8. فضائل قرآن کا بیان

【1】

قرآن مجید یاد رکھنے کے حکم اور یہ کہنے کی ممانعت کے بیان میں کہ میں فلاں آیت بھول گیا اور آیت بھلا دی گئی کہنے کے جواز میں

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابواسامہ، ہشام اپنے والد سے، حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ رات کو ایک آدمی کا قرآن مجید پڑھنا سنا کرتے تھے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے کہ اس نے مجھے فلاں فلاں آیت یاد دلا دی کہ جسے میں فلاں سورت سے چھوڑ دیتا تھا۔

【2】

قرآن مجید یاد رکھنے کے حکم اور یہ کہنے کی ممانعت کے بیان میں کہ میں فلاں آیت بھول گیا اور آیت بھلا دی گئی کہنے کے جواز میں

ابن نمیر، عبدہ، ابومعاویہ، ہشام، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ مسجد میں ایک آدمی کا قرآن پڑھنا سنا کرتے تھے آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے کہ اس نے مجھے ایک آیت یاد دلا دی جسے مجھے بھلا دیا گیا تھا۔

【3】

قرآن مجید یاد رکھنے کے حکم اور یہ کہنے کی ممانعت کے بیان میں کہ میں فلاں آیت بھول گیا اور آیت بھلا دی گئی کہنے کے جواز میں

یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قرآن مجید پڑھنے والے کی مثال اس اونٹ کی طرح ہے جو بندھا ہوا ہو کہ اگر اس کے مالک نے اس کا خیال رکھا ہو تو وہ رک جائے اور اگر اسے چھوڑ دے تو وہ چلا جائے۔

【4】

قرآن مجید یاد رکھنے کے حکم اور یہ کہنے کی ممانعت کے بیان میں کہ میں فلاں آیت بھول گیا اور آیت بھلا دی گئی کہنے کے جواز میں

زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، عبیداللہ بن سعید، یحیی، ح، ابوبکر ابن ابی شیہ، ابوخالد احمر، ح، ابن نمیر، عبیداللہ، ح، ابن ابی عمر، عبدالرزاق، معمر، ایوب، ح، قتیبہ بن سعید، یعقوب، ح، محمد بن اسحاق مسیبی، ابن عیاض، موسیٰ بن عقبہ، نافع، ابن عمر اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس میں اتنا زائد ہے کہ جب قرآن پڑھنے والا اسے رات دن پڑھتا رہے تو اسے یاد رہتا ہے اور جب اسے نہ پڑھے تو وہ اسے بھول جاتا ہے۔

【5】

قرآن مجید یاد رکھنے کے حکم اور یہ کہنے کی ممانعت کے بیان میں کہ میں فلاں آیت بھول گیا اور آیت بھلا دی گئی کہنے کے جواز میں

زہیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، ابو وائل، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ برا ہو اس کا تم میں سے جو کوئی یہ کہے کہ میں فلاں فلاں بھول گیا بلکہ وہ بھلا دیا گیا قرآن مجید کو یاد رکھو اور اس کا خیال رکھو کیونکہ وہ لوگوں کے سینوں میں سے ان چار پایوں سے زیادہ دوڑنے والا ہے جن کا ایک پاؤں بندھا ہوا ہے۔

【6】

قرآن مجید یاد رکھنے کے حکم اور یہ کہنے کی ممانعت کے بیان میں کہ میں فلاں آیت بھول گیا اور آیت بھلا دی گئی کہنے کے جواز میں

ابن نمیر، ابومعاویہ، ح، یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ، اعمش، شقیق فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا کہ قرآن مجید کا خیال رکھو کیونکہ وہ لوگوں کے سینوں میں سے ان چوپایوں سے زیادہ بھاگنے والا ہے جن کا ایک پاؤں بندھا ہوا ہو اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیت کو بہت بھول گیا بلکہ وہ یہ کہے کہ مجھے بھلا دیا گیا۔

【7】

قرآن مجید یاد رکھنے کے حکم اور یہ کہنے کی ممانعت کے بیان میں کہ میں فلاں آیت بھول گیا اور آیت بھلا دی گئی کہنے کے جواز میں

محمد بن حاتم، محمد بن بکر، ابن جریج، عبدہ ابن ابی لبابہ، شقیق بن سلمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کسی آدمی کے لئے یہ کہنا برا ہے کہ میں فلاں فلاں سورت بھول گیا یا فلاں فلاں آیت بھول گیا بلکہ وہ یہ کہے کہ مجھے بھلا دیا گیا۔

【8】

قرآن مجید یاد رکھنے کے حکم اور یہ کہنے کی ممانعت کے بیان میں کہ میں فلاں آیت بھول گیا اور آیت بھلا دی گئی کہنے کے جواز میں

عبداللہ بن براد اشعری، ابوکریب، ابواسامہ، برید، ابوبردہ، حضرت ابوموسی فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قرآن مجید کا خیال رکھو قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے یہ قرآن مجید اونٹ سے زیادہ بھاگنے والا ہے اپنے باندھنے سے۔

【9】

خوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کے استح کے بیان میں

عمرو ناقد، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، زہری، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو ایسے پیار اور محبت سے نہیں سنتا جتنا کہ وہ اس نبی کی آواز کو کہ جو خوش الحانی کے ساتھ قرآن پڑھے۔

【10】

خوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کے استح کے بیان میں

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ح، یونس، عبدالاعلی، ابن وہب، عمرو، حضرت ابن شہاب کی سند کے ساتھ اس حدیث میں ہے کہ جس طرح اس نبی سے سنتا ہے کہ جو خوش الحانی کے ساتھ قرآن پڑھے۔

【11】

خوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کے استح کے بیان میں

بشر بن حکم، عبدالعزیز بن محمد، یزید بن الہاد، محمد بن ابراہیم، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ اس طرح کسی چیز کو نہیں سنتا جس طرح کہ اس نبی کی آواز کو جو خوش الحانی اور بلند آواز سے پڑھے۔

【12】

خوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کے استح کے بیان میں

ابن اخی ابن وہب، عبداللہ بن وہب، عمر وبن مالک وحیوہ بن شریح، ابن الہاد اس سند کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس میں آپ ﷺ نے سمع کا لفظ نہیں فرمایا۔

【13】

خوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کے استح کے بیان میں

حکم بن موسی، ہقل، اوزاعی، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز پر اتنا اجر عطا نہیں فرماتے جتنا کہ نبی کے خوش الحانی اور بلند آواز سے قرآن مجید پڑھنے پر عطا فرماتے ہیں۔

【14】

خوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کے استح کے بیان میں

یحییٰ بن ایو ب، قتیبہ بن سعید، ابن حجر، ابن جعفر، محمد بن عمرو، ابوسلمہ، ابوہریرہ اس سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ (رض) نے نبی ﷺ سے اسی طرح نقل کیا ہے۔

【15】

خوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کے استح کے بیان میں

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ح، ابن نمیر، مغول، عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن قیس (رض) یا حضرت اشعری (رض) کو آل داؤد کی خوش الحانی سے حصہ عطا فرمایا گیا ہے۔

【16】

خوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کے استح کے بیان میں

داؤد بن رشید، یحییٰ بن سعید، طلحہ بن ابی بردہ، حضرت ابوموسی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوموسی (رض) سے فرمایا کہ اگر تم مجھے گزشتہ رات دیکھتے جب میں تمہارا قرآن مجید سن رہا تھا یقینا تمہیں آل داؤد کی خوش الحانی سے حصہ ملا ہے۔

【17】

نبی کا فتح مکہ کے دن سورت الفتح پڑھنا

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن ادریس، وکیع، شعبہ، معاویہ بن قرہ، حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ فتح مکہ والے سال اپنی سواری پر سورت الفتح پڑھتے ہوئے جا رہے تھے اور آپ ﷺ اپنی قرأت کو دہراتے تھے معاویہ کہتے ہیں کہ مجھے لوگوں سے یہ ڈر نہ ہوتا کہ مجھے گھیر لیں گے تو میں آپ ﷺ کی قرأت بیان کرتا۔

【18】

نبی کا فتح مکہ کے دن سورت الفتح پڑھنا

محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، معاویہ بن قرہ، حضرت عبداللہ بن مغفل سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فتح مکہ کے دن اپنی اونٹنی پر سورت الفتح پڑھتے ہوئے دیکھا، راوی نے کہا کہ حضرت ابن مغفل (رض) نے قرآن پڑھا اور اسے دہرایا معاویہ نے کہا کہ اگر مجھے لوگوں کا خدشہ نہ ہوتا تو میں تمہیں اسی طرح بیان کرتا جس طرح حضرت ابن مغفل (رض) نے نبی ﷺ سے ذکر کیا۔

【19】

نبی کا فتح مکہ کے دن سورت الفتح پڑھنا

یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد بن حارث، عبیداللہ بن معاذ، شعبہ اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

【20】

قرآن مجید پڑھنے کی برکت سے سکینت نازل ہونے کے بیان میں

یحییٰ بن یحیی، ابوخیثمہ، ابواسحاق، براء فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سورت کہف پڑھ رہا تھا اور اس کے پاس ایک گھوڑا دو رسیوں سے بندھا ہوا تھا کہ اچانک اس کو ایک بادل نے ڈھانپ لیا اور وہ بادل اس کے گرد گھومنے لگا اور اس کے قریب ہونے لگا اور اس کا گھوڑا بدکنے لگا پھر جب صبح ہوئی تو وہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ سکینہ ہے جو قرآن مجید کی وجہ سے نازل ہوا۔

【21】

قرآن مجید پڑھنے کی برکت سے سکینت نازل ہونے کے بیان میں

ابن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، حضرت براء فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سورت الکہف پڑھ رہا تھا اور اس کے گھر میں ایک جانور تھا اچانک وہ جانور بدکنے لگا اس نے دیکھا کہ ایک بادل نے اس ڈھانپا ہوا ہے اس آدمی نے نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ قرآن پڑھو کیونکہ یہ سکینہ ہے جو قرآن کی تلاوت کے وقت نازل ہوتی ہے۔

【22】

قرآن مجید پڑھنے کی برکت سے سکینت نازل ہونے کے بیان میں

ابن مثنی، عبدالرحمن بن مہدی، ابوداد، شعبہ، ابواسحاق، براء اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی حضرت براء (رض) نے اسی طرح روایت کی۔

【23】

قرآن مجید پڑھنے کی برکت سے سکینت نازل ہونے کے بیان میں

حسن بن علی حلوانی، حجاج شاعر، یعقوب بن ابراہیم، یزید بن الہاد، عبداللہ بن خباب، ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں کہ حضرت اسید بن حضیر (رض) ایک رات اپنی کھجوروں کے کھلیان میں قرآن مجید پڑھ رہے تھے کہ انکا گھوڑا بدکنے لگا، آپ (رض) نے پھر پڑھا وہ پھر بدکنے لگا آپ نے پڑھا وہ پھر بدکنے لگا، حضرت اسید کہتے ہیں کہ میں ڈرا کہ کہیں وہ یحییٰ کو کچل نہ ڈالے میں اس کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سائبان کی طرح میرے سر پر ہے وہ چراغوں سے روشن ہے وہ اوپر کی طرف چڑھنے لگا یہاں تک کہ میں اسے پھر نہ دیکھ سکا، صبح کے وقت میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں رات کے وقت اپنے کھلیان میں قرآن مجید پڑھ رہا تھا کہ اچانک میرا گھوڑا بدکنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابن حضیر پڑھتے رہو انہوں نے عرض کیا کہ میں پڑھتا رہا وہ پھر اسی طرح بدکنے لگا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابن حضیر پڑھتے رہو انہوں نے عرض کیا کہ میں پڑھتا رہا وہ پھر اسی طرح بدکنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابن حضیر پڑھتے رہو ابن حضیر کہتے ہیں کہ میں پڑھ کر فارغ ہوا تو یحییٰ اس کے قریب تھا مجھے ڈر لگا کہ کہیں وہ اسے کچل نہ دے اور میں نے ایک سائبان کی طرح دیکھا کہ اس میں چراغ سے روشن تھے اور اوپر کی طرف چڑھا یہاں تک کہ اسے میں نہ دیکھ سکا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ فرشتے تھے جو تمہارا قرآن سنتے تھے اور اگر تم پڑھتے رہتے تو صبح لوگ ان کو دیکھتے اور وہ لوگوں سے پوشیدہ نہ ہوتے۔

【24】

قرآن مجید حفظ کرنے والوں کی فضلیت کے بیان میں

قتیبہ بن سعید، ابوکامل جحدری، ابوعوانہ، قتادہ، انس، حضرت ابوموسی اشعری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مومن کے قرآن مجید پڑھنے کی مثال ترنج کی طرح ہے کہ اس کی خوشبو پاکیزہ اور ذائقہ خوشگوار ہے اور قرآن مجید نہ پڑھنے والے مومن کی مثال اس کھجور کی طرح ہے کہ جس میں خوشبو نہیں لیکن اس کا ذائقہ میٹھا ہے اور منافق کے قرآن پڑھنے کی مثال ریحان کی طرح ہے کہ اس کی خوشبو تو اچھی ہے اور اس کا ذائقہ کڑوا ہے اور منافق کے قرآن نہ پڑھنے کی مثال حنظلہ کی طرح ہے کہ جس میں خوشبو نہیں اور اس کا ذائقہ کڑوا ہے۔

【25】

قرآن مجید حفظ کرنے والوں کی فضلیت کے بیان میں

ہداب بن خالد، ہمام، ح، محمد بن مثنی، یحییٰ بن سعید، قتادہ اس سند کے ساتھ حضرت قتادہ (رض) سے یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس میں منافق کی جگہ فاجر کا لفظ ہے۔

【26】

قرآن مجید کے ماہر اور اس کو اٹک اٹک کر پڑھنے والے کی فضلیت کے بیان میں

قتیبہ بن سعید، محمد بن عبید غبری، ابوعوانہ، قتادہ، زرارہ بن اوفی، سعد بن ہشام، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو آدمی قرآن مجید میں ماہر ہو وہ ان فرشتوں کے ساتھ ہے جو معزز اور بزرگی والے ہیں اور جو قرآن مجید اٹک اٹک کر پڑھتا ہے اور اسے پڑھنے میں دشواری پیش آتی ہے تو اس کے لئے دوہرا اجر ہے۔

【27】

قرآن مجید کے ماہر اور اس کو اٹک اٹک کر پڑھنے والے کی فضلیت کے بیان میں

محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، سعید، ح، ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ہشام دستوائی، حضرت قتادہ (رض) سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

【28】

سب سے بہتر قرآن پڑھنے والوں کا اپنے سے کم درجہ والوں کے سامنے قرآن مجید پڑھنے والوں کے استح کے بیان میں

ہداب بن خالد، ہمام، قتادہ، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابی بن کعب (رض) سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن مجید پڑھ کر سناؤں انہوں نے عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لے کر فرمایا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تیرا نام لے کر مجھے فرمایا ہے راوی نے کہا کہ حضرت ابی (رض) یہ سن کر رونے لگ پڑے۔

【29】

سب سے بہتر قرآن پڑھنے والوں کا اپنے سے کم درجہ والوں کے سامنے قرآن مجید پڑھنے والوں کے استح کے بیان میں

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابی بن کعب (رض) سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں تجھے (لَمْ يَکُنْ الَّذِينَ کَفَرُوا) پڑھ کر سناؤں حضرت ابی بن کعب (رض) نے عرض کیا کیا اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے میرا نام لیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں حضرت ابی (رض) یہ سن کر رو پڑے۔

【30】

سب سے بہتر قرآن پڑھنے والوں کا اپنے سے کم درجہ والوں کے سامنے قرآن مجید پڑھنے والوں کے استح کے بیان میں

یحییٰ بن حبیب حارثی، ابن الحارث، شعبہ، حضرت قتادہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت انس (رض) سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابی (رض) سے فرمایا باقی حدیث اسی طرح ہے۔

【31】

حافظ قرآن سے قرآن سننے کی درخواست کرنے اور قرآن مجید سنتے ہوئے رونے اور اس کے معنی پر غور کرنے کی فضلیت کے بیان میں

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، حفص بن غیاث، اعمش، ابراہیم، عبیدہ، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا کہ مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! میں آپ ﷺ کو قرآن پڑھ کر سناؤں، حالانکہ قرآن تو آپ ﷺ پر نازل کیا گیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے علاوہ کسی اور سے قرآن مجید سنوں، میں نے سورت النسا پڑھنی شروع کردی یہاں تک کہ جب میں اس (فَکَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی هَؤُلَاءِ شَهِيدًا) پر پہنچا تو میں نے اپنا سر اٹھایا تو میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کے آنسو جاری ہیں۔

【32】

حافظ قرآن سے قرآن سننے کی درخواست کرنے اور قرآن مجید سنتے ہوئے رونے اور اس کے معنی پر غور کرنے کی فضلیت کے بیان میں

ہناد بن سری، منجاب بن حارث تمیمی، علی بن مسہر، اعمش اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس روایت میں اتنا زائد ہے کہ جب آپ ﷺ نے مجھے فرمایا تو اس وقت آپ ﷺ منبر پر تھے۔

【33】

حافظ قرآن سے قرآن سننے کی درخواست کرنے اور قرآن مجید سنتے ہوئے رونے اور اس کے معنی پر غور کرنے کی فضلیت کے بیان میں

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابواسامہ، مسعر، عمرو بن مرہ، حضرت ابراہیم (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے فرمایا کہ مجھے قرآن مجید پڑھ کر سناؤ ! میں نے عرض کیا کہ میں آپ ﷺ کو قرآن پڑھ کر سناؤں ؟ حالانکہ قرآن تو آپ ﷺ پر نازل کیا گیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میں اپنے علاوہ کسی اور سے قرآن مجید سنوں، میں نے آپ ﷺ کو سورت النساء کے شروع سے سنانا شروع کیا جب میں اس آیت پر پہنچا (فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰ ؤُلَا ءِ شَهِيْدًا) 4 ۔ النسآء : 41) تو آپ ﷺ رو پڑے، مسعر کہتے ہیں کہ مجھے سے معن، جعفر بن عمرو بن حریث نے اپنے باپ کے واسطہ سے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ( وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ ) 5 ۔ المائدہ : 117) کہ میں امت کے حال سے اس وقت تک واقف تھا جب تک کہ میں ان میں تھا مسعر کو شک ہے کہ دُمْتُ فرمایا یا کُنتُ فرمایا۔

【34】

حافظ قرآن سے قرآن سننے کی درخواست کرنے اور قرآن مجید سنتے ہوئے رونے اور اس کے معنی پر غور کرنے کی فضلیت کے بیان میں

عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش، ابراہیم، علقمہ، حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں حمص میں تھا تو کچھ لوگوں نے کہا کہ ہمیں قرآن مجید پڑھ کر سنائیں میں نے انہیں سورت یوسف پڑھ کر سنائی، ان لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا کہ یہ سورت اس طرح نازل نہیں ہوئی میں نے کہا کہ تجھ پر افسوس ہے اللہ کی قسم میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ سورت اسی طرح سنائی تھا اس آدمی نے کہا کہ اچھا ٹھیک ہے، حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب میں اس سے بات کر رہا تھا تو میں نے اس کے منہ سے شراب کی بدبو محسوس کی، میں نے کہا تو تو شراب پیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کو جھٹلاتا ہے میں تجھے یہاں سے نہیں جانے دوں گا یہاں تک کہ میں تجھے کوڑے لگاؤں حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا کہ پھر میں نے (اسے شراب کی حد میں) کوڑے لگائے۔

【35】

حافظ قرآن سے قرآن سننے کی درخواست کرنے اور قرآن مجید سنتے ہوئے رونے اور اس کے معنی پر غور کرنے کی فضلیت کے بیان میں

اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، ح، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، حضرت اعمش (رض) سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

【36】

نماز میں قرآن مجید پڑھنے اور اسے سیکھنے کی فضلیت کے بیان میں

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوسعید اشج، وکیع، اعمش، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی اس کو پسند کرتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر والوں کی طرف واپس جائے تو وہاں تین حاملہ اونٹنیاں موجود ہوں اور وہ بہت بڑی اور موٹی ہوں ہم نے عرض کیا کہ جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو کوئی اپنی نماز میں تین آیات پڑھتا ہے وہ تین بڑی بڑی موٹی اونٹنیوں سے اس کے لئے بہتر ہے۔

【37】

نماز میں قرآن مجید پڑھنے اور اسے سیکھنے کی فضلیت کے بیان میں

ابوبکر بن ابی شیبہ، فضل بن دکین، موسیٰ بن علی، حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ اس حال میں تشریف لائے کہ ہم صفہ میں تھے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ وہ روزانہ صبح بطحان کی طرف یا عقیق کی طرف جائے اور وہ وہاں سے بغیر کسی گناہ اور بغیر کسی قطع رحمی کے دو بڑے بڑے کوہان والی اونٹنیاں لے آئے ؟ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم سب اس کو پسند کرتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی صبح مسجد کی طرف نہیں جاتا ہے کہ وہ اللہ کی کتاب کی دو آیتیں خود سیکھے یا سکھائے یہ اس کے لئے دو اونٹنیوں سے بہتر ہے اور تین تین سے بہتر ہے اور چار چار سے بہتر ہے اس طرح آیتوں کی تعداد اونٹنیوں کی تعداد سے بہتر ہے۔

【38】

قرآن مجید اور سورت البقرہ پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں

حسن بن علی حلوانی، ابوتوبہ (ربیع بن نافع) ، ابن سلام، زید، حضرت ابوامامہ باہلی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید پڑھا کرو کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لئے سفارشی بن کر آئے گا اور دو روشن سورتوں کو پڑھا کرو سورت البقرہ اور سورت آل عمران کیونکہ یہ قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے کہ دو بادل ہوں یا دو سائبان ہوں یا دو اڑتے ہوئے پرندوں کی قطاریں ہوں اور وہ اپنے پڑھنے والوں کے بارے میں جھگڑا کریں گی، سورت البقرہ پڑھا کرو کیونکہ اس کا پڑھنا باعث برکت ہے اور اس کا چھوڑنا باعث حسرت ہے اور جادوگر اس کو حاصل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

【39】

قرآن مجید اور سورت البقرہ پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں

عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، یحییٰ بن حسان، معاویہ اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

【40】

قرآن مجید اور سورت البقرہ پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں

اسحاق بن منصور، یزید بن عبدربہ، ولید بن مسلم، محمد بن مہاجر، ولید بن عبدالرحمن جرشی، جبیر بن نفیر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نو اس (رض) بن سمعان کلابی سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن قرآن مجید اور ان لوگوں کو جو اس پر عمل کرنے والے تھے لایا جائے گا ان کے آگے سورت البقرہ اور سورت آل عمران ہوں گی رسول اللہ ﷺ نے ان سورتوں کے لئے تین مثالیں ارشاد فرمائی ہیں جنہیں میں اب تک نہیں بھولا وہ اس طرح سے ہیں جس طرح کہ دو بادل ہوں یا دو سیاہ سائبان ہوں اور ان دونوں کے درمیان روشنی ہو یا صف بندھی ہوئی پرندوں کی دو قطاریں ہوں وہ اپنے پڑھنے والوں کے بارے میں جھگڑا کریں گی۔

【41】

سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیات کی فضلیت اور سورت بقرہ کی آخری آیات پڑھنے کی ترغیب کے بیان میں

حسن بن ربیع، احمد بن جو اس حنفی، ابوالاحوص، عمار بن رزیق، عبداللہ بن عیسی، سعد بن جبیر، حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ہمارے درمیان حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک اوپر سے ایک آواز سنی تو آپ ﷺ نے اپنا سر مبارک اٹھایا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ دروازہ آسمان کا ہے جسے صرف آج کے دن کھولا گیا اس سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا پھر اس سے ایک فرشتہ اترا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ فرشتہ جو زمین کی طرف اترا ہے یہ آج سے پہلے کبھی نہیں اترا اس فرشتے نے سلام کیا اور کہا کہ آپ ﷺ کو ان دو نوروں کی خوشخبری ہو جو آپ ﷺ کو دیئے گئے جو کہ آپ ﷺ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیئے گئے ایک سورت الفاتحہ اور دوسری سورت البقرہ کی آخری آیات آپ ﷺ ان میں سے جو حرف بھی پڑھیں گے آپ ﷺ کو اس کے مطابق دیا جائے گا۔

【42】

سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیات کی فضلیت اور سورت بقرہ کی آخری آیات پڑھنے کی ترغیب کے بیان میں

احمد بن یونس، زہیر، منصور، ابراہیم، عبدالرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابومسعود (رض) سے بیت اللہ کے پاس ملا تو میں نے کہا کہ سورت البقرہ کی دو آیتوں کے بارے میں آپ ﷺ کی حدیث مجھ تک پہنچی ہے انہوں نے فرمایا کہ ہاں رسول اللہ ﷺ نے سورت البقرہ کی آخری دو آیتوں کے بارے میں فرمایا کہ جو اسے رات کو پڑھے گا وہ اسے کافی ہوں گی۔

【43】

سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیات کی فضلیت اور سورت بقرہ کی آخری آیات پڑھنے کی ترغیب کے بیان میں

اسحاق بن ابراہیم، جریر، ح، محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، حضرت منصور (رض) سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

【44】

سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیات کی فضلیت اور سورت بقرہ کی آخری آیات پڑھنے کی ترغیب کے بیان میں

منجاب بن حارث تمیمی، ابن مسہر، اعمش، ابراہیم، عبدالرحمن بن یزید، علقمہ بن قیس، حضرت ابومسعود انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی سورت البقرہ کی آخری دو آیتیں رات کے وقت پڑھے گا وہ اسے کافی ہوجائیں گی راوی عبدالرحمن نے کہا میں حضرت ابومسعود (رض) سے بیت اللہ کے طواف کے دوران ملا میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے نبی ﷺ سے نقل کر کے یہی حدیث بیان کی۔

【45】

سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیات کی فضلیت اور سورت بقرہ کی آخری آیات پڑھنے کی ترغیب کے بیان میں

علی بن خشرم، ابن یونس، ح، ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، اعمش، ابراہیم، علقمہ، عبدالرحمن بن یزید، ابومسعود (رض) نے نبی ﷺ سے یہی روایت نقل کی ہے۔

【46】

سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیات کی فضلیت اور سورت بقرہ کی آخری آیات پڑھنے کی ترغیب کے بیان میں

ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، عبدالرحمن بن یزید، ابومسعود (رض) نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔

【47】

سورت الکہف اور آیة الکرسی کی فضلیت کے بیان میں

محمد بن مثنی، معاذ بن ہشام، ابوقتادہ، سالم، ابی الجعد غطفانی، معدان، ابوطلحہ یعمری، ابودرداء (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو آدمی سورت کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرلے گا وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا۔

【48】

سورت الکہف اور آیة الکرسی کی فضلیت کے بیان میں

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، ح، زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی، ہمام، قتادہ سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح روایت کی گئی ہے لیکن اس میں شعبہ کی روایت میں سورت کہف کی آخری آیات اور ہمام کی روایت میں سورت کہف کی ابتدائی آیات کا ذکر ہے۔

【49】

سورت الکہف اور آیة الکرسی کی فضلیت کے بیان میں

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالاعلی بن عبدالاعلی، جریری، ابوالسلیل، عبداللہ بن رباح انصاری، ابی بن کعب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوالمنذر کیا تجھے معلوم ہے کہ تیرے نزدیک اللہ کی کتاب میں سے سب سے بڑی آیت کونسی ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا کیا تجھے معلوم ہے کہ تیرے نزدیک اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سب سے عظیم آیت کونسی ہے میں نے کہا ( اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ) آخر تک آپ ﷺ نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایا اے ابوالمنذر یہ علم تجھے مبارک ہو۔

【50】

قل ہو اللہ احد پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں

زہیر بن حرب، محمد بن بشار، یحییٰ بن سعید، شعبہ، قتادہ، سالم بن ابی الجعد، معدان بن ابی طلحہ، حضرت ابوالدرداء (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی آدمی رات میں تہائی قرآن مجید پڑھ سکتا ہے ؟ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا کہ وہ کیسے پڑھا جاسکتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ سورت ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) تہائی قرآن مجید کے برابر ہے۔

【51】

قل ہو اللہ احد پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں

اسحاق بن ابراہیم، محمد بن بکر، سعید بن ابی عروبہ، ح، ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، ابان عطار، حضرت قتادہ سے اس سند کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا گیا ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے تین حصے فرمائے ہیں اور قرآن کے ان تین حصوں میں سے ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) کو ایک حصہ مقرر فرمایا ہے۔

【52】

قل ہو اللہ احد پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں

محمد بن حاتم، یعقوب بن ابراہیم، یحیی، ابن حاتم، یحییٰ بن سعید، یزید بن کیسان، ابوحازم، ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم سب اکٹھے ہوجاؤ تاکہ میں تمہارے سامنے تہائی قرآن مجید پڑھوں پھر جنہوں نے اکٹھا ہونا تھا وہ اکٹھے ہوگئے پھر نبی ﷺ نکلے اور آپ ﷺ نے سورت قل ہو اللہ احد پڑھی پھر آپ ﷺ تشریف لے گئے ہم آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ شاید آسمان سے کوئی خبر آئی ہے جس کی وجہ سے آپ ﷺ اندر تشریف لے گئے ہیں پھر نبی ﷺ باہر تشریف لائے تو فرمایا میں تمہارے سامنے تہائی قرآن مجید پڑھتا ہوں سنو آگاہ رہو یہ سورت ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) تہائی قرآن کے برابر ہے۔

【53】

قل ہو اللہ احد پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں

واصل بن عبدالاعلی، ابن فضیل، بشیر ابواسماعیل، ابوحازم، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہماری طرف تشریف لائے تو فرمایا کہ میں تمہارے اوپر تہائی قرآن مجید پڑھتا ہوں پھر آپ ﷺ نے ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) اس کے ختم تک پڑھی۔

【54】

قل ہو اللہ احد پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں

احمد بن عبدالرحمن بن وہب، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، سعید بن ابی ہلال، ابوالرجال محمد بن عبدالرحمن، عمرہ بنت عبدالرحمن، حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو ایک سریہ میں امیر بنا کر بھیجا وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے اور نماز میں قرأت ختم کر کے ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) بھی پڑھتے تھے جب وہ لوگ واپس آئے تو اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا گیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس سے پوچھو کہ وہ اس طرح کیوں کرتا تھا تو لوگوں نے اس سے پوچھا کہ وہ اسطرح کیوں کرتا تھا تو اس نے کہا اس سورت میں رحمن (اللہ جل جلالہ) کی صفات بیان کی گئی ہیں اس لئے میں پسند کرتا ہوں کہ میں اسے پڑھوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس آدمی سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت کرتا ہے۔

【55】

معوذتین پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں۔

قتیبہ بن سعید، جریر، بیان، قیس بن ابی حازم، عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ رات ایسی آیات نازل کی گئی ہیں کہ ان کی طرح پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں (قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ) ۔

【56】

معوذتین پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں۔

محمد بن عبداللہ بن نمیر، اسماعیل، قیس، حضرت عقبہ بن عامر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا کہ مجھ پر (ایسی آیات) نازل کی گئی ہیں کہ ان کی طرح پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں (قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ )

【57】

معوذتین پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں۔

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ح، محمد بن رافع، ابواسامہ، اسماعیل سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

【58】

قرآن مجید پر عمل کرنے والوں اور اسکے سکھانے والوں کی فضلیت کے بیان میں

ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، ابن عیینہ، زہیر، سفیان بن عیینہ، زہری، حضرت سالم (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ دو آدمیوں کے سوا کسی پر حسد کرنا جائز نہیں ایک وہ آدمی کہ جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید عطا فرمایا ہو اور وہ رات دن اس پر عمل کرنے کے ساتھ اس کی تلاوت کرتا ہو اور وہ آدمی کہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا ہو اور وہ رات اور دن اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کرتا ہو۔

【59】

قرآن مجید پر عمل کرنے والوں اور اسکے سکھانے والوں کی فضلیت کے بیان میں

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت سالم بن ابن عمر (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دو آدمیوں کے سوا کسی پر حسد کرنا جائز نہیں ایک وہ کہ جسے اللہ تعالیٰ نے کتاب عطا فرمائی ہو اور وہ رات دن اس کی تلاوت کے ساتھ اس پر عمل بھی کرتا ہو اور دوسرا وہ آدمی کہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا اور وہ اس مال سے رات دن صدقہ کرتا رہتا ہو۔

【60】

قرآن مجید پر عمل کرنے والوں اور اسکے سکھانے والوں کی فضلیت کے بیان میں

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، اسماعیل، قیس، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دو آدمیوں کے سوا کسی پر حسد کرنا جائز نہیں ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا ہو اور وہ اسے حق کے راستے میں خرچ کرتا ہو اور دوسرا وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے دانائی عطا فرمائی اور وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہو اور اسے لوگوں کو سکھاتا ہو۔

【61】

قرآن مجید پر عمل کرنے والوں اور اسکے سکھانے والوں کی فضلیت کے بیان میں

زہیر بن حرب، یعقوب بن ابراہیم، ابن شہاب، حضرت عامر بن واثلہ سے روایت ہے کہ نافع بن حارث نے حضرت عمر (رض) سے عسفان میں ملاقات کی حضرت عمر (رض) نے انہیں مکہ کا امیر مقرر کرنے کا حکم دیا ہوا تھا آپ نے فرمایا کہ تم نے مکہ میں کسے امیر بنایا ہے ؟ تو اس نے عرض کیا کہ ابن ابزی کو، آپ نے پوچھا کہ ابزی کون آدمی ہے ؟ اس نے جواب میں کہا کہ ہمارے غلاموں میں سے ایک غلام ہے آپ نے فرمایا کہ تو نے ایک غلام کو ان کا امیر بنادیا ہے ؟ اس نے کہا کہ وہ اللہ کی کتاب کا قاری ہے اور اس کے احکامات پر عمل بھی کرتا ہے، حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ تمہارے نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اسی کتاب کے ذریعہ لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اسی کتاب کے ذریعہ لوگوں کو پست و ذلیل کرتا ہے۔

【62】

قرآن مجید پر عمل کرنے والوں اور اسکے سکھانے والوں کی فضلیت کے بیان میں

عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابوبکر بن اسحاق، ابوالیمان، شعیب، حضرت زہری (رض) سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

【63】

قرآن مجید کا سات حرفوں (قرائتوں) میں نازل ہونے اور اس کے معنی کے بیان میں

یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، عبدالرحمن بن عبدالقاری، عمر بن خطاب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ہشام (رض) بن حکیم بن حزام (رض) سے سنا کہ وہ سورت الفرقان کو اس قرأت پر نہیں پڑھ رہے کہ جس قرأت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے مجھے پڑھائی قریب تھا کہ میں ان پر جلدی کرتا لیکن میں نے انہیں مہلت دی تاکہ وہ نماز سے فارغ ہوجائیں پھر میں ان کو چادر سے کھینچتا ہوا رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آیا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میں نے ان کو سورت الفرقان اس طرح پڑھتے سنا ہے جس طرح آپ ﷺ نے مجھے نہیں پڑھایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے چھوڑ دو تم پڑھو، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ سورت اسی طرح نازل کی گئی ہے پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے تمہیں جس طرح آسانی ہو پڑھو۔

【64】

قرآن مجید کا سات حرفوں (قرائتوں) میں نازل ہونے اور اس کے معنی کے بیان میں

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، مسوربن مخرمہ، عبدالرحمن بن عبدالقاری، حضرت عمر (رض) بن خطاب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ہشام بن حکیم (رض) سے سورت الفرقان پڑھتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی زندگی مبارک ہی میں سنی اس سے آگے حدیث مذکورہ حدیث کی طرح ہے اور اس میں اتنا زائد ہے کہ فرمایا قریب تھا کہ میں اسے نماز ہی میں گھسیٹ کرلے آتا لیکن میں نے اس کے سلام پھیرنے تک صبر کیا۔ حضرت زہری سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اس طرح نقل کی گئی ہے۔

【65】

قرآن مجید کا سات حرفوں (قرائتوں) میں نازل ہونے اور اس کے معنی کے بیان میں

اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری (رض) سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

【66】

قرآن مجید کا سات حرفوں (قرائتوں) میں نازل ہونے اور اس کے معنی کے بیان میں

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عقبہ، حضرت ابن عباس (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے ایک حرف پر قرآن مجید پڑھایا میں نے انہیں زیادہ کے لئے کہا یہاں تک کہ سات حرفوں تک قرآن مجید کی قرأت ہوگئی ابن ہشام راوی کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات یاد نہیں ہے کہ سات حرفوں کا معنی ایک ہوتا ہے جس میں حلال اور حرام میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔

【67】

قرآن مجید کا سات حرفوں (قرائتوں) میں نازل ہونے اور اس کے معنی کے بیان میں

عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری (رض) سے اسی سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی گئی ہے۔

【68】

قرآن مجید کا سات حرفوں (قرائتوں) میں نازل ہونے اور اس کے معنی کے بیان میں

محمد بن عبداللہ بن نمیر، اسماعیل بن ابی خالد، عبداللہ بن عیسیٰ بن عبدالرحمن بن ابی لیلی اپنے دادا سے، حضرت ابی بن کعب (رض) فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں تھا کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور نماز پڑھنے لگا اور وہ ایسی قرأت پڑھنے لگا کہ جو میرے علم میں نہیں تھی پھر ایک دوسرا آدمی مسجد میں داخل ہوا اور وہ اس کے علاوہ کوئی اور قرأت پڑھنے لگا پھر جب ہم نے نماز پوری کرلی تو ہم سب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے میں نے عرض کیا کہ اس آدمی نے ایسی قرأت پڑھی کہ جس پر مجھے تعجب ہوا اور پھر ایک دوسرا آدمی آیا تو اس نے اس کے علاوہ کوئی اور قرأت پڑھی، رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کو حکم فرمایا تو انہوں نے پڑھا تو نبی ﷺ نے ان دونوں کے پڑھنے کو اچھا فرمایا اور میرے دل میں ایسی تکذیب سی آئی جو زمانہ جاہلیت میں تھی تو جب رسول اللہ ﷺ نے میری اس کیفیت کو دیکھا جو مجھ پر ظاہر ہو رہی تھی تو آپ ﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا جس سے میں پسینہ پسینہ ہوگیا گو یا کہ میں اللہ کی طرف دیکھ رہا ہوں پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا اے ابی پہلے مجھے حکم تھا کہ میں قرآن کو ایک حرف پر پڑھوں تو میں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ میری امت پر آسانی فرما دوسری مرتبہ مجھے دو حرفوں پر پڑھنے کا حکم ملا تو میں نے پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ میری امت پر آسانی فرما تو تیسری مرتبہ مجھے سات حرفوں پر پڑھنے کا حکم ملا کہ آپ ﷺ نے جتنی مرتبہ امت کی آسانی کے لئے مجھ سے سوال کیا ہے اتنی ہی مرتبہ کے بدلہ میں مجھ سے مانگو، میں نے عرض کیا اے اللہ میری امت کی مغفرت فرما اے اللہ میری امت کی مغفرت فرما اور تیسری دعا میں نے اس دن کے لئے محفوظ کرلی جس دن ساری مخلوق حتی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی میری طرف آئیں گے۔

【69】

قرآن مجید کا سات حرفوں (قرائتوں) میں نازل ہونے اور اس کے معنی کے بیان میں

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر، اسماعیل بن ابی خالد، عبداللہ بن عیسی، عبدالرحمن ابن ابی لیلیٰ ، حضرت ابی بن کعب (رض) فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی داخل ہو اس نے نماز پڑھی قرآن مجید پڑھا آگے مذکورہ حدیث کی طرح ہے۔

【70】

قرآن مجید کا سات حرفوں (قرائتوں) میں نازل ہونے اور اس کے معنی کے بیان میں

ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر، شعبہ، ح، ابن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، حکم، مجاہد، ابن ابی لیلیٰ ، حضرت ابی بن کعب (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ قبیلہ غفار کے تالاب پر تھے کہ آپ ﷺ کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو حکم فرماتے ہیں کہ اپنی امت کو ایک حرف پر قرآن پڑھائیے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ سے اس کی معافی اور مغفرت کا سوال کرتا ہوں اور یہ کہ میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی پھر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) دوسری مرتبہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو حکم دیا ہے کہ اپنی امت کو دو حرفوں پر قرآن مجید پڑھائیے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ سے اس کی معافی اور مغفرت کا سوال کرتا ہوں کہ میری امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی پھر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تیسری مرتبہ آئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو حکم دیا ہے کہ اپنی امت کو تین حرفوں پر قرآن مجید پڑھائیے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ سے اس کی معافی اور مغفرت کا سوال کرتا ہوں کہ میری امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی پھر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) چوتھی مرتبہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو حکم دیا ہے کہ آپ ﷺ اپنی امت کو سات حرفوں پر قرآن مجید پڑھائیں اور ان حرفوں میں سے جس حرف پر قرآن مجید پڑھیں گے وہ صحیح ہوگا۔

【71】

قرآن مجید کا سات حرفوں (قرائتوں) میں نازل ہونے اور اس کے معنی کے بیان میں

عبیداللہ بن معاذ اپنے والد سے، شعبہ اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح سے نقل کی گئی ہے۔

【72】

قرآن مجید ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور بہت جلدی جلدی پڑھنے سے بچنے اور ایک رکعت میں دو سورتیں یا اس سے زیادہ پڑھنے کے جواز کے بیان میں

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، وکیع، ابوبکر، وکیع، اعمش، حضرت ابو وائل سے روایت ہے کہ ایک آدمی جسے نہیک بن سنان کہا جاتا ہے حضرت عبداللہ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا اے ابوعبدالرحمٰن ! آپ اس حرف کو کیسے پڑھتے ہیں الف کے ساتھ یا یا کے ساتھ ؟ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ أَوْ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ يَاسِنٍ حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا تو نے اس حرف کے علاوہ پورا قرآن یاد کیا ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ میں مفصل کی ساری سورتیں ایک ہی رکعت میں پڑھتا ہوں، حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا کہ شعر کی طرح تو جلدی جلدی پڑھتا ہوگا بہت سے لوگ ایسے قرآن پڑھتے ہیں کہ (قرآن) ان کے گلے سے نیچے نہیں اترتا لیکن قرآن دل میں اتر جائے اور اس میں راسخ ہوجائے تو پھر نفع دیتا ہے نماز میں سب سے افضل ارکان رکوع اور سجود ہیں اور میں ان نظائر میں سے جانتا ہوں کہ جن کو رسول اللہ ﷺ ہر رکعت میں دو دو سورتیں ملا کر پڑھا کرتے تھے پھر حضرت عبداللہ کھڑے ہوئے حضرت علقمہ (رض) ان کے پیچھے گئے پھر وہ تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے انہوں نے اس چیز کی خبر دی ہے، ابن منیر نے اپنی روایت میں کہا کہ نبی بجیلہ کا ایک آدمی حضرت عبداللہ کی خدمت میں آیا اور نہیک بن سنان نہیں کہا۔

【73】

قرآن مجید ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور بہت جلدی جلدی پڑھنے سے بچنے اور ایک رکعت میں دو سورتیں یا اس سے زیادہ پڑھنے کے جواز کے بیان میں

ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عبداللہ کی طرف آیا جسے نہیک بن سنان کہا جاتا ہے باقی حدیث وکیع کی حدیث کی طرح نقل کی اس حدیث میں ہے کہ پھر حضرت علقمہ آئے اور وہ حضرت عبداللہ (رض) کی خدمت میں گئے ہم نے ان سے کہا کہ ان سے ان نظائر کے بارے میں پوچھ لو کہ جن کو رسول اللہ ﷺ ایک رکعت میں پڑھتے تھے تو وہ گئے اور ان سے جا کر پوچھا پھر آکر بتایا کہ وہ مفصل میں سے تیس سورتیں ہیں کہ ان کو دس رکعتوں میں پڑھا جاتا تھا اور وہ حضرت عبداللہ (رض) کی تالیف میں سے ہیں۔

【74】

قرآن مجید ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور بہت جلدی جلدی پڑھنے سے بچنے اور ایک رکعت میں دو سورتیں یا اس سے زیادہ پڑھنے کے جواز کے بیان میں

اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اعمش اس سند کی حدیث میں ہے کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ میں ان سورتوں کو پہچانتا ہوں جو شمائل میں ہیں جن میں سے رسول اللہ ﷺ دو دو کو ملا کر ایک رکعت میں پڑھتے دس رکعتوں میں بیس سورتیں پڑھتے تھے۔

【75】

قرآن مجید ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور بہت جلدی جلدی پڑھنے سے بچنے اور ایک رکعت میں دو سورتیں یا اس سے زیادہ پڑھنے کے جواز کے بیان میں

شیبان بن فروخ، مہدی بن میمون، واصل احدب، حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ ہم اگلے دن صبح کی نماز پڑھنے کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی طرف گئے اور دروازے سے سلام کیا تو انہوں نے ہمیں اجازت دیدی مگر ہم تھوڑی دیر دروازے کے ساتھ ٹھہرے رہے تو ایک باندی آئی اور اس نے کہا کہ تم اندر کیوں نہیں داخل ہو رہے ہو ؟ تو پھر ہم اندر داخل ہوئے تو حضرت عبداللہ (رض) بیٹھے تسبیح پڑھ رہے ہیں انہوں نے فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے اندر داخل ہونے سے روکا ہے جبکہ تمہیں اجازت دیدی گئی تھی ! تو ہم نے کہا کہ کوئی بات نہیں سوائے اس کے کہ ہم نے خیال کیا کہ گھر والوں میں سے کوئی سو رہا ہو تو عبداللہ (رض) نے فرمایا کہ تم نے ابن ام عبد کے گھر والوں کے بارے میں غفلت کا گمان کیا ؟ راوی نے کہا کہ پھر حضرت عبداللہ نے تسبیح پڑھنی شروع کردی یہاں تک کہ پھر خیال ہوا کہ سورج نکل گیا ہے تو باندی سے فرمایا دیکھو کیا سورج نکل آیا ہے اس نے دیکھا اور کہا کہ ابھی تک سورج نہیں نکلا تو آپ (رض) نے پھر تسبیح پڑھنی شروع کردی یہاں تک کہ پھر خیال ہوا کہ سورج نکل رہا ہے تو پھر باندی سے فرمایا کہ دیکھو سورج نکل گیا ہے ؟ پھر اس نے دیکھا تو سورج نکل چکا تھا تو حضرت عبداللہ (رض) نے (الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَقَالَنَا يَوْمَنَا هَذَا) راوی مہدی نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ جملہ بھی فرمایا (وَلَمْ يُهْلِکْنَا بِذُنُوبِنَا) اور ہم کو ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہلاک نہیں فرمایا جماعت میں سے ایک آدمی نے کہا میں نے آج کی رات مفصل کی ساری سورتیں پڑھی ہیں تو حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا تو نے اس طرح پڑھا ہوگا کہ جس طرح کہ (شاعر) شعر تیزی کے ساتھ پڑھتا ہے بیشک ہم نے قرآن مجید سنا اور مجھے وہ ساری سورتیں یاد ہیں کہ جن کو رسول اللہ ﷺ پڑھا کرتے تھے اور مفصل کی وہ اٹھارہ سورتیں ہیں اور دو سورتیں ختم کے لفظ سے شروع ہوتی ہیں۔

【76】

قرآن مجید ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور بہت جلدی جلدی پڑھنے سے بچنے اور ایک رکعت میں دو سورتیں یا اس سے زیادہ پڑھنے کے جواز کے بیان میں

عبد بن حمید، حسین بن علی جعفی، زائدہ، منصور، حضرت شقیق (رض) سے روایت ہے کہ بنی بجیلہ کا ایک آدمی جسے نہیک بن سنان کہا جاتا ہے حضرت عبداللہ (رض) کی طرف آیا اور کہنے لگا کہ میں ایک رکعت میں مفصل پڑھتا ہوں حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا کہ تم شعر کی طرح تیزی سے پڑھتے ہو گے، میں ان شمائل سورتوں کو جانتا ہوں جن سے رسول اللہ ﷺ ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھا کرتے تھے۔

【77】

قرآن مجید ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور بہت جلدی جلدی پڑھنے سے بچنے اور ایک رکعت میں دو سورتیں یا اس سے زیادہ پڑھنے کے جواز کے بیان میں

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن مرہ، حضرت ابو وائل (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن مسعود (رض) کی طرف آیا اور کہنے لگا کہ میں نے رات ایک رکعت میں پوری مفصل پڑھی ہیں تو حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا کہ تو نے شعر کی طرح تیزی سے پڑھا ہوگا حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا کہ میں ان شمائل سورتوں کو جانتا ہوں کہ جن کو رسول اللہ ﷺ ملا کر پڑھا کرتے تھے پھر حضرت ابن مسعود (رض) نے مفصل میں سے بیس (20) سورتوں کا ذکر کیا ایک رکعت میں دو دو سورتیں۔

【78】

قرات سے متعلق چیزوں کے بیان میں

احمد بن عبداللہ بن یونس، زہیر، حضرت ابواسحاق (رض) کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ اسود بن یزید سے پوچھ رہا تھا اس حال میں کہ وہ مسجد میں قرآن سکھا رہے تھے اس نے کہا کہ آپ اس آیت (فَھَل مِن مُّدَّکِر) (المدثر) کو کیسے پڑھتے ہیں ؟ کیا دال پڑھتے ہیں یا ذال پڑھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ دال، میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ مُدَّکِر دال کے ساتھ پڑھتے تھے۔

【79】

قرات سے متعلق چیزوں کے بیان میں

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، اسحاق، اسود، حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اس حرف کو (فَھَل مِن مُّدَّکِر) پڑھا کرتے تھے۔

【80】

قرات سے متعلق چیزوں کے بیان میں

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، علقمہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ (ملک) شام گئے تو ہمارے پاس حضرت ابوالدرداء (رض) تشریف لائے اور فرمایا کہ تم میں کوئی حضرت عبداللہ کی قرأت پر پڑھنے والا ہے ؟ میں نے عرض کیا ہاں میں ہوں انہوں نے فرمایا کہ تو نے اس آیت کو حضرت عبداللہ کو کبھی پڑھتے سنا ہے (وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی) تو میں نے کہا کہ میں نے (وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی وَالذَّکَرِ وَالْأُنْثَی) پڑھتے ہوئے سنا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں نے بھی رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے لیکن یہ سارے لوگ چاہتے ہیں کہ میں (وَمَا خَلَقَ ) پڑھوں لیکن میں ان کی بات نہیں مانتا۔

【81】

قرات سے متعلق چیزوں کے بیان میں

قتیبہ بن سعید، جریر، مغیرہ، ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ (رض) (ملک) شام آئے وہ مسجد میں داخل ہوئے انہوں نے اس میں نماز پڑھی پھر ایک حلقہ کی طرف تشریف لے گئے اور اس میں بیٹھ گئے پھر ایک آدمی آیا میں نے محسوس کیا کہ اسے ان لوگوں سے ناراضگی اور وحشت ہے وہ میرے پہلو میں آکر بیٹھ گئے پھر انہوں نے کہا کیا تمہیں یاد ہے کہ حضرت عبداللہ (رض) کیسے پڑھتے تھے ؟۔

【82】

قرات سے متعلق چیزوں کے بیان میں

علی بن حجر سعدی، اسماعیل بن ابراہیم، داود بن ابی ہند، شعبی، حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابوالدردا (رض) سے ملا انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ تو کہاں کا رہنے والا ہے ؟ میں نے عرض کیا میں عراق والوں میں سے ہوں انہوں نے فرمایا کہ کس شہر کے ؟ میں نے عرض کیا کوفہ والوں میں سے، انہوں نے فرمایا کہ تو نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی قرأت کو پڑھا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں، انہوں نے فرمایا کہ تو پڑھ (وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی) تو میں نے پڑھا ( وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّی وَالذَّکَرِ وَالْأُنْثَی) تو وہ ہنس پڑے پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے۔

【83】

قرات سے متعلق چیزوں کے بیان میں

محمد بن مثنی، عبدالاعلی، داود، عامر، حضرت علقمہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں شام آیا اور میں نے حضرت ابوالدردا (رض) سے ملاقات کی پھر ابن علیہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا۔

【84】

ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے

یحییٰ بن یحیی، مالک، محمد بن یحییٰ بن حبان، اعرج، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کے بعد سورج کے غروب ہونے تک اور صبح کی نماز کے بعد سورج کے نکلنے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔

【85】

ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے

داؤد بن رشید، اسماعیل بن سالم، ہشیم، منصور، قتادہ، ابوالعالیہ، حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام (رض) میں سے ایک حضرت عمر بن خطاب (رض) جو مجھے بہت محبوب تھے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فجر کی نماز کے بعد سورج کے نکلنے تک اور عصر کی نماز کے بعد سورج کے غروب ہونے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔

【86】

ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے

زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید، شعبہ، ح، ابوغسان مسمعی، عبدالاعلی، سعید، ح، اسحاق بن ابراہیم، معاذ بن ہشام، قتادہ (رض) سے یہ حدیث اسی طرح نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ معبد اور ہشام کی روایت میں ہے کہ صبح کی نماز کے بعد سورج کے چمکنے تک۔

【87】

ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عطاء بن یزید لیثی، حضرت ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عصر کی نماز کے بعد سورج کے غروب ہونے تک کوئی نماز نہیں اور فجر کی نماز کے بعد سورج کے نکلنے تک کوئی نماز نہیں۔

【88】

ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے

یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی آدمی سورج کے نکلنے تک نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کرے اور نہ ہی سورج کے غروب ہونے تک نماز پڑھنے کا ارادہ کرے۔

【89】

ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ح، محمد بن عبداللہ بن نمیر، محمد بن بشر، ہشام، حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم سورج کے نکلنے تک نماز کا ارادہ نہ کرو اور نہ ہی سورج کے غروب ہونے تک نماز پڑھنے کا ارادہ کرو کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔

【90】

ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابن بشر، ہشام، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب سورج کی شعاعیں ظاہر ہوجائیں تو نماز کو اس وقت تک روکے رکھو جب تک سورج اچھی طرح ظاہر نہ ہوجائے اور جب سورج کی کرن غائب ہوجائے تو نماز کو اس وقت تک روکے رکھو جب تک کہ سورج مکمل طور پر غائب نہ ہوجائے۔

【91】

ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے

قتیبہ بن سعید، لیث، خیر بن نعیم حضرمی، عبداللہ بن ہبیرہ، ابوتمیم جیشانی، حضرت ابوبصرہ غفاری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے ساتھ مخمص میں عصر کی نماز پڑھی آپ ﷺ نے فرمایا یہ نماز تم سے پہلی امتوں پر بھی پیش کی گئی انہوں نے اس کو ضائع کردیا تو جو آدمی اس کی حفاظت کرے گا اسے دوہرا اجر ملے گا اور اس کے بعد کوئی نماز نہیں جب تک کہ ستارے ظاہر نہ ہوجائیں۔

【92】

ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے

زہیر بن حرب، یعقوب بن ابراہیم، ابن اسحاق، برید بن ابی حبیب، خیربن نعیم حضرمی، عبداللہ بن ہبیر سبائی، ابوتمیم جیشانی، ابوبصرہ غفاری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے ساتھ عصر کی نماز ادا فرمائی باقی حدیث مبارکہ اسی طرح ہے۔

【93】

ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے

یحییٰ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، موسیٰ بن علی، حضرت عقبہ بن عامر جہنی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تین اوقات سے منع فرمایا کرتے تھے کہ (ان تین اوقات میں) نماز نہ پڑھیں یا ان میں اپنے مردوں کو دفن کریں ایک یہ کہ سورج کے نکلنے تک جب تک کہ سورج بلند نہ ہوجائے دوسرے یہ کہ ٹھیک دوپہر کے وقت جب تک زوال نہ ہوجائے اور تیسرے سورج کے غروب ہونے تک جب تک کہ وہ اچھی طرح نہ غروب ہوجائے۔

【94】

عمر و بن عبسہ کے اسلام لانے کا بیان

احمد بن جعفر معقری، نضر بن محمد، عکرمہ بن عمار، شداد بن عبداللہ، ابوعمار، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوامامہ، واثلہ، انس، عمرو بن عبسہ فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں خیال کرتا تھا کہ لوگ گمراہی میں مبتلا ہیں اور وہ کسی راستے پر نہیں ہیں اور وہ سب لوگ بتوں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں میں نے ایک آدمی کے بارے میں سنا کہ وہ مکہ میں بہت سی خبریں بیان کرتا ہے تو میں اپنی سواری پر بیٹھا اور ان کی خدمت میں حاضر ہوا یہ تو رسول اللہ ﷺ ہیں اور آپ ﷺ چھپ کر رہ رہے ہیں کیونکہ آپ ﷺ کی قوم آپ ﷺ پر مسلط تھی پھر میں نے ایک طریقہ اختیار کیا جس کے مطابق میں مکہ میں آپ ﷺ تک پہنچ گیا اور آپ ﷺ سے میں نے عرض کیا آپ ﷺ کون ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں نبی ہوں، میں نے عرض کیا نبی کسے کہتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے، میں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ کو کس چیز کا پیغام دے کر بھیجا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ صلہ رحمی کرنا اور بتوں کو توڑنا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا میں نے عرض کیا کہ اس مسئلہ میں آپ ﷺ کے ساتھ اور کون ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ ایک آزاد اور ایک غلام راوی نے کہا کہ اس وقت آپ ﷺ کے ساتھ حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت بلال (رض) تھے جو آپ ﷺ پر ایمان لے آئے تھے میں نے عرض کیا کہ میں بھی آپ ﷺ کی پیروی کرتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس وقت تم اس کی طاقت نہیں رکھتے کیا تم میرا اور لوگوں کا حال نہیں دیکھتے اس وقت تم اپنے گھر جاؤ پھر جب سنو کہ میں ظاہر (غالب) ہوگیا ہوں تو پھر میرے پاس آنا وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر کی طرف چلا گیا اور رسول اللہ مدینہ منورہ میں آگئے تو میں اپنے گھر والوں میں ہی تھا اور لوگوں سے خبریں لیتا رہتا تھا اور پوچھتا رہتا تھا یہاں تک کہ مدینہ منورہ والوں سے میری طرف کچھ آدمی آئے تو میں نے ان سے کہا کہ اس طرح کے جو آدمی مدینہ منورہ میں آئے ہیں وہ کیسے ہیں تو انہوں نے کہا کہ لوگ ان کی طرف دوڑ رہے ہیں ان کی قوم کے لوگ انہیں قتل کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے تو میں مدینہ منورہ میں آیا اور آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا آپ ﷺ مجھے پہچانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا ہاں تم تو وہی ہو جس نے مجھ سے مکہ میں ملاقات کی تھی میں نے عرض کیا جی ہاں پھر عرض کیا اے اللہ کے نبی اللہ نے آپ ﷺ کو جو کچھ سکھایا ہے مجھے اس کی خبر دیجئے اور میں اس سے جاہل ہوں مجھے نماز کے بارے میں خبر دیجئے آپ ﷺ نے فرمایا صبح کی نماز پڑھو پھر نماز سے رکے رہو یہاں تک کہ سورج نکل آئے اور نکل کر بلند ہوجائے کیونکہ جب سورج نکلتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اسے سجدہ کرتے ہیں پھر نماز پڑھو کیونکہ اس وقت کی نماز کی گواہی فرشتے دیں گے اور حاضر ہوں گے یہاں تک کہ سایہ نیزے کے برابر ہوجائے پھر نماز سے رکے رہو کیونکہ اس وقت جہنم جھونکی جاتی ہے پھر جب سایہ آجائے تو نماز پڑھو کیونکہ اس وقت کی نماز کی فرشتے گواہی دیں گے اور حاضر کئے جائیں گے یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھو پھر سورج کے غروب ہونے تک نماز سے رکے رہو کیونکہ یہ شیطان کے سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اسے سجدہ کرتے ہیں میں نے عرض کیا وضو کے بارے میں بھی کچھ بتائیے آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی آدمی بھی ایسا نہیں جو وضو کے پانی سے کلی کرے اور پانی ناک میں ڈالے اور ناک صاف کرے مگر یہ کہ اس کے منہ اور نتھنوں کے سارے گناہ جھڑ جاتے ہیں کہ پھر جب وہ منہ دھوتا ہے جس طرح اللہ نے اسے حکم دیا ہے تو اس کے چہرے کے گناہ اس کی داڑھی کے کناروں کے ساتھ لگ کر پانی کے ساتھ گرجاتے ہیں پھر جب وہ اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھوتا ہے تو دونوں پاؤں کے گناہ انگلیوں کے پوروں کی طرف سے پانی کے ساتھ گرجاتے ہیں پھر اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے اور اللہ کی حمد وثناء اور اس کی بزرگی اور اس کے شایان شان بیان کرے اور اپنے دل کو خالص اللہ کے لئے فارغ کرلے تو وہ آدمی اپنے گناہوں سے اس طرح پاک وصاف ہوجاتا ہے جس طرح کہ آج ہی اس کی ماں نے اسے جنا ہے چناچہ عمرو بن عبسہ نے اس حدیث کو رسول اللہ ﷺ کے صحابی حضرت ابوامامہ (رض) سے بیان کیا تو حضرت ابوامامہ (رض) نے فرمایا کہ اے عمرو بن عبسہ دیکھو ! کیا کہہ رہے ہو کیا ایک ہی جگہ میں آدمی کو اتنا ثواب مل سکتا ہے تو حضرت عمرو بن عبسہ (رض) کہنے لگے اے ابوامامہ میں بڑی عمر والا ہوگیا ہوں اور میری ہڈیاں نرم ہوگئی ہیں اور میری موت قریب آگئی ہے تو اب مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے ایک مرتبہ یا دو مرتبہ یا تین مرتبہ یہاں تک کہ سات مرتبہ بھی سنتا تو میں کبھی بھی اس حدیث کو بیان نہ کرتا لیکن میں نے تو اس حدیث کو اس سے بھی بہت زیادہ مرتبہ سنا ہے۔

【95】

اس بات کے بیان میں تم اپنی نمازوں کو سورج کے طلوع ہونے تک اور سورج کے غروب ہونے کے وقت تک نہ پڑھو۔

محمد بن حاتم، بہز، وہب، عبداللہ بن ط اس، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ حضرت عمر (رض) کو وہم ہوگیا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے سورج کے طلوع اور سورج کے غروب ہونے کے وقت میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔

【96】

اس بات کے بیان میں تم اپنی نمازوں کو سورج کے طلوع ہونے تک اور سورج کے غروب ہونے کے وقت تک نہ پڑھو۔

حسن حلوانی، عبدالرزاق، معمر، ابن ط اس، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کے بعد کی دو رکعتیں کبھی نہیں چھوڑیں حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سورج کے طلوع اور غروب ہونے کے وقت نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کرو۔

【97】

ان دو رکعتوں کے بیان میں کہ جن کو نبی ﷺ عصر کی نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے

حرملہ بن یحییٰ تجیبی، عبداللہ بن وہب، ابن الحارث، بکیر، کریب حضرت ابن عباس (رض) کے غلام سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) اور حضرت عبدالرحمن بن ازہر اور مسور بن مخرمہ (رض) نے مجھے نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ (رض) کی طرف بھیجا اور انہوں نے کہا کہ ہم سب کی طرف سے ان کو سلام کہنا اور نماز عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں ان سے پوچھنا اور کہنا کہ ہمیں خبر ملی ہے کہ آپ ﷺ ان کو پڑھتی ہیں اور ہمیں رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث پہنچی ہے کہ آپ ﷺ اس سے منع فرماتے تھے حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر (رض) کے ساتھ مل کر اس نماز سے منع کرتا تھا کریب نے کہا کہ میں حضرت عائشہ (رض) کے پاس گیا جنہوں نے مجھے بھیجا ان کا پیغام بھی ان تک پہنچا دیا حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ تو ام سلمہ (رض) سے پوچھ تو میں واپس ان کی طرف گیا اور انہیں حضرت عائشہ (رض) کے فرمان کی خبر دی تو انہوں نے مجھے حضرت ام سلمہ (رض) کی طرف لوٹا دیا وہی پیغام دے کر جو پیغام دے کر حضرت عائشہ (رض) کی طرف بھیجا تھا تو حضرت ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے پھر میں نے آپ ﷺ کو یہی دو رکعتیں پڑھتے ہوئے بھی دیکھا جس وقت آپ ﷺ کو یہ دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ ﷺ عصر کی نماز پڑھ چکے تھے پھر آپ ﷺ تشریف لائے تو میرے پاس انصار کے قبیلہ بنی حرام کی چند عورتیں تھیں آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں تو میں نے ایک باندی کو آپ ﷺ کی طرف بھیجا میں نے اس سے کہا کہ تو آپ ﷺ کے پہلو میں کھڑی رہنا پھر آپ ﷺ سے عرض کرنا اے اللہ کے رسول ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ سے ان دو رکعتوں کے بارے میں منع کرتے ہوئے سنا ہے اور پھر آپ ﷺ کو پڑھتے ہوئے بھی دیکھا ہے پھر اگر ہاتھ سے اشارہ فرمائیں تو پیچھے کھڑی رہنا حضرت ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ اس باندی نے ایسے ہی کیا آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا تو وہ پیچھے ہوگئی پھر جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا اے ابوامیہ کی بیٹی تو نے عصر کی نماز کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بنی عبدالقیس کے کچھ لوگ ان کی قوم میں سے اسلام قبول کرنے کے لئے آئے تھے جس میں مشغولیت کی وجہ سے ظہر کی نماز کے بعد کی دو رکعتیں رہ گئی تھیں ان کو میں نے پڑھا ہے۔

【98】

ان دو رکعتوں کے بیان میں کہ جن کو نبی ﷺ عصر کی نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، ایوب، ابن جعفر، ابن ابی حرملہ، حضرت ابوسلمہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ (رض) سے ان دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا، جنہیں رسول اللہ ﷺ عصر کے بعد پڑھا کرتے تھے تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ آپ ﷺ ان دو رکعتوں کو عصر کی نماز سے پہلے پڑھا کرتے تھے پھر آپ ﷺ ایک مرتبہ کسی کام میں مشغول ہوگئے یا آپ ﷺ ان کو پڑھنا بھول گئے تو آپ ﷺ نے ان دو رکعتوں کو عصر کی نماز کے بعد پڑھا پھر آپ ﷺ اسے پڑھتے رہے آپ ﷺ جو نماز بھی پڑھتے تھے اس پر دوام فرماتے۔

【99】

ان دو رکعتوں کے بیان میں کہ جن کو نبی ﷺ عصر کی نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے

زہیر بن حرب، جریر، ابن نمیر، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے ہاں عصر کے بعد کی دو رکعتیں کبھی نہیں چھوڑیں۔

【100】

ان دو رکعتوں کے بیان میں کہ جن کو نبی ﷺ عصر کی نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے

ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، ح، علی بن حجر، علی بن مسہر، ابواسحاق شیبانی، عبدالرحمن بن اسود، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے گھر میں دو نمازیں کبھی چھوڑیں نہ باطناً نہ ظاہراً فجر سے پہلے کی دو رکعتیں اور عصر کے بعد کی دو رکعتیں۔

【101】

ان دو رکعتوں کے بیان میں کہ جن کو نبی ﷺ عصر کی نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے

ابن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، اسود، مسروق، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ جس دن بھی رسول اللہ ﷺ کی باری میرے گھر میں ہوتی تو آپ ﷺ یہ نماز پڑھتے یعنی عصر کی نماز کے بعد دو رکعتیں۔

【102】

نماز مغرب سے قبل دو رکعتیں پڑھنے کے استح کے بیان میں

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابن فضیل، حضرت مختار بن فلفل (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک (رض) سے عصر کے بعد کے نفلوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر (رض) عصر کے بعد نماز پڑھنے والوں پر ہاتھ مارتے تھے اور ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سورج کے غروب ہونے کے بعد مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ کیا رسول اللہ ﷺ بھی یہ دو رکعتیں پڑھتے تھے انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ ہمیں ان دو رکعتوں کو پڑھتے ہوئے دیکھتے لیکن نہ ہمیں اس کا حکم فرماتے اور نہ ہمیں ان سے منع فرماتے تھے۔

【103】

نماز مغرب سے قبل دو رکعتیں پڑھنے کے استح کے بیان میں

شیبان بن فروخ، عبدالوارث، ابن صہیب، حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ مدینہ میں جب مؤذن نماز مغرب کی اذان دیتا تھا تو ہم لوگ ستون کی آڑ میں دو رکعات پڑھا کرتے تھے مسجد میں کوئی نیا آدمی آتا تو بہت سی تعداد میں نماز پڑھنے والوں سے یہ خیال کرتا کہ نماز ہوگئی ہے۔

【104】

ہر اذان اور اقامت کے درمیان نماز کے بیان میں

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، وکیع، کہمس، عبداللہ بن بریدہ، حضرت عبداللہ بن مغفل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر اذان اور اقامت کے درمیان نماز ہے آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا تیسری مرتبہ میں فرمایا کہ جو جس کا دل چاہے پڑھے لے۔

【105】

ہر اذان اور اقامت کے درمیان نماز کے بیان میں

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالاعلی، جریری، عبداللہ بن بریدہ، حضرت عبداللہ بن مغفل (رض) نے نبی ﷺ سے اسی طرح نقل فرمایا لیکن اس میں ہے کہ چوتھی مرتبہ میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو جس کا دل چاہے پڑھ لے (سوائے سنت مؤ کدہ)

【106】

خوف کی نماز کے بیان میں

عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، سالم، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو جماعتوں میں سے ایک کے ساتھ ایک رکعت پڑھی اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے تھے پھر یہ جماعت دشمن کے مقابلہ میں کھڑے ہونے والوں کی جگہ جا کر کھڑی ہوگئی اور وہ جماعت آئی پھر نبی ﷺ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی پھر آپ ﷺ نے سلام پھیر دیا پھر دونوں جماعتوں کے سب لوگوں نے ایک رکعت پڑھی۔

【107】

خوف کی نماز کے بیان میں

ابوربیع زہرانی، فلیح، زہری، سالم بن عبداللہ، حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خوف کی نماز اسی طریقے سے پڑھی ہے۔

【108】

خوف کی نماز کے بیان میں

ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن آدم، سفیان، موسیٰ بن عقبہ، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ دنوں میں خوف کی نماز اس طرح سے پڑھی کہ ایک جماعت آپ ﷺ کے ساتھ کھڑی ہوگئی اور ایک جماعت دشمن کے سامنے کھڑی ہوگئی پھر آپ ﷺ نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی پھر وہ چلے گئے اور دوسری جماعت آگئی ان کو آپ ﷺ نے ایک رکعت پڑھائی پھر دونوں جماعتوں نے اپنی ایک ایک رکعت پوری کی حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ جب خوف حد سے بڑھ جائے تو سواری پر یا کھڑے کھڑے اشارے سے نماز پڑھے۔

【109】

خوف کی نماز کے بیان میں

محمد بن عبداللہ بن نمیر، عبدالملک بن ابی سلیمان، عطاء، حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ خوف کی نماز پڑھتے وقت میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا ہم نے دو صفیں بنائیں ایک صف رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اور دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان میں تھا تو نبی ﷺ نے تکبیر کہی اور ہم سب نے بھی تکبیر کہی پھر آپ ﷺ نے رکوع کیا اور ہم سب نے بھی رکوع کیا پھر آپ ﷺ نے سر رکوع سے اٹھایا اور ہم سب نے بھی سر اٹھایا پھر آپ ﷺ آپ ﷺ سجدہ میں چلے گئے تو اس صف والے جو آپ ﷺ کے قریب تھے پہلی رکعت میں سب سجدہ میں گئے اور پچھلی صف والے دشمن کے مقابلے میں کھڑے رہے پھر جب نبی ﷺ نے اور وہ صف جو آپ ﷺ کے قریب تھی سجدہ کیا پھر رسول اللہ ﷺ اور ہم سب نے سلام پھیرا جابر (رض) نے فرمایا کہ جس طرح آج کل کے محافظ اپنے حکمرانوں کے ساتھ کرتے ہیں۔

【110】

خوف کی نماز کے بیان میں

احمد بن عبداللہ بن یونس، زہیر، ابوالزبیر، حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قبیلہ جہینہ کی ایک قوم کے ساتھ جہاد کیا انہوں نے ہم سے بہت سخت جنگ کی جب ہم نے ظہر کی نماز پڑھی لی مشرکوں نے کہا کاش ہم ان پر ایک دم حملہ آور ہوتے تو انہیں کاٹ کر رکھ دیتے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ ﷺ کو اس سے باخبر کیا اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ نے ہم سے کیا اور فرمایا کہ مشرکوں نے کہا کہ ان کی ایک اور نماز آئے گی جو ان کو اپنی اولاد سے بھی زیادہ محبوب ہے تو جب عصر کی نماز کا وقت آیا تو ہم نے دو صفیں بنالیں اور مشرک ہمارے اور قبلہ کے درمیان میں تھے رسول اللہ ﷺ نے تکبیر کہی اور ہم نے بھی تکبیر کہی اور آپ ﷺ نے رکوع فرمایا تو ہم نے بھی رکوع کیا پھر آپ ﷺ نے سجدہ فرمایا تو آپ ﷺ کے ساتھ پہلی صف والوں نے سجدہ کیا پھر جب آپ ﷺ اور پہلی صف والے کھڑے ہوگئے تو دوسری صف والوں نے سجدہ کیا اور پہلی صف والے پیچھے اور دوسری صف والے آگے ہوگئے پھر رسول اللہ ﷺ نے تکیبر کہی اور ہم نے بھی تکبیر کہی پھر آپ نے رکوع فرمایا ہم نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ رکوع کیا پھر جب آپ ﷺ نے سجدہ کیا اور دوسری صف والوں نے سجدہ کیا پھر سب بیٹھ گئے پھر رسول اللہ ﷺ نے سب کے ساتھ سلام پھیرا حضرت ابوالزبیر فرماتے ہیں کہ پھر حضرت جابر (رض) نے فرمایا کہ جس طرح آج کل تمہارے یہ حکمران نماز پڑھتے ہیں۔

【111】

خوف کی نماز کے بیان میں

عبیداللہ بن معاذ عنبری، شعبہ، عبدالرحمن بن قاسم، صالح بن خوات بن جبیر، حضرت سہل بن ابی حثمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام (رض) کو خوف کی نماز پڑھائی آپ نے اپنے پیچھے دو صفیں بنائیں تو جو صف آپ ﷺ کے قریب تھی آپ ﷺ نے اسے ایک رکعت پڑھائی پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ پچھلی صف والوں نے ایک رکعت نماز پڑھ لی پھر وہ آگے بڑھے اور اگلی صف والے پیچھے چلے گئے پھر بیٹھ گئے یہاں تک کہ پچھلی صف والوں نے ایک رکعت نماز پڑھ لی پھر آپ ﷺ نے سلام پھیر دیا۔

【112】

خوف کی نماز کے بیان میں

یحییٰ بن یحیی، مالک، یزید بن رومان، حضرت صالح بن خوات سے روایت کرتے ہیں کہ جس نے غزوہ ذات الرقاع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خوف کی نماز پڑھی تھی کہ جماعت نے صف بندی کی اور آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی اور ایک جماعت دشمن کے مقابلہ میں کھڑی رہی پھر آپ ﷺ نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی جو آپ ﷺ کے ساتھ تھے پھر وہ ٹھہرے رہے اور انہوں نے اپنی نماز پوری کی پھر وہ دشمن کے مقابلہ میں چلے گئے اور دوسری جماعت آئی پھر آپ ﷺ نے اس جماعت کو وہ رکعت جو باقی رہ گئی تھی پڑھائی پھر آپ ﷺ بیٹھے رہے اور اس جماعت والوں نے اپنی رکعت پوری کی پھر آپ ﷺ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔

【113】

خوف کی نماز کے بیان میں

ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، ابان بن یزید، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ذات الرقاع پہنچ گئے تو جب ہم ایک سایہ دار درخت پر پہنچے تو ہم نے رسول اللہ ﷺ کو وہاں چھوڑ دیا راوی نے کہا کہ مشرکوں میں سے ایک آدمی آیا اور رسول اللہ ﷺ کی تلوار درخت کے ساتھ لٹکی ہوئی تھی تو اس آدمی نے اللہ کے نبی ﷺ کی تلوار پکڑ کر رسول اللہ ﷺ کے سامنے کی اور کہنے لگا کہ کیا تم مجھ سے ڈرتے ہو آپ ﷺ نے فرمایا نہیں اس آدمی نے کہا کہ تمہیں کون مجھ سے بچائے گا رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام نے اس آدمی کو ڈرایا دھمکایا تو اس نے تلوار میان میں ڈال کر لٹکا دی نماز کے لئے اذان دی گئی آپ ﷺ نے ایک جماعت کو دو رکعتیں پڑھائی وہ جماعت پیچھے چلی گئی پھر آپ ﷺ نے دوسری جماعت کو دو رکعتیں پڑھائیں تو رسول اللہ ﷺ کی چار رکعتیں ہوگئیں اور جماعت کی دو رکعتیں ہوئیں۔

【114】

خوف کی نماز کے بیان میں

عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابن حسان، ابن سلام، یحیی، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، جابر فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خوف کی نماز پڑھی رسول اللہ ﷺ نے دو گرہوں میں سے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں رسول اللہ ﷺ نے چار رکعات پڑھیں اور ہر گروہ نے دو دو رکعات پڑھیں۔