفسكم الله اعلم باهل البر منكم (1) یعنی خود اپنے آپ کو نیک اور سخی نہ کہو اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں کون نیک اور سخی ہے ۔ آپ کے والد جحش بن رئاب کا تعلق قبیلہ بنی اسد سے تھا اور والدہ امیمہ بنت عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی پھوپھی تھیں ۔ یعنی حضرت زینب رضی اللہ عنہا آپ کی پھوپھی زاد بہن تھیں ۔ حضرت زینب شروع ہی میں ایمان لانے والے لوگوں میں تھیں كانت قديمة الاسلام وقال الزهرى زينب من المهاجرات الاول (2) یعنی آپ قدیم الاسلام تھیں اور امام زہریؒ فرماتے ہیں کہ زینب بالکل اولین دور میں ہجرت کرنے والوں میں تھیں ۔ پہلا نکاح پھوپھی زاد بہن ہونے اور نو عمری میں ہی اسلام لے آنے کے وجہ سے حضرت زینبؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت ہی میں رہیں اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہؓ سے کر دیا تھا ۔ حضرت زیدؓ بچپن ہی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیر تربیت رہے تھے اس لئے علم و دین میں ممتاز تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنا متبنیٰ (منہ بولا بیٹا) بھی بنا لیا ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے اولاد کا سا تعلق بھی تھا ۔ لیکن اس سب کے باوجود بہرحال وہ ایک آزاد کردہ غلام اور حضرت زینبؓ قبیلہ قریش کے سردار عبدالمطلب کی نواسی اور اپنے باپ کی طرف سے بھی ایک بڑے گھر کی بیٹی تھیں اس لئے شروع میں حضرت زینبؓ اور ان کی بھائی عبداللہ بن جحش نے اس رشتہ کو نامنظور کر دیا تھا ۔ طبرانی نے بسند صحیح یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت زیدؓ کا پیغام خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینبؓ کو دیا تھا اور حضرت زینبؓ نے یہ کہہ کر کہ میں نسباً ان سے بہتر ہوں اس پیغام کو رد کر دیا تھا ۔ اس پر آیت کریمہ نازل ہوئی ۔ وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّـهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ وَمَن يَعْصِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا (سورة احزاب آيت نمبر 36) ترجمہ : کسی صاحب ایمان مرد اور عورت کے لئے اس بات کی گنجائش نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول کسی بات کا (قطعی) حکم دے دیں تب بھی وہ اس کام کے بارے میں بااختیار رہیں ۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول کے وجوبی حکم دینے کے بعد کسی بھی مومن یا مومنہ کو اپنے دنیوی اور ذاتی معاملہ میں بھی کوئی حق اور اختیار باقی نہیں رہتا ۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد حضرت زینبؓ اور ان کے بھائی عبداللہ بن جحشؓ نے اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زیدؓ کا نکاح حضرت زینبؓ سے کر دیا اور اپنے پاس سے ان کا مہر دس دینار (تقریباً ۴ تولہ سونا) اور ساٹھ درہم (تقریباً ۱۸۔ تولہ چاندی) اور ایک باربرداری کا جانور ایک زنانہ جوڑا اور پچاس مد آٹا (تقریباً ۲۵ سیر) اور دس مد کھجور (تقریباً پانچ (1) سیر ادا کیا ۔) حضرت زینبؓ نے اس رشتہ کو اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی وجہ سے قبول کر لیا تھا اور اپنی طبیعت کو بھی اس پر راضی کر لیا تھا ۔ لیکن مدینہ کے منافقین نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذا رسانی کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے اس کو لے کر ایک فتنہ کھڑا کر دیا کہ لیجئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شریف خاندان کی عورت کا نکاح ایک غلام سے کر دیا ۔ خصوصاً منافقین کی عورتوں نے اس فتنہ انگیزی میں بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور حضڑت زینبؓ جو دل سے اس رشتہ کو قبول کر چکی تھیں ان کو ورغلانے کی پوری پوری کوششیں کیں ۔ حضرت زینبؓ کے دل پر ان باتوں کا اثر ہوا ان کی مزاج میں کچھ تیزی اور احساس برتری تو تھا ہی منافقین کے اس فتنہ نے حضرت زینبؓ اور حضرت زیدؓ کے درمیان کچھ دوری پیدا کر دی ۔ ادھر حضرت زیدؓ کو حضرت زینبؓ کا احساس تفوق و برتری اپنی حساس اور غیرت مند طبیعت پر بار محسوس ہونے لگا جس کی وجہ سے انہوں نے اس رشتہ کو ختم کرنے کا ارادہ کر لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی اجازت چاہی آپ نے حضرت زیدؓ سے سوال کیا کہ کیا زینب کی طرف سے تمہیں کچھ شک ہے عرض کیا کوئی شک کی بات تو نہیں البتہ زینبؓ کو اپنے خاندانی شرف کا احساس ہے اور وہ اس کا اظہار بھی کر دیتی ہیں ۔ پھر ممکن ہے وہ یہ بھی سمجھتے ہوں کہ زینبؓ کی خواہش بھی رشتہ کو ختم کر دینے ہی کی ہے اس طرح اس رشتہ کے ختم ہونے سے دونوں کو راحت مل جائے گی ۔ حضرت زیدؓ کی درخواست کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منظور نہیں فرمایا اور رشتہ کو باقی رکھنے ہی کا حکم دیا ۔ لیکن یہ رشتہ زیادہ دنوں باقی نہ رہ سکا ۔ حضرت زیدؓ رشتہ کو ختم کرنے پر مجبور ہو گئے ۔ اور دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اس ارادہ کا اظہار کیا کہ اب میں رشتہ باقی نہ رکھ سکوں گا ۔ آپ نے اب بھی حضرت زیدؓ کو صبر و تحمل کی تلقین فرمائی اور رشتہ کو باقی رکھنے کو فرمایا جس کا ذکر قرآن مجید میں ان الفاظ میں ہے أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّـهَ یعنی اپنی بیوی کے نکاح کو باقی رکھو اور خدا سے ڈرو ۔ لیکن حضرت زیدؓ کی حالت حد اضطرار کو پہنچ گئی تھی اور صورت ھال ایسی ہو گئی تھی کہ اب نکاح کو باقی رکھنا شرعاً درست نہ تھا اس لئے چار و ناچار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زیدؓ کو طلاق دینے کی اجازت دے دی اور پھر حضرت زیدؓ نے طلاق دے بھی دی اور صرف ایک سال ہی میں یہ رشتہ ختم ہو گیا ۔ چونکہ یہ رشتہ آپ نے اسلامی مساوات کے اظہار کے لئے کرایا تھا ۔ پھر اس رشتہ کی وجہ سے حضرت زینبؓ کو منافقین کی طرف سے آزاد کردہ غلام کی بیوی کا طعنہ سننا پڑا تھا اور اب طلاق ہو جانے کے بعد یہ بھی طعنہ سننا پڑ گیا کہ لو غلام نے بھی طلاق دے دی ۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حادثہ سے بہت رنج ہوا ۔ پھر حضرت زینبؓ پر بھی اس حادثہ کا کافی اثر تھا اس کی تلافی اور حضرت زینبؓ کی دلداری کی شکل صرف یہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینبؓ سے نکاھ فرما لیں لیکن منافقین کی طرف سے اندیشہ تھا کہ وہ اس نکاح کو ایک دوسرے فتنہ کا ذریعہ بنا دیں گے اور کہیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متبنیٰ کی مطلقہ سے شادی کر لی ۔ جاہلیت کے رسم و رواج میں اس کی بالکل گنجائش نہیں تھی اس لئے فتنہ کا کافی اندیشہ تھا ۔ ادھر طبیعت پر طلاق کے حادثہ کا اثر اور ادھر اس کی مناسب تلافی کی صورت میں فتنہ کا اندیشہ اس لئے طبیعت بہت پریشان تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بات زبان پر لاتے ڈرتے تھے اسی پریشانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّـهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّـهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَاهُ میں فرمایا ہے ۔ یعنی تم اپنے دل میں وہ بات چھپا رہے تھے جس کو اللہ ظاہر کرنے والا ہے اور تم لوگوں (منافقوں) سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ زیادہ مستحق ہے اس بات کا کہ اس سے ڈرا جائے ۔ اس آیت میں گویا اس بات کی اجازت بلکہ حکم تھا کہ حضرت زینبؓ سے نکاح کر لیا جائے ۔ حضرت زینبؓ کی عدت ختم ہو چکی تھی اور اب یہ آیت بھی نازل ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینبؓ کے پاس اپنے نکاح کا پیغام لے کر حضرت زیدؓ ہی کو بھیجا جب حضرت زید نے جا کر حضرت زینبؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچایا ، تو حضرت زینبؓ نے کہا ما انا بصانعة شيئا حتى او امر ربى فقامت الى مسجدها کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے میں اپنے اللہ سے استخارہ ضرور کروں گی یہ کہہ کر اپنے مصلے پر کھڑی ہو گئیں یعنی نماز شروع کر دی ۔ ادھر حضرت زیدؓ نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت زینبؓ کا جواب بتلایا ادھر یہ آیت کریمہ فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا (2) نازل ہو گئی ۔ (ترجمہ : پس جب زید نے زینب سے اپنارشتہ منقطع کر لیا (اور عدت بھی گذر گئی) تو ہم نے ان کا نکاح تم سے کر دیا تا کہ اہل ایمان کے لئے اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (سے نکاح کرنے) میں کوئی حرج اور تنگی باقی نہ رہے بشرطیکہ وہ لوگ اپنی بیویوں سے اپنا رشتہ ختم کر لیں ۔ اکثر مفسرین کے نزدیک حضرت زینب کا نکاح آسمان پر ہی ہوا دنیا میں نہیں اور آیت کریمہ فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا کے واضح اور متبادر معنی بھی یہی ہیں ۔ علاوہ ازیں صحیح روایات سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر نکاح نہیں کیا ۔ صحیح مسلم کی جو روایت ابھی ہم نے ذکر کی ہے اس میں بھی فقامت الى مسجدها کے بعد فنزل القرآن وجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخل عليها بغير اذن (3) کے الفاظ ہیں ۔ یعنی ان آیات کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلااجازت لئے حضرت زینبؓ کے پاس تشریف لے گئے علاوہ ازیں حضرت زینبؓ خود اس بات پر فخر کرتی تھیں کہ میرا نکاح میرے اللہ نے کیا جب کہ دیگر ازواج مطہرات کا نکاح ان کے اولیاء یا اہل خاندان نے کیا ہے ۔ صحیح بخاری کی ایک روایت کے الفاظ ہیں وَكَانَتْ تَفْخَرُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: زَوَّجَكُنَّ أَهْلُوكُنَّ وَزَوَّجَنِي الله مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَوَاتٍ (1) یعنی زینبؓ دیگر ازواج مطہرات کے مقابلہ میں بطور فخر کہا کرتی تھیں تمہارا نکاح تمہارے اہل خاندان نے کیا اور میرا نکاح اللہ نے سات آسمانوں کے اوپر سے کیا ۔ صحیح بخاری میں اس مذکورہ روایت کی بعد اس معنی کی ایک دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں وَكَانَتْ تَفْخَرُ عَلَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ تَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ أَنْكَحَنِي فِي السَّمَاءِ صحیح بخاری کے علاوہ اس مضمون کی روایات حدیث کی بعض دوسری کتابوں میں بھی موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زینبؓ کا نکاح دنیا میں نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالیٰ نے آسمان پر ہی کر دیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہی کافی سمجھا ۔ (2) لیکن سیرت ابن ہشام میں یہ مذکور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آیات کے نزول کے بعد حضرت زینبؓ سے نکاح کیا اور چار سو درہم مہر مقرر فرمایا ۔ تہذیب سیرت ابن ہشام میں اس واقعہ کو ان الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے ۔ وتزوج رسول الله صلى الله عليه وسلم زينب بنت جحش بن رئاب الاسديه زوجه اياها اخوها ابو احمد بن جحش واصدقها رسول الله صلى الله عليه وسلم اربع مائة درهم (3) لیکن عام مفسرین اور محدثین کے نزدیک روایات کی کثرت اور اصحیت کی بنیاد پر پہلا قول ہی راجح ہے ۔ مشہور مفسر ابن کثیرؒ آیت کریمہ فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا کی تفسیر میں لکھتے ہیں وكان الذى ولى تَزْوِيجِهَا مِنْهُ هو الله عز وجل بمعنى انه اوحى اليه ان يدخل عليها بلا ولى ولا عقد ولا مهر ولا شهود من البشر. (4) جس کا حاصل یہی ہے کہ دنیا میں نہ نکاح ہوا نہ گواہی اور نہ مہر ہی متعین ہوا ۔ اسی طرح علامہ شوکانیؒ نے بھی مذکورہ آیت کی تفسیر میں تحریر فرمایا ہے ۔ فَلَمَّا أَعْلَمَهُ اللَّهُ بِذَلِكَ دَخَلَ عَلَيْهَا بِغَيْرِ إِذْنٍ، وَلَا عَقْدٍ، وَلَا تَقْدِيرِ صَدَاقٍ، وَلَا شَيْءٍ مِمَّا هُوَ مُعْتَبَرٌ فِي النِّكَاحِ فِي حَقِّ أُمَّتِهِ. وَقِيلَ: الْمُرَادُ بِهِ: الْأَمْرُ لَهُ بِأَنْ يَتَزَوَّجَهَا. وَالْأَوَّلُ أَوْلَى، وَبِهِ جَاءَتِ الْأَخْبَارُ الصَّحِيحَةُ اس کا حاصل بھی یہی ہے جو تفسیر ابن کثیر کی عبارت کا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا نکاح آسمان پر ہی کر دیا تھا جس کی وجہ سے دنیا میں ایجاب و قبول اور تعیین مہر اور دیگر متعلقات نکاح کی ضرورت نہیں رہی تھی ۔ اس کے بعد علامہ شوکانیؒ فرماتے ہیں کہ دوسرا قول اس بارے میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت زینبؓ سے نکاح کرنے کا حکم دیا لیکن اول قول راجح اور احادیث صحیح سے ثابت ہے ۔ حضرت زینبؓ کے نکاح کے سال کے بارے میں کئی قول ہیں لیکن زیادہ راجح قول یہ ہے کہ آپ کا نکاح ذیقعدہ ۴ھ میں ہوا ۔ حضرت زینبؓ کے اس پورے واقعہ میں بہت سی دینی حکمتیں ہیں اس میں اسلامی مساوات کا بھی اظہار ہے کہ نکاح میں کفارہ کے معتبر ہونے کے باوجود اگر بعض دینی مصالح متقاضی ہوں تو ایک بڑے خاندان کی لڑکی کا نکاح ایک آزاد کردہ غلام سے بھی کرایا جا سکتا ہے پھر اس واقعہ سے متعلق آیات میں یہ بھی مذکور ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قطعی حکم کے بعد کسی صاحب ایمان مرد و عورت کو اپنے بارے میں اس حکم کے خلاف کسی بھی قسم کا کوئی اختیار نہیں رہتا ۔ نیز ان آیات سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ دینی کاموں کو عوام الناس کے شور و غوغا اور اعتراضات کی وجہ سے نہیں چھوڑا جا سکتا ، جاہلی رسم و رواج کو ختم کرنے اور غلط عقائد کی اصلاح کے لئے یہ سب تو سننا اور برداشت کرنا ہی پڑتا ہے ۔ دنیا میں ایجاب و قبول کے بجائے آسمان پر ہی نکاح کر دینے میں حضرت زینبؓ کو اعزاز بخشا ہے کہ ان کے نکاح کا متولی اللہ تعالیٰ ہے واقعہ حضرت زینبؓ کی قربانی کا یہی صلہ ہونا چاہئے تھا ۔ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے امتثال امر میں بڑی قربانی دی ہے ۔ ولیمہ حضرت زینبؓ کے نکاح کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا شاندار لیمہ کیا کہ ایسا ولیمہ کسی بھی زوجہ مطہرہ کے نکاح کے بعد نہیں کیا گھا ۔ صحیح بخاری میں حضرت انسؓ کی روایت ہے فرماتے ہیں کہ «مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَيْهَا، أَوْلَمَ بِشَاةٍ» (1) یعنی میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بھی زوجہ مطہرہ کا اتنا شاندار ولیمہ کیا ہو جتنا حضرت زینبؓ کا ولیمہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینبؓ کے ولیمہ میں بکری ذبح کی تھی ۔ پھر اس ولیمہ میں حضرت انسؓ کی والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے حیس (مالید یا اسی طرح کا کوئی کھانا) بھی بھیجا تھا ۔ اس ولیمہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انسؓ سے کچھ صحابہ کرامؓ کے نام لے کر فرمایا کہ جاؤ فلاں فلاں کو بلا لاؤ اور جو بھی تمہیں ملے اس کو بھی بلا لانا حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے صحابہ کرامؓ کو اور جو جو بھی مجھے ملے سب کو بلا لایا حضرت انسؓ کے شاگرد جعد نے پوچھا کہ کل کتنے لوگ ولیمہ میں آ گئے تھے حضرت انسؓ نے فرمایا کہ تقریباً تین سو ۳۰۰ ۔ کھانا ایک طشت میں کر دیا گیا اور حاضرین صحابہ کرامؓ کو آپ نے دس دس کی جماعت کر کے بلانا شروع کیا ، لوگ آتے رہے اور کھا کر جاتے رہے یہاں تک کہ سب لوگ کھانے سے فارغ ہو گئے ۔ جب کھانے کے لئے کوئی نہیں بچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طشت اٹھانے کو فرمایا حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ میں فیصلہ نہیں کر سکتا کہ لوگوں کے کھانے سے پہلے طشت میں کھانا زیادہ تھا یا فارغ ہونے کے بعد (1) اسی ولیمہ کی موقع پر آیت حجاب ۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَن يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَىٰ طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَـٰكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانتَشِرُوا وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنكُمْ ۖ وَاللَّـهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ ۚ وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ ترجمہ : اے ایمان والوں ! نبی کے گھروں میں نہ داخل ہو مگر یہ کہ تم کو کسی کھانے پر آنے کی اجازت دی جائے ۔ نہ انتظار کرتے ہوئے کھانے کی تیاری کا ۔ ہاں جب تم کو بلایا جائے تو داخل ہو پھر جب کھا چکو تو منتشر ہو جاؤ اور باتوں میں لگے ہوئے بیٹھے نہ رہو ۔ یہ باتیں نبی کے لئے باعث اذیت تھیں لیکن وہ تمہارا لحاظ کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ حق کے اظہار میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا اور جب تم ازواج نبی سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو ۔ (2) اس آیت کے نزول کی کچھ تفصیل مسلم کی روایت کے مطابق یہ ہے کہ دعوت ولیمہ کے ختم ہو جانے کے بعد بھی بعض صحابہ کرامؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان میں جہاں حضرت زینبؓ بھی دیوار کی طرف منہ کئے بیٹھی تھیں اس طرح محو گفتگو تھے کہ ان کو اس کا خیال ہی نہیں رہا کہ اب ان کو یہاں سے اٹھ جانا چاہئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مروت اور حیاء کی وجہ سے کچھ کہہ تو نہ سکے لیکن ان کو اٹھانے کے لئے خود گھر سے باہر تشریف لے گئے تھوڑی دیر کے بعد جب واپس آئے تب بھی وہ لوگ بیٹھے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ تشریف لے گئے کچھ دیر کے بعد جب تشریف لائے تو ان صحابہ کرامؓ کو توجہ ہو گئی اور وہ اٹھ کر چلے گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ پر پردہ لٹکا دیا ۔ اس کے بعد ہی مذکورہ آیت حجاب نازل ہوئی ۔ اس آیت مین چند احکامات ہیں اول یہ کہ بلا بلائے آپ کے گھروں میں نہ آئیں ۔ دوم یہ کہ بلانے پر بھی قبل از وقت آ کر نہ بیٹھ جائیں اور نہ کھانے کے بعد بیٹھ کر گفتگو میں مشغول ہوں سوم یہ کہ ازواج مطہرات سے بھی کوئی چیز مانگنی ہو تو پردہ کے پیچھے سے ہی مانگیں ۔ اس آیت کے بعد کی آیتیں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ازواج مطہرات ہی سے متعلق احکامات کی ہیں ۔ فضائل ام المومنین حضرت زینبؓ کے بےشمار فضائل ہیں ۔ ان کا نکاح اللہ تعالیٰ نے خود کیا جس پر وہ دیگر ازواج مطہرات کے مقابلہ میں فخر و مباہات فرماتی تھیں ۔ وہ خاندانی رشتہ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر ازواج مطہرات کے مقابلہ میں قریب ترین تھیں ۔ سورہ احزاب کی متعدد آیتوں کے نزول کا تعلق ان کی ذات سے ہے ۔ بہت متقی پرہیز گار ااور اللہ سے ڈرنے والی اور اللہ کی راستہ میں مال خرچ کرنے والی تھیں ۔ ام المومنین حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ زینبؓ بہت صالحہ ، کثرت سے روزہ رکھنے والی اور شب بیداسر تھیں ۔ (1) ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بہت مداح ہیں صحیح مسلم کی ایک روایت میں ان کا بیان پڑھئے ۔ قَالَتْ عَائِشَةُ: وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْهُنَّ فِي الْمَنْزِلَةِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ أَرَ امْرَأَةً قَطُّ خَيْرًا فِي الدِّينِ مِنْ زَيْنَبَ. وَأَتْقَى لِلَّهِ وَأَصْدَقَ حَدِيثًا، وَأَوْصَلَ لِلرَّحِمِ، وَأَعْظَمَ صَدَقَةً، وَأَشَدَّ ابْتِذَالًا لِنَفْسِهَا فِي الْعَمَلِ الَّذِي تَصَدَّقُ بِهِ، وَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللهِ تَعَالَى، مَا عَدَا سَوْرَةً مِنْ حِدَّةٍ كَانَتْ فِيهَا، تُسْرِعُ مِنْهَا الْفَيْئَةَ. (2) ترجمہ : حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ تمام ازواج مطہرات میں صرف حضرت زینبؓ ہی بارگاہ نبوی میں میرے ہم پلہ تھیں اور میں نے زینب سے زیادہ دیندار ، متقی و پرہیزگار ، سچ بولنے والی صلہ رحمی کرنے والی ، صدقہ کرنے والی اور اپنی جان کو نیکی اور تقرب الی اللہ کے کاموں میں زیادہ کھپانے والی کوئی عورت نہیں دیکھی ۔ ہاں مزاج میں ذرا سی تیزی تھی جس پر وہ جلد ہی قابو پا لیتی تھیں ۔ حضرت عائشہؓ کے ان بلند کلمات کی وقعت اور عظمت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب یہ بھی معلوم ہو جائے کہ یہ کلمات ایک ایسی طویل حدیث میں ہیں جس مین حضرت عائشہؓ یہ ذکر کر رہی ہیں کہ حضرت زینبؓ ازواج مطہرات کی نمائندہ بن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری کچھ شکایات کرنے کے لئے آئی تھی ۔ انہیں حضرت عائشہؓ کا قول حافظ شمس الدین ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں نقل کیا ہے فرماتی ہیں ۔ يرحم الله زينب لقد نالت فى الدنيا الشرف الذى لا يبلغه الشرف. ان الله زوجها ونطق به القران وان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لنا اسرعكن لحوقا اطولكن باعا فبشرها بسرعة لحوقها به وهى زوجته فى الجنة. (3) ترجمہ : اللہ تعالیٰ زینب پر رحم فرمائے انہوں نے دنیا ہی مین وہ شرف و کمال حاصل کر لیا جس کا مقابلہ کوئی شرف و کمال نہیں کر سکتا اللہ تعالیٰ نے خود ان کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا اور قرآن مجید میں اس کا ذکر بھی فرمایا ۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں یہ خوشخبری دی کہ ازواج مطہرات میں میری وفات کے بعد سب سے پہلے میرے پاس آنے والی میری وہ بیوی ہوں گی جو سب سے زیادہ لمبے ہاتھوں والی (یعنی کار خیر میں بہت خرچ کرنے والی) ہوں گی اور وہ جنت میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں ۔ حضرت زینبؓ اگرچہ کوتاہ قامت تھیں اور اسی حساب سے ان کے ہاتھ بھی دیگر ازواج مطہرات کے مقابلہ میں چھوٹ ہی ہوں گے لیکن چونکہ بہت فیاض اور سخی تھیں اور عربی میں اطولكن يدًا یا اطولكن باعًا بطور مجاز سخی و فیاض کے معنی میں بولا جاتا ہے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے اطولكن باعًا یا اطولكن يدًا کے الفاظ استعمال فرمائے ۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہم ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ ناپا کرتی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان اطولكن باعًا کا ظاہری مطلب ہی لیتی تھیں لیکن جب آپ کی وفات کے بعد حضرت زینبؓ ہم سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملیں تو پتہ چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان اطولكن باعًا کا مطلب سب سے زیادہ سخی اور فیاض ہے ۔ اور واقعی زینبؓ ہم سب میں سب سے زیادہ سخی اور فیاض تھیں ۔ حضرت عائشہؓ یہ بھی فرماتی ہیں كانت زينب صناع اليدين فكانت تدبغ وتحرز وتتصدق به فى سبيل الله. (1) یعنی زینبؓ اپنے ہاتھ سے کمائی کرتی تھیں وہ چمڑے کی دباغت کرتی اور چمڑے کا سامان بناتی اور اس سے حاصل شدہ مال کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرتی تھیں ۔ ان کی شان استغناء کا ایک واقعہ ابن سعد نے طبقات میں ان الفاظ میں نقل کیا ہے ۔ عَنْ بَرْزَةَ بِنْتِ رَافِعٍ، قَالَتْ: أَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى زَيْنَبَ بِعَطَائِهَا فَقَالَتْ: غَفَرَ اللَّهُ لِعُمَرَ غَيْرِي كَانَ أَقْوَى عَلَى قَسْمِ هَذَا قَالُوا: هَذَا كُلُّهُ لَكِ، قَالَتْ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَاسْتَتَرَتْ مِنْهُ بِثَوْبٍ وَقَالَتْ: صُبُّوهُ وَاطْرَحُوا عَلَيْهِ ثَوْبها واخذت تفرقه فى رحمها وايتامها واعطتنى ما بقى فَوَجَدْنَا تَحْتَهُ خَمْسَةً وَثَمَانِينَ دِرْهَمًا، ثُمَّ رَفَعَتْ يَدَيْهَا فَقَالَتِ: اللَّهُمَّ لَا يُدْرِكُنِي عَطَاءٌ عُمَرَ بَعْدَ عَامِي هَذَا. (2) ترجمہ : حضرت زینبؓ کی خادمہ برزہ بنت رافع کہتی ہیں کہ حضرت عمرؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں حضرت زینبؓ کی خدمت میں ایک گرانقدر عطیہ بطور وظیفہ بھیجا ۔ حضرت زینبؓ نے اسے دیکھ کر کہا اللہ عمرؓ کی مغفرت فرمائے کہ اس مال کو تو میرے علاوہ کوئی اور شخص زیادہ اچھا تقسیم کرتا لانے والوں نے کہا کہ یہ برائے تقسیم نہیں بھیجا ہے یہ سب آپ کا ہے یہ سن کر حضرت زینبؓ نے سبحان اللہ کہا اور فرمایا اسے یہیں ڈال دو اور اس پر کپڑا ڈھک دو ۔ اس کے بعد آپ نے اسے اپنے عزیزوں اور یتیموں میں تقسیم کرنا شروع کر دیا ۔ تقسیم کے بعد جو بچ رہا وہ مجھے عنایت فرما دیا میں نے اسے گنا تو وہ پچاسی درہم تھے پھر حضرت زینبؓ نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا کی اے اللہ اس سال کے بعد میرے پاس عمرؓ کا عطیہ نہ آئے ۔ پھر ہوا بھی یہی حضرت زینبؓ آئندہ سال آنے سے پہلے ہی وفات پا گئیں ۔ حضرت عمرؓ کو جب معلوم ہوا کہ حضرت زینبؓ نے سب مال تقسیم کر دیا ہے تو خود ان کے گھر حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں مزید رقم بھیجوں گا اور ایک ہزار درہم پھر بھیجے ۔ حضرت زینبؓ نے وہ بھی تقسیم کر دئیے ۔ جیسا کہ ابھی گزرا کہ حضرت زینبؓ ازواج مطہرات کی نمائندہ بن کر حضرت عائشہؓ کے خلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے گئی تھیں اور صحیح مسلم کی اسی روایت میں یہ بھی ذخر ہے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت عائشہؓ کے خلاف خوب کھل کر بات کی تھی ۔ لیکن تقویٰ و راست گوئی کا یہ حال تھا کہ جب واقعہ افک کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینبؓ سے حضرت عائشہؓ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے صاف کہہ دیا والله ما علمت الا خيرا والله میں ان کے بارے میں صرف اچھی رائے ہی رکھتی ہوں ۔ حالانکہ فتنہ افک میں ان کی حقیقی بہن حضرت حمنہؓ مبتلا ہو گئی تھیں ۔ ان کی نیکی ، دینداری اور متقی و پرہیز گار ہونے کی شہادت تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک نے بھی دی تھی ۔ ام المومنین حضرت میمونہؓ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مال فئی کو صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت میں تقسیم فرما رہے تھے حضرت زینبؓ نے اس سلسلہ میں آپ کو کچھ مشورہ دے دیا جو حضرت عمرؓ کو ناگوار گزرا اور حضرت عمرؓ نے ان کے دخل دینے پر اپنی ناگواری کا اظہار بھی کرنا چاہا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کو خاموش کر دیا اور فرمایا زینب کو کچھ نہ کہو اس لئے کہ وہ اوٰھہ ہیں ۔ کسی صحابی نے اوٰھہ کا مطلب دریافت کیا تو فرمایا کہ اواھہ کے معنی ہیں خشوع و خضوع کرنے والی اور آپ نے آیت کریمہ ان ابراہیم لحلیم اواہ منیب بھی پڑھی جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حلیم (بردبار) اواہ (خشوع و خضوع کرنے والے) اور منیب (اللہ کی طرف توجہ کرنے والے) فرمایا ہے ۔ آپ اگرچہ کثیر الروایت نہیں ہیں پھر بھی آپ کی روایت کردہ احادیث صحاح ستہ وغیرہ حدیث کی مشہور کتابوں میں ہیں ۔ آپ سے روایت کرنے والوں میں آپ کے بھتیجے محمد بن عبداللہ بن جحش ۔ ام حبیبہ نبت ابی سفیان ، زینب بنت ابی سلمہ وغیرہ صحابہ و تابعین ہیں ۔ وفات ام المومنین حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی وفات ۲۰ یا ۲۱ ہجری میں ہوئی آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ازواج مطہرات میں سب سے پہلے وفات پانے والی زوجہ مطہرہ ہیں ۔ وفات سے پہلے اپنا کفن تیار کر کے رکھ لیا تھا اور یہ بھی فرمایا تھا کہ اگر حضرت عمر بھی کفن بھیجیں تو ایک کو تو استعمال کر لیا جائے اور دوسرے کو صدقہ کر دیا جائے چنانچہ ایسا ہی ہوا آپ کی بہن حضرت حمنہؓ بنت جحش نے حضرت عمرؓ کا کفن تو استعمال کرا دیا اور حضرت زینبؓ کا تیار کردہ کفن صدقہ کر دیا ۔ ان کی وفات پر حضرت عائشہؓ نے فرمایا ذھبت حمیدہ سعیدہ مفزع الیتامیٰ والارامل ۔ ایک ستودہ صفات ، نیک بخت اور یتیموں اور بیواؤں کی سہارا عورت دنیاسے رخصت ہو گئیں ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور محمد بن عبداللہ بن جحش ، حضرت عبداللہ بن ابی احمد بن جحش اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے قبر میں اتارا قبر مبارک جنت البقیع میں ہے ۔ رضی اللہ عنہا وارضاھا ۔ ام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہ الہلالیہ رضی اللہ عنہا ازواج مطہرات میں حضرت زینب بنت جحش کے علاوہ زینب نام کی آپ کی ایک اور زوجہ مطہرہ بھی تھیں ۔ ان کا پورا نام زینب بنت خزیمہ الہلالیہ ہے ۔ باپ کا نام خزیمہ ہے ان کے سلسلہ نسب میں ایک شخص ہلال نامی تھے جس کی وجہ سے ان کو زینب بنت خزیمہ الہلالیہ کہا جاتا ہے ۔ والدہ کا نام ہند بنت عوف یا خولہ بنت عوف ہے جن کا تعلق قبیلہ حمیر سے ہے ۔ ان ہی ہند کی بیٹی ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں ۔ حضرت زینب بنت خزیمہ کی وفات کے کئی سال بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہؓ سے نکاح فرمایا ان دونوں کی ماں ایک ہیں لیکن والد الگ الگ ہیں ۔ حضرت زینب بنت خزیمہ کا پہلا نکاح حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ سے ہوا تھا ۔ (1) حضرت عبداللہ بن جحش غزوہ احد شوال ۳ھ میں شہید ہو گئے تھے ان کی شہادت کے کچھ ہی دنوں کے بعد حضرت زینبؓ کے یہاں ناتمام بچہ پیدا ہوا جس سے ان کی عدت ختم ہو گئی اور ذی الحجہ ۳ ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت خزیمہؓ سے نکاح کر لیا ، ابھی نکاح کو صرف تین مہینے ہی گزرے تھے کہ ام المومنین حضر زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا ۔ انا لله وانا اليه راجعون ۔ ان کے نکاح اور وفات کے بارے میں ایک قول یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ نکاح تو رمضان ۳ھ میں ہوا اور وفات ربیع الاول ۴ھ یا ربیع الآخر ۴ھ میں نکاح سے ۷ یا ۸ مہینے کے بعد ہوئی لیکن اول قول راجح بتلایا جاتا ہے ۔ ازواج مطہرات میں صرف ام المومنین حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا اور ام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا ہی کی وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں ہوئی ہے دیگر تمام ازواج مطہرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی باحیات رہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی اور مدینہ طیبہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن فرمایا ۔ وفات کے وقت ان کی عمر صرف تیس سال تھی ۔ (2) فضائل ام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا بہت زیادہ سخی تھیں ۔ غریبوں کی غمخواری کرتیں اور مسکینوں کو کھانا کھلاتی تھیں ۔ اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آنے سے پہلے ہی ام المساکین کے لقب سے مشہور تھیں ۔ اپنی ذاتی خوبیوں کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہونے کا شرف ، پھر آپ ہی کے سامنےوفات پانا اور آپ کا خود نماز جنازہ پڑھانا اور اپنی نگرانی میں جنت البقیع میں دفن کرنا یہ بھی بڑی خوبی اور فضیلت کی بات ہے ۔ ام المومنین حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا ۵؁ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر ملی کی قبیلہ بنی مصطلق کا سردار حارث ابن ابی ضرار اہل مکہ کے اکسانے پر یا خود ہی مدینہ طیبہ پر حملہ کرنے اور العیاذ باللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کی تیاری کر رہا ہے اور اس مقصد کے لئے اس نے اپنے قرب و جوار کے دیگر مشرک قبائل کو بھی جمع کرنا شروع کر دیا ہے ۔ (1) یہ قبیلہ بنی مصطلق قبیلہ خزاعہ کی شاخ تھا اور مکہ معظمہ سے کچھ دور مریسیع (2) نام کے چشمہ یا تالاب کے کنارے آباد تھا ۔ قرب و جوار کے بہت سے قبائل اسلام دشمنی کی وجہ سے اس ارادہ میں اس قبیلہ کے لوگوں کے سامنے تھے اور ان لوگوں کو مشرکین مکہ کی حمایت بھی حاصل تھی ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان لوگوں کے اس ارادہ کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش قدمی کر کے خود بنی مصطلق پر حملہ کرنے کا ارادہ فرما ہی لیا اور شعبان ۵ ھ میں تقریبا ایک ہزار صحابہ کرامؓ کی جمیعت کو ساتھ لے کر اچانک قبیلہ بنی مصطلق پر حملہ کر دیا ان لوگوں کو ابھی تک اس کا علم نہ ہو سکا تھا اور وہ اپنے روزمرہ کے کاموں میں مشغول تھے کہ مسلمانوں کا یہ لشکر وہاں پہنچ گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروقؓ سے فرمایا کہ ان لوگوں سے کہو کہ لا الٰہ الا اللہ کے قائل ہو جائیں یعنی اسلام قبول کر لیں جس سے ان کی جان و مال سب محفوظ ہو جائے گا ۔ حضرت عمر فاروقؓ نے بآواز بلند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیا لیکن انہوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا اور مسلمانوں کے لشکر پر تیر اندازی شروع کر دی ۔ مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے یکبارگی حملہ کر دیا ۔ قبیلہ بنی مصطلق کے لوگ مقابلہ نہ کر سکے ، ان کے انصار و اعوان قبائل تو پہلے ہی راہ فرار اختیار کر گئے تھے ۔ بنی مصطلق نے بھی اب ہتھیار ڈال دئیے صحابہ کرامؓ نے پورے قبیلہ کے لوگوں کو قیدی بنا لیا جن کی تعداد تقریباً ۷۰۰ سو تھی اس جنگ میں بنی مصطلق کے دس ۱۰ مشرک مارے گئے تھے اور صرف ایک صحابیؓ شہید ہوئے تھے ۔ بنی مصطلق کے قیدیوں میں قبیلہ کے سردار ابن ابی ضرار کی بیٹی جویریہؓ بھی تھیں ۔ حارث خود تو کسی طرح بچ گئے تھے اور مسلمانوں کے ہاتھ نہیں آئے تھے لیکن جویریہؓ کا شوہر مسافع بن صفوان مارا گیا تھا ان قیدیوں کو دیگر مال غنیمت کے ساتھ صحابہ کرامؓ میں تقسیم کر دیا گیا ۔ حضرت جویریہؓ حضرت ثابت بن قیسؓ کے حصہ میں آئیں ۔ انہوں نے حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر آپ مجھے رقم لے کر آزاد کرنے پر تیار ہوں تو میں رقم کا انتظام کر لوں ۔حضرت ثابت نے اسے منظور کر لیا ۔ شرعی اصطلاح میں اس طرح کے معاملہ یا عقد کو کتابت کہتے ہیں اور جو رقم آزادی کے بدلہ میں دینا طے ہوتی ہے اسے بدل کتابت کہا جاتا ہے ۔ حضرت جویریہؓ اور حضرت ثابت بن قیسؓ کے درمیان بدل کتابت ۹ اوقیہ سونا طے پایا تھا ۔ ایک اوقیہ چالیس درہم کے برابر ہوتا ہے ایک درہم تین ماشہ سے کچھ زائد ہوتا ہے ۔ حضرت جویریہؓ خود باندی اور ان کے قبیلہ کے لوگ بھی سب غلام باندی ہی تھے ۔ بدل کتابت کا انتظام ان کے بس کی بات نہ تھی لیکن رئیس زادی تھیں ، ہمت اور عقل سے کام لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میں قبیلہ بنی مصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی جویریہ ہوں ، میں مسلمان ہو گئی ہوں اور گواہی دیتی ہوں کے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔ اور میں جس مصیبت میں گرفتار ہوں آپ سے مخفی نہیں ہے ۔ غلاموں اور باندیوں کی تقسیم میں ، میں ثابت بن قیسؓ کے حصہ میں آ گئی ہوں انہوں نے مجھ سے معاملہ کتابت کر لیا ہے لیکن بدل کتابت میرے پاس نہیں ہے ۔ آپ سے مدد کی طالب ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی درخواست سن کر فرمایا کہ کیا میں تم کو اس سے بہتر بات نہ بتلاؤں انہوں نے عرض کیا کہ ضرور ارشاد فرمائیں ۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم منظور کر لو تو میں تم کو ثابت بن قیسؓ سے خرید کر آزاد کر دوں اور پھر تم مجھ سے نکاح کر لو ۔ حضرت جویریہؓ نے اسے بخوشی منظور کر لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خرید کر آزاد فرما دیا اور ان سے نکاح فرما لیا اور چار ہزار درہم مہر مقرر فرمایا ۔ (1) اس غزوہ سے تین دن پہلے حضرت جویریہؓ نے اپنے گھر پر ہی خواب دیکھا تھا کہ مدینہ سے چاند چلا اور میری گود میں آ گیا ۔ میں نے اپنے گھر کے لوگوں سے اس کا تذکرہ مناسب نہ سمجھا لیکن جب یہ غزوہ ہوا اور میں قید کر کے مدینہ لائی گئی تو مجھے اپنے خواب کی تعبیر کی کچھ امید نظر آئی ۔ (2) جب صحابہ کرامؓ کے علم میں یہ بات آئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جویریہؓ سے نکاح کر لیا ہے اور اب ان کے یہ غلام اور باندی جن کا تعلق قبیلہ بنی مصطلق سے ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرالی رشتہ دار ہو گئے ہیں لہذا اب ان لوگوں کو غلام اور باندی بنائے رکھنا مناسب نہیں ہے تو صحابہ کرامؓ نے اپنے ان غلاموں اور باندیوں کو آزاد کر دیا ۔ (3) جن کی تعداد تقریباً سات سو تھی ، پھر بعد میں یہ سب لوگ مسلمان ہو گئے ۔ اسی موقع پر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا تھا ۔ ما اعلم امرۃً اعظم برکۃ منھا علی قومھا ۔ یعنی میرے علم میں کوئی عروت ایسی نہیں ہے جو جویریہؓ سے زیادہ اپنی قوم کے لئے باعث خیر و برکت ہو ۔ جب یہ سب کچھ ہو چکا تو حضرت جویریہؓ کے والد حارث بن ابی ضرار اپنی بیٹی کو چھڑانے کے لئے بہت سا مال و دولت بطور فدیہ لے کر آئے ان کے ساتھ ان کے دو بیٹے بھی تھے اس مال و دولت مین بڑی تعداد میں اونٹ بھی تھے ۔ اثنائے سفر میں حارث بن ابی ضرار کو دو اونٹ بہت اچھے محسوس ہوئے اور انہوں نے ان دونوں اونٹوں کو راستہ ہی میں کسی وادی میں چھپا دیا ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور اپنی آمد کا مقصد ذکر کیا تو آپ نے ان سے فرمایا کہ جویریہ موجود ہیں جانا چاہیں تو لے جاؤ ۔ باپ نے بیٹی سے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے تمہیں میرے ساتھ جانے کی اجازت دے دی ہے ۔ چلو گھر چلو ، حضرت جویریہؓ نے فرمایا اخترت اللہ ورسولہ میں نے تو اللہ اور اس کے رسول ہی کو اختیار کر لیا ہے باپ نے ہر چند سمجھایا اپنی عزت کا واسطہ بھی دیا لیکن حویریہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر جانے کے لئے تیار نہیں ہوئیں ۔ بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حارث بن ابی ضرار سے ان دو اونٹوں کا بھی ذخر فرمایا جو حارث بن ابی ضرار راستہ میں چھپا آئے تھے اور ان اونٹوں کا ذخر سن کر حارث بولے ان اونٹوں کی خبر تو میرے اور اللہ کے سوا کسی کو نہ تھی ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور کلمہ شہادت پڑھ کر مسلمان ہو گئے ۔ (1) ان کے ساتھ دو بیٹے بھی مسلمان ہو گئے ۔ اس طرح پورا قبیلہ بنی مصطلق اسلام لے آیا ۔ یہ سب حضرت جویریہؓ کے نکاح کی برکت ہے ۔ دینی نقطہ نظر کے علاوہ سیاسی اور دفاعی نقطہ نظر سے بھی قبیلہ بنی مصطلق کا ایمان لانا بڑا اہم واقعہ تھا اس لئے کہ یہ قبیلہ مدینہ طیبہ کے مقابلہ میں مکہ معظمہ کے زیادہ قریب تھا اور اہل مکہ ابھی اسلام نہیں لائے تھے ۔ فضائل ام المومنین حضرت جویریہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد روایات نقل کی ہین اور ان سے حضرت ابن عباسؓ ِ، حضرت جابرؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ صحابہ کرامؓ نے روایات لی ہیں ۔ ام المومنین حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا بڑی ذاکر و شاغل تھیں ۔ نما زکے بعد بعض اوقات گھنٹوں مصلے پر بیٹھ کر ذکر خداوندی میں مشغور رہتی تھیں ان کے اس طرح طویل ذکر الٰہی کا ایک واقعہ امام مسلمؒ اور امام ترمذیؒ نے حضرت جویریہؓ ہی کی روایت سے نقل کیا ہے ۔ صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں ۔ عَنْ جُوَيْرِيَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا بُكْرَةً حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ، وَهِيَ فِي مَسْجِدِهَا، ثُمَّ رَجَعَ بَعْدَ أَنْ أَضْحَى، وَهِيَ جَالِسَةٌ، فَقَالَ: «مَا زِلْتِ عَلَى الْحَالِ الَّتِي فَارَقْتُكِ عَلَيْهَا؟» قَالَتْ: نَعَمْ. (2) ترجمہ : ام المومنین حضرت جویریہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نماز فجر پڑھنے کے بعد ان کے پاس سے باہر نکلے وہ اپنی نماز پڑھنے کی جگہ پر بیٹھی کچھ پڑھ رہی تھیں پھر آپ کچھ دیر کے بعد جب چاشت کا وقت آ چکا تھا واپس تشریف لائے حضرت جویریہؓ اسی طرھ بیٹھی اپنے وظیفہ میں مشغول تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا میں جب سے تمہارے پاس سے گیا تھا کیا تم اس وقت سے برابر اسی حال میں اور اسی طرح پڑھ رہی ہو ؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں ۔ اس ھدیث میں ابھی اور بھی کچھ باقی ہے لیکن ہمیں صرف اتنا ہی ذکر کرنا جس سے حضرت جویریہؓ کے کثرت سے ذکر اور وظیفہ میں مشغولیت کا پتہ چلتا ہے ۔ الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ یہ روایت ترمذی میں بھی ہے ۔ ان کے نفلی روزے رکھنے کا ذکر بھی حدیث کی کتابوں میں ملتا ہے ۔ ایک دفعہ جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے معلوم ہوا کہ وہ نفلی روزہ رکھے ہوئے ہیں آپ نے دریافت کیا کہ کیا تم نے کل بھی روزہ رکھا تھا ، عرض کیا نہیں ، پھر دریافت کیا کہ کیا کل رکھو گی ؟ عرض کیا نہیں ۔ اس کے بعد آپ نے ان کو تنہا جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا تنہا جمعہ کے دن کا روزہ رکھنا مختلف فیہ ہے ۔ تفصیل حدیث و فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے ۔ ام المومنین حضرت جویریہؓ کے فضائل میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ان کی ذات ہی قبیلہ بنی مصطلق کے لوگوں کی آزادی کا اور ایمان لانے کا ذریعہ بنی ۔ وفات ام المومنین حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا نے ربیع الاول ۵۰ھ میں وفات پائی ۔ مروان بن الحکم نے جو مدینہ کے حاکم تھے اور تابعی ہیں نماز جنازہ پڑھائی ۔ اور مدینہ طیبہ کی قبرستان جنت البقیع میں دفن کیا گیا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا مشہور صحابی حضرت ابو سفیان بن حزب رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اور امیر المومنین حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی بہن ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نام رملہ تھا ۔ ان کی ایک بیٹی حبیبہ کی وجہ سے ان کی کنیت ام حبیبہ تھی ۔ ان کی والدہ صفیہ بنت ابو العاص حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی پھوپھی تھیں ۔ حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ اگرچہ بہت دیر سے ایمان لائے لیکن حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اور ان کے پہلے شوہر عبیداللہ بن جحش اسلام کے ابتدائی دور میں ہی اسلام لا چکے تھے اور اہل مکہ کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت کے ساتھ حبشہ ہجرت کر گئے تھے ۔ عبیداللہ بن جحش حبشہ جا کر نصرانی ہو گیا اور اس حالت ارتداد میں اسے موت آئی ۔ اس نے حضرت ام حبیبہؓ کو اسلام ترک کرنے اور نصرانیت کو اختیار کرنے کی ترغیب دی ۔ لیکن حضرت ام حبیبہؓ اس نازک وقت میں ثابت قدم رہیں اور ان کی خوش نصیبی کہ عبیدہ بن جحش کے انتقال اور ان کی عدت کے گذرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن امیہ کو اپنے نکاح کا پیغام دے کر حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے پاس ، جو خود مسلمان ہو چکے تھے بھیجا اور اپنے نکاح کا وکیل بھی نجاشی کو بنایا ۔ بادشاہ نجاشی نے اپنی ایک باندی کو حضرت ام حبیبہؓ کے پاس یہ پیغام لے کر بھیجا کہ بادشاہ یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گرامی نامہ ان کے نام آیا ہے جس میں یہ تحریر ہے کہ وہ ام حبیبہ کو ہمارے نکاح کا پیغام دین اور اگر وہ منظور کر لیں تو آپ ہی ہمارا نکاح کر دیں ۔ حضرت ام حبیبہؓ نے جب یہ خوشخبری سنی تو اس باندی کو جو یہ پیغام مسرت لے کر آئی تھی چاندی کے دو کنگن ، کئی انگوٹھیاں اور دو اور زیور انعام میں دئیے ۔ اور اپنے ایک قریبی عزیز خالد بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کو اپنے نکاح کا وکیل مقرر کر دیا ۔ (1) حضرت ام حبیبہ کی منظوری مل جانے پر دوسرے دن بادشاہ نجاشی نے حبشہ میں موجود صحابہ کرامؓ کو جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی تھے ، اپنے محل میں بلایا اور خود خطبہ نکاح پڑھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایجاب نکاح کیا ۔ حضرت خالد بن سعیدؓ نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے نکاح قبول کیا ۔ نجاشی نے ۴۰۰ دنار مہر مقرر کیا اور خود ہی مہر کی یہ رقم ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ کی خدمت میں بھیجی ۔ مہر کی رقم میں سے پچاس دینار ام المومنین نے اس باندی کو جو نکاح کا پیغام لے کر آئی تھی دئیے ، اس باندی نے وہ واپس کر دئیے اور وہ زیورات بھی واپس کر دئیے جو کل ام المومنین نے دئیے تھے اور کہا ، بادشاہ سلامت کا یہی حکم ہے ۔ نکاح کے بعد بادشاہ نے ام المومنین کی خدمت میں بہت سے ہدایا اور خوشبوئیں بھیجیں ۔ مجلس نکاح کے اختتام پر جب صحابہ کرامؓ اٹھنے لگے تو نجاشی نے کہا کہ بیٹھ جائیے سب لوگ کھانا کھا کر جائیں گے اور یہ بھی کہا کہ نکاح کے موقع پر کھانا کھلانا انبیاء علیہم السلام کی سنت رہی ہے ۔ (2) مشہور قول کے مطابق یہ نکاح ۶؁ھ میں ہوا ہے ۔ جب حضرت ابو سفیان کو جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اس نکاح کی اطلاع مکہ میں ملی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا اعتراف کیا اور آپ کی شان میں بہت بلند کلمات کہے ۔ (3) ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ کے نکاح کے سلسلے میں صحیح مسلم کی ایک طویل روایت میں یہ ہے کہ حضرت ابو سفیانؓ نے ایمان لانے کے بعد مدینہ طیبہ میں آپ سے یہ درخواست کی کہ آپ میری بیٹی ام حبیبہؓ سے شادی کر لیں اورآپ نے ان کی یہ درخواست قبول بھی فرما لی ۔ (4) محدثین نے روایت کے اس حصہ کی مختلف توجیہات کی ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ روایت کا یہ حصہ جس میں حضرت ام حبیبہؓ کا نکاح حضرت ابو سفیانؓ کے اسلام لانے اور مدینہ طیبہ ہجرت کرنے کے بعد ہونا معلوم ہوتا ہے صحیح نہیں ہے ۔ بہرحال یہ نکاح حبشہ ہی میں ہوا ہے اور حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے مشرف باسلام ہونے سے پہلے ہی ہو چکا ہے ۔ اس کی تائید اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے ۔کہ صلح حدیبیہ کے بعد ابو سفیان اہل مکہ کے نمائندہ بن کر صلح ہی سے متعلق بعض معاملات کے بارے میں گفتگو کرنے کے لئے مدینہ طیبہ حاضر ہوئے اور اپنی بیٹی ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ کے گھر ان سے ملنے کے لئے گئے وہ جب اند گھر میں پہنچے تو ام المومنین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر جو بچھا ہوا تھا لپیٹ دیا ۔ حضرت ابو سفیانؓ نے کہا کہ یہ تم نے کیا کیا ، آیا یہ بستر میرے لائق نہیں ہے یا میں بستر کے قابل نہیں ہوں ۔ ام المومنین نے کہا ، ابا جان آپ مشرک ہیں اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر ہے ، اس لئے آپ اس بستر پر بیٹھنے کے لائق نہیں ہیں ۔ (1) فضائل ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو اللہ تعالیٰ نے ظاہری حسن و جمال کے ساتھ باطنی کمالات سے بھی نوازا تھا ۔ وہ اولین ایمان لانے والوں میں ہیں ۔ حالانکہ ان کے والد ابو سفیان رضی اللہ عنہ جو سرداران قریش میں سے تھے بہت دیر میں فتح مکہ کے قریب ایمان لائے تھے گھر کے دوسرے افراد بھی دیر ہی سے مسلمان ہوئے ، ایسے حالات میں ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ کا اسلام کے ابتدائی عہد ہی میں مشرف اسلام ہو جانا اور اپنے گھر کے لوگوں کی مخالفت کی پرواہ نہ کرنا اور اسلام کی خاطر مکہ معظمہ سے حبشہ کو ہجرت کر جانا ، پھر جب ان کا پہلا شوہر حبشہ میں مرتد ہو گیا اور ان کو بھی اسلام کو ترک کرنے اور نصرانیت کو اختیار کرنے کی ترغیب دی تو ان کا اپنے ایمان کو بچائے رکھنا اور دین اسلام پر ثابت قدم رہنا بڑی ہمت اور اولو العزمی کی بات تھی ، جب کہ پردیس میں صرف وہی شوہر ظاہری سہارا تھا ۔اسی طرح حضرت ابو سفیانؓ کے آنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر کو لپیٹ دینا اور ان کے سوال کرنے پر یہ کہنا کہ ابا جان یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر ہے اور آپ مشرک ہیں آپ اس بستر پر بیٹھنے کے لائق نہیں ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی غیر معمولی محبت و عقیدت اور ان کے دل میں آپ کی بےپناہ عظمت و شوکت اور خود ان کی اعلیٰ درجہ کی قوت ایمانی کا پتہ دیتا ہے ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر عمل کرنے کا بڑا اہتمام کرتی تھیں ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ : دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، فَدَعَتْ بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةٌ خَلُوقٌ، أَوْ غَيْرُهُ، فَدَهَنَتْ بِهِ جَارِيَةً، ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ، غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ، إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا. (2) روایت کا حاصل یہ ہے کہ حضرت زینب بن ابی سلمہ ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ کے والد حضرت ابو سفیانؓ کی وفات پر ان کی خدمت میں حاضر ہوئیں (اور بظاہر ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی وفات کو تین دن گذر چکے تھے) حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ایک خوشبو جو زعفران وغیرہ سے بنائی جاتی ہے اور جس میں سرخ اور پیلا رنگ ہوتا ہے منگائی اور ایک بچی کے لگائی اور پھر اپنے رخساروں پر بھی لگا لی اور فرمایا مجھے خوشبو استعمال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی صاحب ایمان عورت کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی بھی میت کا تین دن سے زیادہ سوگ منائے ۔ البتہ شوہر پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر عمل کرنے کے لئے اپنے رخساروں پر یہ خوشبو لگا لی ہے ۔ (تا کہ یہ اظہار ہو جائے کہ میں اپنے والد حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کا تین دن سے زیادہ سوگ نہیں منا رہی ہوں ۔) انہی کی روایت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد حدیث کی متعدد کتابوں میں نقل کیا ہے ۔ کہ مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الجَنَّةِ: أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ العِشَاءِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلاَةِ الْفَجْرِ صَلاَةِ الْغَدَاةِ. (1) حدیث کا ترجمہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص دن رات میں یہ بارہ رکعتیں پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک محل تیار کر دے گا ۔ چار رکعتیں ظہر سے پہلے ، دو رکعتیں ظہر کے بعد دو رکعتیں مغرب کے بعد دو رکعتیں عشاء کے بعد اور دو رکعتیں فجر سے پہلے ۔ مسند احمد میں اسی روایت کے بعد یہ بھی اضافہ ہے فما برحت اصليهن بعد یعنی جب سے میں نے آپ کا یہ ارشاد سنا ہے کبھی ان رکعتوں کا ناغہ نہیں کیا ہمیشہ یہ رکعتیں پابندی سے پڑھتی ہوں ۔ حدیث کی کتابوں میں ان کے متعلق اتباع سنت کے اہتمام کے اور بھی واقعات مذکور ہیں ۔ آخرت کے حساب و کتاب سے بہت ڈرتیں اور صفائی معاملات کا بہت خیال کرتی تھیَں ۔ ابن سعد نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول نقل کیا ہے قالت دعتنى ام حبيبه عند موتها فقالت قد كان يكون بينا ما يكون بين الضرائر فحللينى من ذالك فحللتها واستغفرت لى استغفرت لها فقالت لى سررتنى سرك الله وارسلت الى ام سلمه مثلا ذالك (2) روایت کا حاصل یہ ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے اپنی وفات کے وقت مجھے بلایا اور فرمایا ہم لوگوں میں کبھی کبھی بعض ایسے واقعات پیش آئے ہوں گے جو سوتنوں مین پیش آ جاتے ہیں ، میں تم سے ان کی معافی مانگتی ہوں ۔ مین نے معاف کر دیا ۔ تو انہوں نے میرے واسطے دعائے مغفرت کی اور میں نے ان کے لئے دعائے مغفرت کی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اسی طرح انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی اپنی کوتاہیوں کی معافی تلافی کی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست اور بالواسطہ متعدد روایات نقل کی ہیں جو حدیث کی مشہور کتابوں صحاح ستہ وغیرہ میں موجود ہیں ، ان سے روایات نقل کرنے والوں میں ان کے بھائی معاویہؓ بیٹی حبیبہؓ اور بعض دیگر صحابہ و تابعینؒ ہیں ۔ وفات امیر المومنین حضرت معاویہؓ کے زمانہ خلافت میں آپ کی وفات ہوئی ۔ سن وفات کے بارے میں کئی قول ہیں ۔ لیک راجح قول ۴۲ھ ہے ۔ اور مدینہ طیبہ میں دفن کی گئیں ۔ رضی اللہ عنہا وارضاھا ۔ ام المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا ام المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا باپ حیی ابن اخطب قبیلہ بنی نضیر کا سردار تھا اس کا سلسلہ نسب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام تک پہنچتا ہے ۔ ماں کا نام ضرہ ہے یہ قبیلہ بنی قریظہ کے سردار کی بیٹی تھیں ۔ (1) بنو نضیر اور بنو قریظہ مدینہ کے ممتاز یہودی قبیلے گے ، ان قبیلوں کے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری کے بعدآپ سے یہ عہد کیا تھا کہ ہم آپ سے جنگ کریں گے اور نہ آپ کے دشمنوں کی مدد کریں گے ۔ (2)لیکن دونوں قبیلون کے لوگوں نے عہد شکنی کی ۔ قبیلہ بنی نضیر نے مشرکین مکہ کے کہنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کی سازش کی لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطلاع دے دی ۔ (3) اور آپ نے ان کی بدعہدی کی وجہ سے غزوہ بدر کے چھ مہینے کے بعد ان کے قلعہ کا محاصرہ فرمایا ۔ (4) ان لوگوں نے مجبور ہو کر صلح کی درخواست کی آپ نے ان کی درخواست منظور فرما لی اور یہ طے پایا کہ وہ اپنے اونٹوں پر جتنا سامان لاد کر لے جا سکتے ہوں لے جائیں ۔ البتہ اسلحہ لے جانے کی اجازت نہیں ہے ۔ (5) ان لوگوں نے ایسا ہی کیا اور خیبر میں جا کر بس گئے جہاں یہود کی بڑی بڑی بستیاں تھیں ۔ حضرت صفیہ کے والدین بھی اپنے قبیلہ والوں کے ساتھ خبیر چلے گئے تھے اس وقت حضرت صفیہؓ بہت کم دمر تھیں وہاں خیبر میں ان کی پہلی شادی سلام بن مشکم سے ہوئی تھی اس نے طلاق دے دی تھی پھر کنانہ بن ابی حقیق سے نکاح ہوا وہ غزوہ خیبر میں مارا گیا اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا ۷ھ میں خیبر کے قیدیوں کے ساتھ قید ہو کر مسلمانوں کے قبضہ میں آئیں ۔ مشہور صحابی حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیبر کے قیدیوں میں سے ایک باندی مانگی آپ نے فرمایا انتخاب کر کے لے لو ، انہوں نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا انتخاب کر لیا ۔ ایک صحابی نے آ کر عرض کیا ، اے اللہ کے رسول ! (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ نے حضرت دحیہ کو بنو نضیر اور بنو قریظہ کی رئیس زادی دے دی ہے ۔ وہ تو صرف آپ ہی کے لئے مناسب ہے ، آپ نے حضرت دحیہ کو دوسری باندی دی اور حضرت صفیہؓ کو آزاد کر کے ان سے نکاح فرما لیا ۔ (6) آزاد کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ کو یہ اختیار دے دیا تھا کہ وہ اپنے وطن چلی جائیں یا مسلمان ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کر لیں ۔ حضرت صفیہؓ نے عرض کیا اختار الله ورسوله لقد كنت اتمنى ذالك فى الشرك یعنی میں تو اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں ۔ اب تو الحمدللہ ، اللہ نے ایمان کی دولت سے نواز دیا میری تو اسلام سے پہلے بھی یہی خواہش تھی ۔ (1) نکاح کے بعد انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ایک خواب کا واقعہ بھی سنایا ۔ انہوں نے بتلایا کہ یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جب آپ اور صحابہ کرامؓ کا محاصرہ کئے ہوئے تھے اسی زمانہ میں ایک رات میں نے خواب دیکھا کہ چاند میری گود میں آ کر گرا ہے ۔ میں نے اپنے شوہر کو یہ خواب سنایا تو اس نے میرے چہرے پر اتنی زور سے طمانچہ مارا کہ چہرہ پر اس کا نشان پڑ گیا اور کہا کہ تو بادشاہ عرب کو اپنا شوہر بنانے کی خواہش کرتی ہے ۔ (2) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر سے واپسی پر راستے میں مقام سد الصہباء پر آپ سے نکاح کیا تھا اور دوسرے دن وہیں ولیمہ فرمایا ۔ ولیمہ میں آپ کے فرمانے پر صحابہ کرامؓ اپنے اپنے سامان میں سے کھجور ، پنیر ، گھی وغیرہ لے آئے ، ایک دسترخوان پر رکھ کر کھا لیا گیا یہی ولیمہ ہو گیا ۔ (3) راستہ میں ام المومنین حضرت صفیہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آپ کے اونٹ پر ہی سوار رہیں ، مدینہ منورہ تک اسی طرح سفر ہوا ۔ فضائل ام المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بہت زیادہ عقل مند اور سمجھ دار تھیں ۔ جیسا کہ ابھی گزرا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار دینے کے باوجود اپنے گھر جانا پسند نہیں کیا بلکہ اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کر لیا ۔ وہ بہت زیادہ حلیم اور بردبار تھیں ، ایک دفعہ ان کی ایک باندی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے جا کر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی شکایت کی کہ وہ یہود کی طرح اب تک یوم السبت یعنی ہفتہ کے دن کی تعظیم کرتی ہیں اور یہودیوں کے ساتھ صلہ رحمی کرتی ہیں ۔ حضرت عمرؓ نے حقیقت معلوم کرنے کے لئے کسی کو بھیجا تو ام المومنین حضرت صفیہؓ نے فرمایا کہ جب سے اللہ نے مجھے یوم السبت سے بہتر یوم الجمعہ عطا فرما دیا ہے میں یوم السبت کی تعظیم نہیں کرتی ۔ رہی یہودیوں کے ساتھ صلہ رحمی کی بات تو ان سے میری قرابت داری ہے اس لئے میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کرتی ہوں (اور ظاہر ہے کہ اسلام اس سے منع نہیں کرتا) پھر انہوں نے اپنی باندی سے پوچھا کہ تم نے یہ شکایت کیوں کی ، باندی نے کہا کہ مجھے شیطان نے بہکا دیا تھا ۔ ام المومنین حضرت صفیہؓ نے یہی نہیں کہ اس کو کچھ سزا نہیں دی بلکہ فرمایا اچھا جاؤ تم آزاد ہو ۔ (4) ان کے سلسلہ نسب کے سلسلہ میں پہلے ہی گزر چھا ہے کہ وہ حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا خاص خیال رہتا تھا اور آپ ان کی بہت دلداری فرماتے تھے ۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے دیکھا کہ حضرت صفیہؓ رو رہی ہیں وجہ دریافت فرمائی تو انہوں نے عرض کیا کہ حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج تو ہیں ہی آپ کے خاندانی ہونے کا بھی شرف رکھتی ہیں اور تم تو یہودی خاندان سے تعلق رکھتی ہو لہذا ہم تم سے بہتر ہیں ۔ آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) نے ان کو تسلی دی اور فرمایا تم نے یہ کیوں نہیں کہا کہ تم لوگ مجھ سے افضل کیسے ہو سکتی ہو ، میں اللہ کے نبی حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں ہوں ۔ میرے چچا حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی نبی ہیں اور میرے شوہر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی نبی ہیں ۔ (1) ایک دفعہ حضرت عائشہؓ نے ان کے بارے میں کوئی نامناسب کلمہ کہہ دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ناگواری کا اظہار کیا ۔ (2) اسی طرھ ایک بار حضرت زینب بنت جحشؓ نے انہیں یہودیہ کہہ دیا تھا تو آپ نے فرمایا کہ انها اسلمت وحسن اسلامها یعنی وہ پکی مومنہ ہیں اور آپ کئی ہفتہ حضرت زینبؓ کے یہاں تشریف نہیں لے گئے تھے ۔ (3) انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت غیر معمولی محبت اور تعلق تھا ۔ آپ کے مرض وفات مین جب مرض کی تکلیف بہت زیادہ ہوئی تو ام المومنین حضرت صفیہؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! واللہ میرا دل چاہتا ہے کہ یہ تکلیف بجائے آپ کے مجھے ہو جاتی بعض ازواج مطہرات کو ان کے اس کلام کی صداقت میں کچھ شبہ ہوا جس کا اظہار ان کے چہروں سے بھی ہو گیا ۔ آپ نے اس کو محسوس کر کے فرمایا واللہ یہ اپنی بات میں سچی ہیں ۔ (4) آپ بہت سخی تھیں ۔ جب پہلی بار مدینہ طیبہ آئی ہیں تو حضرت فاطمہؓ اور بعض ازواج مطہرات کو اپنے زیور عنایت فرمائے ۔ (5) جس وقت باغیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مکان کا محاصرہ کیا تھا اور حضرت عثمان کے مکان میں کھانا پانی تک جانے کی اجازت نہ دیتے تھے ایسے وقت میں حضرت صفیہؓ ان کی مدد کرنے کے ارادہ سے ان کے گھر تشریف لے جانے کے لیے نکلیں لیکن جب گھر کے قریب پہنچیں تو باغیوں نے آگے نہ جانے دیا واپس تشریف لے آئیں اور پھر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ذریعہ ان کے گھر کھانے پینے کا سامان بھیجنے کا انتظام کیا ۔ (6) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد روایات ان کے واسطے سے محدثین نے نقل کی ہیں ، ان کے تلامذہ میں حضرت زین العابدین ، حضرت اسحٰق بن عبداللہ ، حضرت مسلم بن صفوان ، حضرت کنانہ اور حضرت یزید بن معتب وغیرہم تابعین کے نام ذکر کئے جاتے ہیں ۔ وفات ام المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی وفات رمضان ۵۰؁ھ میں ہوئی اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں ۔ بعض حضرات نے سنہ وفات ۵۲؁ھ ذکر کی ہے مشہور قول ۵۰ھ ہی کا ہے ۔ ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے والد حارث بن حزن کا تعلق قبیلہ قریش سے تھا اور ان کی والدہ ہند بنت عوف یا خولہ بنت عوف قبیلہ حمیر سے تعلق رکھتی ہیں ۔ (1) یہی ام المومنین حضرت زینبؓ بنت خزیمہ کی بھی والدہ ہیں ۔ حضرت زینبؓ کے تذکرہ میں گزر چکا ہے کہ ام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہؓ اور ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث دونوں کی والدہ ایک ہیں اور والد الگ الگ ۔ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا ، حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت خالد بن الولید رضی اللہ عنہما اور مشہور تابعی حضرت یزید ابن الاصم کی خالہ ہیں ۔ ان کی بہن حضرت ام الفضل حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں ۔ ایک دوسری بہن حضرت اسماء رضی اللہ عنہا حضرت جعفر بن ابی طالب کی اہلیہ تھیں ان کی شہادت کے بعد حضرت ابو بکرؓ کے نکاح میں رہیں اور ان کی وفات کے بعد حضرت علیؓ کے نکاح میں آئیں ۔ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آنے سے پہلے ابو رہم بن عبدالعزیٰ کے نکاح میں تھیں ، ان کے انتقال کے بعد حضرت میمونہ کے بہنوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی بیوی کا تذکرہ کیا اور یہ چاہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے نکاح فرما لیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مشورہ قبول فرما لیا اور حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو حضرت میمونہؓ کے پاس اپنے نکاح کا پیغام لے کر بھیجا ۔ حضرت میمونہؓ نے رشتہ منظور کر لیا اور اپنے بہنوئی حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو اپنے نکاح کا وکیل بنا دیا ۔ یہ واقعہ صلح حدیبیہ کے ایک سال بعد کا ہے ، ابھی نکاح نہیں ہو سکا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرۃ القضاء ، (۷ھ) کی نیت سے مکہ کے لئے تشریف لے گئے اس سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی ازواج مطہرات اور حضرت میمونہؓ بھی تھیں ۔ اثنائے سفر ہی میں آپ کا نکاح حضرت میمونہؓ سے ہوا ہے ۔ اس نکاح کے بارے میں روایات مختلف ہیں کہ آیا یہ نکاح احرام باندھنے سے پہلے ہوا ہے یا احرام باندھنے کے بعد ہوا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آنے والی یہ سب سے آخری زوجہ مطہرہ ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معمونہؓ کا مہر چار سو ۴۰۰ درہم مقرر فرمایا تھا ۔ عمرہ سے فارغ ہو کر مکہ ہی میں ولیمہ کرنے کا رادہ تھا لیکن اہل مکہ نمے تین دن سے زیادہ قیام کی اجازت نہ دی اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے واپسی میں مقام سرف میں ولیمہ فرمایا ۔ یہ مقام مکہ سے دس میل دور بجانب مدینہ ہے ۔ فضائل ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا تین سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہی ہیں ۔ ذیقعدہ ۷ھ میں ان کا نکاح ہوا ہے اور ربیع الاول ۱۰؁ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی ، تین سال کی قلیل مدت میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے بہت علم و فضل حاصل کیا ۔ بہت سی ایسے مسائل اور دینی معلومات جو اکابر صحابہ کرامؓ کو بھی معلوم نہ ہوتے تھے ان کے علم میں ہوتے تھے ۔ خصوصاً عورتوں سے متعلق مسائل اور غسل وغیرہ کے بعض مسائل کی احادیث ، حدیث کی کتابوں میں ان کے واسطے سے روایات کی گئی ہیں ۔ کل ان سے چھیالیس (۴۶) حدیثیں مروی ہیں ۔ جن میں سات متفق علیہ ہیں ۔ یعنی صحیح بخاری و صحیح مسلم میں مذکور ہیں ۔ اور پاند صرف صحیح مسلم میں ہیں ۔ باتی حدیث کی دوسری کتابوں میں ہیں ۔ ان کے شاگردوں میں ان کے بھانجے عبداللہ بن عباسؓ ، عبداللہ بن شدادؓ ، عبدالرحمٰن بن سائبؓ ، یزید ابن الاصم اور ان کے آزاد کردہ غلام سلیمان بن یسار اور سلیمان کے بھائی عطار بن یسار وغیرہم ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کمال ایمان کی شہادت دی ہے ۔ ابن سعد نے سند صحیح کی ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے الاخوات مومنات ميمونه وام الفضل واسماء (1) یعنی میمونہ ، ان کی بہن ام الفضل اور اسماء تینوں بڑے درجے کی صاحب ایمان بہنیں ہیں ۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بھی ان کی دینداری اور صلہ رحمی کی بہت تعریف کی ہے ، فرماتی ہیں انها كانت من اتقانا الله واصلنا للرحم (2) جس کا مطلب یہ ہے کہ میمونہ ہم لوگوں میں خوف خدا اور صلہ رحمی میں ممتاز مقام رکھتی تھیں ۔ ان کے بھانجے یزید بن الاصم ذکر کرتے ہیں کہ ہماری خالہ بہت کثرت سے نماز پڑھتی تھیں ، گھر کے کام بھی خود کرتی تھیں اور مسواک کرنے کا خاص اہتما فرماتی تھیں ۔ غلام آزاد کرنے کا بہت شوق تھا ۔ ایک دفعہ باندی آزاد کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیا دی ۔ “اللہ تم کو اس کا اجر عطا فرمائے ۔” وفات ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی وفات ۵۱ھ میں مقام سرف میں ہوئی ۔ آپ حج یا عمرہ کے سلسلہ میں مکہ معظمہ آئی ہوئی تھیں ۔ وہیں طبیعت خراب ہوئی اپنے بھانجے حضرت یزید بن الاصم سے کہا کہ مجھے مکہ سے لے چلو اس لئے کہ مکہ میں میرا انتقال نہیں ہو گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پہلے ہی اطلاع دے دی ہے کہ تم کو مکہ میں موت نہیں آئے گی ۔ یزید بن الاصم کہتے ہیں کہ ہم لوگ آپ کو بحالت مرض ہی مکہ سے لے کر چلے ابھی مقام سرف ہی میں پہنچے تھے کہ آپ کا انتقال ہو گیا ۔ (3) سرف مکہ سے ۹ یا ۱۰ میل دور بجانب مدینہ ایک جگہ ہے ۔ بعض اصحاب سیر نے لکھا ہے کہ آپ کا نکاح پھر ولیمہ بھی ۷ ھ میں مقام سرف مین ہوا ہے ۔ اور ۵۱ھ میں انتقال بھی مقام سرف میں ہی ہوا ہے ۔ (1) نماز جنازہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے پڑھائی ۔ جنازہ کو اٹھاتے وقت عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا ، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ کا جنازہ ہے لہذا جنازہ کو ادب و احترام کے ساتھ اٹھاؤ اور آہستہ آہستہ لے کر چلو ۔ قبر میں عبداللہ بن عباسؓ ، یزدی ابن الاصم اور عبیداللہ بن شداد نے اتارا ۔ یہ تینوں ہی ام المومنین حضرت میمونہؓ کے بھانجے ہیں ۔ عمرۃ القضاء سے واپسی میں مقام سرف میں جس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے لئے خیمہ لگوایا تھا قبر مبارک بالکل اسی جگہ بنی ۔ امہات المومنین میں سب سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں اور سب سے آخر میں ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ہوا ۔ حدیث و سیرت کی مستند کتابوں میں جن گیارہ امہات المومنین کا تذکرہ ہے الحمدللہ ان کی کسی قدر سوانح اور فضائل کا بیان ام المومنین حضرت میمونہؓ کے فضائل کے ذکر پر مکمل ہو گیا ہے ۔ رضی اللہ عنھن وارضاھن ۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت طیبہ کا ذکر اور ان کے فضائل کا بیان شروع ہو گا ۔ ذریت طیبہ ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے تذکرہ پر ازواج مطہرات رضوان اللہ تعالیٰ وعلیہن کے فضائل کا بیان اختتام کو پہنچا ۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت طیبہ کا تذکرہ اور ان کے فضائل کا بیان شروع ہوتا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کی تعداد کے بارے میں سخت اختلاف ہے ۔ (1) بظاہر راجح قول یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کی تعداد سات (۷) ہے ۔ جن میں صرف ابراہیم نام کے ایک صاحبزادہ تو آپ کی باندی حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہوئے ، باقی سب ام المومنین حضرت خدیجہؓ کی اولاد ہیں ۔ ام المومنین حضرت خدیجہؓ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے فضائل کے بیان میں عم محترم حضرت مولانا نعمانی صاحب دامت برکاتہم نے تحریر فرمایا تھا اس رشتہ ازدواج کے کچھ مدت کے بعد (ایک مشہور تاریخی روایت کے مطابق پانچ سال بعد) آپ کے پہلے صاحبزادے پیدا ہوئے جن کا نام “قاسم” رکھا گیا ۔ انہیں کے نام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کنیت “ابو القاسم” رکھی ، ان کا صغر سنی ہی میں انتقال ہو گیا ، ان کے بعد آپ کی سب سے بڑی صاحبزادی “زینب” پیدا ہوئیں ۔ ان دونوں کی پیدائش آغاز نبوت میں ہوئی اسی لئے ان کو طیب اور طاہر کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے ۔ ان کا انتقال بھی صغر سنی ہی میں ہو گیا ۔ پھر ان کے بعد مسلسل تین صاحبزادیاں پیدا ہوئیں ۔ جن کے نام رقیہ ، ام کلثوم اور فاطمہؓ رکھے گئے ۔ صاحبزادگان جتنے بھی رہے ہوں سب ہی صغر سنی میں وفات پا گئے تھے البتہ بنات طہرات یعنی صاحبزادیاں سب ہی سن رشد کو پہنچیں ، سب نے زمانہ اسلام پایا ، مشرف باسلام ہوئیں ، مکہ سے مدینہ کو ہجرت بھی کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے ان سب کی شادیاں بھی کیں ۔ اس لئے تذکرے صرف بنات طاہرات ہی کے کریں گے بنات طاہرات میں سب سے بڑی حضرت زینبؓ ہیں ، لہذا سب سے پہلے انہیں کا تذکرہ اور ان کے فضائل کا ذکر کرتے ہیں ۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا حضرت زینب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی صاحبزادی ہیں آپ کی ولادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے دس سال پہلے ہوئی ۔ بعض سیرت نگاروں کے نزدیک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت طیبہ میں سب سے بڑی ہیں ۔ بعض کہتے ہیں کہ آپ سے پہلے آپ کے ایک بھائی قاسم نام کے پیدا ہوئے تھے جیسا کہ ابھی گذر چکا ہے ۔ بہرحال صاحبزادیوں میں آپ سب سے بڑی تھیں ۔ نکاح آپ کا نکاح ابو العاص بن ربیع جو آپ کی خالہ ہالہ بنت خویلد کے صاحبزادے تھے ، سے ہوا تھا ۔ ابو العاص بہت ہی شریف اور سلیم الطبع شخص تھے ۔ حضرت زینب اور ابو العاص دونوں کو ایک دوسرے سے غیر معمولی محبت اور تعلق تھا ۔ اور زندگی بھر یہ تعلق برقرار رہا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی تھی تو اپنے اہل خانہ کو اپنے ساتھ لا سکے تھے ۔ حضرت زینبؓ اپنی سسرال یعنی ابو العاصؓ کے گھر پر ہی تھیں ابو العاصؓ اس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے ۔ یہاں تک کہ ۲ھ میں غزوہ بدر میں مشرکین مکہ کے ساتھ ابو العاصؓ بھی جنگ کرنے کے لئے بدر پہنچے تھے اور پھر بدر کے قیدیوں کے ساتھ قید کر کے مدینہ لائے گئے تھے ۔ جس طرح اور قیدیوں کے رشتہ داروں نے اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے لئے بطور فدیہ مال بھیجا تھا ۔ حضرت زینب نے بھی ابو العاصؓ کی رہائی کے لئے مال بھیجا تھا ۔ (1) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس شرط پر رہا کر دیا تھا کہ وہ مکہ پہنچ کر حضرت زینبؓ کو مدینہ بھیج دیں گے ۔ ابو العاص نےمکہ پہنچ کر اپنے بھائی کنانہ کے ساتھ حضرت زینبؓ کو اونٹ پر بٹھا کر مدینہ کے لئے روانہ کر دیا ۔ ابھی مکہ سے نکل کر مقام ذی طویٰ ہی تک پہنچے تھے کہ بعض مشرکین مکہ نے آ گھیرا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹی کو ہم مدینہ نہیں جانے دیں گے انہیں میں سے ایک شخص نے حضرت زینبؓ کے نیزہ مارا جس کی وجہ سے وہ اونٹ سے گر گئیں اور بہت زخمی ہو گئیں ابو العاصؓ کے بھائی کنانہ نے اپنا تیر کمان سنبھالا اور کہا کہ اب اگر کوئی قریب آیا تو اس کی خیر نہیں ہے ۔ سب لوگ اپنی جگہ پر ٹھہر گئے لیکن اس پورے واقعے کی خبر مکہ والوں کو پہنچ گئی ابو سفیانؓ جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اور اہل مکہ کے سرداروں میں شمار ہوتے تھے چند سربرآوردہ لوگوں کو لے کر کنانہ سے گفتگو کرنے کے لئے آئے اور یہ کہا کہ تمہیں معلوم ہی ہے کہ ہم لوگوں نے ابھی غزوہ بدر میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھوں کتنی تکلیفیں اور رسوائیاں برداشت کی ہیں اگر تم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹی کو اس طرح علی الاعلان لے جاؤ گے تو اس میں ہماری مزید ذلت و رسوائی ہو گی ۔ ایسا کرو کہ جب معاملہ ذرا ٹھنڈا ہو جائے تو رات کی تاریکی میں نکال لے جانا ۔ کنانہ نے بھی اسی کو غنیمت سمجھا اور حضرت زینبؓ کو دوبارہ ابو العاص کے گھر پہنچا دی گئیں اور حسب وعدہ چند دن کے بعد پھر کنانہ ہی کے ساتھ مدینہ کے لئے روانہ ہو گئیں ۔ ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہؓ اور ایک اور انصاری صحابیؓ کو بطن یا جج نام کے ایک مقام تک حضرت زینبؓ کو لانے کے لئے بھیج دیا تھا ۔ کنانہ بطن یا جج پہنچ کر حضرت زینبؓ کو ان دونوں حضراات کے حوالے کر کے مکہ واپس چلے گئے ۔ اس طرح حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی ۶ھ میں ابو العاص پھر ایک جنگ میں قید کر کے مدینہ لائے گئے اس وقت بھی حضرت زینبؓ کام آئیں اور انہوں نے ابو العاصؓ کو اپنی پناہ میں لے لیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینبؓ کی سفارش پر ابو العاصؓ کو رہا فرما دیا ۔ ابو العاصؓ مکہ واپس ہوئے اور لوگوں کی امانتیں جو ان کے پاس تھیں واپس کیں اور اسلام لا کر مدینہ طیبہ حاضر ہو گئے حضرت زینبؓ اور ابو العاصؓ کے درمیان کئی سال علیحدگی رہی لیکن نہ ابو العاصؓ نے اپنی شادی کی اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینبؓ کا نکاح کہیں اور کیا ، اب جب کہ حضرت ابو العاصؓ مسلمان ہو کر مدینہ آ گئے تو آپ نے پھر حضرت زینبؓ کا نکاح انہیں سے کر دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک میں حضرت ابو العاص رضی اللہ عنہ کا ان کی شرافت ، ایفائے عہد اور حضرت زینب کے ساتھ ان کے حسن تعلق کی وجہ سے بڑا مقام تھا اور آپ اس کا اظہار بھی فرماتے تھے ۔ اسی سلسلے میں صحیح بخاری و صحیح مسلم کی ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت بلند کلمات حضرت ابو العاصؓ کی تعریف میں مذکور ہیں ۔ (1) فضائل حضرت زینبؓ کے شرف کے لئے یہ کیا کم ہے کہ آپ جگر گوشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، پھر وہ بالکل اولین ایمان لانے والوں میں ہیں ، اپنی والدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ہی انہوں نے کلمہ شہادت پڑھا اور حلقہ بگوش اسلام ہو گئی تھیں ۔ پھر شوہر سے غیر معمولی محبت اور تعلق بھی ان کے لئے ایمان پر ثابت قدم رہنے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے اور ہجرت سے مانع نہ ہو دکا اور وہ اپنے شوہر کو مکہ میں چھوڑ کر غزوہ بدر کے بعد جلدی ہی ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے آئیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ان سے بہت محبت تھی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ان کی ہجرت کے وقت جب حضرت زینبؓ کے زخمی ہونے کی اطلاع آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا هى افضل بنائى اصيبت فى یہ میری بہترین بیٹی ہیں جو میری وجہ سے اس مصیبت میں مبتلا ہوئی ہیں ۔ (2) وفات ۶؁ھ میں حضرت ابو العاصؓ مدینہ طیبہ آئے ہیں اور آپ نے حضرت زینبؓ کا نکاح دوبارہ ان کے ساتھ کیا ہے اور ۸؁ھ میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی وفات ہو گئی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کی وفات کا بہت اثر تھا ۔ ان کے غسل اور کفن کے سلسلہ میں غسل دینے والی عورتوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ہدایات دے رہے تھے اور کفن کے لئے اپنی استعمال فرمائی ہوئی لنگی عنایت فرمائی تھی ۔ حضرت ام عطیہؓ جو غسل دینے والی عورتوں مین شامل تھیں ان کی روایت کے الفاظ صحیح مسلم اس طرح ہیں عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: لَمَّا مَاتَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، وَاجْعَلْنَ فِي الْخَامِسَةِ كَافُورًا، أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا غَسَلْتُنَّهَا، فَأَعْلِمْنَنِي» قَالَتْ: فَأَعْلَمْنَاهُ، فَأَعْطَانَا حَقْوَهُ وَقَالَ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ (1) حضرت ام عطیہؓ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینبؓ کی وفات ہوئی تو آپ نے ہم غسل دینے والی عورتوں سے فرمایا کہ طاق دفعہ غسل دینا خواہ تین بار یا پانچ بار اور پانچویں مرتبہ غسل دینے کے لئے پانی میں کافور ملا لینا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تھوڑا سا کافور ملا لینا ۔ اور جب غسل دے کر فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع کر دینا ۔ حضرت ام عطیہؓ فرماتی ہیں کہ جب ہم عورتیں غسل سے فارغ ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع کر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفن کے لئے اپنی مبارک لنگی عنایت فرمائی اور فرمایا اس کو کفن مین سب سے اندر کی طرف حضرت زینبؓ کے جسم سے ملا کر استعمال کرنا ۔ نماز جنازہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور حضرت ابو العاصؓ نے قبر میں اتارا ۔ ہجرت کے وقت جو چوٹ لگی تھی اس کی تکلیف وفات تک باقی رہی اسی لئے بعض علماء نے لکھا ہے کہ حضرت زینبؓ کو مقام شہادت بھی نصیب ہوا ۔ (2) اولاد آہ کے ایک صاحبزادے علی نام کے تھے اور ایک صاحبزادی امامہ نامی تھیں ، دونوں بچوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت محبت تھی ۔ صحیحین کی روایت کے مطابق کبھی کبھی حالت نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی نواسی حضرت امامہ آپ کے کندھے پر سوار ہو جایا کرتی تھیں اور آپ کو ان کا یہ عمل ناگوار بھی نہ ہوتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ نواسے حضرت علیؓ فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی پر سوار تھے اور جنگ یرموک میں شہید ہوئے ۔ (3) رضی اللہ عنہم وارضاھم ۔ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا صاحبزادیوں میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے بعد دوسرے نمبر پر حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا ہیں ۔ جس وقت حضرت رقیہ پیدا ہوئی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تینتیس (۳۳) سال تھی ۔ (4) پچپن ہی میں آپ نے حضرت رقیہؓ کا نکاح ابو لہب کے بیٹے عتبہ سے اور دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثومؓ کا نکاح ابو لہب ہی کے دوسرے بیٹے عتیبہ سے کر دیا تھا ۔ اس وقت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت نہیں ہوئی تھی ۔ ابھی دونوں کی رخصتی کی نوبت بھی نہ آ پائی تھی ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت مل گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کی دعوت شروع کی ، ابو لہب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی اور مخالفت میں اپنے دونوں بیٹوں کو یہ حکم دیا کہ تم لوگ اگر مجھ سے تعلق رکھنا چاہتے ہو تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹیوں سے علیحدگی اختیار کر لو ، بیٹوں نے باپ کے کہنے کے مطابق عمل کیا جس کی وجہ سے دونوں صاحبزادیاں رقیہؓ اور ام کلثومؓ رشتہ نکاح سے آزاد ہو گئیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ہجرت سے پہلے ہی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کر دیا تھا ۔ (5) مشرکین مکہ کی ایذار رسانی کی بنا پر جن صحابہ کرامؓ نے حبشہ کو ہجرت کی تھی ان میں اول ہجرت کرنے والوں میں حضرت عثمانؓ اور حضرت رقیہؓ بھی ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی ہجرت کے موقع پر فرمایا تھا ان عثمان اول من هاجر باهله بعد لوط ۔ یعنی لوط علیہ السلام کے بعد اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہجرت کرنے والے سب سے پہلےشخص حضرت عثمانؓ ہیں ۔ حضرت عثمانؓ اور حضرت رقیہؓ دونوں کو اللہ تعالیٰ نے ظاہری حسن و جمال سے بھی خوب نوازا تھا مکہ میں اتنا حسین و جمیل جوڑا اور کوئی نہ تھا ۔ حضرت عثمانؓ کے خاندان کی بعض عورتوں نے ان دونوں کی شان میں قصیدہ بھی کہا تھا ۔ زرقانی نے کچھ اشعار اس قصیدے کے ذکر کئے ہیں جس میں مذکور ہے کہ کسی نے بھی ایسا حسین و جمیل جوڑا نہیں دیکھا ۔ کچھ دنوں کے بعد حضرت عثمانؓ اور حضرت رقیہؓ حبشہ سے مکہ واپس آ گئے اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت فرمانے کے بعد دونوں مدینہ طیبہ ہجرت کر گئے ۔ حبشہ کے زمانہ قیام میں حضرت رقیہؓ کے یہاں ایک صاحبزاے پیدا ہوئے جن کا نام عبداللہ رکھا تھا چھ سال کی عمر میں اس بچہ کا انتقال ہو گیا پھر غالباً کوئی اور اولاد نہیں ہوئی ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر کے لئے تشریف لے گئے تھے اس وقت حضرت رقیہؓ کی طبیعت بہت خراب تھی ان کی دیکھ بھال اور تیمارداری کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمانؓ کو غزوہ بدر میں شرکت سے روک دیا تھا وہ مدینہ میں ہی رہ گئے تھے بدر کی فتح کی خوشخبری تو مدینہ آ گئی تھی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تشریف نہیں لائے تھے کہ حضرت رقیہؓ کی وفات ہو گئی ، واپس آنے پر جب علم ہوا تو آپ کو بہت صدمہ ہوا قبر پر تشریف لے گئے اور وہاں بیٹھ کر آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور اتنا روئے کہ آنسو قبر پر گرنے لگے ۔ (1) رضی اللہ عنہا وارضاہا ۔ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسری صاحبزادی حضرت ام کلثومؓ بھی بعثت نبوی سے پہلے ہی پیدا ہوئی تھیں اور اسلام ہی کے آغوش میں ہوش سنبھالا تھا ۔ حضرت رقیہؓ کے تذکرہ میں یہ بات گذر چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں بیٹیوں حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہما کا نکاح بچپن ہی میں ابو لہب کے دو بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے کر دیا تھا ۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی توحید اور اپنی نبوت کی دعوت دی تو ابو لہب نے آپ کی سخت مخالفت کی اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ اس نے اپنے دونوں بیٹوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں صاحبزادیوں سے علیحدگی اختیار کرنے کو کہا ، دونوں نے اپنے باپ کے کہنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں سے علیحدگی اختیار کر لی اور دونوں صاحبزادیوں کا یہ قصہ نکاح رخصتی سے پہلے ہی ختم ہو گیا ۔ (2) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت رقیہؓ کا نکاح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کر دیا اور جب ۲ھ میں حضرت رقیہؓ کا انتقال ہو گیا تو کچھ دنوں کے بعد آپ نے حضرت ام کلثومؓ کا نکاح بھی حضرت عثمانؓ سے کر دیا ۔ا ور یہ سعادت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نصیب میں آئی کہ وہ یکے بعد دیگرے آپ کی دو صاحبزادیوں کے شوہر بنے اور ذو النورین کے لقب سے نوازے گئے ۔ حضرت رقیہؓ کے انتقال کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثومؓ کا نکاح حضرت عثمانؓ سے کر دیا اور حضرت عثمانؓ کی حیات ہی میں حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی بھی وفات ہو گئی تو آپ نے فرمایا لو كان عندى ثالثة لزوجتها یعنی میں نے یکے بعد دیگرے اپنی دو بیٹیاں عثمان سے بیاہ دیں اور اب دوسری کا بھی انتقال ہو گیا اور عثمان بے بیوی کے رہ گئے اگر میری کوئی تیسری بیٹی ہوتی جو عثمانؓ سے بیاہی جا سکتی تو ضرور میں اس کی شادی بھی عثمان سے کر دیتا ۔ (1) عتیبہ نے جس وقت حضرت ام کلثومؓ سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا اسی وقت اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شام میں گستاخی بھی کی تھی دونوں باتوں سے آپ کو سخت تکلیف پہنچی تھی اور زبان مبارک سے اللهم مسلط عليه كلبا من كلابك بد دعا نکلی تھی ۔ (2) کہ اے اللہ اس کے اوپر اپنے کتوں میں سے کوئی کتا مسلط فرما دے ۔ اس بددعا کا علم جب ابو لہب کو ہوا تو وہ گھبرا گیا اور بیٹے کی جان کی فکر پڑ گئی ، کچھ دنوں کے بعد یہ باپ نے ملک شام کے ایک سفر میں تھے ایک جگہ قافلہ نے قیام کیا وہاں کے لوگوں نے بتلایا کہ اس علاقہ میں شیر آگے جاتے رہتے ہیں ۔ ابو لہب کو آپ کی بددعا یاد تھی ، اس نے بیٹے کی حفاظت کی تمام تدبیریں کر ڈالیں لیکن زبان نبوت سے نکلی ہوئی بددعا خالی نہ گئی اور شیر سب تدبیروں کے باوجود (جن کی تفصیل زرقانی میں ہے) عتیبہ کو اٹھا لے گیا ۔ حضرت ام کلثومؓ کا نکاح جب حضرت عثمانؓ سے ہوا اس سے پہلے ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ حضرت عمرؓ نے اپنی بیٹی حضرت حفصہؓ جو کچھ دن پہلے ہی بیوہ ہوئی تھیں کا نکاح حضرت عثمان سے کرنے کی پیش کش کی حضرت عثمان نے صاف انکار تو نہیں کیا لیکن ا ثبات میں بھی جواب نہیں دیا ۔ حضرت عمرؓ نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ، آپ نے فرمایا کہ کیا میں تمہاری بیٹی کے لئے عثمان سے بہتر شوہر اور عثمان کے لئے تمہاری بیٹی سے بہتر بیوی نہ بتلاؤں ۔ حضرت عمرؓ نے عرض کیا ضرور ، اس پر آپ نے فرمایا اپنی بیٹی حفصہ کا نکاح مجھ سے کر دو اور میں اپنی بیٹی ام کلثومؓ کا نکاح عثمان سے کئے دیتا ہوں ۔ (3) فضائل مذکورہ واقعہ سے حضرت ام کلثومؓ کی فضیلت کا اظہار ہوتا ہے کہ ان کو آپ نے حضرت حفصہؓ سے بھی افضل قرار دیا ۔ اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی اور بالکل اول اول ایمان لانے والے صحابہ کرامؓ میں ہیں ، آپ کو ان سے محبت بھی بہت تھی جس کا اظہار عتیبہ کے واقعہ سے ہوتا ہے پھر آپ نے ہی نماز جنازہ پڑھائی ، خود دفن میں شرکت فرمائی جیسا کہ ابھی آئے گا ۔ وفات ۳؁ھ میں آپ کا نکاح حضرت عثمانؓ کے ساتھ ہوا ہے اور تقریباً چھ سال کے بعد ۹؁ھ میں آپ کا انتقال ہو گیا ۔ (1) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مدینہ طیبہ ہی میں تشریف رکھتے تھے ۔ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا اور بعض دیگر صحابیاتؓ نے غسل دیا حضرت زینبؓ کے غسل کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جن ہدایات کا ذکر حضرت زینبؓ کے تذکرہ میں گذر چکا ہے کہ آپ نے غسل دینے والی عورتوں سے فرمایا تھا کہ تین بار یا پانچ بار غسل دینا اور آخر میں کافور ملے ہوئے پانی کا استعمال کرنا اور جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دینا اور بعد فراغت جب اصحابیاتؓ نے آپ کو غسل سے فارغ ہونے کی اطلاع دی تو آپ نے اپنا تہبند یہ کہہ کر عنایت فرمایا کہ اس کو کفن میں اس سے اندر کی کی طرف استعمال کریں ۔ بعض شارحین حدیث نے غسل و کفن کی اس روایت کو حضرت ام کلثومؓ کی وفات سے متعلق ذکر کیا ہے ۔ اور بعض یہ کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ واقعہ دونوں بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا ہو ۔ اس لئے کہ دونوں ہی آپ کی بیٹیاں تھیں اور روایت میں نام نہیں ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی اور بقیع میں دفن فرمایا ۔ رضی اللہ عنہا وارضاہا ۔ حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے چھوٹی اور سب سے زیادہ محبوب صاحبزادی حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کی ولادت بعض مورخین نے بعثت سے پانچ سال پہلے اور بعض نے صرف ایک سال پہلے ذکر کی ہے ۔ لیکن اس پر اتفاق ہے کہ آپ بعثت سے پہلے ہی پیدا ہوئی ہیں ۔ (2) پھر ہجرت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ساتھ رہیں ۔ ہجرت کے موقع پر آپ ان کو مکہ ہی میں چھوڑ آئے تھے بعد مین ان کو بلوایا ہے اور ۲ھ میں غزوہ بدر کے کچھ بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے آپ کا نکاح ہوا ۔ (3) چونکہ حضرت علیؓ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے تکفل میں تھے اور ان کا کوئی گھر علیحدہ نہ تھا اس لئے آپ نے ان کا گھر بسانے کے لئے کچھ ضروری گھریلو سامان اس موقع پر عنایت فرمایا تھا ۔ جس میں ایک چادر ، ایک مشکیزہ ، چمڑے کا ایک گدا ، جس میں اذخر نام کی گھاس بھری ہوئی تھی وغیرہ چند چیزیں تھیں ۔ یہ سامان مروجہ جہیز کی قسم سے نہ تھا اس لئے جہیز کا ثبوت نہ ازواج مطہرات کے کسی نکاح میں ہے نہ دیگر بنات طاہرات کے نکاح کے موقع پر آپ نے کچھ دیا ہے اور نہ اہل عرب میں اس کا رواج تھا ۔ حضرت علیؓ نے مہر میں اپنی درع یا اس کی قیمت دی تھی ان کے پاس مہر ادا کرنے کے لئے اس کے سوا کچھ نہ تھا ۔ اولاد آپ کے تین بیٹے حسن حسین اور محسن پیدا ہوئے ۔ محسن کی وفات بچپن ہی میں ہو گئی اور حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما بہت بعد تک حیات رہے ۔ ان تینوں کے علاوہ دو بیٹیاں حضرت زینبؓ اور حضرت ام کلثومؓ بھی پیدا ہوئیں جو بعد تک زندہ رہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں صرف حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا ہی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسل چلی ہے دیگر صاحبزادیوں کے یہاں یا تو اولاد ہی پیدا نہیں ہوئی یا جلد ہی سلسلہ منقطع ہو گیا ۔ فضائل حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت ہی محبوب اور چہیتی بیٹی تھیں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غیر معمولی محبت تھی ۔ ایک بار آپ نے فرمایا احب اهلى الى فاطمه (1) مجھے اپنے گھر والوں میں فاطمہ سب سے زیادہ محبوب ہیں ۔ ان کی تکلیف آپ کے لئے ناقابل برداشت ہوتی تھی ۔ حضرت علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابو جہل کی لڑکی سے شادی کرنا چاہی حضرت فاطمہؓ نے آپ سے اس کی شکایت کر دی ، آپ کو حضرت علیؓ کے اس ارادے سے سخت تکلیف پہنچی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خطبہ میں اپنی اس تکلیف اور ناگواری کا اظہار فرمایا اور اسی خطبہ میں یہ بھی ارشاد فرمایا فاطمة بضعة منى فمن اغضبها اغضبى فاطمہ میرا جزو بدن ہیں جس نے ان کو غصہ دلایا اس نے مجھے غصہ دلایا ۔ الفاظ کے جزوی اختلاف کے ساتھ یہ روایت بخاری و مسلم ، ابو داؤد ، ترمذی وغیرہ حدیث کی تقریباً سب ہی کتابوں میں ہے ۔ (2) حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنے انداز گفتگو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ مشابہ تھیں اور ان کے چلنے کا انداز بھی بالکل آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرح تھا اور آپ کا معمول یہ تھا کہ جب فاطمہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو آپ ان کے استقبال کے لئے کھڑے ہو جاتے اور ان کو مرحبا کہتے اور کہتی ہیں کہ حضرت فاطمہؓ کا معمول بھی آپ کے ساتھ یہی تھا ۔ (3) جب آپ سفر پر تشریف لے جاتے تو جاتے وقت سب سے آخر میں حضرت فاطمہؓ سے مل کر جاتے اور واپسی میں سب سے پہلے حضرت فاطمہؓ سے ملتے ۔ (4) حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ مرض وفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہؓ کو اپنے قریب بلایا اور کان میں کچھ فرمایا حضرت فاطمہؓ رونے لگیں ۔ دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کان میں کچھ کہا تو وہ مسکرا دیں ۔ بعد میں مین نے اس کا سبب دریافت کیا تو کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کو ظاہر نہیں کروں گی ۔ لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد میں نے اس واقعہ کے بارے میں معلوم کیا تو فرمایا اب بتلاتی ہوں ۔ پہلی بار تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میرا خیال ہے کہ میری وفات کا وقت قریب آ چکا ہے ۔ جس پر مجھے رونا آ گیا تھا ۔ دوسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میرے پاس میرے گھر کے لوگوں میں سب سے جلد آنے والی ہو ۔ اس پر مجھے ہنسی آئی تھی ۔ بعض روایات میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بار یہ فرمایا تھا کہ کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم جنت میں تمام عورتوں کی سردار ہو ۔ بظاہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہی باتیں فرمائی تھیں ۔ (1) علاوہ ازیں حضرت فاطمہؓ کی فضیلت کی احادیث کتب حدیث میں بڑی کثرت سے مروی ہیں ۔ وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا غم تمام صحابہ کرامؓ کے لئے جان لیوا تھا ۔ حضرت فاطمہؓ تو اب اکلوتی بیٹی تھین ، پھر ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے جو غیر معمولی محبت تھی جس کا کچھ ذکر ابھی گذرا ہے اس کی وجہ سے تو یہ غم واقعی جان لیوا ثابت ہواو اور آپ اپنی زندگی ہی مین اس کی اطلاع بھی دے چکے تھے کہ تم سب سے پہلے میرے پاس آنے والی ہو ۔ ابھی آپ کی وفات کو صرف چھ مہینے ہی گذرے تھے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بھی رخت سفر باندھ لیا اور اپنے والد صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملیں ۔ انتقال کے وقت آپ کی عمر ۲۹ سال یا ۲۴ سال بتلائی جاتی ہے ۔ یہ اختلاف اصل میں سن ولادت کے اختلاف کی وجہ سے ہے اگر آپ کی ولادت بعثت سے پانچ سال پہلے ہے تو عمر ۲۹ سال ہو گی اور اگر ولادت کا سال بعثت سے صرف ایک سال پہلے ہے تو عمر مبارک صرف ۲۴ سال ہو گی ۔ (2) ابن کثیر نے عمر مبارک ۲۹ سال اور حافظ ذہبی (3) نے ۲۴ سال ذکر کی ہے ۔واللہ اعلم ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ بڑھائی اور جنت البقیع میں دفن فرمایا ۔ رضی اللہ عنہا وارضاہا ۔ حضرت فاطمہؓ کے تذکرہ پر آپ کی بنات طیبات کا ذکر بھی مکل ہوا ۔ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما آپ کا اسم شریف حسن اور کنیت ابو محمد ہے ۔ حسن نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے تجویز فرمایا تھا ۔ (4) آپ کے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ اور والدہ جگر گوشہ رسول حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا ہین ۔ آپ حضرت علیؓ کے سب سے بڑے بیٹے ہیں ۔ حضرت علی کی کنیت ابو الحسن آپ ہی کے نام کی وجہ سے ہے ۔ ولادت رمضان ۳ھ میں آپ پیدا ہوئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولادت کی خبر پا کر حضرت علی کے گھر تشریف لے گئے ، پیارے نواسے کو گود میں لیا ، خود ان کے کان میں اذان دی اور عقیقہ کرایا اور بالوں کے ہم وزن چاندی صدقہ کرنے کا حکم دیا ۔ (1) اور اس طرح براہ راست ان ان کے کان میں پہلی آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہنچی اور جو بات پہلی بار کان میں پہنچی وہ بھی اذان تھی جو دین کی بھرپور دعوت ہے ۔ بچپن کا بڑا حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے سایہ عاطفت میں گذرا ہے ۔ آپ کی وفات کے وقت حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی عمر ۸ سال کی تھی ۔ خلافت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد کوفہ کی جامع مسجد میں کوفہ اور قرب و جوار کے مسلمانوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی ۔ حضرت علیؓ کے زمانہ خلافت ہی میں ان کے اور حضرت معاویہؓ کے مابین شدید اختلاف تھے ابھی حضرت حسن کی بیعت خلافت کو ۶ یا ۷ ماہ ہی گذرے تھے کہ قتل و قتال سے بچنے کے لئے حضرت حسنؓ نے حضرت معاویہؓ سے صلح کر لی اور بار خلافت سے حضرت معاویہؓ کے حق مین دست بردار ہو کر مدینہ طیبہ تشریف لے آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی ابنى هذا سيد ولعل الله ان يصلح به بين الفئتين من المسلمين یعنی میرا یہ بیٹا سید (سردار) ہے اور ان شاء اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کراوئے گا ۔ صحیح ثابت ہو گئی ۔ (2) اس مصالحت کے وقت حضرت حسنؓ نے جو بھی شرائط صلح حضرت معاویہؓ کے سامنے رکھے حضرت معاویہؓ نے ان کو قبول فرما لیا اور مدت العمر ان کا لحاظ رکھا ۔ (3) ان میں وافر مقدار میں مال کی شرف بھی تھی جو ان کے آرام و راحت کے ساتھ گذر اوقات کے لئے خوب کافی تھا ۔ لیکن وہ اس مال کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرتے تھےحتی کہ بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ اپنے موزے بھی اللہ کے راستہ میں خرچ کر دئیے اور صرف جوتے روک لئے ۔ مدینہ پہنچ کر حضرت حسنؓ نے یکسوئی کی زندگی اختیار فرمائی اور عبادت و ریاضت اور دین کی تبلیغ کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیا ۔ آپ نے کئی شادیاں کیں اور ان سے دس یا اس سے بھی زیادہ بچے پیدا ہوئے ۔ وفات ۵۰ھ یا ۵۱ھ میں کسی نے آپ کو زہر دے دیا اور یہی وجہ شہادت بن گیا ۔ مدینہ کے امیر سعید بن العاصؓ نے نماز پڑھائی ۔ رضی اللہ عنہ وارضاہ ۔ حلیہ آپ شکل و صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت مشابہ تھے ۔ ایک موقع پر حضرت ابو بکرؓ نے حضرت حسنؓ کو اپنی گود میں اٹھا لیا اور حضرت علیؓ کے سامنے فرمایا کہ حسن تمہارے مشابہ نہیں ہیں یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہیں ۔ حضرت علیؓ سنتے رہے اور ہنستے رہے ۔ (4) امام ترمذیؓ نے حضرت انسؓ کا یہی قول نقل کیا ہے ۔ (5) فضائل حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل بڑی حدی تک مشترک ہیں اس لئے ان کے مناقب و فضائل بھی حضرت حسینؓ کے تذکرہ کے بعد ہی ذکر کئے جائیں گے محدثین میں امام بخاری ، امام مسلمؒ اور امام ترمذیؒ وغیرہم نے بھی ایسا ہی کیا ہے کہ دونوں کے فضائل و مناقب ایک ساتھ ہی ذکر کئے ہیں ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے نواسے اور حضرت علی و حضرت فاطمہؓ زہرا کے چھوٹے صاحبزادے حضرت حسینؓ کی ولادت شعبان ۴؁ھ میں ہوئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی ان کا نام حسین رکھا ، ان کو شہد چٹایا ، ان کے منہ میں اپنی زبان مبارک داخل کر کے لعاب مبارک عطا فرمایا اور ان کا عقیقہ کرنے اور بالوں کے ہم وزن چاندی صدقہ کرنے کا حکم دیا ۔ حضرت فاطمہؓ نے ان کے عقیقہ کے بالوں کے برابر چاندی صدقہ کی ۔ (1) اپنے بڑے بھائی حضرت حسنؓ کی طرح حضرت حسین بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے بھی غیر معمولی محبت اور تعلق تھا جس کا کچھ تذکرہ مناقب و فضائل کے سلسلہ میں آئے گا ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو ان کی عمر صرف چھ یا سات سال تھی ، لیکن یہ چھ سات سال آپ کی صحبت اور شفقت و محبت میں گذرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکرؓ و حضرت عمرؓ نے خاص لطف و کرم اور محبت کا برتاؤ کیا ۔ حضرت عمرؓ کے آخری زمانہ خلافت مں آپ نے جہاد میں شرکت شروع کی ہے اور پھر بہت سے معرکوں میں شریک رہے ۔ حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں جب باغیوں نے ان کے گھر کا محاصرہ کر لیا تھا تو حضرت علیؓ نے اپنے دونوں بیٹوں حسنؓ اور حسینؓ کو ان کے گھر کی حفاظت کے لئے مقرر کر دیا تھا ۔ حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد حضرت حسنؓ نے جب حضرت معاویہؓ سے مصالحت کر کے خلافت سے دستبرداری کے ارادہ کا اظہار کیا تو حضرت حسینؓ نے بھائی کی رائے سے اختلاف کیا لیکن بڑے بھائی کے احترام میں ان کے فیصلہ کو تسلیم کر لیا ۔ البتہ جب حضرت حسنؓ کی وفات کے بعد حضرت معاویہؓ نے یزید کی خلافت کی بیعت لی تو حضرت حسینؓ اس کو کسی طرح برداشت نہ کر سکے اور یزید کے خلیفہ بن جانے کے بعد اپنے بہت سے مخلصین کی رائے و مشورہ کو نظر انداز کر کے جہاد کے ارادہ سے مدینہ طیبہ سے کوفہ کے لئے تشریف لے چلے ابھی مقام کربلا ہی تک پہنچے تھے کہ واقعہ کربلا کا پیش آیا اور آپ وہاں شہید کر دئیے گئے ۔ رضی اللہ عنہ وارضاہ ۔ تارخ وفات ۱۰ محرم ۶۱ھ ہے اس وقت عمر شریف تقریباً ۵۵ سال تھی ۔ جیسا کہ پہلے بھی حضرت فاطمہ زہراؓ کے تذکرہ میں گذر چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسل حضرت فاطمہؓ ہی سے چلی ہے اور ان کی اولاد میں حضرات حسنین اور ان کی دو بہنیں حضرت زینب اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہم اجمعین ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بقاء نسل کا ذریعہ بنے ہیں ۔ حضرات حسنینؓ کے فضائل و مناقب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے اور آپ کے صحابی ہونے کا شرف کیا کم ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرات حسنین رضی اللہ عنہما سے بہت محبت بھی تھی ۔ شفقت و محبت کا یہ عالم تھا کہ یہ دونوں بھائی بچپن میں حالت نماز میں آپ کی کمر مبارک پر چڑھ جاتے کبھی دونوں ٹانگوں کے بیچ میں سے گزرتے رہتے اور آپ نماز میں بھی ان کا خیال کرتے ۔ جب تک وہ کمر پر چڑھے رہتے آپ سجدہ سے سر نہ اٹھاتے ۔ (1)آپ اکثر انہیں گود میں لیتے ، کبھی کندھے پر سوار کرتے ، ان کا بوسہ لیتے انہیں سونگتے اور فرماتے انكم لمن ريحان الله تم اللہ کی عطا کردہ خوشبو ہو ۔ (2) ایسے ہی ایک موقعہ پر حضرت اقرع ابن حابس رضی اللہ عنہ نے عرض کر دیا اے اللہ کے رسول ! (صلی اللہ علیہ وسلم) میرے تو دس بیٹے ہیں لیکن میں نے آج تک کسی کا بوسہ نہیں لیا ۔ آپ نے فرمایا انه من لا يرحم لا يرحم ۔ جو رحم نہیں کرتا اس پر بھی من جانب اللہ رحم نہیں کیا جاتا ۔ (3) حضرت فاطمہ زہراؓ کے تذکرہ ، میں گذر چکا ہے ۔ آیت تطہیر کے نزول کے بعد آپ نے حضرت علیؓ ، حضرت فاطمہؓ اور حضرات حسنینؓ کو اپنی ردائے مبارک میں داخل فرما کر اللہ سے عرض کیا اللهم هؤلاء اهل بيتى فاذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا ۔ (4) اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے گندگی کو دور فرما دیجئے اور پاک و صاف کر دیجئے ۔ صحیح بخاری میں حضرت عدی بن ثابتؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسنؓ کو اپنے کندھے پر سوار کئے ہوئے تھے اور یوں دعا کر رہے تھے اللهم ابنى احبه فاحبه ، اے اللہ یہ مجھے محبوب ہے آپ بھی اسے اپنا محبوب بنا لیجئے ۔ (5) امام بخاری نے ہی حضرات حسنینؓ کے مناقب مٰں حضرت ابن عمرؓ کا قول نقل کیا ہے کہ ان سے کسی عراقی نے مسئلہ دریافت کیا کہ محرم اگر مکھی مار دے تو کیا کفارہ ہے ۔ حضرت ابن عمرؓ نے بڑی ناگواری سے جواب دیا کہ اہل عراق مکھی کے قتل کا مسئلہ پوچھنے آتے ہیں اور نواسہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (حضرت حسنینؓ) کو قتل کر دیا حالانکہ آپ نے اپنے دونوں نواسوں کے بارے میں فرمایا تھا ھما ریحانتای من الدنیا ۔ یہ دونوں میرے لئے دنیا کی خوشبو ہیں ۔ (6) امام ترمذی نے حضرت اسامہ بن زید کی حدیث ذکر کی ہے کہ میں کسی ضرورت سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ گھر کے باہر اس حال میں تشریف لائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کوکھوں پر (یعنی گود میں) کچھ رکھے ہوئے تھے اور چادر اوڑھے ہوئے تھے ، میں جب اپنے کام سے فارغ ہو گیا تو عرض کیا یہ کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر ہٹا دی میں نے دیکھا کہ ایک جانب حسنؓ اور دسری جانب حسینؓ ہیں ، اور فرمایا ۔ هذان ابنى وابنا ابنتى اللهم من احبهما فاحبهما واحب من يحبهما ۔ (1) اے اللہ میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں آپ بھی ان سے محبت فرمائیے اور جو ان سے محبت کرے اس کو بھی اپنا محبوب بنا لیجئے ۔ “اللهم انى احبهما فاحبهما” اے اللہ میں ان دونوں کو محبوب رکھتا ہوں آپ بھی ان کو اپنا محبوب بنا لیجئے کہ دعائیہ کلمات صحیح سندوں سے حدیث کی متعدد کتابوں میں مروی ہیں اور اس میں کیا شک ہے کہ آپ کے یہ دونوں نواسے اللہ کے بھی محبوب اور اللہ کے رسول کے بھی محبوب اور ان دونوں سے محبت رکھنے والے بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ہیں ، ایک بار ایسا ہوا کہ آپ خطبہ دے رہے تھے ، دونوں نواسے آگئے آپ نے خطبہ روک کر ان دونوں کو اٹھا لیا اور اپنے پاس بٹھایا پھر باقی خطبہ پورا کیا ۔ امام ترمذی نے حضرت یعلی بن مرہؒ کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسين منى وانا من حسين احب الله من احب حسينا حسين سبط من الاسباط ۔ (2) ترجمہ : حسین میرے ہیں اور میں حسین کا ، جو حسین سے محبت کرے اللہ اس سے محبت کرے حسین میرے ایک نواسے ہیں ۔ حسين منى وانا من حسين کے کلمات انتہائی محبت ، اپنائیت اور قلبی تعلق کے اظہار کے لئے ہیں ، اس کے بعد ویہ دعائیہ کلمات ہیں جن کے متعلق عرض کیا کہ یہ الفاظ متعدد روایات میں مذکور ہیں اس مضمون کی کئی روایات امام ترمذی نے مناقب الحسن والحسین کے عنوان کے تحت ذکر کی ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی والدہ کو سيدة نساء اهل الجنة اور دونوں بھائیوں کو سيدا شباب اهل الجنة فرمایا ہے ۔ (3) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ کرام خصوصاً حضرات شیخین کا معاملہ بھی ان دونوں حضرات کے ساتھ بہت ہی لطف و کرم کا رہا ، ابھی حضرت حسنؓ کے تذکرہ میں گذرا کہ حضرت ابو بکرؓ نے ان کو گود میں اٹھا لیا تھا بلکہ بعض روایات میں تو کندھے پر بٹھانے کا ذکر ہے ۔ حضرت عمر فاروقؓ نے اپنےزمانہ خلافت میں دونوں بھائیوں کا وظیفہ اہل بدر کے وظائف کے بقدر پانچ پانچ ہزار درہم مقرر کیا اور اس کی وجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت بیان کی ۔ (4) حالانکہ یہ دونوں حضرات ان کے دور خلافت کے آخر میں بھی بالکل نوجوان ہی تھے حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت کا واقعہ ہے کہ وہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر کھڑے خطبہ دے رہے تھے حضرت حسینؓ آئے اور حضرت عمرؓ کو مخاطب کر کے کہا ، میرے باپ (نانا جان) کے منبر سے اترو اور اپنے والد کے منبر پر جا کر خطبہ دو ، حضرت عمرؓ نے کہا میرے باپ کا تو کوئی بھی منبر نہیں ہے یہ کہا اور ان کو اپنے پاس منبر پر بٹھا لیا اور بہت اکرام اور لطف و محبت کا معاملہ کیا ۔ (5) انہیں حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت میں یمن سے کچھ حلے (چادروں کے جوڑے)آئے ، آپ نے وہ صحابہ کرامؓ کے لڑکوں میں تقسیم کر دئیے اور حضرات حسینؓ کے لئے ان سے بہتر حُلے منگوائے اور ان دونوں بھائیوں کو دئیے اور فرمایا اب میرا دل خوش ہے ۔ (1) یہ دونوں بھائی اگرچہ کثیر الروایت نہیں لیکن پھر بھی براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے والدین سے احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نقل کرتے ہیں ۔ حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ دونوں بھائی بہت ہی عبادت گزار تھے ، دونوں نے بار بار مدینہ سے مکہ تک پیدل سفر کر کے حج کئے ہیں ۔ (2) اللہ کے راستہ میں کثرت سے مال خرچ کرتے تھے ۔ جو دو سخاوات ، ماں باپ اور نانا جان سے وراثت میں ملی تھی ۔ رضی اللہ عنہما وارضاہما ۔

【133】

فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ سب سے بہتر کس زمانے کے لوگ ہیں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں ، پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ اور پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ ۔ تشریح کتاب المناقب والفضائل کے عنوان کے تحت اب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے صحابہ کرامؓ میں سے دس خاص صحابہ جن کو عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے جن میں خلفائے اربعہ بھی ہیں اور آپ کی اہل بیت یعنی آپ کی ازواج مطہرات اور بنات طیبات اور دونوں نواسے حضرت حسن اور حضرت حسین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے فضائل و مناقب کا بیان ہوا ہے اب یہاں سے کچھ اور مشہور صحابہ کرامؓ کے فضائل و مناقب کا تذکرہ کیا جائے گا ۔ صحابہ کرام کے درمیان اگرچہ فرق مراتب ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں بھی ان الفاظ میں فرمایا ہے لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ ۚ أُولَـٰئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَاتَلُوا ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّـهُ الْحُسْنَىٰ (1) لیکن شرف صحابیت میں سب باہم شریک ہیں اور یہ ایسا شرف ہے جس کو کوئی بھی غیر صحابی حاصل نہیں کر سکتا ہے ۔ امت مسلمہ کا اس پر اجماع ہے کہ کوئی بھی غیر صحابی خواہ کتنا ہی بلند مقام کیوں نہ ہو کسی بھی صحابی سے خواہ وہ صحابہ کرام میں بڑے مقام و مرتبہ کا نہ ہو افضل نہیں ہو سکتا ۔ (2) شریعت کی اصطلاح میں صحابی اس شخص کو کہتے ہیں جس نے حالت اسلام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو یا اسے آپ کی صحبت نصیب ہوئی ہو ۔ خواہ ایک لمحہ کے لئے ہی کیوں نہ ہو ۔ (3)قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں صحابہ کرام کی فضائل و مناقب بہت کثرت کے ساتھ بیان فرمائے گئے ہیں ، اس سلسلہ میں پہلے ہم چند آیات قرآنی ذکر کرتے ہیں ۔ پھر کچھ احادیث ذکر کریں گے جن میں عام صحابہ کرامؓ کے فضائل و مناقب کا تذکرہ ہو گا ۔ پھر خاص خاص صحابہ کرامؓ کے تذکرہ میں ہر ایک کے مخصوص فضائل و مناقب کا ذکر ہو گا ۔ آیت ۱ وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا . (سورہ بقرہ آیت نمبر ۱۴۳) ترجمہ : اسی طرح ہم نے تم کو نہایت معتدل امت بنایا تا کہ تم (آخرت میں) لوگوں کے بارے میں گواہی دو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے بارے میں گواہی دیں ۔ اس آیت سے پہلے تحویل قبلہ کا ذخر ہے ۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ جیسے تمہارا قبلہ نہایت صحیح اور معتدل قبلہ ہے اسی طرح تم (صحابہ کرام اور ان کے متبعین) بھی نہایت معتدل امت ہو اور تم آخرت میں دوسری امتوں کے بارے میں گواہ بناےئے جاؤ گے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے سلسلہ میں گواہ ہوں گے وسط کے معنی بالکل بیچ کا راستہ ہیں جو سب سے زیادہ سیدھا اور معتدل ہوتا ہے ۔ یہ لفظ عربی زبان میں انتہائی تعریف اور مدح کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ اس آیت میں صحابہ کرامؓ اور ان کے متبعین کے بڑے شرف اور عظمت کا ذکر ہے ۔ آیت ۲ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ ۙ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ. ترجمہ :سو جو لوگ ان (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان لائے اور ان کی تعظیم کی اور ان کی مدد کی اور اس نور (قرآن) کی اتباع کی جو ان کے ساتھ اترا ہے ۔ ایسے ہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں ۔ اس آیت میں بھی صحابہ کرامؓ کا ذکر ہے کہ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے اور آپ کی تعظیم کرنے والے اور مدد کرنے والے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کا اتباع کرنے والے ہیں اور ایسے ہی لوگ دنیا و اخرت میں کامیابی و کامرانی سے ہم کنار ہونے والے ہیں ۔ آیت ۳ لَـٰكِنِ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ جَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۚ وَأُولَـٰئِكَ لَهُمُ الْخَيْرَاتُ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿٨٨﴾ أَعَدَّ اللَّـهُ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (سورہ توبہ آیت نمبر ۸۸ ، ۸۹) ترجمہ : لیکن رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) اور جو لوگ ایمان لائے ان کےساتھ انہوں نے اپنے جان و مال کے ساتھ جہاد کیا اور انہیں کے لئے ہیں ساری خوبیاں اور وہی ہیں کامیاب ہونے والے اللہ نے ان کے لئے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں یہ لوگ ہمیشہ ان باغات میں رہنے والے ہیں اور یہی ہے بڑی کامیابی ۔ اس آیت سے پہلے منافقین کا ذکر تھا کہ وہ حیلے بہانے کر کے جہاد سے بچنا چاہتے ہیں اور یہ بھی ذکر تھا کہ ان کی یہ حالت اس وجہ سے تھی کہ اللہ نے ہی ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اور وہ اپنے نفع و نقصان کو بھی نہیں سمجھ سکتے پھر صحابہ کرامؓ کی مذکورہ تعریف ہے کہ وہ اپنے جان و مال کو اللہ کے راستے میں قربان کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں ۔ جس کا اجر و ثواب یہ ہے کہ دنیا و آخرت کی کامیابیاں اور کامرانیاں انہیں کے لئے ہیں ۔ آیت ۴ وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (سورہ توبہ آیت نمبر ۱۰۰) ترجمہ : مہاجرین اور انصار صحابہ کرامؓ (ایماب لائے ہیں) اور جو سابقین اولین جو ان کے متبعین ہیں نیکی کے کاموں میں ، اللہ راضی ہو ان سے اور وہ راضی ہوئے اللہ سے اور اللہ نے ان کے لئے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ ان باغات میں ہمیشہ رہنے والے ہیں یہ بڑی کامیابی ہے ۔ اس آیت میں ان صحابہ کرامؓ کی فضیلت کا ذکر ہے جو اولین ایمان لانے والے ہیں خواہ وہ مدینہ طیبہ کے رہنے والے انصار ہوں یا باہر سے آنے والے مہاجرین ہوں پھر یہ بھی مذکور ہے کہ اس فضیلت میں بعد ایمان لانے والے صحابہ کرام اور ان کے بعد اہل ایمان بھی شریک ہیں ۔ آیت ۵ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّـهَ عَلَيْهِ ۖ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ ۖ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا (سورہ احزاب آیت نمبر ۲۳) ترجمہ : مومنین میں بعض لوگ ایسے ہیں کہ انہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا اس کو پورا کر دکھایا پھر ان میں بعض تو ایسے ہیں جو اپنی نذر پوری کر چکے اور بعض (نذر کو پورا کرنے) کے منتظر ہیں ۔ اس آیت کے شان نزول کے بارے میں امام ترمذیؒ نے یہ روایت ذکر کی ہے کہ “حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ میرے چچا حضرت انس بن نضرؓ کسی وجہ سے غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے جس کا انہیں بہت افسوس تھا انہوں نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ آئندہ کوئی جہاد کا موقعہ عطا فرمائے گا تو اللہ دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں ، پھر جب آئندہ سال ہی غزوہ احد کا واقعہ پیش آیا تو حضرت انس بن نضرؓ اس میں شریک ہوئے اور جان کی بازی لگا دی اور شہید ہو گئے ان کے جسم پر اسی سے زائد زخم تھے کسی طرح صورت پہنچانی نہ جاتی تھی ان کی بہن نے انگلیوں سے اپنے بھائی کو پہچانا ۔ (1)” بعض دیگر صحابہ کرامؓ نے بھی اسی طرح کا عہد کیا تھا لیکن ابھی شہادت مقدر نہ تھی وہ منتظر شہادت رہے ۔ مذکورہ آیت میں دونوں طرح کے صحابہ کرام کا ذکر ہے ۔ آیت ۶ لَّقَدْ رَضِيَ اللَّـهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ (سورہ فتح آیت نمبر ۱۸) ترجمہ : بے شک اللہ تعالیٰ خوش ہوا مومنین سے جب کہ وہ بیعت کر رہے تھے تم سے درخت کے نیچے ۔ اس آیت میں بیعت رضوان کا ذکر ہے اور اس آیت ہی کی وجہ سے اس بیعت کو بیعت رضوان کہتے ہیں اس کا قصہ یوں تھا کہ ذیقعدہ ۶؁ھ میں آپ صحابہ کی ایک جمیعت کے ساتھ مدینہ طیبہ سے عمرہ کے ارادے سے مکہ معظمہ کے لئے نکلے ۔ ابھی راستے ہی میں تھے کہ آپ کو اطلاع ملی کہ اہل مکہ مزاحمت کے لئے تیار ہیں اور کسی طرح آپ کو اور آپ کے صحابہؓ کو عمرہ کی ادائیگی کے لئے بھی مکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ آپ نے مقام حدیبیہ میں قیام فرمایا اور اہل مکہ سے مصالحت کی گفتگو کرنے اور اپنی آمد کی غرض واضح کرنے کے لئے حضرت عثمانؓ کو مکہ بھیجا ، اہل مکہ نے حضرت عثمانؓ کو نظر بند کر لیا ۔ جب حضرت عثمانؓ کے آنے میں تاخیر ہوئی تو صحابہ کرام میں یہ خبر عام ہو گئی کہ حضرت عثمان شہید کر دئیے گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت صحابہ۹ کرام سے جہاد و قتال پر بیعت لی تھی جس کا حاصل یہ تھا کہ اگر جنگ کی نوبت آئی تو آخر دم تک ساتھ دیں گے صحابہ کرامؓ نے پورے جوش و ولولہ اور صدق دل کے ساتھ آپ کے دست مبارک پر یہ بیعت کی تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے اس بیعت پر اپنی خوشی اور رضامندی کا اظہار فرمایا ۔ اس آیت کے بعد کئی آیات اسی واقعہ سے متعلق ہیں جن میں صحابہ کرام کی تعریف و توصیف اور ان پر اللہ کی عظیم احسانات کا تذکرہ ہے ۔ آیت ۷ مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّـهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖتَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانًا ۖ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ۚ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ ۚ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنجِيلِ (سورہ فتح آیت نمبر ۲۹) ترجمہ : محمد رسول اللہ اور ان کے ساتھی کافروں پر بہت سخت اور آپس میں نرم دل ہیں ، تم ان کو رکوع و سجدے میں دیکھو گے وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضامندی کے خواہاں ہیں ۔ سجدے کے اثر سے ان کے چہروں پر ان کی نشانیاں ہین یہی شان ان کی تورات اور انجیل میں مذکور ہے ۔ یہ آیت بھی سورہ فتح کی آیت ہے اور سلسلہ کلام بھی بیعت رضوان کا ہے اس میں صحابہ کرام کی جو خوبیاں بیان فرمائی ہیں وہ کسی تفسیر و تشریح کی محتاج نہیں ہیں ۔ آیت ۸ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ ﴿٣٦﴾ رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ اللَّـهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ۙ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ (سورہ نور آیت نمبر ۳۷) ترجمہ : پاکی بیان کرتے ہیں ان میں (مساجد میں) ایسے مرد جن کو تجارت اور خرید و فروخت غافل نہیں کرتی اللہ کی یاد سے اور نماز قائم کرنے سے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے وہ لوگ ڈرتے رہتے ہیں اس دن سے جس میں الٹ جائیں گے دل اور آنکھیں ۔ اس سے پہلی آیت میں مساجد کا ذکر ہے اس آیت مین مساجد کو آباد کرنے والے مردان خدا کا تذکرہ ہے کہ وہ اللہ کے بندے مساجد کو آباد کرتے ہیں اور جب مساجد سے باہر اپنے کاموں میں مشغول ہوتے ہیں تب بھی اللہ کی یاد اور اقات صلوٰۃ و ایتاء زکوٰۃ سے غافل نہیں ہوتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ روز قیامت سے ڈرتے ہیں ۔ صحابہ کرام کا تذکرہ اور ان کی توصیف و تعریف اور ان کے مناقب و فضائل کا بیان قرآن مجید میں اور بھی بہت سی آیات میں ہے ۔ تطویل کے خیال سے صرف ان ہی آیات پر اکتفا کرتا ہوں ۔ اس کے بعد اسی سلسلہ کی چند احادیث ذکر کی جاتی ہیں ۔ جن میں صحابہ کرام کے فضائل و مناقب اور شرف صحابیت کی عظمت کا ذکر ہے ۔ حدیث ۱ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: «الْقَرْنُ الَّذِي أَنَا فِيهِ، ثُمَّ الثَّانِي، ثُمَّ الثَّالِثُ» (صحیح مسلم ج ۲ ص ۳۱۰) ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ سب سے بہتر کس زمانے کے لوگ ہیں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں ، پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ اور پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ ۔ یہ روایت صحیح مسلم کی ہے ۔ صحیح بخاری کی ایک روایت کے الفاظ خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ہیں اسی طرح صحیح بخاری ہی کی ایک دوسری روایت کے الفاظ خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ (1) ہیں سب ہی روایات کا حاصل یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ کی جماعت سب سے بہتر جماعت ہے اور جیسا کہ پہلے عرض کیاجا چکا ہے کہ جماعت صحابہ کرامؓ کی افضلیت پر امت کا اجماع ہے ۔ مشہور محدث حافظ ابو نعیم نے اپنی کتاب حلیۃ الاولیاء میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول بایں الفاظ نقل کیا ہے ۔ إن الله نظر في قلوب العباد فاختار محمدا صلى الله عليه وسلم فبعثه برسالته وانتخبه بعلمه، ثم نظر في قلوب الناس بعده فاختار له أصحابا فجعلهم أنصار دينه ووزراء نبيه صلى الله عليه وسلم. (2) (ترجمہ : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہین کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے قلوب پر نظر ڈالی اور ان سب میں اپنے علم کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو منتخب فرمایا اور اپنی رسالت کے ساتھ آپ کو مبعوث فرمایا پر آپ کے بعد لوگوں کے قلوب پر نظر ڈالی تو کچھ لوگوں کو آپ کے اصحاب اور اپنے دین کے ناصر و مددگار اور آپ کے وزراء اور نائبین کے طور پر منتخب فرماایا ۔) یعنی صحابہ کرام اللہ کے چیدہ اور منتخب بندے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان صحابہ کرام سے بہتر کوئی جماعت نہیں ہے ۔ یہ اللہ کے دین کے ناصر و مددگار اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وزیر ہیں ۔ انہیں حافظ ابو نعیم نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا یہ قول بھی نقل کیا ہے : اولئك اصحاب محمد كانوا خير هذه الامة ابرها قلوبا واعمقها علما واقلها تكلفا قوم اختارهم الله لصحبة نبيه صلى الله عليه وسلم ونقل دينه (3) یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اس امت کے بہترین لوگ ہین ۔ ان کے قلوب سب سے زیادہ نیک و صالح اور ان کا علم سب سے زیادہ عمیق ہے یہ پوری امت میں سب سے کم تکلف کرنے والے ہیں ، اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور اپنے دین کی تبلیغ کے لئے ان کا انتخاب فرمایا ہے ۔ حدیث ۲ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، يُبْعَثُ مِنْهُمُ الْبَعْثُ فَيَقُولُونَ: انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ فِيكُمْ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُوجَدُ الرَّجُلُ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ. (4) ترجمہ : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ مسلمانوں کا ایک لشکر (بغرض جہاد) روانہ کیا جائے گا اور (بوقت جہاد) لوگ اس تلاش و جستجو میں ہوں گے کہ کیا اس لشکر مین کوئی صحابی ہے ، ایک صحابی اس لشکر میں مل جائیں گے اور انہیں کی برکت سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لشکر کو فتح نصیب فرمائیں گے ۔ حدیث کے مذکورہ الفاظ صحیح مسلم کی روایت کے ہیں ۔ صحیح بخاری میں بھی یہ حدیث الفاظ کے معمولی سے اختلاف کے ساتھ حضرت ابو سعید خدریؓ ہی سے روایت کی گئی ہے ۔ اس حدیث کا حاصل جیسا کہ ترجمہ سے بھی ظاہر ہے صحابہ کرامؓ کی منقبت اور ان کی خیر و برکت کا اظہار فرمانا ہے ۔ حدیث ۳ عن أبي موسى الاشعرى رَضِي الله عَنهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا أَمَنَةٌ لِأَصْحَابِي، فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ، وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي، فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ» (1) ترجمہ : حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرا وجود و بقا میری صحابہ کرامؓ کی حفاظت اور امن و سلامتی کا ذریعہ ہے اور میرے صحابہ کرام کا وجود میری امت کے امن و امان اور سلامتی کا ذریعہ ہے ۔ میرے دنیا سے چلے جانے کے بعد صحابہ پر وہ حوادث پیش آئیں گے جن کے بارے میں میں آگاہ کر چکا ہوں اور صحابہ کے دنیا سے ختم ہو جانے کے بعد پوری امت ان خطرات سے دو چار ہو گی جن سے میں آگاہ کر چکا ہوں ۔ یہ حدیث صحیح مسلم کی ہے ۔ امام نوویؒ اس کی شرح میں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن خطرات سے آگاہ فرمایا تھا وہ واقع ہوئے اور آپ کے بعد صحابہ کرامؓ کی جماعت میں اختلاف رائے اور اس کے نتیجہ میں قتل و قتال اور فتنوں کا ظہور ہوا سی طرح صحابہ کرامؓ کی جماعت کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد بدعات کا ظہور اور دینی فتنوں اور حوادث کا وقوع ہوا جن کی نشاندہی آپ نے فرما دی تھی ۔ حدیث ۴ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخدرى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِي، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيفَهُ» (2) ترجمہ : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے صحابہ مین سے کسی کو بھی برا نہ کہو اس لئے کہ (وہ اتنے بلند مقام اور اللہ کے محبوب ہیں) تم اگر احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرو گے تب بھی ان کے ایک مد بلکہ نصف مد خرچ کرنے کے برابر بھی ثواب کے مستحق نہ ہو گے ۔ حدیث کے ابتدائی حصہ میں یہ ذخر کیا گیا ہے کہ حضرت خالد بن الولیدؓ نے کسی بات پر حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کو کچھ نامناسب الفاظ کہہ دئیے تھے جس پر آپ نے یہ بات ارشاد فرمائی حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ جلیل القدر صحابی اور عشرہ مبشرہ میں ہیں ، حضرت خالدؓ بن الولید اپنی جلالت شان کے باوجود عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے درجے کے صحابی نہیں ہیں ۔ جب حضرت خالدؓ اور عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے درمیان اتنا فرق مراتب ہے تو صحابہ کے بعد کے لوگوں اور صحابہ کرام کے درمیان درجات کا تفاوت اور بھی بہت زیادہ ہو گا ۔ احد پہاڑ مدینہ طیبہ کا ایک پہاڑ ہے اور مد تو ایک چھوٹا سا پیمانہ ہے جو آج کل تقریبا صرف ایک کلو وزن کے برابر ہوتا ہے ۔ صحابہ کرامؓ کا یہ مقام ان کی صحابیت کی بنیاد پر ہے ۔ حدیث ۵ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لاَ تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ. (1) ترجمہ : حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے صحابہ کرامؓ کے (حقوق کی ادائیگی کے) بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، ان کو میرے بعد (سب و شتم اور طعن و تشنیع کے لئے) تختہ مشق نہ بنانا (اور یہ بھی سمجھ لو کہ) جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی ہے اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض ہی کی وجہ سے ان سے بغض رکھا ہے اور جس نے ان کو تکلیف پہنچائی اس نے مجھے تکلیف پہنچائی اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی اس نے اللہ کو تکلیف دی اور اس کا پورا خطرہ ہے کہ (اللہ) ایسے شخص کو (دنیا و آخرت میں) مبتلا عذاب کر دے ۔ حدیث کا مطلب ترجمہ ہی سے واضح ہے کہ آئندہ آنے والی نسلیں صحابہ کرامؓ کے بارے میں احتیاط سے کام لیں ، ان کی تکریم و تعظیم اور ان کے حقوق کی ادائیگی کا لحاظ رکھیں ۔ کسی قسم کی بے توقیری ان کے بارے میں نہ کریں ورنہ دنیوی یا اخروی عذاب کا خطرہ ہے ۔ پھر یہ بھی ملحوظ رہے کہ صحابیت کے اس شرف میں تمام صحابہ کرامؓ شریک ہیں خواہ وہ اپنے زمانہ کفر میں اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کتنے ہی مخالف کیوں نہ رہے ہوں اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی کتنی ہی مخالفت بلکہ دل آزاری اور ایذار رسانی ہی کیوں نہ کی ہو ، اس سلسلے میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد پڑھ لیجئے ۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ فى هذا الامر كرههم. ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم لوگ اسلام کے معاملہ میں بہترین شخص ایسے شخص کو پاؤ گے جو اسلام قبول کرنے سے پہلے اسلام کا انتہائی مخالف رہا ہو ۔ له قبل ان يقع فيه(2) صحابہ کرام میں اس حدیث کی تائید میں بےشمار مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں ۔ حضرت عمر فاروقؓ اس کی سب سے واضح مثال ہیں ، اسی طرح حضرت عمرو بن العاص ، حضرت ثمامہ بن اثال اور بہت سے صحابہ کرام کے نام بطور مثال بیش کئے جا سکتے ہیں جن کی زمانہ کفر میں اسلام دشمنی اور اسلام لانے کے بعد آپ اور اسلام سے محبت دونوں حد انتہا کو پہنچتی ہوئی تھیں ۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے اپنی دونوں حالتیں خود ذکر کی ہیں ۔ فرماتے ہیں کہ زمانہ کفر میں کوئی شخص بھی میرے مقابلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بغض رکھنے والا نہیں تھا اور میری آخری درجہ کی خواہش تھی کہ کبھی موقع مل جائے تو میں آپ کو شہید کر دوں لیکن اسلام لانے کے بعد میری یہ حالت ہو گئی کہ آپ سے زیادہ محبوب میری نظر میں کوئی نہ تھا اور میرے دل میں آپ کی عظمت و جلالت کا یہ حال تھا کہ میں نظر بھر کر آپ کو دیکھ بھی نہ سکتا تھا ۔ (1) حضرت ثمامہ بن اثال نے) بھی ایمان لانے کے بعد تقریباً انہی الفاظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے قلبی جذبات کا اظہار کیا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایمان لانے سے پہلے سب سے زیادہ مبغوض شخص میری نگاہ میں آپ تھے اور اب کوئی بھی آپ سے زیادہ محبوب نہیں اسی طرح ایمان لانے سے پہلے آپ کا دین تمام ادیان میں سب سے زیادہ مبغوض تھا اور اب تما دینوں میں سب سے زیادہ محبوب دین ہے ۔ پہلے آپ کے وطن مدینہ سے بےحد نفرت تھی اور اب میری نگاہ میں مدینہ طیبہ سب سے زیادہ محبوب شہر ہے ۔ (2) عام صحابہ کرامؓ کے فضائل و مناقب کی احادیث کتب حدیث میں بڑی کثرت سے نقل کی گئی ہیں یہاں خوف تطویل مانع ہے ورنہ اور بھی روایات نقل کی جا سکتی ہیں ۔

【134】

فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ سب سے بہتر کس زمانے کے لوگ ہیں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں ، پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ اور پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ ۔ تشریح حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نبوت کے دوسرے سال ہی ایمان لے آئے تھے ، ان کو بچپن ہی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انس و محبت اور قریبی تعلق تھا ۔ چچا ہونے کے علاوہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی بھائی بھی تھے ، دونوں کو ابو لہب کی باندی ثویبہ نے دودھ پلایا تھا ، (3) علاوہ ازیں آپ کی والدہ اور حضرت حمزہؓ کی والدہ حقیقی چچازاد بہنیں بھی تھیں ۔ (4) پھر عمر میں بھی حضرت حمزہ دو چار سال ہی بڑے تھے ، ان مختلف وجوہات سے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت محبت اور تعلق خاطر تھا ۔ اور بظاہر یہی محبت و تعلق خاطر ان کے اسلام لانے کا سبب بن گیا ، وہ شکاری تھے ۔ ایک دن شکار کھیل کر آئے تو باندی نے خبر دی کہ آج ابو جہل نے تمہارے بھتیجے محمد (ّ صلی اللہ علیہ وسلم) کو ان کے منہ پر بہت برا بھلا کہا ہے وہ فوراً ابو جہل کے پاس پہنچے اور اس کی گستاخی پر اپنی شدید ناگواری کے اظہار کے ساتھ اپنے ایمان لانے کا بھی اظہار کر دیا ، پھر اس دن سے زندگی بھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نبھایا ، آپ کے مدینہ طیبہ ہجرت فرمانے پر خود بھی مدینہ آ گئے اور آکر غزوہ احد میں شہید ہوئے ۔ حضرت حمزہؓ اہل مکہ کی نظر میں بڑے معزز ، محترم ، باوقار اور شجاعت و دلیری میں ضرب المثل تھے ، اسی لئے ان کے اسلام لانے سے مشرکین مکہ کو بہت دھکا لگا ، اب وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذا رسانی میں کچھ محتاط ہو گئے ۔ (1) مشرکین نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خاندان بنی ہاشم کو شعب ابی طالب میں محصور ہونے پر مجبور کر دیا تھا حضرت حمزہؓ اس میں بھی آپ کے ساتھ تھے ، غزوہ بدر جو غزوات میں سب سے پہلا اور ممتاز ترین غزوہ ہے اس میں حضرت حمزہؓ نے شرکت فرمائی ہے ۔ (2) پھر دوسرے سال غزوہ احد میں بھی اپنی بہادری اور جانبازی کے جوہر دکھلائے ہیں ، اسی غزوہ میں وہ شہید ہو گئے ہیں ، لیکن شہادت سے پہلے وہ تیس یا اس سے بھی زیادہ کافروں کو قتل کر چکے تھے ۔ (3) ان کی شہادت کا واقعہ ان کے قاتل وحشی (جو بدر میں اسلام لے آئے تھے) کی زبانی سنئے : حضرت وحشیؓ نے اسلام لانے کے بعد بیان کیا کہ میں جبیر بن(4) مطعم کا غلام تھا اور جبیر کے چچا طعیمہ بن عدی کو حضرت حمزہؓ نے غزوہ بدر میں قتل کر دیا تھا ، میرے مالک جبیر نے مجھ سے کہا کہ اگر میرے چچا کے قاتل حمزہ کو قتل کر دو تو تم آزاد ہو ، میں چھوٹے نیزے کو پھینک کر مارنے میں ماہر تھا ، غزوہ احد میں میں ایک چٹان کے پیچھے چھپ کر بیٹھ گیا اور موقع کی تاک میں رہا مین نے دیکھا کہ حضرت حمزہؓ نے سباع بن عبدالعزی نامی ایک کافر کا تلوار کے ایک وار ہی میں کام تمام کر دیا ۔ میں انتظار میں رہا جیسے ہی حضرت حمزہؓ میری زد میں آئے میں نے اپنا نیزہ ان کی طرف پھینک کر مارا جو ان کے ناف کے نیچے لگا اور آر پار ہو گیا ۔ (5) فضائل حضرت حمزہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ، رضاعی اور خالہ زاد بھائی اور آپ کے مشہور صحابی ہیں ، غزوہ احد میں شہادت سے سرفراز ہوئے اور زبان نبوت سے سید الشہداء کا لقب پایا ۔ (6) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اسد اللہ کا خطاب دیا ۔ (7) ان کی شہادت کے بعد مشرکین مکہ نے ان کا مثلہ کیا تھا اور اعضا جسم کو کاٹ ڈالا تھا ۔ (8) غزوہ احد کے خاتمہ پر جب تجہیز و تکفین کا مرحلہ پیش آیا تو حضرت حمزہؓ کی بہن صفیہؓ بنت عبدالمطلب اپنے بھائی کے کفن کے لئے دو چادریں لے کر آئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خیال سے کہ صفیہؓ بھائی کا یہ حال دیکھ کر شاید صبر و ضبط نہ کر سکیں ، حضرت صفیہؓ کے صاحبزادہ زبیرؓ کو بھیجا کہ اپنی ماں کو منع کریں کہ حضرت حمزہؓ کو نہ دیکھیں ، پہلے تو وہ باز نہ آئیں لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم ہے تو باز آ گئیں ، دو چادریں جو بہن اپنے بھائی کے کفن کے لئے لائی تھیں ان میں سے بھی بھائی کو ایک ہی مل سکی اس لئے کہ حضرت حمزہؓ کے پاس ہی ایک انصاری صحابی شہید پڑے ہوئے تھے ، ایک چادر ان کو دے دی گئی اور حضرت حمزہؓ کو صرف ایک چادر میں کفن دیا گیا جو اتنی چھوٹی تھی کہ سر ڈھکتے تو پاؤں کھل جائے ، اور پاؤں ڈکھتے تو سر کھل جاتا ، آخر سر کو چادر سے ڈھک کر پاؤں پر اذخر نامی گھاس ڈال دی گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حمزہؓ کی شہادت پر غیر معمولی صدمہ ہوا تھا ۔ آپ نے فرمایا کہ اگر صفیہؓ کے رنج و غم کا خیال نہ ہوتا تو میں حمزہؓ کو ایسے ہی بےگور و کفن چھوڑ دیتا ، تا کہ روز قیامت و ہ درندوں اور پرندوں کے پیٹ سے نکل کر اللہ کے حضور میں حاضر ہوتے ۔ (1) حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ غزوہ احد کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی روحوں کو سبز رنگ کے پرندوں کے اندر رکھ دیا ہے ، وہ پرندے جنت کی نہروں میں پانی پیتے اور اس کے پھلوں کو کھاتے ہین عرش رحمانی کے نیچے (ان کے گھونسلوں کے لئے) سونے کی قندیلیں لٹکی ہوئی ہیں جن میں آرام کرتے ہیں ، انہوں نے اپنی اس خوش حالی اور آرام و راحت کی خبر اپنے دنیوی بھائیوں تک پہنچانے کی خواہش ظاہر کی تو اللہ تعالیٰ نے آیات کریمہ : وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ ﴿١٦٩﴾فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِم مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿١٧٠﴾ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّـهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّـهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ (آل عمران آیت نمبر ۱۶۹ تا نمبر ۱۷۱) ترجمہ : اور تم ان لوگوں کو جو اللہ کے راستہ میں شہید ہو گئے ہیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے پاس کھاتے پیتے ہیں ۔ وہ اللہ کی عنایات پر بےانتہا خوش ہیں اور (اس پر بھی) خوش ہوتے ہیں کہ ان کے پسماندگان کو نہ خوف ہے نہ غم ، وہ خوش ہیں اللہ کی نعمت اور فضل و کرم پر اور اس پر بھی کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے اجر کو ضائع نہیں فرماتا ۔ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباسؓ عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو سال بڑے تھے لیکن عمر کے اس فرق کو واضح کرنے کے لئے وہ یہ نہیں کہتے تھے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا ہوں ، بلکہ جب کوئی سوال کرتا کہ آپ بڑے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو وہ جواب میں کہتے کہ هو اكبر وانا ولدت قبله (2) یعنی بڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں ہاں پیدا پہلے میں ہوا تھا ۔ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت تعلق خاطر تھا ۔ مسلمان ہونے سے پہلے بھی آپ کی حمایت کرتے تھے ۔ نبوت کے بارہویں سال مدینہ طیبہ کے ایک گروہ نے مکہ معظمہ کے قریب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر اسلام کی بیعت کی تھی ، اس موقع پر حضرت عباسؓ جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے موجود تھے انہوں نے اہل مدینہ سے کہا تھا کہ یہ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) تم کو لوگوں کے یہاں جانا چاہتے ہیں اگر تم لوگ مرتے دم تک حمایت کا دم بھرتے ہو تب تو بہتر ہے ورنہ ابھی سے جوابدے دو ۔ (1) غزوہ خیبر کے فوراً بعد حجاج بن علاطؓ نامی صحابی نے جن کا اسلام اہل مکہ کے علم میں نہ تھا ، اپنی ایک مجبوری اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے مکہ آ کر یہ ذکر کر دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر میں بری طرح شکست کھا گئے ہیں یہ اطلاع جب حضرت عباسؓ کو ہوئی تو بےقرار ہو گئے اور گھبرائے ہوئے حجاج بن علاطؓ کے پاس آئے ۔ حضرت حجاجؓ نے خاموشی سے انہیں آپ کی فتح یابی کی خبر دی اور اپنی مجبوری بتلائی جس کی بنا پر انہوں نے یہ خبر پھیلائی تھی ۔ تب جا کر حضرت عباسؓ کو اطمینان نصیب ہوا ۔ (2) حضرت عباس دراز قد ، وجیہہ و باوقار ، انتہائی حلیم و بردبار اور بلند آواز تھے ۔ سربراہی اور سیادت کے تمام اوصاف آپ کے اندر پائے جاتے تھے ۔ زمانہ جاہلیت میں سقایۃ الحاج (حجاج کرام کو پانی پلانے) اور عمارۃ المسجد (مسجد حرام کا اہتمام و انصرام) کی ذمہ داری (جو بڑے اعزاز کی بات سمجھی جاتی تھی) ان کے ہی ذمہ تھی ، (2) غزوہ بدر کے موقع پر مشرکین مکہ کے ساتھ مجبوراً آئے ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں صحابہؓ کو یہ حکم دیا تھا کہ ان کو قتل نہ کیا جائے ، صحابہ کرامؓ نے ان کو قید کر لیا ، ان کے پاس اس وقت بیس (۲۰) اوقیہ (ایک وزن کا نام ہے) سونا تھا ۔ جب بات فدیہ کی آئی تو حضرت عباسؓ نے آپ سے کہا کہ میں مسلمان ہو چکا ہوں ، آپ نے فرمایا الله اعلم بشانك ان يك ما تدعى حقا فالله يجزيك اما ظاهر امرك فقد كان علينا فافد نفسك. (4) ترجمہ : یعنی حقیقت حال تو اللہ جانے اگر تم اپنے دعوہ اسلام میں سچے ہو تو اللہ تم کو اس کا بدلہ عطا فرمائے گا ، رہا ہمارا معاملہ تو ہم تو ظاہر حال کے مطابق ہی عمل کریں گے لہذا فدیہ دیجئے ۔ اس پر حضرت عباسؓ نے کہا کہ یہ بیس (۲۰) اوقیہ سونا جو میرے پاس ہے فدیہ میں لے لیجئے ۔ آپ نے فرمایا یہ تو اللہ نے بطور غنیمت ہمیں عنایت ہی فرما دیا ہے آپ فدیہ کی ادائیگی کے لئے مکہ سے مال منگوائیے انہوں نے کہا کہ میرے پاس مکہ میں بھی اس کے سوا اور مال نہیں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مکہ سے روانہ ہوتے وقت آپ چچی کے حوالہ جو مال کر آئے تھے اسے منگوا لیجئے ۔ اس پر حضرت عباسؓ نے کہا کہ میں تو جانتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، اس مال کا علم میرے اور آپ کی چچی کے سوا کسی کو نہ تھا (5) اور واقعہ میں دو جگہ حضرت عباسؓ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ وہ پہلے سے ہی اسلام لا چکے ہیں ، اسی لئے بعض سیرت نگار یہ لکھتے ہیں کہ وہ غزوہ بدر کے معاً بعد اسلام لائے اور اہل مکہ سے اپنے اسلام کو چھپاتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اہل مکہ کی خبریں بھیجتے رہتے تھے ۔ (1) اگر اس وقت ان کا مسلمان ہونا تسلیم نہ کیا جائے تب بھی بہرحال یہ تو طے ہی ہے کہ وہ فتح مکہ سے پہلے ہی اسلام لا چکے تھے ، اسی وجہ سے وہ ابو سفیان بن حرب کو اپنی پناہ میں لے سکے تھے اور اسی لئے وہ طلقاء مکہ میں بھی شمار نہیں ہوتے ہیں ، طلقاء مکہ ان لوگوں کو کہتے ہیں جو فتح مکہ کے موقع پر ایمان لائے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شان کریمی سے ان کو معاف فرما دیا تھا ۔ فضائل آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں اور آپ ہی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ : ايها الناس من اذى عمى فقد اذانى فانما عم الرجل صنوابيه. (1) ترجمہ : اے لوگو ! جس نے میرے چچا کو تکلیف پہنچائی اس نے مجھے تکلیف پہنچائی اس لئے کہ کسی بھی شخص کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا بہت احترام کرتے تھے اور صحابہ کرام بھی حضرت عباسؓ کی عظمت شان کے معترف تھے ، امام بغویؒ حضرت عباسؓ کے بارے میں لکھتے ہیں : كان العباس اعظم الناس عند رسول الله صلى الله عليه وسلم والصحابة يعترفون للعباس بفضله ويشاورونه ويأخذون رايه. (2) ترجمہ : حضرت عباسؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک عظیم ترین لوگوں میں شمار ہوتے تھے صحابہ کرام بھی ان کی فضیلت کے معترف تھی ، ان سے مشورہ کرتے اور ان کی رائے پر عمل کرتے تھے ۔ جیسا کہ ابھی گزر چکا ہے انہیں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑی محبت تھی ۔ غزوہ حنین میں ایک مواقع ایسا آیا کہ عام صحابہ کرام کے قدم اکھڑ گئے تھے اور آپ تقریباً تنہا رہ گئے تھے ، لیکن ایسے نازک وقت میں بھی حضرت عباس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ (3) ایک بار حضرت عمر فاروقؓ کے زمانہ خلافت میں قحط پڑ گیا تھا ، حضرت عمرؓ نے حضرت عباسؓ سے بارش کی دعا کرنے کی درخواست کی ، حضرت عباسؓ نے دعا کی اور اللہ نے باران رحمت نازل فرمائی ۔ (4) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عباسؓ اور ان کی اولاد کے لئے اہتمام سے دعا فرماتے تھے ، اسی سلسلہ کی ایک دعا کے الفاظ یہ ہیں : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْعَبَّاسِ وَوَلَدِهِ مَغْفِرَةً ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً لاَ تُغَادِرُ ذَنْبًا، اللَّهُمَّ احْفَظْهُ فِي وَلَدِهِ. (1) ترجمہ : اے اللہ عباسؓ اور ان کی اولاد کے تمام ظاہری و باطنی گناہ معاف فرما دیجئے اور اے اللہ ان لوگوں کی ایسی مغفرت فرما دیجئے جو کوئی گناہ باقی نہ رہنے دے ، اے اللہ عباسؓ کی حفاظت فرما ان کی اولاد کے بارے میں ۔ دعا کا مطلب تو ترجمہ سے ہی واضح ہے ، دعا کے آخری جملہ اللَّهُمَّ احْفَظْهُ فِي وَلَدِهِ کا مطلب بظاہر یہ ہو گا کہ ، اے اللہ حضرت عباس کی حفاظت فرما کر ان سے اپنی اولاد کے سلسلہ میں بھی کوئی غلط کام نہ ہو پائے ۔ اللہ تعالیٰ نے بدر کے قیدیوں کے سلسلے میں فرمایا تھا ۔ إِن يَعْلَمِ اللَّـهُ فِي قُلُوبِكُمْ خَيْرًا يُؤْتِكُمْ خَيْرًا مِّمَّا أُخِذَ مِنكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ (2) (سورہ انفال آیت نمبر ۷۰) ترجمہ : یعنی اس وقت تو فدیہ ہی دینا ہے ، لیکن اگر تمہارے دلوں میں ایمان ہو گا تو تم کو اس فدیہ کے مال سے بہتر مال بھی ملے گا اور اللہ تعالیٰ گناہ بھی معاف فرما دے گا ۔ حضرت عباسؓ فرماتے ہیں کہ جو مال مجھ سے بطور فدیہ لیا گیا تھا ۔ اللہ نے مجھے اس مال سے بہت زیادہ مال بھی عطا فرمایا اور مجھے امید ہے کہ میرا اللہ آخرت میں بھی میرے ساتھ مغفرت کا معاملہ فرمائے گا ۔ اولاد حضرت عباسؓ کیاولاد مین چھ بیٹے فضلؓ ، عبداللہؓ ، عبیداللہؓ ، قثمؓ ، عبدالرحمٰنؓ اور معبدؓ تھے ۔ ایک بیٹی ام حبیبؓ تھیں ۔ فضلؓ سب سے بڑے تھے ۔ عبداللہؒ سب سے زیادہ مشہور اور ذی علم ہوئے ہیں ۔ وفات حضرت عباسؓ کی وفات ۳۲ھ میں حضرت عثمانؓ کے دور خلافت میں ہوئی ۔ اس وقت ان کی عمر اسی سال سے متجاوز ہو چکی تھی ، غسل میں حضرت عثمانؓ ، حضرت علیؓ اور عبداللہ بن عباسؓ شریک تھے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادہ حبر الامۃ امام التفسیر و ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی ولادت ہجرت سے تین سال قبل ہوئی اپنے والد حضرت عباس اور والدہ ام الفضل رضی اللہ عنہما کے ساتھ فتح مکہ سے چھ پہلے ہجرت کر کے مدینہ طیبہ چلے آئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ان کی عمر کل تیرہ سال تھی ، ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کا موقع تو بہت کم ملا ، لین ذوق و شوق اور طلب علم نے اس کمی کی تلافی کر دی ۔ فضائل حضرت عباسؓ کے تذکرہ میں یہ بات گذر چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور ان کی اولاد کے لئے دعا فرمائی تھی ، خاص طور پر حضرت عبداللہ بن عباسؓ کو علم و حکمت تفقہ فی الدین اور علم تفسیر قرآن کی جو دعائیں زبان نبوت سے ملی ہیں ، ان کی مثال اور کہیں مشکل سے ملے گی ۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ خود رواوی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء تشریف لے گئے میں نے آپ کے تشریف لانے سے پہلے ہی وضو کے لیے پانی بھر کر رکھ دیا ۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ پانی کس نے رکھاہے ، میں نے عرض کیا میں نے رکھا ہے ، آپ نے میرے لئے دعا فرمائی ۔ اللهم! فقهه في الدين (1) ترجمہ : اے اللہ ان کو تفقہ فی الدین عطا فرما ۔ یہ روایت مسلم کی ہے ، بعض دوسری روایتوں میں اللهم! فقهه في الدين کے ساتھ وعلمه التأويل کا (1) اضافہ بھی ہے ، یعنی تفقہ فی الدین کے ساتھ قرآن کی تفسیر کا علم بھی عطا فرما دیجئے ، ترمذی کی روایت میں ہے ، ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپ نے مجھے اپنے سینہ مبارک سے چمٹا لیا اور دعاس فرمائی اللهم علمه الحكمة (3) اے اللہ ان کو حکمت یعنی دین کا صحیح علم عطا فرما ۔ اسی مضمون کی دعائیں الفاظ کے کسی قدر فرق کے ساتھ حدیث و سیرت کی متعدد کتابوں میں مذکور ہیں ، انہیں دعاؤں کا نتیجہ تھا کہ اکابر صحابہ کرام بھی آپ کو حبر الامہ ، ترجمان القرآن ، بحر العلم ، امام التفسیر جیسے الفاظ سے یاد کرتے تھے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں : نعم ترجمان القرآن ابن عباس لو ادرك اسناننا ما عاشره منا احد. (4) ترجمہ : ابن عباسؓ بہترین مفسر قرآن ہیں ، اگر وہ ہم لوگوں کی عمر پاتے ہم میں سے کوئی بھی ان کے مساوی نہ ہو سکتا تھا ۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ما رأيت أحدا أحضر فهما ولا ألب لبا ولا أكثر علما ولا أوسع حلما من ابن عباس! لقد رأيت عمر بن الخطاب يدعوه للمعضلات فيقول: قد جاءتك معضلة، ثم لا يجاوز قوله، وإن حوله لأهل بدر. (5) ترجمہ : یعنی میں نے عبداللہ بن عباسؓ سے زیادہ حاضر دماغ ، عقلمند ، صاحب دعلم اور حلیم و بردبار شخص نہیں دیکھا (اس کے بعد حضرت سعد بن ابی وقاصؓ فرماتے ہیں کہ) حضرت عمرؓ مشکل مسائل کو حل کرنے کے لئے ابن عباسؓ کو بلاتے اور کہتے ایک مشکل مسئلہ پیش آ چکا ہے ۔ پھر ان کے قول کے مطابق ہی عمل کرتے حالانکہ ان کی مجلس میں بدری صحابہ بھی موجود ہوتے تھے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، ان کے بارے میں فرماتے ہیں : ذالك فتى الكهول له لسان سئول وقلب عقول. (1) ترجمہ : یہ ایسے نوجوان ہیں جنہیں پختہ عمر لوگوں کا فہم و بصیرت حاصل ہے ، ان کی زبان علم کی جویا اور قلب علم کا محافظ ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے جب کوئی مسئلہ پوچھتا تو کہتے ابن عباسؓ سے پوچھو ھو اعلم الناس بما انزل علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم وہ قرآن کے سب سے بڑے عالم ہیں ۔ (2) اسی لئے حضرت عمرؓ ان کو اکابر صحابہ کرام کے ساتھ بٹھایا کرتے تھے ۔ ان کے اس بلند مقام تک پہنچنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی توجہات اور عنایات کے علاوہ ان کی طلب اور ذوق و شوق کو بھی بڑا دخل تھا ، اور ظاہر ہے یہ ذوق و طلب بھی آپ کی دعاؤں ہی کا نتیجہ تھا وہ خود اپنے ذوق و شوق اور طلب علم کا حال ذکر کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد میں نے ایک انصاری صحابی سے کہا آؤ صحابہ کرام سے علم حاصل کر لیں ابھی تو وہ لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں ، ان صحابی نے کہا ابن عباسؓ مجھے تم پر تعجب ہوتا ہے کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ کبھی ایسا وقت بھی آئے گا کہ لوگ تحصیل علم کے لئے تمہارے محتاج ہوں گے ۔ ابن عباسؓ کہتے ہیں ان کا جواب سن کر میں نے انصاری صحابی کو چھوڑ دیا اور خود اکابر صحابہکرام کے پاس جا جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور دین کا علم حاصل کرنا شروع کر دیا ، اس سلسلہ میں کبھی ایسا بھی ہوا کہ مجھے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث فلاں صحابی کے پاس میں ان کے گھر پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہ قیلولہ کر رہے ہیں ، یہ سن کر میں نے چادر بچھائی اور ان کے دروازہ کی چوکھٹ پر سر رکھ کر لیٹ گیا ، ہواؤں نے میرے سر اور جسم پر گرد و غبار لا کر ڈال دیا اتنے میں وہ صحابی نکل آئے اور مجھے اس حال میں دیکھ کر کہا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی ہیں ، آپ مجھے بلا لیتے میں حاضر ہو جاتا آپ نے کیوں زحمت فرمائی میں نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ہے میں وہ حدیث آپ سے حاصل کرنے آیا ہوں اور اس کام کے لئے میرا آنا ہی زیادہ مناسب ہے ۔ کہتے ہیں میری طالب علمی کا یہ سلسلہ جاری رہا وہ انصاری صحابی مجھے دیکھتے رہے ، آخر ایک وقت ایسا آیا کہ اکابر صحابہ کرامؓ دنیا سے رخصت ہو گئے اور لوگ طلب علم کے لئے میرے پاس آنے لگے اب وہ انصاری صحابی کہتے ہیں ، یہ نوجوان مجھ سے زیادہ عقلمند نکلا ۔ (3) طلب علم میں ان کے یہاں قناعت پر عمل نہ تھا ایک ایک حدیث کو حاصل کرنے کے لئے کئی کئی صحابہ کرامؓ سے ملتے ، فرماتے ہیں کہ : ان كنت لا سأل عن الامر الواحد ثلاثين من اصحاب النبى صلى الله عليه وسلم. (1) ترجمہ : میں ایک حدیث یا ایک مسئلہ کو تیس (۳۰) تیس صحابہ کرامؓ سے معلوم کرتا تھا ۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی تعداد سے قرآن مجید کی تفسیر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث حاصل کی ہیں جن صحابہ کرام سے انہوں نے روایات لی ہیں ان کی تعداد بہت ہے اور جن تابعین نے ان سے روایات نقل کی ہیں وہ بھی بڑی تعداد میں ہیں ۔ ان کا شمار ان چھ (۶) سات (۷) صحابہ کرام میں ہے جن کو مکثرین فی الحدیث کہا جاتا ہے ۔ ان کی روایات کردہ احادیث کی تعداد ۶۶ یا اس سے بھی زیادہ ہے ۔ (2) وہ اپنی عمر کے اعتبار سے اگرچہ بڑے صحابہ کرامؓ کی صف میں نہیں ہیں ۔ لیکن اپنے علم کے اعتبار سے ان کا شمار بڑے درجہ کے صحابہ کرامؓ میں ہوتا ہے ۔ حضرت مجاہد تابعیؒ کہتے ہیں کہ ابن عباسؓ کو ان کے علم کی وجہ سے لوگ بحر العلوم کہتے تھے ۔ حضرت طاؤسؒ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے زیادہ صاحب علم نہیں دیکھا ، صحابہ کرام میں اگر کسی علمہ مسئلہ میں اختلاف ہوتا تو آخر میں فیصلہ ابن عباسؓ کے قول پر ہوتا ۔ (3) وہ بہت ہی حسین و جمیل اور وجیہہ تھے ۔ ۶۸ھ میں طائف میں وفات پائی ۔ حضرت محمد بن الحنفیہ (جو حضرت علیؓ کے صاحبزادے ہیں) نے نماز پڑھائی اور کہا ۔ اليوم مات ربانى هذه الامة. (4) ترجمہ : آج اس امت کا ایک اللہ والا چلا گیا ۔ حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب کے صاحبزادے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بڑے بھائی حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ ، بالکل ابتداء اسلام ہی میں شرف اسلام و صحابیت سے مشرف ہونے والی خوش نصیب و بلند مرتبت صحابہ کرام میں ہیں ۔ (5) وہ عمر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دس سال بڑے ہیں ۔ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ محترمہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بھی اسلام کے ابتدائی دور ہی میں مشرف بہ اسلام ہو گئی ہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سب بہن بھائی اور ان کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا بھی جلد ہی ایمان لانے والے حضرات صحابہ کرام میں شامل ہیں ۔ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ ، حضرت علی رضی اللہ عنہ ، سے دس سال بڑے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیس سال چھوٹے ہیں ۔ (1) اسلام کے ابتدائی دور میں چند صحابہ کرام مشرکین مکہ کے ظلم و ستم اور ایذار رسانیوں سے تنگ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے ملک حبشہ کو ہجرت کر گئے تھے ۔ حبشہ کا بادشاہ نجاشی اگرچہ عیسائی مذہب کا تھا لیکن سلامتی مزاج اور وسعت قلبی بتوفیق خداوندی نصیب تھی ۔ اس لئے مسلمانوں کو وہاں کچھ سکون محسوس ہوا ۔ یہ حبشہ کی پہلی ہجرت تھی ، اس کے بعد صحابہ کرام کی ایک بڑی جماعت (جس کے شرکاء کی تعداد تقریباً نو سو (۹۰۰) بتلائی جاتی ہے) نے دوسری ہجرت اسی ملک حبشہ کو کی ، اس جماعت میں حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بھی تھیں ۔ جب یہ لوگ بھی حبشہ پہنچ گئے تو مشرکین مکہ نے ایک نمائندہ وفد کثیر اور گرانقدر تحائف کے ساتھ حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی خدمت میں بھیجا ۔ وفد نے درجہ بدرجہ درباری علماء اور احکام کو ہدایا اور تحائف پیش کر کے اپنا ہمنوا بنا لیا اور بادشاہ تک رسائی حاصل کر لی ، پھر بادشاہ سے اپنا مقصد بایں الفاظ عرض کیا : “ہمارے شہر مکہ کے کچھ نوجوانوں نے ایک نیا مذہب ایجاد کر لیا ہے جو باعث فتنہ و شر ہے ، ان میں سے کچھ لوگ بھاگ کر آپ کے یہاں آ گئے ہیں ، ہم اپنے قوم کے ذمہ دار لوگوں کی یہ درخواست لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں کہ ان لوگوں کو ہمارے حوالہ کر دیا جائے ۔ رشوت کھائے ہوئے درباری علماء و حکام نے اس بات کی تائید کی اور کہا کہ ان لوگوں کو ملک نے نکال دیجئے اور ان کی قوم کے حوالہ کر دیجئے ، لیکن نجاشی نے صورت حال معلوم کرنے کے لئے ان مہاجرین کو بلا بھیجا ، ان حضرات نے بادشاہ سے بات کرنے کے لئے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کا انتخاب کیا ، جب یہ حضرات بادشاہ کے دربار میں پہنچے تو بادشاہ نے ان سے سوال کیا کہ ۔ “وہ کون سا دین تم لوگوں نے ایجاد کر لیا ہے ، جس کی وجہ سے تم نے اپنے آباء و اجداد کے دین کو بھی چھوڑ دیا ہے اور ادیان سابقہ میں سے بھی کوئی دین اختیار نہیں کیا ہے” ۔ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بادشاہ کے سامنے ایک نہایت فصیح و بلیغ خطبہ دیا اور کہا ۔ بادشاہ ! ہم لوگ جاہل تھے ، بت پرستی کرتے اور مردار کھاتے تھے ، فواحش کا ارتکاب کرتے اور قطع رحمی کرتے ہمسایوں کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہم میں کے طاقتور کمزوروں اور ضعیفوں کا استحصال کرتے تھے ، اسی اثناء میں اللہ نے ہم میں ایک پیغمبر مبعوث فرمایا جس کی نجابت و شرافت ، حق گوئی و امانتداری اور پاکدامنی کے ہم سب پہلے ہی سے معترف تھے اللہ کے ان پیغمبر نے ہمیں صرف اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دی اور ہم سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ہم اپنے اور اپنے آباء و اجداد کے خود ساختہ بتوں کی عبادت ترک کر دیں ، انہوں نے ہم کو سچ بولنے ، امانتوں کو ادا کرنے ، صلہ رحمی کرنے اور ہمسایوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ۔ ان کی تعلیمات میں یہ بھی ہے کہ ہم ہر طرح کی برائیوں اور فحاشیوں سے پرہیز کریں ، ایک دوسرے کا خون نہ بہائیں ، جھوٹ بولنے یتیم کا مال کھانے ، پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے سے اجتناب کریں ، انہوں نے ہمیں توحید خالص کی دعوت دی ار روزہ نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم دیا ۔ بادشاہ سلامت ! ہم نے ان پیغمبر کی اور ان کی دین کی تصدیق کی اور ان پر ایمان لے آئے ۔ بس ہمارا جرم یہی اور صرف یہی ہے اور اسی وجہ سے ہماری قوم ہماری دشمن ہو گئی اس نے ہمیں انتہائی سخت تکلیفیں اور اذیتیں پہنچائیں کہ ہم اپنے آسمانی دین کو ترک کر کے پھر بت پرستی اور دین جاہلیت کو اختیار کر لیں ۔ ان لوگوں کے ظلم و ستم اور ایذا رسانی سے تنگ آ کر ہم لوگ آپ کے ملک آ گئے ہیں ، ہمیں امید ہے کہ یہاں ہم اطمینان و سکون کے ساتھ اپنے دین پر قائم رہ سکیں گے ۔ حضرت جعفرؓ کی بات ختم ہونے پر بادشاہ نجاشی نے کہا ، کیا تمہارے پاس تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل ہونے والی کتاب کا کچھ حصہ بھی ہے ، حضرت جعفر رضی اللہ عنہ ، نے سورہ مریم کی ابتدائی آیات کی تلاوت کی ، ابھی چند آیات ہی کی تلاوت کی تھی کہ بادشاہ نے رونے لگا ، حتیٰ کے اس کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو گئی اور اس نے کہا بخدا یہ کلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والا کلام ایک ہی نور کے پر تو ہیں اس کے بعد اس نے اہل مکہ کے وفد سے کہا تم لوگ چلے جاؤ یہ حضرات یہیں رہیں گے میں ان کو تمہارے حوالہ ہرگز نہیں کروں گا ۔ اہل مکہ کے وفد نے ابھی ہمت نہیں ہاری اور دوسرے دن بادشاہ سے مل کر یہ شکایت کی کہ یہ لوگ حضرت عیسیٰ ابن مریم کے بارے میں بھی خوش عقیدہ نہیں ہیں ، بلکہ ان کے بارے میں نامناسب رائے رکھتے ہیں بادشاہ ، نے پھر ان مہاجرین صحابہ کرامؓ کو بلوا بھیجا اور آنے پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ان کا عقیدہ معلوم کیا ، حضرت جعفرؓ نے پوری صراحت کے ساتھ کہا ۔ “انه عبدالله وروحه وكلمته القاها الى مريم” وہ اللہ کے بندے ، اس کی روح اور کلمۃ اللہ ہیں ۔ یہ سن کر نجاشی نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور کہا واللہ عیسیٰ ابن مریم اس تعریف و توصیف سے اس تنکے بھر بھی زیادہ نہیں ہیں ، اس نے مشرکین کے وفد کو اپنے دربار سے نکال دیا اور مسلمانوں کو ہر طرح امن و سکرن سے رہنے کا اطمینان دلایا ۔ (1) حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے ۵؁ھ نبوی یعنی نبوت کے پانچویں سال مکہ سے حبشہ کو ہجرت کی تھی اور ۷؁ھ میں فتح خیبر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ طیبہ حاضر ہوئے ۔ آپ نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر اپنے سینے سے لگا لیا پیشانی کو بوسہ دیا اور فرمایا “ما ادرى انا بقدوم جعفر اسرام، بفتح خيبر” (2) یعنی میں فیصلہ نہیں کر سکتا کہ مجھے جعفر کے آنے کی زیادہ خوشی ہے یا فتح خیبر کی ۔ ان کو مسجد نبوی کے قریب ہی مکان کے لئے جگہ عنایت فرمائی اور اپنے قریب تر رکھا ۔ ابھی مدینہ طیبہ آئے ہوئے صرف چند ماہ ہی گذرے تھے کہ ۸؁ھ میں غزوہ موتہ کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو لشکر روانہ کیا اس میں حضرت فعفر رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، موتہ مدینہ سے دور ملک شام کا ایک علاقہ ہے ۔ اس لشکر کا امیر حضرت زید بن حارثہؓ کو بنایا اور فرمایا زید اگر شہید ہو جائیں تو جعفر امیر ہیں اور اگر جعفر بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہؓ ، اور ان کی شہادت کی صورت میں وہاں مسلمان خود اپنا امیر منتخب کر لیں ۔ (1) ایسا ہی ہوا یہ سب حضرات یکے بعد دیگرے شہید ہوتے رہے اور ایک کے بعد دوسرا امیر بنتا رہا ۔ حضرت جعفرؓ کی شہادت کے بعد حضرت عبداللہ بن رواحہؓ نے ان کو دیکھا تو ان کے جسم پر نوے ۹۰ سے بھی زیادہ زخم تھے ۔ (2) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی ان حضرات کی شہادت کی اطلاع ملی گئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو بھی اس کی خبر دے دی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان لوگوں کی شہادت کا بہت ہی غم ہوا تھا ۔ (3) فضائل حضرت جعفرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بان العم اور سابقین اولین میں ہیں بعض حضرات نے لکھا ہے کہ ان سے پہلے صرف اکتیس ۳۱ شخڈ ہی مسلمان ہوئے تھے ۔ (4) انہوں نے ۵ نبوی میں مع اپنی زوجہ محترمہ حضرت اسماء بنت عمیس کے ہجرت کی اور تقریبا چودہ سال دین کی خاطر اپنے وطن اور اپنوں سے دور دیار غیر میں گذارے پھر وہاں سے مدینہ طیبہ پہنچے اور چند ماہ کے بعد ہی غزوہ موتہ میں شہید ہو گئے ۔ ان کی شہادت سے پہلے جنگ میں ان کے دونوں ہاتھ کٹ گئے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جعفرؓ کے دونوں ہاتھوں کے بدلے ان کو دو بازو عنایت فرمائے ہیں جن سے وہ جنت میں جہاں چاہیں اڑتے پھرتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد حدیث و سیرت کی مختلف کتابوں میں الفاظ کے کسی قدر فرق کے ساتھ نقل کیا گیا ہے ۔ (5)اسی لئے ان کو جعفر طیار اور جعفر ذو الجناحین کہا جاتا ہے ۔ عبداللہ عمرؓ جب حضرت جعفرؓ کے بیٹے عبداللہ سے ملتے تو اس طرح سلام کرتے السلام عليكم يا ابن ذى الجناحين. (6) بنا کردند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را حضرت جعفر رضی اللہ عنہ ، غریبوں اور مسکینوں کا بہت خیال رکھتے تھے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جعفرؓ سے جب بھی کوئی بات دریافت کرتا وہ پہلے مجھے اپنے گھر لے جا کر کھانا کھلاتے ۔ پھر میری بات کا جواب دیتے ۔ وہ مساکین کے بارے میں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استثناء کے ساتھ) سب سے بہتر شخص تھے ۔ (7) اسی لئے ان کا لقب ابو المساکین پڑ گیا تھا ۔ وہ صورت و سیرت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتہائی مشابہ تھے ۔ خود زبان نبوت نے اس کی شہادت ان الفاظ میں مرحمت فرمائی ۔ اشبهت خلقى وخلقى. (1) ترجمہ : تمہاری شکل و صورت اور سیرت و کردار میری شکل و صورت اور سیرت و کردار کے بہت مشابہ ہے ۔ حبشہ کو ہجرت کرنے والے صحابہ کرامؓ کی یہ جماعت جب مدینہ طیبہ پہنچی ہے تو ایک دن حضرت جعفرؓ کی اہلیہ حضرت اسماء بنت عمیسؓ ام المومنین حضرت حفصہؓ کے یہاں بیٹھی ہوئی تھیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، تشریف لائے پوچھا کون ہیں ۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا اسماء بنت عمیسؓ ہیں ، حضرت عمرؓ نے (بظاہر بطور مزاح ہی) فرمایا ہم لوگ یعنی مکہ سے سیدھے مدینہ ہجرت کرنے والے تم لوگوں سے جو حبشہ رہ کر مدینہ آئے ہو ہجرت مدینہ میں مقدم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ حق دار ہیں ۔ حضرت اسماءؓ اس بات پر بہت خفا ہو گئیں ۔ پہلے تو خود حضرت عمرؓ کو خوب خوب سنائی ۔ انہوں نے کہا ، عمر ! تم نے غلط کہا واللہ تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تم میں اگر کوئی بھوکا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے کھلاتے دین سے کوئی ناواقف ہوتا تو آپ اسے وعظ و نصیحت کرتے اور ہم لوگ دور دراز ، ناپسندیدہ اور غیر مانوس ملک حبشہ میں غم و الم اور فکر و پریشانی میں مبتلا تھے ۔ اور یہ سباللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر تھا ۔ بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی حضرت عمرؓ کے اس طنز کی شکایت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر ، تم لوگوں کے مقابلہ میں میرے زیادہ حقدار نہیں ہیں ، ان کی اور ان کے ساتھیوں کی صرف ایک ہجرت ہے اور تم لوگوں کی تو دو ہجرتیں ہیں ۔ (2) شہادت کے وقت ان کی عمر اکتالیس سال تھی ۔ زمانہ قیام حبشہ میں تین بیٹے عبداللہ ، عون اور محمد پیدا ہوئے ۔ رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ ۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا تعلق قبیلہ بنی کلاب سے تھا ۔ یہ قبیلہ مکہ معظمہ سے دور کہین رہتا تھا ۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ بچپن میں اپنی والدہ اور ایک قول کے مطابق اپنے چچا کے ہمراہ ایک قافلہ کے ساتھ کہیں جا رہے تھے کہ ڈاکوؤں نے پورے قافلہ کو لوٹ لیا اور بچوں کو غلام بنا لیا ۔ پھر ان بچوں کو مکہ معظمہ کے قریب کسی بازار یا میلے میں لا کر فروخت کر دیا ۔ انہیں بچوں میں ایک بچہ زید نامی بھی تھا جسے مکہ کے ایک شخص حکیم بن حزام نے خرید لیا اور اپنی پھوپھی خدیجہ کو دے دیا ۔ یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت بلکہ حضرت خدیجہؓ کے آپ کی نکاح میں آنے سے بھی پہلے کا ہے ۔ اس وقت حضرت زید کی عمر تقریباً ۸ سال کی تھی ۔ حضرت خدیجہؓ نے اپنی شادی کے بعد یہ غلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ میں دے دیا ۔ آپ نے اس معصوم بچہ کو اتنے پیار و محبت سے وازا کہ یہ غلام بچہ اپنے ماں باپ کو بھول گیا ۔ ادھر ماں باپ کا اپنے بچے کے فراق میں برا حال تھا ، قبیلہ بنی کلاب کی کسی شخص نے جو حج کے لئے معظمہ آیا تھا ۔ مکہ میں زید کو دیکھا اور پہچان لیا ۔ پھر اپنے قبیلہ پہنچ کر ان کے والدین کو اس کی اطلاع کر دی کہ تمہارا بچہ مکہ میں ہے ۔ ان کے والد اور چچا ان کو لینے کے لئے مکہ آئے اور برائے فدیہ زر کثیر بھی اپنے ساتھ لائے ۔ یہاں پہنچ کر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رابطہ قائم کیا اور اپنی آمد کا مقصد عرض کر کے مال و دولت بطور فدیہ دینے کی پیشکش کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید کو بلایا اور فرمایا ان لوگوں کو پہچانتے ہو ۔اپنےو الد اور چچا کو انہوں نے پہچان لیا ۔ آپ نے ان لوگوں سے فرمایا ۔ اپنا مال اپنے پاس رکھو ۔ یہ زید ہیں اگر یہ تم لوگوں کے ساتھ جانا چاہیں انہیں اختیار ہے ۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ ، کو آپ کی ذات گرامی سے اتنا تعلق ہو گیا تھا کہ اپنے والد و چچا کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا ۔ حضرت زیدؓ کے اس عمل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا متاثر کیا کہ آپ حرم شریف تشریف لائے اور قریش کو گواہ بنا کر کہا کہ یہ زید آج سے میرا بیٹا ہے ۔ اور میں اس کا باپ ، یہ میرا وارث ہو گا ۔ اور میں اس کا اس دن سے لوگ ان کو زید بن محمد ہی کہا کرتے تھے ۔ پھر عرصہ کے بعد جب اسلامی قانون نے متبنی (منہ بولا بیٹا) بنانے کی جاہلی رسم کو ختم کر دیا تو یہ زید ، زید بن حارثہ کہلائے جانے لگے ۔ (1) بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ ان کے بھائی جبلہ بن حارثہ بھی ان کو لینے کے لئے آئے تھے اور انہوں نے حضرت زید پر کافی زور ڈالا لیکن وہ جانے کے لئے تیار نہیں ہوئے ، بعد میں ان کے بھائی نے کہا زید کی رائے میری رائے سے بہتر تھی ۔ (2) پھر جب اللہ تعالیٰ نے عالم انسانیت پر اپنا سب سے بڑا احسان فرمایا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں یہی زید ہیں ۔ (3) (جو ابھی تک زید بن محمد ہی کہلاتے تھے) اور ایمان لانے کے صلہ میں ہر ہر تکلیف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سہیم و شریک رہے ہیں ۔ وہ طائف کے مشہور سفر میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہجرت کے بعد بہت سے غزوات میں دین کے لئے جان کی بازی لگائی ہے ۔ اور آخر غزوہ موتہ میں شہادت سے سرفراز ہوئے ۔ زیدؓ جب شادی کے قابل ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زیدؓ کا نکاح اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے کرا دیا تھا ۔ لیکن یہ رشتہ زیادہ دن باقی نہ رہ سکا اور حضرت زیدؓ نے طلاق دے دی جس کا کسی قدر تفصیلی ذکر حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے تذکرہ میں گزر چکا ہے ۔ اس کے بعد آپ ہی نے ان کا دوسرا نکاح حضرت ام ایمنؓ سے کر دیا ۔ یہ آپ کے والد عبداللہ کی باندی تھیں اور ان کے انتقال پر آپ کی مملوکہ ہو گئی تھیں ۔ آپ نے ان کو آزاد کر دیا تھا ۔ انہیں سے حضرت زیدؓ کے صاحبزادے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے ہیں ۔ (4) فضائل حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ، کے فضائل و مناقب کا شمار مشکل ہے ۔ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ماں باپ سے بھی زیادہ محبت تھی ، اسی لئے انہوں نے اپنے والد اور چچا کے ساتھ آزاد ہو کر اپنے وطن جانے کے مقابلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غلام ہو کر رہنے کو ترجیح دی ، ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ان سے غیر معمولی تعلق تھا ۔ اسی لئے آپ نے ان کو اپنا متبنیٰ (منہ بولا بیٹا) بنا لیا تھا اور ان کی زندگی کا خاصلہ حصہ اسی طرح گزرا کہ صحابہ کرامؓ انہیں زید بن محمد ہی کہتے تھے ۔ حتیٰ کہ جب آیت کریمہ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ نازل ہوئی جس میں نسب کو اپنے اصل والد سے جوڑنے کا حکم ہے ۔ تب صحابہ کرامؓ نے زید بن حارثہ کہنا شروع کیا ۔ (1) اس آیت کے نزول کے بعد حضرت زید کا نسب تو اپنے والد حارثہ سے ہی جوڑ دیا گیا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک میں ان کی محبت بیٹے کی محبت ہی کی طرح رہی اور آپ اس محبت و تعلق کا اظہار صحابہ کرامؓ اور حضرت زیدؓ سے کرتے بھی تھے ۔ (2) حضرت زیدؓ اگر کبھی مدینہ سے باہر جاتے تو آپ بڑے اشتیاق سے ان کی آمد کے منتظر رہتے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی شفقت و محبت کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ زید بن حارثہؓ کہیں باہر سے مدینہ طیبہ آئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تشریف رکھتے تھے ۔ زید نے دروازہ کھٹکھٹایا (اور کسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم بھی ہو گیا کہ آنے والے زیدؓ ہی ہیں) آپ اتنی سرعت کی ساتھ ان کے استقبال کے لئے نکلے کہ آپ کی چادر جسم مبارک سے نیچے کھسک گئی ، اور آپ اسے گھسیٹتے ہوئے ہی باہر نکل گئے ۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں میں نے کبھی بھی آپ کو اس حالت میں باہر نکلتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ آپ نے ان کو گلے لگا لیا اور بوسہ دیا ۔ (3) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی بہادری اور قائدانہ صلاحیت پر بڑا اعتماد تھا ۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی حضرت زیدؓ کو کسی غزوہ میں بھیجا ہمیشہ لشکر کا امیر انہی کو بنایا (4) اور کبھی ایسا بھی ہوتا کہ آپ خود غزوہ میں تشریف لے جاتے تو مدینہ میں اپنا خلیفہ زیدؓ کو بنا کر جاتے ۔ شہادت ۸ھ میں غزوہ موتہ کے لئے جو لشکر آپ نے روانہ فرمایا تھا ، اس کا امیر حضرت زید بن حارثہؓ ہی کو بنایا تھا ۔ موتہ ملک شام میں ایک جگہ کا نام ہے ۔ مسلمانوں کا مقابلہ روم کی ٹڈی دل فوج سے ہوا ۔ حضرت زیدؓ نے انتہائی بہادری اور جوانمردی کے ساتھ جہاد کیا اور شہید ہو گئے آپ کو ان کی شہادت کی بہت تکلیف ہوئی ، اسی غزوہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی حضرت جعفرؓ اور عبداللہ بن رواحہؓ بھی شہید ہوئے ۔ حضرت زیدؓ کی شہادت کی خبر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : استغفروا لاخيكم قد دخل الجنة وهو يسعى. (1) ترجمہ : اپنے بھائی زید کے لئے دعاء مغفرت کرو وہ دوڑتے ہوئے جنت میں داخل ہو گئے ۔

【135】

فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ سب سے بہتر کس زمانے کے لوگ ہیں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں ، پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ اور پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ ۔ تشریح حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ، کے صاحبزادے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ ، کی ولادت ۳ نبوی یعنی بعثت کے تیسرے سال ہوئی ہے ۔ ان کی ولادت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت خوشی ہوئی ، اس لئے کہ ان کے والد حضرت زیدؓ اور والدہ حضرت ام ایمنؓ دونوں ہی آپ کو بہت عزیز تھے ، زید تو آپ کے آزاد کردہ غلام اور متبنیٰ تھے ہی ام ایمن بھی آپ ہی کی آزاد کردہ باندی تھیں ، انہوں نے آپ کو گود میں بھی کھلایا تھا اس لئے آپ کو ان سے محبت ہی نہیں احترام کا بھی تعلق تھا ۔ والدین سے یہ تعلق اور محبت حضرت اسامہؓ کی طرف بھی منتقل ہوا تھا ۔ فضائل حضرت اسامہؓ نے پورا بچپن آغوش نبوت ہی میں گزرا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق ان کے ساتھ بالکل ایسا تھا ، جیسے دادا کا اپنے پوتے کے ساتھ ہوتا ہے ۔ آپ انہیں اپنی گود میں لیتے اور ضرورت پڑنے پر اپنے دست مبارک سے ان کی ناک بھی صاف فرما دیتے ۔ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ناک صاف کرنے کے لئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا آپ رہنے دیجئے میں صاف کئے دیتی ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشة احبيه فانى احبه (2) عائشہ یہ بچہ مجھے محبوب ہے ۔ تم بھی اس سے محبت کیا کرو کبھی کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نواسے حضرت حسنؓ اور حضرت اسامہؓ کو پکڑ کر دونوں کے لئے یہ دعا کرتے ۔ اللهم احبهما فانى احبهما (3) اے اللہ یہ دونوں بچے مجھے محبوب ہیں آپ بھی انہیں اپنا محبوب بنا لیجئے۔ حضرت زیدؓ کے بیٹے حضرت اسامہؓ اور ان کی اہلیہ حضرت ام ایمنؓ آپ کے اہل خاندان ہی کی طرح تھے ، مکہ میں بھی اسی طرح رہے اور ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں بھی یہ تینوں حضرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتہائی قریبی لوگوں میں تھے ۔ اور صحابہ کرامؓ بھی ان تینوں کو آپ کے انتہائی مقرب اور معتمد علیہ لوگوں میں سمجھتے تھے ۔ ایک دفعہ ایک معزز خاندان کی ایک عورت نے چوری کر لی جس کی سزا کے طور پر آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ فرمایا ۔ اس کے خاندان کے لوگوں کے لئے یہ فیصلہ بہت تکلیف دہ اور رسوا کن تھا ۔ لیکن آپ سے کچھ بھی عرض کرنے کی ہمت کسی کو نہ ہوتی تھی ، بہت غور و فکر کے بعد ان لوگوں نے فیصلہ کیا کہ یہ کام اگر کوئی کر سکتا ہے تو اسامہ کر سکتے ہیں ، اس سلسلہ کی صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : فَقَالُوا: وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (4) ترجمہ : یعنی اس سفارش کی ہمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے اسامہ بن زیدؓ ہی کر سکتے ہیں ۔ اور پھر اسامہؓ نے سفارش کی بھی ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قبول نہیں فرمایا ۔ حدود خداوندی کے معاف کرنے کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار نہ تھا ۔ غزوہ احد کی وقت حضرت اسامہؓ بچے ہی تھے ۔ جہاد میں شریک ہونے کی تمنا تھی ، خود آپؓ سے آ کر اپنی خواہش کا اظہار کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس کر دیا ، غزوہ خندق میں ان کی عمر ۱۵ سال کی ہو چکی تھی ، اس بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی درخواست قبول فرما لی ، اس کے بعد تو کتنے ہی غزوات میں شریک ہوئے اور کتنے ہی غزوات میں امیر بنا کر بھیجے گئے ۔ غزوہ موتہ میں جس میں ان کے والد حضرت زیدؓ شہید ہوئے ہیں ، وہ اپنے والد کی سرکردگی میں شریک غزوہ ہوئے ہیں اور اپنی آنکھوں سے اپنے باپ کی شہادت دیکھی ہے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ کی بالکل آخر میں اسی علاقہ کو فتح کرنے کے لئے جو باپ کے ہاتھوں فتح نہ ہو سکا تھا ایک عظیم لشکر حضرت اسامہؓ کی سرکردگی میں بھیجا ، اس لشکر میں حضرت ابو بکرؓ ، حضرت عمرؓ ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ جیسے جلیل القدر صحابہ کرامؓ تھے ۔ (1) اس وقت حضرت اسامہؓ کی عمر کل ۲۰ سال تھی ، بعض حضرات کو اس پر اشکال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ «إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ طَعَنْتُمْ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ، وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ كَانَ خَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ» ترجمہ : یعنی اگر تمہیں اسامہ کی امارت پر اشکال ہے تو تم تو ان کے باپ زید کی امارت پر بھی اشکال کر چکے ہو ، حالانکہ واللہ وہ امارت کے بھی اہل تھے اور واللہ مجھے انتہائی محبوب بھی تھے ۔ اسی طرح یہ اسامہ بھی واللہ امارت کے اہل ہیں اور مجھے انتہائی محبوب بھی ہیں ۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میں فَأُوصِيكُمْ بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ صَالِحِيكُمْ کا اضافہ بھی ہے یعنی میں تم لوگوں کو اسامہ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں ، اس لئے کہ وہ تم لوگوں کے صالحین میں سے ہیں ۔ ابھی یہ لشکر مدینہ طیبہ سے کچھ دور ہی گیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض وفات شروع ہو گیا اور اس کی سنگینی کی اطلاع لشکر میں شریک صحابہ کرامؓ کو ہو گئی ، جس کی وجہ سے یہ لشکر مدینہ واپس آ گیا ، جب واپس آ کر حضرت اسامہؓ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں تو آپ کا بولنا بند ہو چکا تھا ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ حضرت اسامہؓ پر رکھتے اور پھر دعا کرنے کے انداز میں آسمان کی طرف اٹھاتے تھے ، حضرت اسامہؓ کہتے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ آپ میرے لئے دعا فرما رہے تھے ۔ (1) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اسلام اور مسلمانوں کے لئے انتہائی تشویشناک حالات پیدا ہو گئے تھے ۔ صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی تعداد اس حق میں تھی کہ فی الحال یہ لشکر روانہ نہ کیا جائے ، اور اگر روانہ کرنا ضروری ہی ہے تو کسی تجربہ کار اور سن رسیدہ شخص کو امیر بنایا جائے لیکن حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس لشکر کے بارے میں کسی بھی تبدیلی کو قبول نہیں فرمایا لشکر روانہ ہوا اور اسامہ بن زیدؓ کی سرکردگی اور امارت ہی میں روانہ ہوا اور پھر الحمدللہ بہت ہی کامیاب اور سالماً غانماً واپس آیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے حضرات صحابہ کرامؓ سے بہت محبت کرتے تھے ، حضرت عمر فاروقؓ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں بیت المال سے صحابہ کرامؓ کے وظائف مقرر فرمائے تھے ، اس میں مراتب کے لحاظ سے کمی بیشی کی تھی ۔ اپنے بیٹے عبداللہ بن عمرؓ کا وظیفہ تین ہزار درہم اور حضرت اسامہ بن زیدؓ کا وظیفہ تین ہزار درہم مقرر کیا تھا ۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے عرض کیا ابا جان اسامہؓ کو مجھ پر فضیلت دینے کی کیا وجہ ہے ۔ وہ تو کبھی بھی کسی معرکہ میں مجھ سے سبقت نہیں لے گئے ۔ حضرت عمرؓ نے جواب دیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اسامہؓ کے والد زیدؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارے باپ سے زیادہ محبوب اور اسامہؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے زیادہ محبوب تھے ۔ میں نے آپ کی محبت کو اپنی محبت پر ترجیح دی ہے ۔ وفات حضرت اسامہؓ کی وفات ۵۴ھ میں یا اس سے پہلے مدینہ چیبہ یا اس کے قریب وادی القریٰ میں ہوئی ہے ، وفات سے پہلے کافی مدت دمشق کے قریب مزہ نامی بستی میں گزاری ہے ۔ رضی اللہ عنہ وارضاہ ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مکہ معظمہ کے رہنے والے اور اولین اسلام لانے والے صحابہ کرام میں سے ہیں ، خود فرماتے ہیں کہ مجھ سے پہلے صرف پانچ شخص مسلمان ہوئے تھے ۔ اسلام لانے والوں میں میرا چھٹا نمبر ہے ۔ (2) ان کے والد کا انتقال زمانہ جاہلیت ہی میں ہو گیا تھا ۔ لیکن والدہ ایمان لے آئیں تھیں اور بلند پایہ صحابیہ تھیں ۔ ایمان لانے کے نتیجے میں جو تکلیف و مصائب ہر صاحب ایمان کے نصیب میں آتے تھے وہی عبداللہ بن مسعودؓ کے حصہ میں بھی آئے ۔ ایک دن مکہ میں چند صحابہ کرامؓ مٰں یہ مشورہ ہوا کہ قریش کو قرآن مجید کس طرح پہنچایا جائے وہ تو قرآن سننے کے بالکل روادار نہیں ۔ عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا میں اس خدمت کے لئے تیار ہوں ۔ صحابہ کرام نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا شخص یہ کام کرے جس کے خاندان کے لوگ اس کے حمایتی ہوں اور قریش اس کو مارنے پیٹنے کی ہمت نہ کر سکیں ۔ لیکن حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قریش کی مجلس میں تشریف لے گئے اور وہاں جا کر سورہ رحمٰن کی ابتدائی آیات کی تلاوت کی پھر وہی ہوا جس کا خطرہ تھا واپس آئے تو پورا بدن لہو لہان تھا ۔ صحابہ کرامؓ نے اس پر افسوس کا اظہار کیا تو کہنے لگے یہ مشرکین میری نگاہ میں وہاں جانے سے پہلے جتنے بےحیثیت تھے اب اس سے بھی زیادہ بےوقعت ہیں اور میں اب پھر اس کام کے لئے ان کے پاس جانے کو تیار ہوں ۔ مشرکین کی اذیتوں سے تنگ آ کر صحابہ کرامؓ کی جو جماعت نبوت کے پانچویں سال رجب کے مہینہ میں حبشہ چلی گئی تھی ، ان صحابہ کرامؓ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی تھے وہاں جانے کے کچھ ہی دنوں کے بعد ان حضرات کو یہ اطلاع ملی کہ قریش کا پورا قبیلہ مسلمان ہو گیا ہے ۔ اس اطلاع پر عبداللہ بن مسعودؓ مکہ واپس چلے آئے ، لیکن یہاں آ کر معلوم ہوا کہ خبر غلط تھی اس لئے جلد ہی دوبارہ حبشہ کو ہجرت کر گئے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ کی اطلاع حبشہ پہنچی تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مدینہ طیبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے ۔ (1) جس وقت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مدینہ پہنچے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر کی تیاری کر رہے تھے وہ آپ کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک ہوئے اور ابو جہل کا کام تمام کیا جس کو دو نوجوان انصاری صحابیوں نے قتل کر دیا تھا لیکن ابھی کچھ جان باقی تھی ۔ (2) غزوہ بدر کے بعد آپ ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شریک ہوتے رہے ہیں ۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پتلے دبلے جسم کے تھے ، رنگ گندمی تھا ، ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کسی ضرورت سے درخت پر چڑھایا صحابہ کرامؓ ان کی دبلی پتلی ٹانگ کو دیکھ کر ہنسنے لگے آپ نے فرمایا کہ لرجل عبداللہ اثقل فی المیزان یوم القیامۃ من احد یعنی اللہ کے نزدیک عبداللہ بن مسعود کی یہ دبلی پتلی ٹانگ بھی احد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہے ۔ کپڑے صاف ستھرے پہنتے اور کثرت سے عطر استعمال فرماتے تھے ۔ (3) فضائل حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا شمار بڑے اہل فضل و کمال صحابہ کرامؓ میں ہوتا ہے وہ سابقین اولین میں ہیں جن کے متعلق اللہ کی طرف سے رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ کا مژدہ سنا دیا گیا ہے ۔ ان کی زندگی کا خاصا حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزرا ہے سفر و حضر میں آپ کی ذاتی خدمت میں جو صحابہ کرامؓ پیش پیش رہتے تھے ، ان میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی تھے اسی لئے صحابہ کرامؓ کو صاحب النعلین والسواک والوسادہ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ضروریات کا خیال رکھنے والا کہتے تھے ۔ (4) ان کو جو قرب و تعلق آپ کی ذات گرامی سے نصیب تھا وہ چند ہی صحابہ کرامؓ کو میسر تھا ۔ وہ ہمہ وقت آپ کے گھر آتے جاتے اور خدمت میں رہتے تھے ۔آپ کی طرف سے ان کو اس سلسلہ میں خصوصی اجازت تھی ۔ خود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا تھا ۔ إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ يُرْفَعَ الْحِجَابُ، وَأَنْ تَسْتَمِعَ سِوَادِي، حَتَّى أَنْهَاكَ (5) یعنی جب تم دیکھو کہ میرے دروازہ کا پردہ اٹھا ہوا ہے تو تم بلااجازت اندر آ سکتے ہو اور میرے راز کی بات سن سکتے ہو الا یہ کہ میں تم کو آنے سے منع کر دوں ۔ اسی لئے صحابہؓ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رازدار بھی کہتے تھے ۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ، فرماتے ہیں کہ میں اور میرے بھائی یمن سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ۔ ہم دونوں بھائی عبداللہ بن مسعودؓ اور ان کی والدہؓ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دولت کدہ پر بکثرت حاضری دیکھ کر مدت تک یہی سمجھتے رہے کہ عبداللہ بن مسعودؓ آپ کے گھر کے ہی ایک فرد ہیں ۔ (1) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا علمی مقام بھی بہت بلند ہے ، ان کا شمار ان صحابہ کرامؓ میں ہے جو اہل فتویٰ اور اہل قضاء سمجھے جاتے ہیں ۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن و سنت کا بہت علم حاصل کیا اور اللہ نے ان کو تلامذہ بھی غیر معمولی قسم کے عطا فرمائے جنہوں نے ان کے علم اور ان کی روایت کردہ احادیث اور قرآن کی تفسیر کو دنیا کے گوشہ گوشہ میں پہنچا دیا ۔ ان کو قرآن مجید سے خصوصی شغف اور تعلق تھا ۔ قرآن مجید یاد بھی بہت اچھا تھا اور بہت صحیح اور سوز کے ساتھ پڑھتے تھے ۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ ایک بار ایسا ہوا کہ عشاء کی نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکرؓ اور میں کسی مشورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر پر دیر تک رہے ، جب مشورہ ختم ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم دونوں کو رخصت کرنے کے لئے باہر (مسجد تک جو آپ کے دولت کدہ سے متصل ہی تھی) تشریف لائے ہم لوگوں نے دیکھا کہ کوئی شخص مسجد میں نماز میں مشغول ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پہچان لیا وہ عبداللہ بن مسعودؓ تھے ۔ آپ دیر تک کھڑے ان کی قرأت سنتے رہے پھر فرمایا من سره أن يقرأ القرآن رطبا كما أنزل فليقرأه على قراءة ابن أم عبد (2) یعنی جو شخص قرآن مجید کو بالکل ترو تازہ جیسا اترا ہے ویسا ہی پڑھنا چاہے اس کو عبداللہ بن مسعودؓ کے طرز پر قرآن مجید پڑھنا چاہئے ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بار آپ نے مجھ سے فرمایا مجھے قرآن مجید پڑھ کر سناؤ ، میں نے سورہ نساء پڑھنی شروع کی جب آیت کریمہ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ شَهِيدًا تک پہنچا تو آپ نے مجھے روک دیا میں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں ۔ (3) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو جن اکابر صحابہ کرام سے قرآن مجید پڑھنے کا حکم یا مشورہ دیا تھا ان میں سب سے پہلا نام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر فرمایا تھا ۔ صحیح بخاری کی روایت میں ہے ۔ «اسْتَقْرِئُوا القُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ» (4) حضرت ابو مسعود انصاری حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس فضل کا اعتراف ان الفاظ میں کرتے ہیں ما اعلم رسول الله ترك بعد اعلم بما انزل الله من هذا القائم. (5) (یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) یعنی میرے علم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص بھی عبداللہ بن مسعودؓ سے زیادہ قرآن کا علم نہیں رکھتا ...... خود عبداللہ بن مسعودؓ اپنے بارے میں فرماتے ہیں میں نے قرآن مجیدن کی ستر ۷۰ سے زیادہ سورتیں براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھی ہیں اور قرآن مجید کی ہر سورت کے متعلق میں جانتا ہوں کہ کہاں نازل ہوئی ہے اور ہر ہر آیت کا شان نزول بھی مجھے معلوم ہے ۔ (1) حضرت عمرؓ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اہل کوفہ کی تعلیم و تربیت کے لئے کوفہ بھیجا تھا اور اہل کوفہ کے نام اس سلسلہ میں جو گرامی نامی تحریر فرمایا تھا اس میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ لکھا تھا ۔ “میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب اور تمہارا معلم بنا کر بھیج رہا ہوں ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اکابر صحابہ میں ہیں اور غزوہ بدر میں شریک ہونے والے لوگوں میں ہیں ، ان کی مجھے بھی ضرورت تھی لیکن میں تم لوگوں کو اپنے مقابلہ میں ترجیح دیتا ہوں ، تم ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرو ۔” حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کے زمانہ خلافت میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کوفہ ہی میں رہے ، اور کوفہ ہی ن کی دینی اور علمی سرگرمیوں کا مرکز بنا اور یہیں سے ان کے علوم کی نشر و اشاعت ہوئی حدیث کی کتابوں میں ان کی مرویات کی تعداد ۸۴۸ ہے ۔ حضرت عمرؓ نے ان کو بیت المال کا نگہبان بھی بنا دیا تھا یہ عہدہ بھی جب تک وہ کوفہ میں رہے ان کے پاس ہی رہا ۔ حضرت عثمانؓ نے اپنی خلافت کے آخری دور میں ان کو مدینہ بلا لیا تھا ۔ (2) وہ اپنی سیرت و کردار میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع کرتے ۔ حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں«مَا أَعْرِفُ أَحَدًا أَقْرَبَ سَمْتًا وَهَدْيًا وَدَلًّا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ» (3) یعنی میں نہیں جانتا کہ کوئی شخص اپنے طور طریقہ اور سیرت و کردار میں عبداللہ بن مسعودؓ کے مقابلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ قریب تر ہے ۔ حدیث و سیرت کی کتابوں میں عبداللہ بن مسعودؓ کے مناقب و فضائل جو بیان فرمائے گئے ہیں ۔ اگر ان سب کو جمع کر دیا جائے ایک اچھا خاصا رسالہ تیار ہو جائے ۔ اس مختصر تذکرہ میں سب کی گنجائش کہاں ہے ۔ اس لئے بس ایک روایت صحیح مسلم کی اور ذکر کی جاتی ہے ۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ فرماتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں ہم چھ آدمی آپ ص