16. ہبہ کا بیان

【1】

مرد کا اپنی اولاد کو عطیہ دینا

نعمان بن بشیر (رض) کہتے ہیں کہ ان کے والد انہیں لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے، اور عرض کیا : میں آپ کو اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے مال میں سے فلاں فلاں چیز نعمان کو دے دی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : تم نے اپنے سارے بیٹوں کو ایسی ہی چیزیں دی ہیں جو نعمان کو دی ہیں ؟ انہوں نے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : تب میرے علاوہ کسی اور کو اس پر گواہ بنا لو، کیا تمہیں یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ تمہارے سارے بیٹے تم سے نیک سلوک کرنے میں برابر ہوں ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : تب ایسا مت کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الھبة ١٢ (٢٥٨٧) ، صحیح مسلم/الھبات ٣ (١٦٢٣) ، سنن ابی داود/البیوع ٨٥ (٣٥٤٢) ، سنن النسائی/النحل (٣٧٠٩) ، (تحفة الأشراف : ١١٦٢٥) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الأقضیة ٣٣ (٣٩) ، مسند احمد (٤/٢٦٨، ٢٦٩، ٢٧٠، ٢٧٣، ٢٧٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ صورت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اولاد کو عطیہ دینے میں سب کا حصہ برابر کا ہوگا، کم زیادہ ہو تو ہبہ باطل ہے مگر جمہور نے اس کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ سب کو برابر دینا مندوب ہے، عطیہ وہبہ میں کسی کو زیادہ دینے سے ہبہ باطل نہیں ہوتا لیکن ایک روایت میں آپ ﷺ نے اسے ظلم کہا ہے اور نعمان کے والد بشیر سے آپ کا یہ فرمانا فاردده اسے واپس لے لو اس بات کی تائید کر رہا ہے کہ اولاد کے ساتھ عطیہ میں برابر کا سلوک واجب ہے، یہی احمد، سفیان ثوری اور اسحاق ابن راہویہ وغیرہ کا مذہب ہے۔

【2】

مرد کا اپنی اولاد کو عطیہ دینا

نعمان بن بشیر (رض) کہتے ہیں کہ ان کے والد نے ان کو ایک غلام دیا، اور نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس پر گواہ بنائیں تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم نے اپنے سارے بیٹوں کو ایسے ہی دیا ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : تب اس کو واپس لے لو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الہبة ١٢ (٢٥٨٦) ، صحیح مسلم/الہبات (١٦٢٣) ، سنن الترمذی/الأحکام ٣٠ (١٣٦٧) ، سنن النسائی/النحل (٣٧٠٥) ، (تحفة الأشراف : ١١٦١٧، ١١٦٣٨) (صحیح )

【3】

اولاد کو دے کر پھر واپس لے لینا

عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آدمی کے لیے جائز نہیں کہ کسی کو عطیہ دے کر واپس لے سوائے باپ کے جو اپنی اولاد کو دے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/البیوع ٨٣ (٣٥٣٩) ، سنن الترمذی/البیوع ٦٢ (١٢٩٩) ، الولاء البراء ٧ (٢١٣٢، ٢١٣١) ، سنن النسائی/الھبة ٢ (٣٧٢٠) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٤٣، ٧٠٩٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٧، ٧٨) (صحیح )

【4】

اولاد کو دے کر پھر واپس لے لینا

عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہبہ کر کے کوئی واپس نہ لے سوائے باپ کے جو وہ اپنی اولاد کو کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الھبة ٢ (٣٧١٩) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٢٢) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/البیوع ٨٣ (٣٥٤٠) ، مسند احمد (٤/١٨٢) ، (حسن صحیح )

【5】

عمر بھر کے لئے کوئی چیز دینا

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عمریٰ کوئی چیز نہیں ہے، جس کو عمریٰ کے طور پر کوئی چیز دی گئی تو وہ اسی کی ملک ہوجائے گی ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٥١٠٧) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الرقبي ٤ (٣٥٥٥) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎: صحیحین میں ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ عمریٰ والوں کے لئے، عمریٰ میراث ہوگی ایک روایت میں ہے کہ عمریٰ جائز ہے۔

【6】

عمر بھر کے لئے کوئی چیز دینا

جابر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : جس نے کسی کو بطور عمریٰ کوئی چیز دی، تو وہ جس کو دیا ہے اس کی اور اس کے بعد اس کے اولاد کی ہوجائے گی، اس نے عمریٰ کہہ کر اپنا حق ختم کرلیا، اب وہ چیز جس کو عمریٰ دیا گیا اس کی اور اس کے بعد اس کے وارثوں کی ہوگئی ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الھبة ٣٢ (٢٦٢٥) ، صحیح مسلم/الھبات ٤ (١٦٢٥) ، سنن ابی داود/البیوع ٨٧ (٣٥٥٠، ٣٥٥٢) ، سنن الترمذی/الأحکام ١٥ (١٣٥٠) ، سنن النسائی/االعمريٰ (٣٧٧٢) ، (تحفة الأشراف : ٣١٤٨) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الأقضیة ٣٧ (٤٣) ، مسند احمد (٣/٣٠٢، ٣٠٤، ٣٦٠، ٣٩٣، ٣٩٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: عمریٰ کرنے والے کو اب واپس لینے کا کوئی حق نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کا کوئی عذر مقبول ہوگا۔

【7】

عمر بھر کے لئے کوئی چیز دینا

زید بن ثابت (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمریٰ وارث کو دلا دیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/البیوع ٨٩ (٣٥٥٩) ، سنن النسائی/الرقبي (٣٧٤٦) ، (تحفة الأشراف : ٣٧٠٠) (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عمریٰ دینے سے وہ چیز ہمیشہ کے لئے دینے والے کی ملکیت سے نکل جائے گی اور اس کی ہوجائے گی جس کو عمریٰ دیا گیا، اس کے بعد اس کے وارثوں کو ملے گی، اہل حدیث اور جمہور علماء کا یہی قول ہے۔

【8】

رقبی کا بیان

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : رقبیٰ کوئی چیز نہیں ہے جس کو بطور رقبیٰ کوئی چیز دی گئی تو وہ اسی کی ہوگی اس کی زندگی اور موت دونوں حالتوں میں راوی کہتے ہیں : رقبیٰ یہ ہے کہ ایک شخص کسی کو کوئی چیز دے کر یہ کہے کہ ہم اور تم میں سے جو آخر میں مرے گا یہ اس کی ہوگی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/العمریٰ ١ (٣٧٦٣، ٣٧٦٤، ٣٧٦٥) ، (تحفة الأشراف : ٦٦٨٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٤، ٧٣) (صحیح )

【9】

رقبی کا بیان

جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عمریٰ اس شخص کا ہوجائے گا جس کو عمریٰ دیا گیا، اور رقبیٰ اس شخص کا ہوجائے گا جس کو رقبیٰ دیا گیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/البیوع ٨٩ (٣٥٥٨) ، سنن الترمذی/الأحکام ١٦ (١٣٥١) ، سنن النسائی/العمريٰ (٣٧٦٩) ، (تحفة الأشراف : ٢٧٠٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی دونوں صورتوں میں وہ شئے دینے والے کے ملک سے نکل جائے گی، اور جس کو عمریٰ یا رقبیٰ کے طور پر دی گئی ہے اس کی ہوجائے گی، اور اس کے بعد اس کے وارثوں کو ملے گی۔

【10】

ہدیہ واپس لینا

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس شخص کی مثال جو ہبہ کر کے واپس لے اس کتے جیسی ہے جو خوب آسودہ ہو کر کھالے، پھر قے کر کے اسے چاٹے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٢٣٠٥، ومصباح الزجاجة : ٨٣٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٥٩، ٤٣٠، ٤٩٢) (صحیح) (خلاس اور ابوہریرہ (رض) کے درمیان انقطاع ہے، اس لئے کہ خلاس نے ابوہریرہ (رض) سے کچھ نہیں سنا ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو : الإرواء : ٦ ٦٤ و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ١٦٩٩ ) ۔

【11】

ہدیہ واپس لینا

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہبہ کر کے واپس لینے والا قے کر کے چاٹنے والے کے مانند ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الھبة ١٤ (٢٥٨٨) ، صحیح مسلم/الھبات ٢ (١٦٢٢) ، سنن ابی داود/البیوع ٨٣ (٣٥٣٨) ، سنن الترمذی/البیوع ٦٢ (١٢٩٩) ، سنن النسائی/الھبة ٢ (٣٧٢٣) ، (تحفة الأشراف : ٥٦٦٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٥٠، ٢٨٠، ٢٨٩، ٢٩١، ٣٣٩، ٣٤٢، ٣٤٥، ٣٤٩) (صحیح )

【12】

ہدیہ واپس لینا

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہبہ کر کے اسے واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹتا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٦٧٣٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ان حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہبہ کر کے واپس لے لینا کمینہ پنی، اور خست کا کام ہے اور خلاف مروت ہے، اکثر علماء ہبہ واپس لینے کو حرام کہتے ہیں مگر باپ ہبہ کو واپس لے لے تو جائز ہے۔

【13】

جس نے ہدیہ دیا اس امید سے کہ اس کا بدل ملے گا۔

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہبہ کرنے والا اپنی ہبہ کی ہوئی چیز کا زیادہ حقدار ہے جب تک اس کا عوض نہ پائے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٤٢٧٠، ومصباح الزجاجة : ٨٣٦) (ضعیف) (سند میں ابراہیم بن اسماعیل بن مجمع ضعیف راوی ہے )

【14】

خاوند کی اجازت کے بغیر بیوی کا عطیہ دینا

عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا : کسی عورت کا اپنے مال میں بغیر اپنے شوہر کی اجازت کے تصرف کرنا جائز نہیں، اس لیے کہ وہ اس کی عصمت (ناموس) کا مالک ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٨٧٧٩) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/البیوع ٨٦ (٣٥٤٦) ، سنن النسائی/الزکاة ٥٨ (٢٥٤١) ، العمریٰ (٣٧٨٧) ، مسند احمد (٢/٢٢١) (صحیح )

【15】

خاوند کی اجازت کے بغیر بیوی کا عطیہ دینا

کعب بن مالک (رض) کی اہلیہ خیرۃ (رض) کہتی ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اپنا زیور لے کر آئیں، اور عرض کیا : میں نے اسے صدقہ کردیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے لیے اپنے مال میں تصرف کرنا جائز نہیں، کیا تم نے کعب سے اجازت لے لی ہے ؟ وہ بولیں : جی ہاں، آپ ﷺ نے ان کے شوہر کعب بن مالک (رض) کے پاس آدمی بھیج کر پچھوایا، کیا تم نے خیرہ کو اپنا زیور صدقہ کرنے کی اجازت دی ہے ، وہ بولے : جی ہاں، تب جا کر رسول اللہ ﷺ نے ان کا صدقہ قبول کیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٥٨٣١، ومصباح الزجاجة : ٨٣٧) (صحیح) (سند میں عبد اللہ بن یحییٰ مجہول ہیں، لیکن دوسرے شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ٧٧٥ )