720. حضرت شرید بن سوید ثقفی (رض) کی مرویات

【1】

حضرت شرید بن سوید ثقفی (رض) کی مرویات

حضرت شرید (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ میرے پاس سے گذرے میں اس وقت اس طرح بیٹھا ہوا تھا کہ اپنا بایاں ہاتھ اپنی کمر کے پیچھے رکھ ہاتھ کے نچلے حصے پر ٹیک لگا رکھی تھی نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم ان لوگوں کی طرح بیٹھتے ہو جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا۔

【2】

حضرت شرید بن سوید ثقفی (رض) کی مرویات

حضرت شرید (رض) سے مروی ہے کہ انہیں ان کی والدہ نے یہ وصیت کی کہ ان کی طرف سے ایک مسلمان غلام آزاد کردیں انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس کے متعلق پوچھتے ہوئے کہا کہ میرے پاس حبشہ کے ایک علاقے نوبیہ کی ایک باندی ہے کیا میں اسے آزاد کرسکتا ہوں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسے لے کر آؤ میں نے اسے بلایا وہ آگئی نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا تیرا رب کون ہے ؟ اس نے کہا اللہ نبی کریم ﷺ نے پوچھا میں کون ہوں۔ ؟ اس نے جواب دیا آپ اللہ کے رسول ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسے آزاد کردو یہ مسلمان ہے۔

【3】

حضرت شرید بن سوید ثقفی (رض) کی مرویات

حضرت شرید (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مالدار کا ٹال مٹول کرنا اس کی شکایت اور اسے قید کرنے کو حلال کردیتا ہے۔

【4】

حضرت شرید بن سوید ثقفی (رض) کی مرویات

حضرت شرید (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے امیہ بن ابی صلت کے اشعار سنانے کو کہا میں اشعار سنانے لگا جب بھی ایک شعر سناتا تو نبی کریم ﷺ فرماتے اور سناؤ حتیٰ کہ میں نے سو شعر سنا ڈالے نبی کریم ﷺ نے فرمایا قریب تھا کہ امیہ مسلمان ہوجاتا۔

【5】

حضرت شرید بن سوید ثقفی (رض) کی مرویات

حضرت شرید (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب کسی آدمی کو چہرے کے بل اس طرح لیٹے ہوئے دیکھتے کہ اس کی سرین پر کچھ نہ ہوتا تو اسے پاؤں سے ٹھوکر مارتے اور فرماتے اللہ کے نزدیک لیٹنے کا یہ طریقہ سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے۔

【6】

حضرت شرید بن سوید ثقفی (رض) کی مرویات

حضرت شرید (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا گھر کا پڑوسی دوسرے شخص کی نسبت مکان خریدنے کا زیادہ حقدار ہے۔