1022. حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

【1】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

شداد ابو عمار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عوف بن مالک (رض) نے فرمایا اے طاعون ! مجھے اپنی گرفت میں لے لے لوگوں نے عرض کیا کہ کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمان کو جتنی بھی عمر ملے وہ اس کے حق میں بہتر ہے ؟ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں لیکن مجھے چھ چیزوں کا خوف ہے بیوفوقوں کی حکومت، انصاف کا فروخت ہونا، کثرت سے شرطیں لگانا قطع رحمی، ایسی نسل کی افزائش جو قرآن کو گانے بجانے کا آلہ بنالے گا، خون ریزی۔

【2】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم ﷺ سے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی اور عرض کیا کہ پورا اندر آجاؤں یا آدھا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پورے ہی اندرآجاؤ، چناچہ میں اندر چلا گیا نبی کریم ﷺ اس وقت عمدگی کے ساتھ وضو فرما رہے تھے مجھ سے فرمانے لگے اے عوف بن مالک ! قیامت آنے سے پہلے چھ چیزوں کو شمار کرلینا سب سے پہلے تمہارے نبی کا انتقال ہوجائے پھر بیت المقدس فتح ہوجائے گا پھر بکریوں میں موت کی وباء جس طرح پھیلتی ہے تم میں بھی اسی طرح پھیل جائے گی پھر فتنوں کا ظہور ہوگا اور مال و دولت اتنا بڑھ جائے گا کہ اگر کسی آدمی کو سو دینار بھی دیئے جائیں گے تو وہ پھر بھی ناراض رہے گا پھر اسی جھنڈوں کے نیجے جن میں سے ہر جھنڈے کے تحت بارہ ہزار کا لشکر ہوگا رومی لوگ تم سے لڑنے کے لئے جائیں گے۔

【3】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

ایک مرتبہ حضرت عوف بن مالک (رض) اور ذوالکلاع مسجد اقصیٰ یعنی بیت المقدس میں داخل ہوئے تو حضرت عوف (رض) نے ان سے فرمایا کہ آپ کے پاس تو آپ کا بھتیجا (کعب احبار) ہے ذوالکلاع نے کہا کہ وہ تمام لوگوں میں سب سے بہترین آدمی ہے حضرت عوف (رض) نے فرمایا میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وعظ گوئی وہی کرسکتا ہے جو امیر ہو یا اسے اس کا حکم اور اجازت حاصل ہو یا پھر تکلف (ریاکاری) کر رہا ہو۔

【4】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

شداد ابو عمار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عوف بن مالک (رض) نے فرمایا اے طاعون ! مجھے اپنی گرفت میں لے لے لوگوں نے عرض کیا کہ کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمان کو جتنی بھی عمر ملے وہ اس کے حق میں بہتر ہے ؟ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔

【5】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا وعظ گوئی وہی کرسکتا ہے جو امیر ہو یا اسے اس کا حکم اور اجازت حاصل ہو یا پھر تکلف (ریاکاری) کر رہا ہو۔

【6】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم ﷺ کو کسی میت کی نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے دیکھا تو نبی کریم ﷺ کی یہ دعا سمجھ میں آئی اے اللہ ! اسے معاف فرما اس پر رحم فرما اسے عافیت عطا فرما اور اس سے درگذر فرما اس کا ٹھکانہ باعزت جگہ بنا اس کے داخل ہونے کی جگہ (قبر) کو کشادہ فرما اسے پانی، برف اور اولوں سے دھو دے اسے گناہوں سے ایسے صاف فرما دے جیسے سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کردیتا ہے اس کے گھر سے بہترین گھر اس کے اہل خانہ سے بہترین اہل خانہ اور اس کی بیوی سے بہترین بیوی عطا فرما اسے جنت میں داخل فرما جہنم سے محفوظ فرما اور عذاب قبر سے نجات عطا فرما۔

【7】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ ﷺ کے دست مبارک میں عصا تھا مسجد میں اس وقت کچھ خوشے لٹکے ہوئے تھے جن میں سے ایک خوشے میں گدر کھجوریں بھی تھیں نبی کریم ﷺ نے اسے اپنے دست مبارک کے عصا سے ہلایا اور فرمایا اگر یہ صدقہ کرنے والا چاہتا تو اس سے زیادہ صدقہ کرسکتا تھا یہ صدقہ کرنے والا قیامت کے دن گدر کھجوریں کھائے گا پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا واللہ اے اہل مدینہ ! تم چالیس سال تک اس شہر مدینہ کو پرندوں اور درندوں کے لئے چھوڑے رکھو گے۔

【8】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب کسی مقام پر پڑاؤ کرتے نبی کریم ﷺ کے مہاجر صحابہ (رض) آپ کے قریب ہوتے تھے ایک مرتبہ ہم نے کسی جگہ پڑاؤ کیا نبی کریم ﷺ رات کے نماز کے لئے کھڑے ہوئے ہم آس پاس سو رہے تھے اچانک میں رات کو اٹھا تو نبی کریم ﷺ کو اپنی خواب گاہ میں نہ پایا نبی کریم ﷺ کی تلاش میں نکلے تو حضرت معاذ بن جبل (رض) اور ابوموسیٰ اشعری (رض) نظر آئے میں نے ان کے پاس پہنچ کر ان سے نبی کریم ﷺ کے متعلق پوچھا تو اچانک ہم نے ایسی آواز سنی جو چکی کے چلنے سے پیدا ہوتی ہے اور اپنی جگہ پر ٹھٹک کر رک گئے اس آواز کی طرف سے نبی کریم ﷺ آرہے تھے۔ قریب آکر نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمہیں کیا ہوا ؟ عرض کیا کہ جب ہماری آنکھ کھلی اور ہمیں آپ اپنی جگہ نظر نہ آئے تو ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے، اس لئے ہم آپ کو تلاش کرنے کے لئے نکلے تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا تھا اور اس نے مجھے ان دو میں سے کسی ایک بات کا اختیار دیا کہ میری نصف امت جنت میں داخل ہوجائے یا مجھے شفاعت کا اختیار مل جائے تو میں نے شفاعت والے پہلو کو ترجیح دے لی، ہم دونوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ ہم آپ سے اسلام اور حق صحابیت کے واسطے سے درخواست کرتے ہیں کہ اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ آپ کی شفاعت میں ہمیں بھی شامل کر دے، دیگر حضرات بھی آگئے اور وہ بھی یہی درخواست کرنے لگے اور ان کی تعداد بڑھنے لگے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر وہ شخص بھی جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو میری شفاعت میں شامل ہے۔

【9】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم کسی غزوے پر روانہ ہوئے ہمارے حضرت عمرو بن عاص (رض) تھے ہمیں بھوک نے ستایا اسی دوران ایک قوم پر گذر ہوا جنہوں نے ایک اونٹ ذبح کر رکھا تھا میں نے لوگوں سے کہا کہ میں تمہیں اس کا گوشت لا کردیتا ہوں شرط یہ ہے کہ تم مجھے بھی اس میں سے کھلاؤ گے چناچہ میں نے اسے اٹھا لیا پھر انہوں نے مجھے جو حصہ دیا تھا اسے لے کر حضرت عمر فاروق (رض) کے پاس آیا لیکن انہوں نے اسے کھانے سے انکار کردیا پھر میں حضرت ابوعبیدہ بن جراح (رض) کے پاس لے کر گیا لیکن انہوں نے بھی وہی فرمایا جو حضرت عمر (رض) نے فرمایا تھا اور اسے کھانے سے انکار کردیا پھر فتح مکہ کے موقع پر مجھے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ اونٹ والے تم ہی ہو ؟ میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ ! ﷺ نبی کریم ﷺ نے مجھے اس سے زیادہ کچھ نہیں فرمایا۔

【10】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم ﷺ کے گھر میں سحری کے وقت داخل ہونے کی اجازت طلب کی اور عرض کیا کہ پورا اندر آجاؤں یا آدھا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پورے ہی اندر آجاؤ چناچہ میں اندر چلا گیا نبی کریم ﷺ اس وقت عمدگی کے ساتھ وضو فرما رہے تھے۔

【11】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی نبی کریم ﷺ نے سب سے پہلے مسواک کی پھر وضو کیا اور نماز کے لئے کھڑے ہوگئے میں بھی ان کے ساتھ کھڑا ہوگیا نبی کریم ﷺ نے سورت بقرہ شروع کردی اور رحمت کی جس آیت پر گذرتے وہاں رک کر دعا مانگتے اور عذاب کی جس آیت پر گذرتے تو وہاں رک کر اس سے پناہ مانگتے تھے پھر قیام کے بقدر رکوع کیا اور رکوع میں " سبحان ذی الجبروت والملکوت والکبریاء والعظمۃ " کہتے رہے پھر دوسری رکعت میں سورت آل عمران پڑھی اور اس میں بھی اسی طرح کیا۔

【12】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے تمہارے حکمران وہ ہوں گے جن سے تم محبت کرتے ہو گے اور وہ تم سے محبت کرتے ہوں گے تم ان کے لئے دعائیں کرتے ہوگے اور وہ تمہارے لئے دعائیں کرتے ہوں گے اور تمہارے بدترین حکمران وہ ہوں گے جن سے تم نفرت کرتے ہوگے اور وہ تم سے نفرت کرتے ہوگے تم ان پر لعنت کرتے ہوگے اور وہ تم پر لعنت کرتے ہوں گے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا ہم ایسے حکمرانوں کو باہر نکال کر پھینک نہ دیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نہیں جب تک کہ وہ نماز پر قائم رہیں البتہ جس پر حکمران کوئی گورنر مقرر کر دے اور وہ اسے اللہ کی نافرمانی کا کوئی کام کرتے ہوئے دیکھے تو اس نافرمانی پر نکیر کرے لیکن اس کی اطاعت سے اپنا ہاتھ نہ کھینچے۔

【13】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ صحابہ کرام (رض) کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ تم لوگ فقروفاقہ یا تنگدستی سے ڈرتے ہو کیا تم دنیا کو اس درجہ اہمیت دیتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں سر زمین فارس و روم کو فتح کروا دے گا اور تم پر دنیا انڈیل دی جائے گی حتیٰ کہ تمہیں میرے بعد کوئی چیز ٹیڑھا نہ کرسکے گی اگر کوئی چیز ٹیڑھا کرے گی تو وہ دنیا ہی ہوگی۔

【14】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ فرمایا وہ فیصلہ جس کے خلاف ہوا اس نے واپس جاتے ہوئے کہا " حسبی اللہ ونعم الوکیل " نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس آدمی کو واپس میرے پاس بلا کر لاؤ اور اس سے پوچھا کہ تم نے ابھی کیا کہا تھا اس نے کہا کہ میں نے " حسبی اللہ ونعم الوکیل " کہا تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ بیوقوفی پر ملامت کرتا ہے تم عقلمندی سے کام کیا کرو پھر بھی اگر مغلوب ہوجاؤ تو اس وقت " حسبی اللہ و نعم الوکیل " کہا کرو۔

【15】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کہیں جا رہے تھے میں بھی ہمراہ تھا یہ یہودیوں کی عید کا دن تھا ہم لوگ چلتے چلتے مدینہ میں ان کے ایک گرجا گھر میں پہنچے انہوں نے ہمارے وہاں آنے کو اچھا نہیں سمجھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے گروہ یہود ! تم مجھے اپنے بارہ آدمی ایسے دکھا دو جو اس بات کی گواہی دیتے ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں آسمان کی اس چھت تلے جتنے یہودی رہتے ہیں اللہ سب سے اپنا وہ غضب دور فرما دے گا جو ان پر مسلط ہے لیکن وہ لوگ خاموش رہے اور ان میں سے کسی نے بھی اس کا جواب نہ دیا نبی کریم ﷺ نے تین مرتبہ یہ بات ان کے سامنے دہرائی تاہم کس نے بھی جواب نہ دیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم لوگ انکار کرتے ہو حالانکہ اللہ کی قسم ! میں ہی حاشر ہوں میں ہی عاقب ہوں، میں ہی نبی مصطفیٰ ہوں خواہ تم ایمان لاؤ یا تکذیب کرو پھر نبی کریم ﷺ واپس چل پڑے میں بھی ہمراہ تھا ہم اس کنیسے سے نکلنے ہی والے تھے کہ پیچھے سے ایک آدمی نے پکار کر کہا اے محمد ! ﷺ رکیے نبی کریم ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے اس شخص نے یہودیوں سے مخاطب ہو کر کہا اے گروہ یہود ! تم مجھے اپنے درمیان کس مرتبہ کا آدمی سمجھتے ہو ؟ انہوں نے کہا بخدا ! ہم لوگ اپنے درمیان آپ سے بڑھ کر کسی کو کتاب اللہ کا عالم اور فقیہہ نہیں سمجھتے اسی طرح آپ سے پہلے آپ کے آباؤ و اجدا کے متعلق بھی ہمارا یہی خیال ہے اس میں کہا کہ پھر میں اللہ کو سامنے رکھ کر گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے وہی نبی ہیں جن کا ذکر تم تورات میں پاتے ہو انہوں نے کہا کہ تم غلط کہتے ہو پھر اس کی مذمت بیان کرنا شروع کردی نبی کریم ﷺ نے ان یہودیوں سے فرمایا کہ تم لوگ جھوٹ بول رہے ہو، تمہاری بات کسی صورت قبول نہیں کی جاسکتی ابھی تو تم نے اس کی خوب تعریف کی ہے اور جب یہ ایمان لے آیا تو تم اس کی تکذیب کرنے لگے اور اس کے متعلق نازیبا باتیں کہنے لگے لہٰذا تمہاری بات کسی صورت قبول نہیں کی جاسکتی۔ لہٰذا اب ہم وہاں سے نکلے تو تین آدمی ہوگئے تھے نبی کریم ﷺ میں اور حضرت عبداللہ بن سلام (رض) اور اس موقع پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی " اے حبیب ! ﷺ آپ فرما دیجئے یہ بتاؤ کہ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے آیا ہو تم اس کا انکار کرتے رہو اور بنی اسرائیل ہی میں ایک آدمی اس کی گواہی دے اور ایمان لے آئے تو تم تکبر کرتے ہو بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ "

【16】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم ﷺ سے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی اور عرض کیا کہ پورا اندر آجاؤں یا آدھا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پورے ہی اندر آجاؤ، چناچہ میں اندر چلا گیا نبی کریم ﷺ اس وقت عمدگی کے ساتھ وضو فرما رہے تھے مجھ سے فرمانے لگے اے عوف بن مالک ! قیامت آنے سے پہلے چھ چیزوں کو شمار کرلینا سب سے پہلے تمہارے نبی کا انتقال ہوجائے گا پھر بیت المقدس فتح ہوجائے گا پھر بکریوں میں موت کی وباء جس طرح پھیلتی ہے تم میں بھی اسی طرح پھیل جائے گی پھر فتنوں کا ظہور ہوگا اور مال و دولت اتنا بڑھ جائے گا کہ اگر کسی آدمی کو سو دینار بھی دیئے جائیں گے تو وہ پھر بھی ناراض رہے گا پھر اسی جھنڈوں کے نیجے جن میں سے ہر جھنڈے کے تحت بارہ ہزار کا لشکر ہوگا رومی لوگ تم سے لڑنے کے لئے آجائیں گے اور مسلمانوں کا مرکز اس زمانے دمشق کے شہر " غوطہ " میں ہوگا۔

【17】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس جب کہیں سے مال غنیمت آتا تھا تو اسے اسی دن تقسیم فرما دیتے تھے شادی شدہ کو دو حصے دیتے تھے اور کنوارے کو ایک حصے کسی قسم کے ایک موقع پر ہمیں بلایا گیا مجھے حضرت عمار بن یاسر (رض) سے پہلے بلایا جاتا تھا چناچہ اس دن بھی مجھے بلایا گیا اور نبی کریم ﷺ نے مجھے دو حصے دے دیئے کیونکہ میں شادی شدہ تھا اس کے بعد حضرت عماربن یاسر (رض) کو بلایا اور انہیں ایک حصہ عطا فرمایا آخر میں سونے کی ایک چین بچ گئی نبی کریم ﷺ اسے اپنی لاٹھی کی نوک سے اٹھاتے وہ گر جاتی تھی پھر اٹھاتے تھے اور فرماتے جا رہے تھے کہ تمہارا اس وقت کیا عالم ہوگا جس دن تمہارے پاس ان چیزوں کی کثرت ہوگئی۔

【18】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ شام کی طرف ہم ایک غزوے میں شریک ہوئے ہمارے امیر حضرت خالد بن ولید (رض) تھے قبیلہ حمیر کا ایک آدمی ہمارے ساتھ آکر شامل ہوگیا وہ ہمارے خیمے میں رہنے لگا اس کے پاس تلوار کے علاوہ کوئی اور چیز یا اسلحہ بھی نہ تھا اس دوران ایک مسلمان نے ایک اونٹ ذبح کیا وہ شخص مسلسل تاک میں رہا حتی کے موقع ما کر ایک ڈھال کے برابر اس کی کھال حاصل کرلی اور اسے زمین پر بچھا دیا جب وہ خشک ہوگئی تو اس کے لئے ڈھال بن گئی۔ ادھر یہ ہوا کہ دشمن سے ہمارا آمنا سامنا ہوگیا جن میں رومی اور بنو قضاعہ کے عرب مشترکہ طور پر جمع تھے انہوں نے ہم سے بڑی سخت معرکہ آرائی کی رومیوں میں ایک آدمی ایک سرخ وسفید گھوڑے پر سوار تھا جس کی زین بھی سونے کی تھی اور پٹکا بھی مخلوط سونے کا تھا یہی حال اس کی تلوار کا تھا وہ مسلمانوں پر بڑھ چڑھ کر حملہ کر رہا تھا اور وہ حمیری آدمی مسلسل اس کی تاک میں تھا حتیٰ کہ جب وہ رومی اس کے پاس سے گذرا تو اس نے عقب سے نکل کر اس پر حملہ کردیا اور اس کے گھوڑے کی پنڈلی پر تلوار ماری جس سے وہ نیچے گرگیا پھر اس نے تلوار کا ایسا بھرپور ہاتھ مارا کہ اس رومی کو قتل کردیا۔ فتح حاصل ہونے کے بعد جب اس نے اس کا سامان لینے کا ارادہ کیا اور لوگوں نے بھی گواہی دی کہ اس رومی کو اسی نے قتل کیا ہے تو حضرت خالد بن ولید (رض) نے اس کو کچھ سامان دے دیا اور کچھ سامان کو روک لیا اس نے عوف (رض) کے خیمے میں واپس آکر ان سے اس واقعے کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا کہ تم دوبارہ ان کے پاس جاؤ انہیں تمہارا سامان تمہیں دے دینا چاہئے چناچہ وہ دوبارہ حضرت خالد بن ولید (رض) کے پاس گیا لیکن انہوں نے پھر انکار کردیا اس پر حضرت عوف کو ملے گا ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں حضرت عوف (رض) نے فرمایا پھر اس کے مقتول کا سامان اس کے حوالے کرنے میں آپ کے لئے کیا رکاوٹ ہے ؟ حضرت خالد (رض) نے فرمایا کہ میں اسے بہت زیادہ سمجھتا ہوں حضرت عوف (رض) نے فرمایا اگر میں نبی کریم ﷺ کا روئے انور دیکھ سکا تو ان سے اس کا ذکر ضرور کروں گا۔ جب وہ مدینہ منورہ پہنچ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور آپ کو اس کی خبر دی تو آپ ﷺ نے حضرت خالد (رض) سے فرمایا کہ تجھے کس نے اس کو سامان دینے سے منع کیا ؟ حضرت خالد (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میں نے (اس سامان کو) بہت زیادہ سمجھا آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے سامان دے دو پھر وہ حضرت عوف (رض) کے پاس سے گذرے تو انہوں نے حضرت خالد (رض) کی چادر کھینچی اور فرمایا میں نے جو رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا تھا وہی ہوا ہے نا ؟ رسول اللہ ﷺ نے یہ بات سن لی آپ ﷺ ناراض ہوگئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے خالد ! اب اسے نہ دینا ( اور آپ نے فرمایا) کیا تم میرے نگرانوں کو چھوڑ نہیں سکتے ؟ کیونکہ تمہاری اور ان کی مثال ایسی ہے جیسے کسی آدمی نے اونٹ یا بکریاں چرانے کے لئے خریدیں پھر (ان جانوروں) کے پانی پینے کا وقت دیکھ کر ان کو حوض پر لایا اور انہوں نے پانی پینا شروع کردیا تو صاف صاف پانی انہوں نے پی لیا اور تلچھٹ چھوڑ دیا تو صاف یعنی عمدہ چیزیں تمہارے لئے ہیں اور بری چیزیں نگرانوں کے لئے ہیں۔

【19】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف بن مالک (رض) اور خالد بن ولید (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مقتولوں سے چھینے ہوئے سازوسامان میں سے خمس نہیں نکالا۔

【20】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ تعالیٰ اس امت پر دو تلواریں ہرگز جمع نہیں فرمائے گا ایک اس امت کی اپنی اور دوسری اس کے دشمن کی۔

【21】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ ایک ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے آسمان کی طرف دیکھا پھر فرمایا علم اٹھائے جانے کا وقت قریب آگیا ہے ایک انصاری آدمی " جس کا نام زیاد بن لبید تھا " نے کہا کہ یا رسول اللہ ! ﷺ کیا ہمارے درمیان سے علم کو اٹھا لیا جائے گا جبکہ ہمارے درمیان کتاب اللہ موجود ہے اور ہم نے اسے اپنے بیٹوں اور عورتوں کو سکھا رکھا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں تو تمہیں اہل مدینہ کے سمجھدار لوگوں میں سے سمجھتا تھا پھر نبی کریم ﷺ نے دونوں اہل کتاب کی گمراہی کا ذکر کیا اور یہ کہ ان کے پاس بھی کتاب اللہ موجود تھی۔ اس کے بعد جبیر بن نفیر کی عیدگاہ میں شداد بن اوس سے ملاقات ہوئی تو جبیر نے انہیں حضرت عوف (رض) کے حوالے سے یہ حدیث سنائی تو انہوں نے بھی حضرت عوف (رض) کی تصدیق کی اور کہنے لگے کہ تمہارے " علم کا اٹھا لینے کا مطلب معلوم ہے ؟ میں نے کہا نہیں انہوں نے فرمایا علم کے برتنوں کا اٹھ جانا پھر پوچھا کیا تمہیں معلوم ہے کہ سب سے پہلے کون سا علم اٹھایا جائے گا ؟ میں نے کہا نہیں انہوں نے فرمایا خشوع حتیٰ کہ تم کسی خشوع والے آدمی کو نہ دیکھو گے۔

【22】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کی تین یا دو بیٹیاں یا بہنیں ہوں وہ ان کے معاملے میں اللہ سے ڈرے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے یہاں تک کہ ان کی شادی ہوجائے یا وہ فوت ہوجائیں تو وہ اس کے لئے جہنم کی آگ سے رکاوٹ بن جائیں گی۔

【23】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وعظ گوئی وہی کرسکتا ہے جو امیر ہو یا اسے اس کا حکم اور اجازت حاصل ہو یا پھر جو تکلف (ریاکاری) کر رہا ہو۔

【24】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں چھ سات یا آٹھ آدمیوں کی ایک جماعت کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم ﷺ نے ہم سے فرمایا کہ مجھ سے بیعت کرو ہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی ! ہم تو آپ کی بیعت کرچکے ہیں نبی کریم ﷺ نے پھر وہی بات دہرائی چناچہ ہم نے دوبارہ بیعت کرلی نبی کریم ﷺ نے ہم سے وہی عہد لیا جو عام لوگوں سے لیا تھا البتہ آخر میں آہستہ سے یہ بھی فرمایا تھا کہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرنا۔

【25】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وعظ گوئی وہی کرسکتا ہے جو امیر ہو یا اسے اس کا حکم اور اجازت حاصل ہو یا پھر جو تکلف (ریاکاری) کر رہا ہو۔

【26】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرن عوف (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے غزوہ تبوک میں مسافروں کو تین دن رات اور مقیم ایک دن رات موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا ہے۔

【27】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم ﷺ سے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی اور عرض کیا کہ پورا اندر آجاؤں یا آدھا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پورے ہی اندر آجاؤ، چناچہ میں اندر چلا گیا نبی کریم ﷺ اس وقت عمدگی کے ساتھ وضو فرما رہے تھے مجھ سے فرمانے لگے اے عوف بن مالک ! قیامت آنے سے پہلے چھ چیزوں کو شمار کرلینا سب سے پہلے تمہارے نبی کا انتقال ہوجائے گا پھر بیت المقدس فتح ہوجائے گا پھر بکریوں میں موت کی وباء جس طرح پھیلتی ہے تم میں بھی اسی طرح پھیل جائے گی پھر فتنوں کا ظہور ہوگا اور مال و دولت اتنا بڑھ جائے گا کہ اگر کسی آدمی کو سو دینار بھی دیئے جائیں گے تو وہ پھر بھی ناراض رہے گا پھر اسی جھنڈوں کے نیجے جن میں سے ہر جھنڈے کے تحت بارہ ہزار کا لشکر ہوگا رومی لوگ تم سے لڑنے کے لئے آجائیں گے۔

【28】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ شام کی طرف ہم ایک غزوے میں شریک ہوئے ہمارے امیر حضرت خالد بن ولید (رض) تھے قبیلہ حمیر کا ایک آدمی ہمارے ساتھ آکر شامل ہوگیا وہ ہمارے خیمے میں رہنے لگا اس کے پاس تلوار کے علاوہ کوئی اور چیز یا اسلحہ بھی نہ تھا اس دوران ایک مسلمان نے ایک اونٹ ذبح کیا وہ شخص مسلسل تاک میں رہا حتی کے موقع پا کر ایک ڈھال کے برابر اس کی کھال حاصل کرلی اور اسے زمین پر بچھا دیا جب وہ خشک ہوگئی تو اس کے لئے ڈھال بن گئی۔ ادھر یہ ہوا کہ دشمن سے ہمارا آمنا سامنا ہوگیا جن میں رومی اور بنو قضاعہ کے عرب مشترکہ طور پر جمع تھے انہوں نے ہم سے بڑی سخت معرکہ آرائی کی رومیوں میں ایک آدمی ایک سرخ وسفید گھوڑے پر سوار تھا جس کی زین بھی سونے کی تھی اور پٹکا بھی مخلوط سونے کا تھا یہی حال اس کی تلوار کا تھا وہ مسلمانوں پر بڑھ چڑھ کر حملہ کر رہا تھا اور وہ حمیری آدمی مسلسل اس کی تاک میں تھا حتیٰ کہ جب وہ رومی اس کے پاس سے گذرا تو اس نے عقب سے نکل کر اس پر حملہ کردیا اور اس کے گھوڑے کی پنڈلی پر تلوار ماری جس سے وہ نیچے گرگیا پھر اس نے تلوار کا ایسا بھرپور ہاتھ مارا کہ اس رومی کو قتل کردیا۔ فتح حاصل ہونے کے بعد جب اس نے اس کا سامان لینے کا ارادہ کیا اور لوگوں نے بھی گواہی دی کہ اس رومی کو اسی نے قتل کیا ہے تو حضرت خالد بن ولید (رض) نے اس کو کچھ سامان دے دیا اور کچھ سامان کو روک لیا اس نے عوف (رض) کے خیمے میں واپس آکر ان سے اس واقعے کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا کہ تم دوبارہ ان کے پاس جاؤ انہیں تمہارا سامان تمہیں دے دینا چاہئے چناچہ وہ دوبارہ حضرت خالد بن ولید (رض) کے پاس گیا لیکن انہوں نے پھر انکار کردیا اس پر حضرت عوف (رض) کو ملے گا ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں حضرت عوف (رض) نے فرمایا پھر اس کے مقتول کا سامان اس کے حوالے کرنے میں آپ کے لئے کیا رکاوٹ ہے ؟ حضرت خالد (رض) نے فرمایا کہ میں اسے بہت زیادہ سمجھتا ہوں حضرت عوف (رض) نے فرمایا اگر میں نبی کریم ﷺ کا روئے انور دیکھ سکا تو ان سے اس کا ذکر ضرور کروں گا۔ جب وہ مدینہ منورہ پہنچ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور آپ کو اس کی خبر دی تو آپ ﷺ نے حضرت خالد (رض) سے فرمایا کہ تجھے کس نے اس کو سامان دینے سے منع کیا ؟ حضرت خالد (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ﷺ میں نے (اس سامان کو) بہت زیادہ سمجھا آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے سامان دے دو پھر وہ حضرت عوف (رض) کے پاس سے گذرے تو انہوں نے حضرت خالد (رض) کی چادر کھینچی اور فرمایا میں نے جو رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا تھا وہی ہوا ہے نا ؟ رسول اللہ ﷺ نے یہ بات سن لی آپ ﷺ ناراض ہوگئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے خالد ! اب اسے نہ دینا ( اور آپ نے فرمایا) کیا تم میرے نگرانوں کو چھوڑ نہیں سکتے ؟ کیونکہ تمہاری اور ان کی مثال ایسی ہے جیسے کسی آدمی نے اونٹ یا بکریاں چرانے کے لئے خریدیں پھر (ان جانوروں) کے پانی پینے کا وقت دیکھ کر ان کو حوض پر لایا اور انہوں نے پانی پینا شروع کردیا تو صاف صاف پانی انہوں نے پی لیا اور تلچھٹ چھوڑ دیا تو صاف یعنی عمدہ چیزیں تمہارے لئے ہیں اور بری چیزیں نگرانوں کے لئے ہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

【29】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ ﷺ کے دست مبارک میں عصا تھا مسجد میں اس وقت کچھ خوشے لٹکے ہوئے تھے جن میں سے ایک خوشے میں گدر کھجوریں بھی تھیں نبی کریم ﷺ نے اسے اپنے دست مبارک کے عصا سے ہلایا اور فرمایا اگر یہ صدقہ کرنے والا چاہتا تو اس سے زیادہ صدقہ کرسکتا تھا یہ صدقہ کرنے والا قیامت کے دن گدر کھجوریں کھائے گا۔

【30】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے تمہارے حکمران وہ ہوں گے جن سے تم محبت کرتے ہو گے اور وہ تم سے محبت کرتے ہوں گے تم ان کے لئے دعائیں کرتے ہو گے اور وہ تمہارے لئے دعائیں کرتے ہوں گے اور تمہارے بدترین حکمران وہ ہوں گے جن سے تم نفرت کرتے ہو گے اور وہ تم سے نفرت کرتے ہونگے تم ان پر لعنت کرتے ہوگے اور وہ تم پر لعنت کرتے ہوں گے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا ہم ایسے حکمرانوں کو باہر نکال کر پھینک نہ دیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نہیں جب تک کہ وہ نماز پر قائم رہیں البتہ جس پر حکمران کوئی گورنر مقرر کر دے اور وہ اسے اللہ کی نافرمانی کا کوئی کام کرتے ہوئے دیکھے تو اس نافرمانی پر نکیر کرے لیکن اس کی اطاعت سے اپنا ہاتھ نہ کھینچے۔

【31】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم ﷺ کو کسی میت کی نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے دیکھا تو نبی کریم ﷺ کی یہ دعا سمجھ میں آئی " اے اللہ ! اسے معاف فرما اس پر رحم فرما اسے عافیت عطا فرما اور اس سے درگذر فرما اس کا ٹھکانہ باعزت جگہ بنا اس کے داخل ہونے کی جگہ (قبر) کو کشادہ فرما اسے پانی، برف اور اولوں سے دھو دے اسے گناہوں سے ایسے صاف فرمادے جیسے سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کردیتا ہے اس کے گھر سے بہترین گھر اس کے اہل خانہ سے بہترین اہل خانہ اور اس کی بیوی سے بہترین بیوی عطا فرما اسے جنت میں داخل فرما جہنم سے محفوظ فرما اور عذاب قبر سے نجات عطا فرما "۔

【32】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وعظ گوئی وہی کرسکتا ہے جو امیر ہو یا اسے اس کا حکم اور اجازت حاصل ہو یا پھر جو تکلف (ریاکاری) کر رہا ہو۔

【33】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب کسی مقام پر پڑاؤ کرتے نبی کریم ﷺ کے مہاجر صحابہ (رض) آپ کے قریب ہوتے تھے ایک مرتبہ ہم نے کسی جگہ پڑاؤ کیا نبی کریم ﷺ رات کی نماز کے لئے کھڑے ہوئے ہم آس پاس سو رہے تھے اچانک میں رات کو اٹھا تو نبی کریم ﷺ کو اپنی خواب گاہ میں نہ پایا نبی کریم ﷺ کی تلاش میں نکلے تو حضرت معاذ بن جبل (رض) اور ابوموسیٰ اشعری (رض) نظر آئے میں نے ان کے پاس پہنچ کر ان سے نبی کریم ﷺ کے متعلق پوچھا تو اچانک ہم نے ایسی آواز سنی جو چکی کے چلنے سے پیدا ہوتی ہے اور اپنی جگہ پر ٹھٹک کر رک گئے اس آواز کی طرف سے نبی کریم ﷺ آرہے تھے۔ قریب آکر نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمہیں کیا ہوا ؟ عرض کیا کہ جب ہماری آنکھ کھلی اور ہمیں آپ اپنی جگہ نظر نہ آئے تو ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے، اس لئے ہم آپ کو تلاش کرنے کے لئے نکلے تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا تھا اور اس نے مجھے ان دو میں سے کسی ایک بات کا اختیار دیا کہ میری نصف امت جنت میں داخل ہوجائے یا مجھے شفاعت کا اختیار مل جائے تو میں نے شفاعت والے پہلو کو ترجیح دے لی، ہم دونوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ ہم آپ سے اسلام اور حق صحابیت کے واسطے سے درخواست کرتے ہیں کہ اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ آپ کی شفاعت میں ہمیں بھی شامل کر دے، دیگر حضرات بھی آگئے اور وہ بھی یہی درخواست کرنے لگے اور ان کی تعداد بڑھنے لگے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر وہ شخص بھی جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو میری شفاعت میں شامل ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

【34】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس جب کہیں سے مال غنیمت آتا تھا تو اسے اسی دن تقسیم فرما دیتے تھے شادی شدہ کو دو حصے دیتے تھے اور کنوارے کو ایک حصے۔

【35】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

ایک مرتبہ حضرت عوف بن مالک (رض) اور ذوالکلاع مسجد اقصیٰ یعنی بیت المقدس میں داخل ہوئے تو حضرت عوف (رض) نے ان سے فرمایا کہ آپ کے پاس تو آپ کا بھتیجا (کعب احبار) ہے ذوالکلاع نے کہا کہ وہ تمام لوگوں میں سب سے بہترین آدمی ہے حضرت عوف (رض) نے فرمایا میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وعظ گوئی وہی کرسکتا ہے جو امیر ہو یا اسے اس کا حکم اور اجازت حاصل ہو یا پھر تکلف (ریاکاری) کر رہا ہو۔

【36】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ عورت جو منصب اور جمال کی حامل تھی اپنے شوہر سے بیوہ ہوگئی اور اپنے آپ کو اپنے یتیم بچوں کے لئے وقف کردیا حتیٰ کہ وہ اس سے جدا ہوگئے یا مرگئے قیامت کے دن میں اور وہ سیاہ رخساروں والی عورت ان دو انگلیوں کی طرح ہوں گے یہ کہہ کر نبی کریم ﷺ نے اپنی شہادت والی اور درمیان والی انگلی کو جمع فرمایا۔

【37】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کی تین یا دو بیٹیاں یا بہنیں ہوں وہ ان کے معاملے میں اللہ سے ڈرے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرے یہاں تک کہ ان کی شادی ہوجائے یا وہ فوت ہوجائیں تو وہ اس کے لئے جہنم کی آگ سے رکاوٹ بن جائیں گی۔

【38】

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حضرت عوف بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ عورت جو منصب اور جمال کی حامل تھی اپنے شوہر سے بیوہ ہوگئی اور اپنے آپ کو اپنے یتیم بچوں کے لئے وقف کردیا حتیٰ کہ وہ اس سے جدا ہوگئے یا مرگئے قیامت کے دن میں اور وہ سیاہ رخساروں والی عورت ان دو انگلیوں کی طرح ہوں گے یہ کہہ کر نبی کریم ﷺ نے اپنی شہادت والی اور درمیان والی انگلی کو جمع فرمایا۔ حدیث نمبر (٢٤٥٠٣) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔