1063. حضرم اسماء بنت عمیس کی حدیثیں

【1】

حضرم اسماء بنت عمیس کی حدیثیں

حضرت اسماء بنت عمیس سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھ سے پوچھا کہ تم کون سی دوا بطور مسہل کے استعمال کرتی ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ شبرم کو (جو کہ ایک جڑی بوٹی کا نام ہے) نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہ بہت زیادہ گرم ہوتی ہے، پھر میں سنا نامی بوٹی کو بطور مسہل استعمال کرنے لگی، نبی ﷺ نے فرمایا اگر کسی چیز میں موت کی شفاء ہوتی تو وہ سنا میں ہوتی۔

【2】

حضرم اسماء بنت عمیس کی حدیثیں

موسیٰ جہنی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں فاطمہ بنت علی کی خدمت میں حاضر ہوا میرے رفیق ابوسہل نے ان سے پوچھا کہ آپ کی عمر کتنی ہے ؟ انہوں نے بتایا چھیاسی سال، ابو سہل نے پوچھا کہ آپ نے اپنے والد سے کوئی حدیث سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے حضرت اسماء بنت عمیس نے بتایا کہ نبی ﷺ نے حضرت علی (رض) سے فرمایا تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون (علیہ السلام) کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے نسبت تھی، البتہ فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

【3】

حضرم اسماء بنت عمیس کی حدیثیں

حضرت اسماء بنت عمیس سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھے کچھ کلمات سکھا دیئے ہیں جو میں پریشانی کے وقت کہہ لیا کرتی ہوں اللہ ربی لا اشرک بہ شیأ۔

【4】

حضرم اسماء بنت عمیس کی حدیثیں

حضرت اسماء سے مروی ہے کہ حضرت جعفر کی شہادت کے تیسرے دن نبی ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا آج کے بعد سوگ نہ منانا۔

【5】

حضرم اسماء بنت عمیس کی حدیثیں

حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ان کے یہاں محمد بن ابی بکر کی پیدائش مقام بیداء میں ہوئی، حضرت صدیق اکبر نے نبی ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا انہیں کہو کہ غسل کرلیں اور تلبیہ پڑھ لیں۔

【6】

حضرم اسماء بنت عمیس کی حدیثیں

کلاب بن تلید جن کا تعلق بنوسعد بن لیث سے تھا، ایک مرتبہ حضرت سعید بن مسیب کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس نافع بن جبیرکا قاصد آگیا اور کہنے لگا کہ آپ کا بھانجا آپ کو سلام کہتا ہے اور پوچھتا ہے کہ وہ حدیث کیسے تھی جو آپ نے مجھ سے حضرت اسماء بنت عمیس کے حوالے سے ذکر کی تھی ؟ سعید بن مسیب نے فرمایا کہ حضرت اسماء بنت عمیس نے مجھے بتایا کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص بھی مدینہ منورہ کی تکلیفوں اور شدت پر صبر کرتا ہے، قیامت کے دن میں اس کی سفارش اور گواہی دوں گا۔

【7】

حضرم اسماء بنت عمیس کی حدیثیں

حضرت اسماء سے مروی ہے کہ جب حضرت جعفر اور ان کے ساتھی شہید ہوگئے تو نبی ﷺ میرے یہاں تشریف لائے، اس وقت میں نے چالیس کھالوں کو دباغت کے لئے ڈالا ہوا تھا آٹا گوندھ چکی تھی اور اپنے بچوں کو نہلا دھلاکرصاف ستھرا کرچکی تھی اور انہیں تیل لگاچ کی تھی، نبی ﷺ نے آکر فرمایا جعفر کے بچوں کو میرے پاس لاؤ، میں انہیں لے کر آئی نبی ﷺ انہیں سونگھنے لگے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ کیا جعفر اور ان کے ساتھیوں کے حوالے سے کوئی خبرآئی ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! آج وہ شہید ہوگئے ہیں یہ سن کر میں کھڑی ہو کر چیخنے لگی اور دوسری عورتیں بھی میرے پاس جمع ہونے لگیں نبی علیہ السلا نکل کر اپنے اہل خانہ کے پاس چلے گئے اور فرمایا آل جعفر سے غافل نہ رہنا ان کے لئے کھانا تیار کرو، کیونکہ وہ اپنے ساتھی کے معاملے میں مشغول ہیں۔